شہریت قانون

1912 KT.00_29_55_02.Still012

این ایس اے: سپریم کورٹ کے ہائی کورٹ کے فیصلے میں دخل اندازی سے انکار پر ڈاکٹر کفیل نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے گزشتہ17دسمبر کونیشنل سکیورٹی ایکٹ(این ایس اے)کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کی حراست کو رد کرنے اور انہیں فوراً رہا کیےجانے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں دخل اندازی سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے پر ڈاکٹر کفیل نے دی وائر سے بات چیت کی۔

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@drkafeelkhanofficial)

ڈاکٹر کفیل کی رہائی کے فیصلے میں دخل اندازی سے سپریم کورٹ کا انکار، کہا-اچھا فیصلہ تھا

اتر پردیش پولیس کے ذریعےاین ایس اے کے تحت گرفتار کیے گئے ڈاکٹرکفیل خان کی حراست رد کر انہیں فوراً رہا کیےجانے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کو ریاستی سرکار نے سپریم کورٹ میں چیلنج دیا تھا، جسے سی جے آئی ایس اے بوبڈے کی قیادت والی بنچ نے خارج کر دیا۔

ڈاکٹر کفیل خان اور پرشانت کنوجیا(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

دلت ،مسلمان اور آدی واسی  کے لیے انصاف کی راہ مشکل کیوں ہے

این سی آربی کی ایک رپورٹ کے مطابق جیلوں میں بند دلت، آدی واسی اور مسلمانوں کی تعدادملک میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے، ساتھ ہی مجرم قیدیوں سے زیادہ تعدادان طبقات کے زیر غور قیدیوں کی ہے۔ سرکار کا ڈاکٹر کفیل اور پرشانت کنوجیا کو باربار جیل بھیجنا ایسے اعدادوشمار کی تصدیق کرتا ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا ڈاکٹر کفیل خان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں

گزشتہ سال آکسیجن حادثے کی محکمہ جاتی جانچ میں دوالزامات میں ملی کلین چٹ کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، لیکن سرکار نے نئےالزام جوڑتے ہوئے دوبارہ جانچ شروع کر دی۔ متھرا جیل میں رہائی کے وقت ہوئی حجت یہ اشارہ ہے کہ اس بار بھی حکومت کا روریہ ان کے لیےنرم ہونے والا نہیں ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوگی حکومت کے آگے نہیں جھکوں گا، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا: ڈاکٹر کفیل خان

اے ایم یو میں سی اے اے کے خلاف مبینہ‘ہیٹ اسپیچ’دینے کے الزام میں جنوری سے متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل خان کو ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد منگل دیر رات کو رہا کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اتنے دن جیل میں اس لیے رکھا گیا کیونکہ وہ ریاست کی طبی خدمات کی کمیوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر کفیل۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/drkafeelkhanofficial)

الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف این ایس اے کے الزام  ہٹانے اور فوراً رہائی کاحکم  دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پرمتنازعہ بیان دینے کے معاملے میں29 جنوری کو ڈاکٹرکفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پراین ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر کفیل خان(فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈاکٹر کفیل کی این ایس کی مدت پھر تین مہینے کے لیے بڑھائی گئی

گزشتہ 29 جنوری کو اتر پردیش ایس ٹی ایف نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات کے معاملے میں ڈاکٹر کفیل خان کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں ہیں۔

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

پندرہ دن میں طے کریں کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کر سکتے ہیں یا نہیں: سپریم کورٹ

اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں متنازعہ بیانات دینے کےالزام میں29 جنوری کو ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پر این ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

طاہر حسین۔ (فوٹو: دی وائر/ویڈیوگریب)

دہلی پولیس کے پاس طاہر حسین کو فسادات سے جوڑ نے کا کوئی ثبوت نہیں: وکیل

گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ عآپ کےسابق کونسلر طاہرحسین نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں شامل ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔حسین کے وکیل جاوید علی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کبھی اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا۔ پولیس کے پاس اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: ایل جی کے آرڈر پر پیروی کے لیے سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ سمیت چھ وکیلوں کی تقرری

دہلی سرکار نے اس سے پہلے دہلی پولیس کی جانب سے بتائے گئے وکیلوں کے ناموں کوقبول کرنے سے منع کر دیا تھا۔ایل جی انل بیجل نے سرکار کے آرڈر کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے وکیلوں کے نام کو قبول کرنے کو کہا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: جب راجدھانی تشدد کی آگ میں جل رہی تھی، تب وزیر داخلہ اور وزارت کیا کر رہے تھے؟

خصوصی مضمون: فروری کےآخری ہفتے میں شمال مشرقی دہلی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی اہم وجہوں میں سے ایک سینٹرل فورسز کو تعینات کرنے میں ہوئی تاخیرہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ تشدد25 فروری کو رات 11 بجے تک ختم ہو گیا تھا،سچ کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات : وکیلوں کی تقرری کے سلسلے میں دہلی سرکار نے پولیس کی تجویز کو خارج کیا

دہلی کابینہ کی میٹنگ میں وکیلوں کی تقرری کے سلسلےمیں دہلی پولیس کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنگا معاملے میں پولیس کی جانچ کو عدالت نے غیرجانبدارنہیں پایا ہے، اس لیے پولیس کے پینل کو منظوری دی گئی، تو معاملوں کی غیرجانبدارشنوائی نہیں ہو پائےگی۔

AKI 20 July 2020.00_36_01_20.Still002

دہلی فسادات کا سچ: پولیس چارج شیٹ بنام دہلی اقلیتی کمیشن

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے جون میں عدالت میں دائر کئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نریندرمودی سرکار کو بدنام کرنے کی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس مدعے پر سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

]

دہلی تشدد: کئی کیس فری میں لڑ نے والے ایک وکیل، کیوں اٹھا رہے ہیں جانچ پر سوال؟

ویڈیو: فروری میں ہوئے دہلی فسادات سے متعلق تقریباً50 کیس وکیل عبدالغفار اکیلے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے کے لیے وہ فیس بھی نہیں لے رہے۔ دہلی فسادات میں ہو رہی جانچ اور گرفتاریوں پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ عبدالغفار کا بھی ماننا ہے کہ جانچ میں شواہد سے پہلے ایک نیریٹو سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

AKI 16 July 2020.00_20_31_04.Still002

کب ہوگی ڈاکٹر کفیل اور بھیما کورے گاؤں کارکنوں کی رہائی؟

ویڈیو: ڈاکٹر کفیل خان کو گزشتہ دسمبر میں اے ایم یو میں ہوئے اینٹی سی اےاےمظاہرہ میں مبینہ اشتعال انگیزتبصرہ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری میں انہیں ضمانت ملی لیکن جیل سے باہر آنے کے کچھ گھنٹے بعد ان پر این ایس اے لگا دیا گیا۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

فوٹو : پی ٹی آئی

دہلی انتخاب کے دوران بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد فسادات ہو ئے: رپورٹ

فروری2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات پر دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی رہنما کپل مشراکی تقریر کے بعد فسادات شروع ہوئے تھے لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ڈاکٹر کفیل خان کی این ایس اے کی مدت تین مہینے کے لیے بڑھائی گئی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات دینے کے معاملے میں 29 جنوری کو ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پر این ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

سی اےاے مظاہرہ: اعظم گڑھ کورٹ نے سیڈیشن کے مقدمے کا سامنا کر رہے 19 لوگوں کی ضمانت عرضی خارج کی

کل12 پیج کےاس حکم میں پورے معاملے کا تفصیلی تذکرہ ہے اور ایف آئی آر میں شامل باتوں کو دوہرایا گیا ہے۔ حالانکہ ضمانت عرضی کو خارج کرنے کی بنیادکو فیصلے کے آخری دو جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔

فوٹو: ٹوئٹر@tahirhussainaap

کیا طاہر حسین کے مکان پر لڑکی کے ساتھ انہونی ہوئی؟

فیک نیوز راؤنڈ اپ : دہلی فسادات کے بعد سدرشن نیوز کی ایک رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کے مکان سے رپورٹ کر رہی ہیں۔ جہاں ان کوکسی خاتون کے جلے ہوئے کپڑے، انڈر گارمنٹس، جلا ہوا پرس وغیرہ ملے ہیں۔ رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ یہاں ایک خاتون کو گھسیٹ کر لایا گیا تھا اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی پھر اس کو قریب کے نالے میں ڈال دیا گیا۔

فوٹو : اے این آئی

شاہین باغ میں احتیاط کے طور پر بڑی تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی

پولیس کی یہ تعیناتی تب کی گئی ہے جب رائٹ ونگ گروپ ہندو سینا نے ایک مارچ کو شاہین باغ روڈ خالی کرانے کی اپیل کی۔ حالانکہ سنیچر کو پولیس کی دخل اندازی کے بعد انہوں نے شاہین باغ میں سی اےاے مخالف مظاہرے کے خلاف اپنامجوزہ احتجاج واپس لے لیا۔

لکھنؤ میں شہریت ترمیم قانون کےخلاف ہوا مظاہرہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

ریاستی حکومتوں کو سی اے اے-این آر سی-این پی آر کا ہر حال میں بائیکاٹ کیوں کرنا چاہیے

غیر-بی جے پی مقتدرہ ریاستیں کو شہریت ترمیم قانون کابائیکاٹ کرتے ہوئے اس کو رد کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا راستہ اختیار کرناچاہیے۔ ساتھ ہی اس مسئلہ کی جڑ 2003 والی شہریت ترمیم کو بھی رد کرنے کی مانگ کرنی چاہیے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

شاہین باغ اور جامعہ سے متعلق امت شاہ اور فسطائی ہینڈلز کے دعووں کا سچ

فیک نیوز راؤنڈ اپ: ٹائمز ناؤ سمٹ کے ایک سیشن میں مدیر نویکا کمار نے وزیر داخلہ امت شاہ سے بات چیت کی ۔ نویکا نے اپنے سوال میں بی جے پی کے ایک امیدوار کے اس جملے کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ شاہین باغ والے ہندوؤں کے گھروں میں گھس کر ان کی خواتین کا ریپ کریں گے۔ امت شاہ نے جواب دیا، ’ایسا بیان نہیں دیا کسی نے… کہ بہو بیٹیوں کا ریپ کریں گے…مگر باقی سب جو اپنے کہا… وہ بھی بیان نہیں دینے چاہیے تھے‘۔

Yogi-Adityanath-PTI

شہریت قانون: یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا-اگر کوئی مر نے کے لیے آ ہی رہا ہے تو وہ زندہ کیسے ہو جائے گا

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ، ان شرپسندوں کے ساتھ کسی طرح کی ہمدردی کا مطلب پی ایف آئی اور سیمی جیسی تنظیموں کی حمایت ہے۔ آپ یوگیندر ناتھ منڈل جیسے مت بنیے۔ ملک سے غداری کرنے والوں کو گمنام موت کے سوا کچھ نہیں ملےگا۔

سانولی گڑھ میں پوجا-پاٹھ کرتے آدیواسی۔

مدھیہ پردیش: سی اے اے-این آر سی کے خلاف آئے آدیواسی بو لے، حکومت کے کاغذات کے مکڑ جال میں نہیں پھنسیں‌ گے

گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش کے بیتول میں شہریت قانون اور این آر سی کی مخالفت میں جمع ہوئے آدیواسیوں نے کہا کہ جس جنگل میں ان کے آباواجداد فن ہیں، وہ اس جگہ پر اپنے حق کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت دے سکتے ہیں۔

the-rss-icons-of-the-indian-right-nilanjan-mukhopadhyay

آ ر ایس ایس کے بانیان اور شہریت قانون کے پس پردہ ان کے ایجنڈہ کے بارے میں بتاتی کتاب

بک ریویو: ساورکر کا یہ عقیدہ تھا کہ نظریاتی طور پر ، قومیت اور شہریت کو صرف شہری ہونے کی نہیں، بلکہ اس کی مذہبی شناخت کی بنیادپر طے کیا جاسکتا ہے ۔یہی سی اے اے کا بنیادی نکتہ ہے کہ شہریت مذہب کی بنیاد پر دی جائے ۔ اور اسی بنیاد پر سی اے اے سے مسلمانوں کو باہر رکھا گیا ہے ۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

کیا بی جے پی انگریزوں کی پھوٹ ڈالو-راج کرو والی پالیسی پر چل رہی ہے؟

سی اے اے-این آر سی کے خلاف ہو رہے مظاہرے میں طویل عرصے کے بعدہندو-مسلم یکجہتی پھر سے نظر آ رہی ہے، جس سے حکمراں بی جے پی میں بےچینی دیکھی جاسکتی ہے۔ ایسی ہی بےچینی 1857 کی انقلاب کے بعد انگریزوں میں دکھی تھی، جس سےنپٹنے کے لئے انہوں نے پھوٹ ڈالو-راج کرو کی پالیسی اپنائی تھی۔

اسد الدین اویسی، فوٹو : پی ٹی آئی

ڈاکٹر کفیل معاملے پر اویسی نے کہا-ایک ڈاکٹر نہیں، ’ٹھوک دیں گے‘ جیسا بیان دینے والے ہیں نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ

اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت قانون (سی اےاے) کےخلاف بیان دینے کے الزام میں متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل خان پر این ایس اے لگایا گیا ہے۔

ڈاکٹر کفیل خان، فوٹو: دی وائر

ڈاکٹر کفیل خان کو مبینہ طور پر متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں ضمانت، لیکن رہائی کے بجائے این ایس اے کے تحت کارروائی

ڈاکٹر کفیل خان کو 29 جنوری کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ متھرا جیل میں بند خان کو ضمانت مل گئی تھی۔ علی گڑھ کے ایس ایس پی آکاش کلہری نے بتایا کہ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے اور وہ جیل میں ہی رہیں گے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ممکن ہے بی جے پی رہنماؤں کے ’گولی مارو‘ جیسے نفرت بھرے بیانات سے ہار ہوئی ہو: امت شاہ

ایک پروگرام میں دہلی اسمبلی الیکشن سے جڑے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی صرف جیت یا ہار کے لیے الیکشن نہیں لڑتی ہے بلکہ انتخابات کے ذریعے سے اپنے نظریہ کی تشہیر میں بھروسہ کرتی ہے۔

شاہین باغ (فوٹو : رائٹرس)

دہلی اسمبلی الیکشن: رائے دہندگان کو کتنا متاثر کرے‌ گا شاہین باغ؟

دہلی اسمبلی الیکشن کے مدنظر بی جے پی، عام آدمی پارٹی اور کانگریس پر حملہ کرنے کے لئے شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف قریب دو مہینے سے چل رہے مظاہرے کا استعمال کر رہی ہے۔ یہ مدعا نہ صرف بی جے پی کے مقامی رہنما اٹھا رہے ہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سمیت ہر بی جے پی رہنما شاہین باغ کے مظاہرے کے نام پر دہلی کے رائےدہندگان کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے دکھے ہیں۔

0502 Sikh Story.00_14_09_22.Still005

پنجاب سے شاہین باغ پہنچے کسانوں نے کہا، مذہب کی بنیاد پر دوسرا بٹوارہ نہیں ہو نے دیں گے

ویڈیو : شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف گزشتہ تقریباً دو مہینے سے دہلی کے شاہین باغ میں مظاہرہ کررہے لوگوں کو اپنی حمایت دینے پنجاب کی ایک کسان تنظیم کے 350 کسان شاہین باغ پہنچے ہیں ، جن میں 15 خواتین بھی ہیں ۔ ان سے ریتو تومر کی بات چیت۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

شاہین باغ سے دھرنا ہٹانے کی عرضی سپریم کورٹ نے ملتوی کی، کہا-ابھی الیکشن ہے، سوموار کو آئیے

امت ساہنی نامی ایک وکیل نے یہ عرضی دائر کی ہے۔ ساہنی دہلی ہائی کورٹ بھی گئے تھے لیکن کورٹ نے ان کی عرضی خارج کر دی تھی اور کہا تھا کہ متعلق محکمہ اس معاملے کو دیکھیں۔ حالانکہ کورٹ نے اس بارے میں کوئی رسمی ہدایت جاری نہیں کی تھی۔

Don`t copy text!