عدلیہ

چیف جسٹس رنجن گگوئی (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی گگوئی پر جنسی استحصال کا الزام لگانے والی خاتون کے شوہر کی نوکری بحال

سی جے آئی کے خلاف استحصال کی شکایت کرنے والی خاتون نے ایک حلف نامہ میں الزام لگایا تھا کہ ان کو سپریم کورٹ کے ملازم کے طور پر برخاست کیے جانے کے بعد دہلی پولیس میں کام کرنے والے ان کے شوہر اور شوہر کے بھائی کو برخاست کر دیا گیا تھا۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک National Commission for Protection of Child Rights

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: جسٹس لوکر نے کہا-ادارہ جاتی جانبداری ہوئی، شکایت گزار کو ملے جانچ  رپورٹ

سپریم کورٹ کے ریٹائر جسٹس مدن بی لوکر نے کہا کہ شکایت گزار خاتون کو معاملے کی سماعت کرنے والی انٹرنل کمیٹی کی رپورٹ یقینی طور پر ملنی چاہیے تاکہ شکایت گزار خاتون کو ان سوالوں کا جواب مل سکے، جو اس نے اٹھائے ہیں۔

اٹارنی جنرل  کے کے  وینو گوپال۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: مرکزی حکومت سے اختلاف کے سبب استعفیٰ دے سکتے ہیں اٹارنی جنرل

دی وائر کی خصوصی رپورٹ: سی جے آئی پر لگے جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ‌کر رہی کمیٹی میں ایک باہری ممبر شامل کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کےکے وینو گوپال نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو خط لکھا تھا۔اس پر مرکزی حکومت کے ذریعے ان کو وضاحت دینے کو کہا گیا کہ یہ ان کی’ذاتی رائے ‘ہے نہ کہ مرکز کی۔

اندرا جئے سنگھ (فوٹو: پی ٹی آئی(

وکیل اندرا جئے سنگھ اور لائرس کلیکٹو پر غیر ملکی چندہ لینے کا الزام، سپریم کورٹ نے مانگا جواب

سپریم کورٹ کی نوٹس پر سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ اور آنند گروور نے کہا کہ سی جے آئی جنسی استحصال معاملے میں شکایت گزار کے حق میں بولنے کی وجہ سے ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سینئر وکیل اندرا جئے […]

ایم شری دھرآچاریہ لو(فوٹو :دھیرج مشرا /دی وائر)

سی جے آئی گگوئی کو کلین چٹ دینے والی رپورٹ عام کی جائے: سابق انفارمیشن کمشنر

سابق انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریہ لو نےکہا، ‘مفاد عامہ کا معاملہ لوگوں کو جاننے کا حق دیتا ہے۔ اس لئے جنسی استحصال کے معاملے میں جو جانکاری عام نہیں کی جانی چاہیے، اس کو چھپاتے ہوئے انٹرنل کمیٹی کے ذریعے دئے گئے فیصلے کی رپورٹ عام کی جانی چاہیے۔ ‘

چیف جسٹس رنجن گگوئی(فوٹو : پی ٹی آئی)

عدالت نے اپنے مکھیا کی حفاظت میں عدلیہ  پر عوام کے بھروسے  کا قتل کر ڈالا

جنسی استحصال کے معاملوں میں سب سے ضروری مانا جاتا ہے کہ اگر ملزم کسی ادارہ میں فیصلہ کن حالت میں ہے، تو وہاں سے اس کو ہٹایا جائے۔ گزشتہ دنوں ایسے کتنے ہی واقعات ہمارے سامنے آئے جن میں ادارہ کے چیف کو کام سے بری کیا گیا۔ غیر جانبداری کی یہ پہلی شرط مانی جاتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ سے جڑے اس خاص معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی گگوئی کو کلین چٹ: عورتوں کے حقوق کے  لیے لڑنے والی 350 کارکنوں نے فیصلے کو خارج کیا

کارکنوں نے کہا کہ ، آج سیاہ اور افسوس ناک دن ہے۔ سپریم کورٹ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب بات اپنے اوپر آتی ہے تو طاقت کا عدم توازن معنی نہیں رکھتا، طے شدہ ضابطہ معنی نہیں رکھتا اور انصاف کے بنیادی پیمانے معنی نہیں رکھتے۔

SC-Protest

چیف جسٹس کو جنسی استحصال کے معاملے میں کلین چٹ ملنے پر مظاہرہ، سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا

سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ کل 52 عورتوں اور تین مردوں کو صبح پونے گیارہ بجے حراست میں لیا گیا ہے اور پولیس نے بتایا ہے کہ ان کو اوپر سے آرڈر آنے کے بعد رہا کیا جائے گا۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ(فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: جسٹس بوبڈے سے ملاقات کر کےجسٹس چندرچوڑ نے کی فل کورٹ سماعت کی مانگ

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے جانچ کمیٹی کا دائرہ بڑھانے کے لئے ایک باہری ممبر کو بھی شامل کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے لئے انہوں نے سپریم کورٹ کی تین ریٹائرڈ خاتون ججوں کا نام بھی دیا ہے۔

CJI

سی جے آئی جنسی استحصال معاملے کو سازش بتانے کے دعووں کی جانچ شروع کرنے سے جسٹس پٹنایک نے کیا انکار

سی جے آئی رنجن گگوئی پر سپریم کورٹ کی ایک سابق جونیئر کورٹ اسسٹنٹ نے جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے۔ایک وکیل نے اس الزام کے پیچھے سازش ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ جسٹس پٹنایک کا کہنا ہے کہ جب تک انٹرنل جانچ پوری نہیں ہو جاتی ،وہ سازش کے دعووں کی جانچ شروع نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: شکایت گزار  نے کہا، جانچ  سے پہلے ہی میرے کردار پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں

سی جے آئی رنجن گگوئی کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ‌کر رہی کمیٹی کو لکھے خط میں شکایت گزار نے کہا کہ مجھے صرف تبھی انصاف مل سکتا ہے جب غیرجانبدارانہ اور شفافیت کے ساتھ سماعت کا موقع دیا جائے۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی (فوٹو : پی ٹی آئی)

جسٹس اے کے پٹنایک کریں‌گے سی جے آئی پر جنسی استحصال کے الزامات کی مبینہ سازش کی تفتیش

سپریم کورٹ نے سی جے آئی کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات کو’سازش ‘ بتانے والے وکیل اتسو بینس کے دعووں کی تفتیش کی ذمہ داری ریٹائر ڈ جج اے کے پٹنایک کو دی ہے۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ جنسی استحصال کے الزامات سے متعلق شکایت پر غور نہیں کرے‌گی۔

فوٹو : دی وائر

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: 250 سے زیادہ خواتین نے کی الزامات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کی مانگ

چیف جسٹس رنجن گگوئی پر سپریم کورٹ کی سابق جونیئر کورٹ اسسٹنٹ کے ذریعے لگائے گئے جنسی استحصال کے الزامات پر 250 سے زیادہ خاتون وکیلوں، سماجی کارکنوں وغیرہ نے خط لکھ‌کر کہا ہے کہ اس معاملے میں سی جے آئی اور سپریم کورٹ نے سیدھے سیدھے وشاکھا گائڈلائنس کی خلاف ورزی کی ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی پر جنسی استحصال کی مبینہ سازش کو لے کر سپریم کورٹ نے پولیس، سی بی آئی اور آئی بی چیف کو طلب کیا

سی جے آئی رنجن گگوئی کے خلاف سپریم کورٹ کی سابق ملازمہ کے جنسی استحصال کے الزامات کو وکیل اتسو بینس نے سازش کہا تھا ۔ جسٹس ارو ن مشرا، جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے اس سلسلے میں تینوں اداروں کے چیف کو بلایا ہے۔

Arun-Jaitley-PTI

سی جے آئی پر لگے جنسی استحصال کے الزام پر جیٹلی نے کہا، یہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے بلاگ میں کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف غیر مصدقہ الزامات کی حمایت کرکے چیف جسٹس کے ادارہ کو متزلزل کرنے کی کوشش کرنے والے ایسے لوگوں کا کام رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

جسٹس رنجن گگوئی/فوٹو: پی ٹی آئی

چیف جسٹس پر سپریم کورٹ کی سابق جونیئر کورٹ اسسٹنٹ نے لگائے جنسی استحصال اور ذہنی تشدد کے الزام

سپریم کورٹ کے 22 ججوں کو بھیجے گئے حلف نامہ میں سپریم کورٹ کی سابق جونیئر کورٹ اسسٹنٹ نے الزام لگایا ہے کہ اکتوبر 2018 میں سی جے آئی جسٹس رنجن گگوئی نے اپنے گھر پر بنے آفس میں اس کے ساتھ بد سلوکی کی تھی، جس کی مخالفت کرنے کے بعد ان کو اور ان کی فیملی کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل نے کیا الزامات سے انکار۔

سابق سی ای سی ایس وائی قریشی (فوٹو : پی ٹی آئی)

سیاسی قوت ارادی کے فقدان کی وجہ سے انتخابی اصلاحات مؤخر: سابق چیف الیکشن کمشنر

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے ’ دی گریٹ مارچ آف ڈیموکریسی : سیوین ڈیکیڈس آف انڈیاز الیکشنس ‘کے پیش لفظ میں کہا کہ جتنے بھی انتخابی اصلاحات ہوئے ہیں، وہ تمام عدلیہ کی مداخلت سے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جج پرموشن: جسٹس لوکور نے  کالجیئم کے 12 دسمبر کے فیصلے کو عام نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار  کیا

12 دسمبر کو سپریم کورٹ کے کالجیئم نے جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس راجیندر مینن کے پروموشن کی تجویز رکھی تھی، لیکن 10 جنوری کو چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والے کالجیئم نے سینئرٹی کو درکنار کرتے ہوئے جسٹس دینیش ماہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کا پروموشن کیا۔

فوٹو: اے این آئی

دیپک مشرا کی قیادت میں سپریم کورٹ صحیح سمت میں نہیں جا رہا تھا: جسٹس کرین جوزف

گزشتہ 30 نومبر کو ریٹائر ہوئے جسٹس جوزف نے 12 جنوری کو کیے پریس کانفرنس کے سیاق میں کہا کہ انھوں نے کورٹ کے مسائل کے بارے میں سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کو بتایا تھا۔ لیکن جب کوئی حل نہیں نکلا تو میڈیا کے سامنے آنا پڑا۔