علیم الدین انصاری

فوٹو : پی ٹی آئی / السٹریشن : دی وائر

جس طرح گھوٹالے کانگریس کی پہچان  بنے تھے، بی جے پی ماب لنچنگ کے لئے جانی جائے‌گی

اقلیتوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات لگاتار بڑھ رہے ہیں، لیکن وہ شہری متوسط طبقہ، جو بد عنوانی کے مدعے پر سڑکوں پر اتر آیا تھا، وہ اس تشدد پر بے نیازتماشائی بنا ہوا ہے۔

گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مارے گئے علیم  الدین انصاری کے قتل کے  آٹھ ملزمین کو پچھلے ہفتے ضمانت ملی تھی۔ گزشتہ 4 جولائی کو ان کے جیل سے نکلنے پر مرکزی وزیر اور بی جے پی رکن پارلیامان جینت سنہا نے ان کا استقبال کیا۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

گراؤنڈ رپورٹ : جینت سنہا کا ماب لنچنگ کےمجرموں کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟

گراؤنڈ رپورٹ :جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں گزشتہ سال گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں ہوئے علیم الدین انصاری کے قتل کے ملزموں کو ‘انصاف ‘دلانے کی جینت سنہا کی مہم کے بیج ہزاری باغ میں سنہا فیملی کی سیاست میں چھپے ہیں۔

گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مارے گئے علیم  الدین انصاری کے قتل کے  آٹھ ملزمین کو پچھلے ہفتے ضمانت ملی تھی۔ گزشتہ 4 جولائی کو ان کے جیل سے نکلنے پر مرکزی وزیر اور بی جے پی رکن پارلیامان جینت سنہا نے ان کا استقبال کیا۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جینت سنہا کی صفائی : ’بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی ‘

بھیڑ کے ذریعے بےقصور لوگوں کو پیٹ پیٹ‌کر مار ڈالنے کے واقعات کی روک تھام کی مرکزی حکومت کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے، اس لئے وہ صرف ریاستی حکومتوں کو محتاط رہنے کو کہہ‌کر اپنے فرائض کو پورا کر لینا چاہتی ہے۔