فرقہ وارانہ سیاست

راجستھان کے الور میں گئو تسکری کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیے  گئے اکبر خان۔ (فوٹو : جیوتی یادو / دی وائر)

کیا پولیس اکبر خان کے قتل کے ملزمین کو بچا رہی ہے؟

الور ماب لنچنگ معاملے میں پولیس کی طرف سے داخل ادھوری چارج شیٹ نہ صرف جیل میں بند ملزمین کے لئے قانونی طور پر مفید ہے، بلکہ اس سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ پولیس کا باقی ملزمین کو پکڑنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی) 

عام انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے ساتھ ہی ’فرقہ وارانہ ایمرجنسی‘ کا آغاز ہوچکا تھا

2014 کے پہلے تک’سیاسی اکثریت’اور’فرقہ وارانہ اکثریت’کے بیچ کی کھائی رسمی طور پر بنی رہی۔زمین پر جو بھی حالات رہے ہوں لیکن انتخاب غلط فہمی پیدا کرنے والے ایک مکھوٹا کے طور پر کام کرتا رہا۔لیکن مرکز میں بی جے پی کے آنے کے بعد یہ مکھوٹا بھی اتر گیا۔

Collage_muslim-Mob-Violence

کیا بیف کے بہانے آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار ماب لنچنگ کو جائز ٹھہرا رہےہیں؟

اندریش کماراور ان جیسوں کے رد عمل پر حیرت نہیں ہوتی لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر جھوٹ گڑھ رہے ہیں اور ان کے ارد گرد بیٹھے مدرسوں کے فارغین عالم فاضل لوگ خاموش ہیں تو حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے۔

بستر پر نڈھال پڑی اکبر کی بیوی اسمینہ اور ان کے بغل میں بیٹھی اکبر کی ماں حبیبن /(فوٹو: دی وائر)

اکبر کے گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ: یقین و اعتماد کی ٹوٹتی سانسیں اور انصاف کی امید

اکبر خان اپنے گھر کے اکیلے کمانے والے تھے، اب ان کے 60 سال کے والد پر بیمار بہو، بزرگ بیوی، 7 پوتے پوتیوں اور 5 گایوں کی ذمہ داری ہے۔ بیٹے کی موت نے ان کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ وہ کسی پر یقین نہیں کر پا رہے ہیں۔ ہر ملنے آنے والے سے بس یہی پوچھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی جگہ ہے جہاں انصاف کی فریاد کی جا سکے۔

فوٹو: اے این آئی

لوگ بیف کھانا چھوڑ دیں تو رک سکتی ہے ماب لنچنگ :  آر ایس ایس رہنما

آر ایس ایس رہنما اندریش کمار نے رانچی میں سوموار کو ایک پروگرام میں کہا کہ’ماب لنچنگ کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا لیکن اگر لوگ بیف کھانا چھوڑ دیں تو ‘شیطانوں’کے ذریعے کیے جانے والے اس طرح کے جرائم کو روکا جا سکتاہے۔’

FN_KanchanGupta

فری لانس احتجاج، بنگال کی برہنہ تصویریں اور پاکستانی پرائم منسٹر کی برہنگی  کا سچ

فیک نیوز:تصویر کو فرقہ وارانہ رنگ اس وقت دیا گیا جب بغیر کسی دلیل اور ثبوت کے لڑکےکومسلمان قرار دیا گیا ۔ انڈیا ٹی وی نےبھی اس کے مسلمان ہونے پر مہر لگا دی !صحافی کنچن گپتا نے بھی ٹی وی کی تعریف کرتے ہوئے لڑکے کی شناخت سے پردہ اٹھانے کی مبارکباد دی۔ حالانکہ بعد میں ان کواپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کر کے معافی مانگی۔