لاء اینڈ آرڈر

 نتیش کمار(فوٹو : پی ٹی آئی)

فرقہ وارانہ فسادات میں بہار اول کیوں ہے؟

ایک سال کی تاخیرسے جاری کئے گئے این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق،سال 2017 میں ملک میں فسادات کے کل 58729 معاملے درج کیے گئے۔ ان میں سے 11698 فسادات بہار میں ہوئے۔2017 میں ہی ملک میں کل 723 فرقہ وارانہ / مذہبی فسادات ہوئے۔ ان میں سے اکیلے بہار میں 163 معاملے ہوئے، جو کسی بھی صوبے سے زیادہ ہے۔

کملیش تیواری، فوٹو: پی ٹی آئی

اتر پردیش: لکھنؤ میں ہندوتوادی تنظیم کے رہنما کے قتل معاملے میں 5 لوگ گرفتار

اترپردیش کے ڈی جی پی نے بتایا کہ کملیش تیواری قتل معاملے کا دہشت گردی سے تعلق ہونے کا اشارہ نہیں ملا ہے۔ شروعاتی پوچھ تاچھ سے لگتا ہے کہ 2015 میں کملیش تیواری کے ذریعے دی گئی ایک اسپیچ ان کے قتل کی وجہ ہو سکتی ہے۔ کملیش تیواری کی ماں نے بی جے پی رہنما پر لگایا قتل کا الزام۔

ijX9_1aQ

کن حالات میں کام کرتی ہے ملک کی پولیس؟

ویڈیو: گزشتہ دنوں کامن کاز، پبلک پالیسی اور سی ایس ڈی ایس تنظیموں نے ملک کے 12 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں پر کیے گئے ایک سروے کی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری سنبھالنے والے پولیس اہلکار کیا سوچتے ہیں اور کن حالات میں کام کرتے ہیں۔ رپورٹ کے بارے میں تفصیل سے بتا رہی ہیں ریتو تومر۔

فوٹو: ٹوئٹر

تریپورہ میں بی جے پی کو ووٹ نہیں دینے والوں  کو نشانہ بنایا جارہا ہے: کانگریس

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے الزام لگایا کہ بی جے پی ان رائے دہندگان کو نشانہ بنارہی تھی جنہوں نے لوک سبھا میں ان کے لیے ووٹ نہیں کیا۔ بی جے پی کے غنڈوں سے جان بچانے کے لیے ڈرے سہمے لوگ جنگلوں میں چھپے ہیں۔

modi-nitish-kumar-pti

نتیش کمار کا دعویٰ ؛ ہماری حکومت میں نہیں ہوئے فسادات، جانیے کیا ہے حقیقت

نتشب کمار نے ایک حالیہ انٹرویو مںم کہا تھا کہ ا ن کی 13 سالہ حکومت مں صرف ایک بار نوادہ مںا کرفوی لگا اور وہ بھی محض 48 گھنٹے کے لئے۔ مگر مڈییا رپورٹس کی مانں ، تو ان کا یہ دعویٰ بھی سچائی سے پرے ہے۔

بھکتوں کے درمیان آسارام (فوٹوبشکریہ : فیس بک / آسارام)

لوگ اپنےعقائد کیوں آسارام جیسوں کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں؟ 

اوما بھارتی نے مدھیہ پردیش میں اپنے وزیراعلیٰ کے دور میں اسمبلی کے اندر آسارام کی تقریر کرائی تھی تو پورے کابینہ کے ساتھ حزب اقتدار کے سارے ایم ایل اے کے لئے اس کو سننا لازمی قرار دیا تھا۔ جودھ پور میں اسپیشل ایس سی ایس ٹی […]

Don`t copy text!