لاء منسٹری

نئی دہلی  میں واقع بی جے پی ہیڈ کوارٹر (فوٹو : پی ٹی آئی)

الیکٹورل بانڈ اسکیم کا ڈرافٹ بننے سے پہلے ہی بی جے پی کو اس کے بارے میں جانکاری تھی: آر ٹی آئی

پارٹی نے اس وقت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو خط لکھ‌کرکہا تھا کہ الیکٹورل بانڈ کو بنا کسی سیریل نمبر یا کسی پہچان‌کے نشان کے جاری کیا جانا چاہیے، تاکہ بعد میں چندہ دینے والوں کا پتہ لگانے کے لئے اس کا استعمال نہ کیا جا سکے۔

Narendra-Modi-Reuters

مودی کے ساتھ میٹنگ کے بعد الیکٹورل بانڈ پر پارٹیوں اور عوام کی رائے لینے کے اہتمام کو ہٹایا گیا

آر ٹی آئی کے تحت حاصل کئے گئے دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب الیکٹورل بانڈ منصوبہ کا ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا تو اس میں سیاسی جماعتوں اور عوام کے ساتھ صلاح اورمشورے کا اہتمام رکھا گیا تھا۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ میٹنگ کے بعد اس کو ہٹا دیا گیا۔

(فوٹو : رائٹرس)

آر ٹی آئی کے تحت انکشاف، 91 فیصدی سے زیادہ الیکٹورل بانڈ 1 کروڑ روپے کے خریدے گئے

اس کے علاوہ ایک مارچ 2018 سے 24 جولائی 2019 کے بیچ خریدے گئے کل الیکٹورل بانڈ میں سے 99.7 فیصدی بانڈ 10 لاکھ اور ایک کروڑ روپے کے تھے۔ تقریباً 80 فیصدی الیکٹورل بانڈ نئی دہلی میں بھنائے گئے ہیں۔

فوٹو بہ شکریہ : پی آئی بی

الیکٹورل بانڈ: وزارت قانون، چیف الیکشن کمشنر نے 1فیصد ووٹ شیئر کی شرط پر اعتراض کیا تھا

حالاں کہ وزارت خزانہ نے ان اعتراضات کو درکنار کیا اور یہ اہتمام رکھا کہ وہ رجسٹرڈ سیاسی پارٹیاں ہی الیکٹورل بانڈ کے ذریعے چندہ لینے کے اہل ہو ں گے جنہوں نے پچھلے لوک سبھا یا اسمبلی انتخاب کے دوران ایک فیصدی ووٹ حاصل کیا ہو۔

KARAN FAIZAN IV 19 NOV.01_00_15_15.Still011

میڈیا بول: جے این یو کا سچ اور الیکٹورل بانڈ کا سرکاری فراڈ

ویڈیو: میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں فیس میں اضافے کے خلاف چل رہے مظاہرے اور آر بی آئی کے ذریعے الیکٹورل بانڈ کی مخالفت سے متعلق خبر پر سی پی آئی (ایم ایل)کی پولت بیورو ممبر کویتا کرشنن، قلمکار سہیل ہاشمی اور سینئر صحافی نتن سیٹھی سے سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور سابق آر بی آئی گورنر ارجیت پٹیل (فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت نے الیکٹورل بانڈ پر آر بی آئی کے سبھی اعتراضات کو خارج کر دیا تھا: رپورٹ

آر بی آئی نے کہا تھا کہ الیکٹورل بانڈ اور آر بی آئی ایکٹ میں ترمیم کرنے سے ایک غلط روایت شروع ہو جائے‌گی۔ اس سے منی لانڈرنگ کو بڑھاوا ملے‌گا اور م سینٹرل بینکنگ قانون کے بنیادی اصولوں پر ہی خطرہ پیدا ہو جائے‌گا۔

Court-Hammer-2

ملک کے مختلف ہائی کورٹ میں ججوں کے خالی عہدوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے: وزارت قانون

وزارت قانون کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے مختلف ہائی کورٹ میں 420 ججوں کی کمی ہے، جو اس سال اب تک سب سے زیادہ ہے۔ ایک اکتوبر تک ہائی کورٹ میں 659 جج تھے، جبکہ کل منظور شدہ عہدوں کی تعداد 1079 ہے۔

اٹارنی جنرل  کے کے  وینو گوپال۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: مرکزی حکومت سے اختلاف کے سبب استعفیٰ دے سکتے ہیں اٹارنی جنرل

دی وائر کی خصوصی رپورٹ: سی جے آئی پر لگے جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ‌کر رہی کمیٹی میں ایک باہری ممبر شامل کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کےکے وینو گوپال نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو خط لکھا تھا۔اس پر مرکزی حکومت کے ذریعے ان کو وضاحت دینے کو کہا گیا کہ یہ ان کی’ذاتی رائے ‘ہے نہ کہ مرکز کی۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

الیکٹورل بانڈ کے ذریعے ملے چندے کی جانکاری الیکشن کمیشن کو دیں سیاسی  پارٹیاں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سبھی پارٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ 30 مئی تک وہ الیکٹورل بانڈ کی رقم اور اس کے چندہ دینے والوں کے نام سمیت تمام جانکاری سیل بند لفافے میں الیکشن کمیشن کو دیں۔ کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں آخری فیصلہ تفصیلی سماعت کے بعد لیا جائے‌گا۔

الیکشن کمیشن(فوٹو : رائٹرس)

رائے دہندگان کو سیاسی جماعتوں کو مل رہے پیسے کے ذرائع جاننے کا حق نہیں: اٹارنی جنرل وینو گوپال

سپریم کورٹ میں الیکٹورل بانڈ کے خلاف عرضی کی سماعت پوری، آج آئے‌گا فیصلہ۔ شنوائی میں مرکزی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ الیکٹورل بانڈ بلیک منی پر روک لگانے کے لئے ایک تجربہ ہے اور لوک سبھا انتخاب تک عدالت کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا، الیکٹورل بانڈ سے سیاسی چندے کی شفافیت پر خطرہ ہے

کمیشن نے کہا کہ الیکٹورل بانڈ اسکیم اور کارپوریٹ فنڈنگ کو محدود نہ کرنے سے سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے کی شفافیت پر سنگین اثر پڑے‌گا۔ سیاسی جماعتوں کو غیر منضبط غیر ملکی فنڈنگ کی اجازت ملے‌گی اور اس سے ہندوستانی پالیسیاں غیر ملکی کمپنیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

فوٹو : @shafinasegon

ورق در ورق:لنچ فائلز، محض وقتی اور ہنگامی مسئلے پر ایک کتاب نہیں ہے

ضیاء السلام نے محض وقتی اور ہنگامی مسئلے کو موضوع بحث نہیں بنایا ہے بلکہ انہوں نے اپنی اس کتاب کے توسط سے انسانی سرشت میں مضمر تشدد سے گہری دلچسپی کی روش کو بھی گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے اور اس نوع کے واقعات کے تاریخی پس منظر کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا مودی حکومت نے الیکٹورل بانڈ معاملے میں پارلیامنٹ کو گمراہ کیا ؟

الیکشن کمیشن نے گزشتہ 26 مئی 2017 کو وزارت قانون کے سکریٹری کو خط لکھ‌کر اپنی تشویش کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد وزارت قانون نے کمیشن کے اعتراضات کو شامل کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے محکمہ اخراجات کو تین خط بھیجا تھا۔

Don`t copy text!