لوک سبھا

فوٹو: پی ٹی آئی

کرناٹک: یدورپا نے حاصل کیا ٹرسٹ ووٹ، اسپیکر نے دیا استعفیٰ

کرناٹک میں گزشتہ 23 جولائی کو ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت والی کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد والی حکومت تب گر گئی تھی،جب باغی ایم ایل اے کی وجہ سے وہ ٹرسٹ ووٹ حاصل نہیں کر پائی تھی۔اس کے بعد بی ایس یدورپا نے 26 جولائی کو نئے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔

اعظم خان (فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈپٹی اسپیکر رما دیوی پر اعظم خان کے تبصرے پر مختلف جماعتوں  نے کارروائی کی مانگ کی

بی جے پی رہنما رما دیوی نے کہا کہ اعظم خان نےکبھی خواتین کا احترام نہیں کیا۔ ان کو ہر حال میں معافی مانگنی چاہیے۔ لوک سبھا میں بی جے پی، کانگریس، ترنمول کانگریس، این سی پی سمیت مختلف جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رما دیوی کے بارے میں ایس پی رہنما اعظم خان کے تبصرے کی مذمت کی ہے۔

کرناٹک اسمبلی میں وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی (فوٹو : پی ٹی آئی)

کرناٹک: ٹرسٹ ووت آج، اسپیکر نے باغی ایم ایل اے کو سمن جاری کر ملنے بلایا

کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر کے آر رمیش کمار نے باغی ایم ایل اے کو سمن جاری کرکے منگل کی صبح 11 بجے اپنے آفس میں طلب کیا ہے۔ یہ سمن ایم ایل اے کی نااہلی کو لےکر اتحاد کے رہنماؤں کی طرف سے دی گئی عرضی کے بعد دیا گیا ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ پی آئی بی

وزیر خزانہ اگر ’نیو انڈیا‘ میں نئی معاشی پالیسی کا جوکھم اٹھا لیتیں تو بہتر ہوتا

جب تک گلوبلائزیشن کی اقتصادی پالیسیوں میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہیں ہوتی، ہندوستان وشوشکتی بن جائے توبھی، حکومت کا سارا بوجھ ڈھونے والے نچلے طبقے کی یہ تقدیر بنی ہی رہنے والی ہے کہ وہ تلچھٹ میں رہ‌کر عالمی سرمایہ داری کے رساؤ سے گزر بسر کرے۔

علامتی فوٹو: پی ٹی آئی

بجٹ 2019: غیر ہندی زبان بولنے والی ریاستوں میں ہندی اساتذہ کی تقرری کے لیے 50 کروڑ روپے مختص

نئی اسکیم کے تحت ایسے مقامات پر اردو اساتذہ کی بھی تقرری کی جائے گی،جہاں کی 25 فیصدی سے زیادہ آبادی اردو بولتی ہے۔حالانکہ ،ملک میں ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کی گئی اسکیم کے لیے اس سال بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔

اکھلیش یادو، ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی (فوٹو : پی ٹی آئی)

بی ایس پی  کے ساتھ کم سیٹوں پر سمجھوتہ انتخاب سے پہلے ہی ایس پی کی ہار ہے

2019 کے لوک سبھا انتخاب میں ایس پی اپنے قیام کے بعد سے سب سے کم سیٹوں پر لڑے‌گی۔ ایک طرح سے وہ بنا لڑے تقریباً 60 فیصد سیٹیں ہار گئی ہے۔ ایس پی کا بی ایس پی سے کم سیٹوں پر انتخاب لڑنے کے لئے تیار ہو جانا حیران کرتا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ہماری پارٹی مضبوط تھی تو بی ایس پی کو آدھی سیٹیں کیوں دی گئیں: ملائم سنگھ

ملائم سنگھ یادو نے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے گٹھ بندھن کو لے کر اکھلیش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آخر کس بنیاد پر آدھی سیٹیں بی ایس پی کو دی گئیں۔ ایس پی کے ہی لوگ پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ملائم کا مودی کے متعلق بیان: کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ؟

ملائم سنگھ یادو کے اس تیر کا اصل نشانہ وہ شخصیت تھی، جو ان کے پاس ہی بیٹھی تھی۔اب کانگریس اتر پردیش میں پرینکا کی قیادت میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو اس سے ملائم سنگھ یادو کا فکرمند ہونا ایک فطری امر ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ وکی پیڈیا

حکومت نے بدلا فیصلہ، اب این آر آئی بھی دائر کر سکتے ہیں آر ٹی آئی

گزشتہ 8 اگست کو مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ این آر آئی ،آر ٹی آئی کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ حالانکہ اس پر سوال اٹھنے کے بعد اب حکومت نے اس فیصلے کو واپس لیا اور کہا ہے کہ این آر آئی، آر ٹی آئی دائر کر سکتے ہیں۔

فوٹو: فیس بک

لوک سبھا میں ایک بھی سیٹ نہ ہونے کے باوجود مایاوتی پی ایم کی دوڑ میں

مایاوتی کی زندگی تضادات سے بھرپور ہے اور وہ سودےبازی کرنےمیں ماہر ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو چاہیے کہ وہ تضادات کو سلجھانے کے ساتھ مایاوتی جیسی پکی سودےباز لیڈر کو رام کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

لوک سبھا اور راجیہ سبھا رکن پارلیامان  کی تنخواہ-بھتہ پر چار سال میں 19.97 ارب روپے خرچ

اس ادائیگی کا حساب لگانے سے پتا چلتا ہے کہ ہر لوک سبھا رکن پارلیامان کو ہر سال اوسطاً 71.29 لاکھ روپے کی تنخواہ-بھتہ ملا، جبکہ ہر راجیہ سبھا رکن پارلیامان کو اس مد میں ہر سال اوسطاً 44.33 لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

کرونا ندھی کے بعد تمل سیاست کا مستقبل

گزشتہ دو سالوں میں تمل ناڈو کے دو اہم سیاسی رہنماوں کا انتقال ہو چکا ہے- ان دنوں صوبہ کے ایک اور اہم سیاسی لیڈر وجے کانت بھی علیل ہیں۔ اس صورت حال میں اندیشہ ہے کہ ان کی پارٹیاں بکھر سکتی ہیں اور قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے لئے جگہ بن سکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی ٹی آئی)

وزیر اعظم نے عوام سے 60 مہینے مانگے تھے، 50 ہوابازی میں گزرا دیے!

‘ چتر ‘وزیر اعظم نے انتخاب کے لئے طےشدہ وقت سے پہلے ہی خود کو اپنی پارٹی کےانتخابی مہم کی قیادت والے لیڈر کی صورت میں بدل لیا ہے۔ سرکاری نظام اور حمایتی میڈیا کی ہمنوائی کے ذریعے عوام کو یہ یقین کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت خوب کام کر رہی ہے۔

فوٹو :  پی ٹی آئی

تحریک عدم اعتماد : اپوزیشن ناکام ،راہل گاندھی کامیاب

ہمارے وزیر اعظم گفتار کے غازی ہیں۔اپنی اسی صلاحیت کی بنا پر وہ یہاں تک پہنچے ہیں۔پارلیامنٹ میں اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا مگر سننے والوں کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ حقیقتاً ان سے جواب بن نہیں پڑ رہا ہے۔
RahulGandhi_Modi

اندرا گاندھی۔  (فوٹو بشکریہ : وکیمیڈیا کامنس)

کیا کانگریس والے 1978 کی تاریخ 2019 میں دوہرا سکتے ہیں؟

اگر 1977 ہندوستان کی پہلی غیرکانگریسی حکومت کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے ہندوستانی سیاست کا ایک بڑا پڑاؤ ہے تو 1978 کو اندرا گاندھی کو اس قوت ارادی اورسوچ کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے، جس کی بنا پر انہوں نے اپنی واپسی کی عبارت لکھی۔