لوک سبھا

فوٹو : پی ٹی آئی

کرونا ندھی کے بعد تمل سیاست کا مستقبل

گزشتہ دو سالوں میں تمل ناڈو کے دو اہم سیاسی رہنماوں کا انتقال ہو چکا ہے- ان دنوں صوبہ کے ایک اور اہم سیاسی لیڈر وجے کانت بھی علیل ہیں۔ اس صورت حال میں اندیشہ ہے کہ ان کی پارٹیاں بکھر سکتی ہیں اور قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے لئے جگہ بن سکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی ٹی آئی)

وزیر اعظم نے عوام سے 60 مہینے مانگے تھے، 50 ہوابازی میں گزرا دیے!

‘ چتر ‘وزیر اعظم نے انتخاب کے لئے طےشدہ وقت سے پہلے ہی خود کو اپنی پارٹی کےانتخابی مہم کی قیادت والے لیڈر کی صورت میں بدل لیا ہے۔ سرکاری نظام اور حمایتی میڈیا کی ہمنوائی کے ذریعے عوام کو یہ یقین کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت خوب کام کر رہی ہے۔

فوٹو :  پی ٹی آئی

تحریک عدم اعتماد : اپوزیشن ناکام ،راہل گاندھی کامیاب

ہمارے وزیر اعظم گفتار کے غازی ہیں۔اپنی اسی صلاحیت کی بنا پر وہ یہاں تک پہنچے ہیں۔پارلیامنٹ میں اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا مگر سننے والوں کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ حقیقتاً ان سے جواب بن نہیں پڑ رہا ہے۔
RahulGandhi_Modi

اندرا گاندھی۔  (فوٹو بشکریہ : وکیمیڈیا کامنس)

کیا کانگریس والے 1978 کی تاریخ 2019 میں دوہرا سکتے ہیں؟

اگر 1977 ہندوستان کی پہلی غیرکانگریسی حکومت کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے ہندوستانی سیاست کا ایک بڑا پڑاؤ ہے تو 1978 کو اندرا گاندھی کو اس قوت ارادی اورسوچ کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے، جس کی بنا پر انہوں نے اپنی واپسی کی عبارت لکھی۔

وی پی سنگھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

وی پی سنگھ : سیاست میں سماجی انصاف نافذ کرنے والا شخص

یوم پیدائش پر خاص : وی پی سنگھ کہا کرتے تھے کہ سماجی تبدیلی کی جو مشعل انہوں نے جلائی ہے اور اس کے اجالے میں جو آندھی اٹھی ہے، اس کا منطقی عروج تک پہنچنا ابھی باقی ہے۔ ابھی تو سیمی فائنل ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ فائنل میرے بعد ہو۔ لیکن اب کوئی بھی طاقت اس کا راستہ نہیں روک پائے‌گی۔

فوٹو : فیس بک

مودی کتنے ہی خواب دیکھ لیں، اسکیموں کا زمین پر اترنا ضروری:بی جے پی رکن پارلیامنٹ

مدھیہ پردیش کے مُرینا سے رکن پارلیامنٹ انوپ مشرا نے پارلیامنٹ میں کہا کہ مرکز کی مودی حکومت کی اسکیموں کی عمل آوری پر نگرانی کی کمی ہے۔ نگرانی ضروری ہے تبھی عوام کو ان کا فائدہ ملے‌گا۔