مدھیہ پردیش

کانگریسی رہنما دیویندر چورسیا (فوٹو بشکریہ : فیس بک)

بی ایس پی سے کانگریس میں شامل ہوئے رہنما کا قتل، بی ایس پی ایم ایل اے کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج

مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع کا معاملہ۔ گزشتہ 12 مارچ کو بی ایس پی سے کانگریس میں شامل ہوئے تھے دیویندر چورسیا۔ پتھریا سے بی ایس پی ایم ایل اے رام بائی کے شوہر اور دیور سمیت سات لوگوں کے خلاف قتل کا معاملہ درج۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

مدھیہ پردیش: اب گائے لے جانے پر 2 لوگوں پر لگا این ایس اے، چدمبرم نے اپنی پارٹی کو بنایا تنقید کا نشانہ

ریاست کے آگر مالوا ضلع میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے گائے لے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے کھنڈوا ضلع میں مبینہ گئو کشی کے معاملے میں 3 لوگوں کو این ایس اے کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

مدھیہ پردیش: مبینہ گئو کشی کے معاملے میں 3 لوگوں پر این ایس اے کے تحت معاملہ درج

پولیس نے کہا ہے کہ حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے این ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔شیو راج حکومت میں 2007 سے 2016 کے بیچ گئو کشی کے معاملے میں 22 لوگوں کو این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

فوٹو بہ شکریہ : انڈین ایکسپریس

مدھیہ پردیش: کیا سیاست میں اپوزیشن کے ساتھ اچھے سلوک کی شروعات ہوچکی ہے؟

تیرہ سال تک حکومت کرنے کے بعد شیوراج کو ایسے سلوک کی امید نہیں رہی ہوگی۔ان کو جب بالکل سامنے کی نشست دی گئی جہاں ملک کے کونے کونے سے آئے بڑے یو پی اے لیڈر تھے،تو شروعات میں کچھ پریشان نظر آئے۔

RahulGandhi_CongressTwitter

اسمبلی انتخابات 2018: کیا کانگریس کے’اچھے دن‘ آگئے ہیں؟

ان نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان تین ریاستوں میں اپوزیشن متحد ہو کر لڑتی تو بی جے پی کو اس ے زیادہ بڑی ہار کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔خصوصاً مدھیہ پردیش میں جہاں شیوراج سنگھ چوہان کوبے دخل کرنے میں کانگریس کو مشقت کرنی پڑی ۔

MuslimsRajasthan_DeccanHerald

اسمبلی انتخابات 2018: مسلم ایم ایل اے کی تعداد 11 سے بڑھ کر 19ہوئی

گزشتہ 25 سالوں میں پہلی بار ہوگا کہ راجستھان اسمبلی میں بی جے پی کا کوئی مسلم ایم ایل اے نہیں ہے۔ وسندھرا راجے حکومت میں وزیر یونس خان جن کو ٹونک سے ٹکٹ دیا گیا وہ بھی کانگریس کے سچن پائلٹ سے ہار گئے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مدھیہ پردیش: مایاوتی کی حمایت، کانگریس کے لیے حکومت بنانے کا راستہ صاف

بی جے پی سے موجودہ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے استعفیٰ دیا ۔ 230 سیٹوں والی ودھان سبھا میں کسی بھی پارٹی کے پاس حکومت بنانے کے لیے 116 سیٹیں ہونا ضروری ہیں ۔ کسی بھی پارٹی کے پاس مکمل اکثریت نہیں ہے ۔ ایس پی اور بی ایس پی نے کانگریس کی حمایت کی ۔

assembly-election-results-2018

اسمبلی انتخابات نتائج (لائیو): رجحانوں کے مطابق میزورم میں ایم این ایف کو اکثریت

میزورم میں رجحانوں کے مطابق ایم این ایف کو اکثریت مل گئی ہے ۔ یہاں 40 میں سے 24 سیٹوں پر ایم این ایف ،کانگریس 10 اور بی جے پی 1 اور دیگر 5 پر آگے چل رہی ہے۔ نئی دہلی: 5 ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں  ووٹوں کی گنتی شروع […]

فوٹو: رائٹرس

مودی حکومت کا یو ٹرن، نئی رپورٹ میں کہا – نوٹ بندی کا کسانوں پر کوئی اثر نہیں پڑا

اگریکلچر منسٹری نے 20نومبر کو پارلیامانی کمیٹی کو دی گئی وہ رپورٹ واپس لے لی ، جس میں کہا گیا تھا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کسان کھاد اور بیج نہیں خرید سکے تھے ۔ کمیٹی کو دی گئی نئی رپورٹ میں وزارت نے کہا کہ نوٹ بندی کا زراعتی شعبے میں اچھا اثر پڑا۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

بدعنوانی کے دیمک کو صاف کرنے کے لیے نوٹ بندی جیسی کڑوی دوا ضروری تھی: نریندر مودی

وزیر اعظم نے کہا ؛آج مودی کی طاقت دیکھیے کہ پائی پائی بینک میں جمع کرنے کو مجبور کردیا ۔ کانگریس کے راج سے اس طرح بدعنوانی پھیلی کہ مجھے نوٹ بندی جیسی کڑوی دوا کا استعمال کرنا پڑا، تاکہ غریبوں کو لوٹ کر لے جایا گیا پیسہ ملک کے خزانے میں واپس آئے ۔

مدھیہ پردیش کے چھندواڑا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر / بی جے پی)

رویش کمار نے وزیر اعظم کے لیے اسپیچ لکھی ہے،کیا وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں؟

بی جے پی کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم پرسب سے زیادہ پیسے بچائے ہیں۔ ہمارا نوجوان خودہی پروفیسر ہے۔ وہ تو بڑےبڑے کو پڑھا دیتا ہے جی، اس کو کون پڑھائے‌گا۔ مدھیہ پردیش کے پونے 6لاکھ نوجوان کالجوں میں بنا پروفیسر،اسسٹنٹ پروفیسر کے ہی پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا نوجوان ملک مانگتا ہے، کالج اور کالج میں ٹیچرنہیں مانگتا ہے۔

ایک جلسہ کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی، (بائیں سے) جیوترادتیہ سندھیا، دگوجئے سنگھ اور کمل ناتھ (بیٹھے ہوئے) /فوٹو : پی ٹی آئی

مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن: گجرات ماڈل اپنانے میں چوک گئی کانگریس

صوبائی صدر کو ان کارکنان سے ہمدردی ہے، لیکن پارٹی باہر سے آنے والے بہت سارے لوگوں کی امیدوں کو پورا نہیں کر سکتی۔وہیں ناراض لوگوں سے اب یہ وعدہ کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں کانگریس کی سرکار بننے پر انہیں مختلف بورڈس اور کارپوریشن میں موقعہ دیا جائے گا۔

کانگریس رہنما دگوجئے سنگھ۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

مدھیہ پردیش: 10 سال تک وزیراعلیٰ رہے دگوجئے سنگھ ان دنوں اتنے خاموش کیوں ہیں؟

اسپیشل رپورٹ : مدھیہ پردیش میں کانگریس کے آخری وزیراعلیٰ رہے دگوجئے سنگھ انتخابی تشہیر سے پوری طرح سے غائب ہیں۔ کیا ان کو حاشیے پر دھکیلا جا چکا ہے یا پھر ان کو پردے کے پیچھے رکھنا انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے؟