مسلمان

2307 Gondi.00_47_04_06.Still146

یوپی میں ’لو جہاد‘ آرڈیننس: ہندو مسلم شادی  پر کیا ہوگا اثر؟

ویڈیو: مبینہ لو جہاد کو لےکر اتر پردیش سرکار نے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت شادی کے لیے فریب، لالچ یا جبراًمذہب تبدیل کرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ10 سال کی قیداور جرما نے کی سزا کا اہتمام ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لو جہاد فحش پروپیگنڈہ ہے

بی جے پی لو جہاد کے راگ کو کیوں نہیں چھوڑ رہی؟وہ ہندوؤں میں خوف بٹھا رہی ہے کہ ‘ہماری’عورتوں کا استعمال کرکے ‘ودھرمی’اپنی تعداد بڑھانے کی سازش کر رہے ہیں۔ ‘ودھرمیوں’ کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ تعداد ہی طاقت ہے اور وہی برتری کی بنیاد ہے۔ اس لیے ایسی ہر شادی یا رشتے کی مخالفت کی جانی ہے، کیونکہ اس سے ‘ودھرمی’ کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

لو جہاد معاملے میں یوپی پولیس نے سونپی رپورٹ، کہا- کسی سازش یا غیرملکی فنڈنگ کے ثبوت نہیں

اتر پردیش کے کانپور شہر میں کچھ رائٹ ونگ ہندو تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ مسلم نوجوان مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادی سے کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہیں دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہا ہے اور لڑکیوں سے انہوں نے اپنی پہچان چھپا رکھی ہے۔ اس کی جانچ کے لیے کانپور رینج کے آئی جی نے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔

freedom-expression

مغرب کے دوہرے معیار اور مسلم دنیا کی بے حسی

 ایک جمہوری معاشرہ کی بنیاد ہی اظہار رائے کی آزادی ہے، مگر کسی بھی مہذب سوسائٹی میں آزادی مطلق نہیں ہوسکتی ہے۔ اگر سوسائٹی میں کسی بھی طرح کا کنٹرول نہ ہو، تو کمزوروں کے حقوق پامال ہوں گے اور انارکی کی سی کیفیت پیدا ہوگی۔ ڈنمارک کے […]

فائل فوٹو: سندیپ شنکر

بابری مسجد؛ جہاں انصاف کو دفن کر دیا گیا

نریندر مودی کی آمد تو 2014میں ہوئی، اس سے قبل سیکولر جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، جن کی سانسیں ہی مسلمانوں کے دم سے ٹکی ہوئی تھیں، بابری مسجد کی مسماری کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

آنند پٹوردھن، بابری مسجد، رام کے نام کو لےکر چھپا ایک ریویو۔(بہ شکریہ:فیس بک/http://patwardhan.com)

بابری مسجد مذہب کے لیے نہیں، اقتدار حاصل کر نے کے لیے مسمار کی گئی تھی: آنند پٹوردھن

انٹرویو: ملک کے نامور ڈاکیومنٹری فلمسازآنند پٹوردھن نے 90 کی دہائی میں شروع ہوئی رام مندرتحریک کو اپنی ڈاکیومنٹری‘رام کے نام’میں درج کیا ہے۔ بابری انہدام معاملے میں خصوصی سی بی آئی عدالت کے فیصلے کے مدنظر ان سے بات چیت۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

بابری انہدام کی سازش کو لےکر سپریم کورٹ میں آئی بی رپورٹ پیش کی گئی تھی: سابق داخلہ سکریٹری

بابری مسجد انہدام کے وقت مرکزی داخلہ سکریٹری رہے مادھو گوڈبولے نے کہا ہے کہ مسجد گرانے کی سازش کی گئی تھی اور اسی بنیاد پر انہوں نے اس وقت کی اتر پردیش سرکار کو برخاست کرنے کی سفارش کی تھی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

بابری مسجد انہدام معاملہ: دو ایف آئی آر کی کہانی

بابری مسجد انہدام معاملے کی شروعات اس بارے میں درج دو ایف آئی آر 197 اور 198 سے ہوئی تھی۔ پہلی ایف آئی آر انہدام کے ٹھیک بعد ایودھیا تھانے میں لاکھوں نامعلوم کارسیوکوں کے خلاف درج ہوئی تھی اور دوسری جس میں بی جے پی، سنگھ اور باقی تنظیموں کے رہنما نامزد تھے۔

جسٹس ایم ایس لبراہن، 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد پر جمع کارسیوک اور معاملے میں ملزم رہے بی جے پی رہنما۔ (فوٹو: پی ٹی آئی/رائٹرس)

بابری انہدام کا منصوبہ باریکی سے بنایا گیا تھا، اوما بھارتی نے خود ذمہ داری لی تھی: جسٹس لبراہن

بابری مسجد انہدام کی جانچ کے لیے1992 میں جسٹس ایم ایس لبراہن کی قیادت میں لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں آیاتھا، جس نے سال 2009 میں اپنی رپورٹ سونپی تھی۔ کمیشن نے کہا تھا کہ کارسیوکوں کا اجتماع اچانک یا رضاکارانہ نہیں تھا، بلکہ منصوبہ بند تھا۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

’سی بی آئی عدالت کو بابری انہدام منصوبہ بند نہیں لگا، لیکن  ان کا فیصلہ پہلے سے طےشدہ  لگتا ہے‘

بابری مسجد انہدام معاملے میں بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی سی بی آئی عدالت نے کہا کہ مسجد انہدام منصوبہ بند نہیں حادثاتی تھا،غیرسماجی عناصرگنبد پر چڑھے اور اس کوگرا دیا۔ عدالت کے فیصلے پر اس معاملے کےگواہوں میں سے ایک رہے سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔

2005 میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونئے کٹیار اور اشوک سنگھل۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

بابری انہدام فیصلہ: ملزم رہنما بو لے-سچ کی جیت، اپوزیشن نے کہا-وہی قاتل، وہی منصف، عدالت اس کی

بابری مسجد انہدام معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ذریعے تمام ملزمین کو بری کرنے کے بعد بی جے پی کےسینئررہنما مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ اب یہ تنازعہ ختم ہونا چاہیے اور سارے ملک کو عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کے لیےتیاررہنا چاہیے۔اپوزیشن نے اس فیصلہ کوغیرمعقول بتایا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

پولیس انکاؤنٹر: کیا ’فوری انصاف‘ کے نام پر لاقانونیت کو قبول کیا جاسکتا ہے؟

ایک ملک اور ایک مجرم میں یہی فرق ہوتا ہے کہ ملک قانون کا پابند ہوتا ہے جبکہ مجرم اس کو توڑتا ہے۔ اگر ملک ایک بار بھی قانون توڑ دےتو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ بھی مجرم کےخانے میں آ گیا اور اس کو حکومت کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔

بابری مسجد انہدام معاملے کو لےکرجمعرات  کو اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں بی جے پی کی سینئررہنما اوما بھارتی پیش ہوئیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بابری مسجد انہدام: سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئیں اوما بھارتی، خود کو بتایا بے قصور

خصوصی سی بی آئی عدالت 6 دسمبر، 1992 کوایودھیا میں بابری مسجد انہدام معاملے میں 32 ملزمین کے بیان درج کر رہی ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی رہنما اورسابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، اتر پردیش کےسابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ اورسابق مرکزی وزیرمرلی منوہر جوشی کا بیان درج ہونا ابھی باقی ہے۔

Representational image. Credit: Sudhamshu Hebbar/ Flickr, CC BY-NC 2.0

پولیس حراست میں ہرروز پانچ موت، ہلاک ہو نے والوں میں بیشتر غریب، پسماندہ، دلت، قبائلی اور مسلمان: رپورٹ

یہ تشویش ناک رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پولیس کی طرف سے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک شخص اور اس کے بیٹے کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی تشدد: 19معاملوں میں پولیس کی دلیل، ملزم کو ضمانت دینے سے غلط پیغام جائے گا

گزشتہ 29 مئی کو دہلی ہائی کورٹ نے فساد کے ایک ملزم کو ضمانت دیتے ہوئے پولیس کی اس دلیل کو خارج کر دیا تھا کہ ضمانت دینے سے سماج میں غلط پیغام جائےگا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ عدالت کا کام قانون کے مطابق انصاف کرناہے، نہ کہ سماج کو پیغام دینا۔

People gather outside Al-Hind hospital in New Delhi, February 27, 2020. Photo: Reuters/Anushree Fadnavis

دہلی تشدد: پولیس چارج شیٹ میں متاثرین کا علاج کر نے والے ہاسپٹل کے مالک کا نام شامل

دہلی پولیس نے تشدد کے دوران ویٹر دلبر نیگی کےقتل کے معاملے میں درج چارج شیٹ میں الہند ہاسپٹل کے مالک ڈاکٹر ایم اے انورکو ملزم بنایا ہے۔ اس ہاسپٹل میں متاثرین کا علاج بھی کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر انور اور ارشد پردھان کو فاروقیہ مسجد میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہوئے مظاہرے کا آرگنائزر بتایا گیا ہے۔

video

دہلی تشدد کی سازش اور پھر جانچ کی سازش

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ہیڈ کانسٹبل رتن لال کےقتل معاملے میں پولیس نے کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔اس میں سماجی کارکن ہرش مندر کا بھی ذکر ہے۔کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران ہرش نے اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔اس موضوع پر دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور ہرش مندر کے ساتھ پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

Jaunpur

اتر پردیش: آپسی جھگڑے کے بعد سات دلتوں کے گھر جلانے کا الزام، 35 گرفتار

معاملہ جون پور ضلع کے سرائےخواجہ حلقہ کے بھدیٹھی گاؤں کا ہے۔ 9 جون کو آم توڑنے کو لےکر دوکمیونٹی کے بچوں میں تنازعہ ہوا، جس کے بعد ان کے بیچ پرتشدد جھڑپ ہوا۔ سو کے قریب لوگوں پر معاملہ درج ہوا ہے اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ملزمین پر این ایس اے اور گینگسٹر ایکٹ لگانے کی ہدایت دی ہے۔

Elephants are the ‘gardeners of the forest’. Photo: christianhaugen/Flickr, CC BY 2.0

ہتھنی کی موت پر فرقہ وارانہ سیاست

ہتھنی کی موت مسلم اکثریتی ضلع مالا پورم کے ایک دریا میں ہوئی تھی، تو مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا موقع کیسے گنوایا جاتا۔پاکستان اور مسلمانوں کو نشانہ بناکر اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا حکمران بی جے پی اور اس کے حواریوں کے لیے ایک آزمودہ فارمولہ بن چکا ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

راجستھان: ہاسپٹل کے اسٹاف کے ذریعے مسلمان مریضوں کی مدد نہ کر نے کا وہاٹس ایپ چیٹ لیک، کیس درج

معاملہ راجستھان کے چورو ضلع کا ہے۔مسلمان مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو لے کراسٹاف کی مبینہ بات چیت لیک ہونے کے بعد شری چند برڈیا روگ ندان کیندر کے ڈائریکٹر سنیل چودھری نے فیس بک پر معافی مانگی ہے۔

اسپتال میں بھرتی محمد اجرائیل۔

بہار: مسلم نوجوان کا الزام، جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر بےرحمی سے پیٹا گیا

مشرقی چمپارن ضلع کے مہسی تھانہ حلقہ کے ایک نوجوان محمد اجرائیل کا الزام ہے کہ دو جون کو پڑوس کے ایک گاؤں میں اپنے دوست سے ملنے جانے کے دوران ایک گروپ نے انہیں روک کر جئے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔ ایسا نہ کرنے پر گا لی گلوچ کرتے ہوئے بری طرح مارپیٹ کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور بجرنگ دل کے لوگ ہیں۔

 (فوٹو: اےپی/پی ٹی آئی)

بابری انہدام معاملہ: 32 میں سے چار ملزمین  نے اسپیشل سی بی آئی عدالت میں بیان درج کرائے

بابری مسجد انہدام معاملے میں اپنا بیان درج کرانے کے لیے رام ولاس ویدانتی، سینئر بی جے پی رہنما ونئے کٹیار، سنتوش دوبے اور وجئے بہادر سنگھ جمعرات کو لکھنؤ کی اسپیشل سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔

Shamli Video 2 June.00_15_08_11.Still001

شاملی: ایک کو گرفتار کر نے گئی پولیس نے 35 مسلم گھروں میں توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کی

ویڈیو: اتر پردیش کے شاملی ضلع میں پولیس کی بربریت کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ شاملی کے ٹپرنا گاؤں کے لوگوں کا الزام ہے کہ گزشتہ 26 مئی کو دیر رات پولیس نے لگ بھگ 35 مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر توڑپھوڑ کی۔ مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ مارپیٹ کی۔

1 June 2020.00_17_29_24.Still002

امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کا مظاہرہ، ہندوستان میں اقلیتوں کو انصاف کب؟

ویڈیو: گزشتہ25 مئی کو امریکہ میں ایک پولیس افسرنے ایک سیاہ فام شخص کے گلے کو گھٹنوں سے کئی منٹ تک دبائے رکھا تھا، جس کہ وجہ سے اس کی موت ہو گئی تھی۔اس کے بعد سے نسلی تعصب کے خلاف امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ اس مدعے پر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

افطار پارٹیوں کو قصہ پارینہ بنایا گیا۔گو کہ بی جے پی نے اپنے دفتر میں بس 1998میں ہی واحد افطار پارٹی کا انعقاد کیا تھا، مگر وزیر اعظم بننے کے بعد واجپائی اپنی رہائش گاہ پر ہر سال اس کا نظم کرتے تھے۔ 2014سے قبل ماہ مبار ک کی آمد کے ساتھ ہی سیاسی و سماجی اداروں کی طرف سےافطار پارٹیوں کا ایک لامنتاہی سلسلہ شروع ہوتا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

اذان اسلام کا لازمی حصہ ہے، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

گزشتہ دنوں غازی پور،فرخ آباد اور ہاتھ رس کی ضلع انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کے دوران مسجدوں کے اذان لگانے پر روک لگانے کا زبانی حکم دیا تھا۔ اس حکم کو رد کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ مؤذن مسجد سے اذان دے سکتے ہیں لیکن آواز بڑھانے والے کسی آلہ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

بہار شریف میں دکانوں پر لگے بھگوا جھنڈے۔ (فوٹو: Special Arrangement)

کیا نتیش کمار کے اپنے ضلع میں مسلمان سماجی بائیکاٹ کا سامنا کر رہے ہیں؟

کو رونابحران کے دوران فرقہ واریت کی نئی مثال وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ہوم ڈسٹرکٹ نالندہ کے بہار شریف میں دیکھنے کو ملا ہے، جہاں مسلمانوں کا الزام ہے کہ ہندو دکاندار ان کو سامان نہیں درہے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا وائرس: مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات پر سابق نوکر شاہوں نے وزرائے اعلیٰ کو خط لکھا

تقریباً 101 نوکرشاہوں نے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست میں کسی بھی کمیونٹی کے سماجی بائیکاٹ کو روکنے کی ہدایت دیں۔ ساتھ ہی یہ یقینی بنایا جائے کہ سبھی ضرورت مندوں کو یکساں علاج اورہاسپٹل کی سہولیات، راشن اور مالی امداد ملے۔

فوٹو: رائٹرس

کورونا وائرس: مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستوں کا نیا ہتھیار

ہندوستان میں جہاں اس وقت پورا ملک لاک ڈاؤن کی زد میں ہے، پولیس نے اس کا فائدہ اٹھا کر چن چن کر ایسے نوجوان مسلمانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جو پچھلے کئی ماہ سے شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ میں پیش پیش تھے۔

(فوٹوبہ شکریہ: tatanagar.com)

جھارکھنڈ: مسلم خاتون کا الزام، ہاسپٹل کے اسٹاف نے کی بدسلوکی اور مذہب کو لے کرقابل اعتراض تبصرہ

واقعہ جمشیدپور کے ایم جی ایم ہاسپٹل کا ہے۔خاتون کا کہنا ہے کہ وہ حاملہ تھیں اور اچانک شروع ہوئی بلیڈنگ کے بعد ہاسپٹل پہنچی تھیں، جہاں فرش پر خون گر جانے پر اسٹاف نے مارپیٹ کی۔ اس کے بعد وہ ایک نجی ہاسپٹل گئیں، جہاں بتایا گیا کہ حمل میں بچے کی موت ہو گئی ہے۔

علامتی تصویر بہ شکریہ: Hush Naidoo on Unsplash

اتر پردیش: ہاسپٹل نے مسلمان مریضوں پر لگائی پابندی، کہا-کورونا جانچ نگیٹو آئی ہو تبھی آئیں

مغربی اتر پردیش کے کینسر ہاسپٹل کے ذریعے اٹھایا گیا یہ قدم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے ہدایات کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت کسی بھی مریض کو اس کے مذہب یا بیماری کی بنیادی پر علاج سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ارندھتی رائے ، فوٹو: پی ٹی آئی

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے صورت حال نسل کشی کی طرف جا رہی ہے: ارندھتی رائے

معروف ہندوستانی مصنفہ اور سیاسی کارکن ارن دھتی رائے نے الزام لگایا ہے کہ ملکی حکومت اکثریتی ہندوؤں اور اقلیتی مسلمانوں کے مابین کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے صورت حال نسل کشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا وائرس: جان جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہو رہی متاثرین کی جدوجہد

ملک میں کو رونا وائرس متاثرین کے آخری رسومات کی ادائیگی کو لےکر سرکار نے صاف صاف ایڈوائزری جاری کی ہے، اس کے باوجود کئی ایسے معاملے سامنے آ رہے ہیں جہاں انفیکشن کے ڈر سے لاش کو دفن کرنے یا جلانے کی مخالفت کی گئی یا پھر مرنے والوں کے اہل خانہ کے انکار کے بعد انتظامیہ نے یہ ذمہ داری اٹھائی۔

بھرت پور کا زنانہ ضلع ہاسپٹل(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

راجستھان: انتظامیہ نے کہا-مسلمان ہو نے کی  وجہ سے امتیازی سلوک کا الزام ثابت نہیں ہو سکتا

بھرت پور کے اربن امپرومنٹ ٹرسٹ کے سکریٹری امید لال مینا کے ذریعے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کے شوہر عرفان خان نے کہا کہ ڈاکٹروں نے ذاتی طور پریہ نہیں کہا کہ آپ مسلمان ہیں اور ہم آپ کا علاج نہیں کریں گے۔

Don`t copy text!