مسلمان

یتی نرسنہانند سرسوتی۔

یوپی: خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں یتی نرسنہانند پر تین ایف آئی آر درج

اس سے پہلے بھی غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری یتی نرسنہانند سرسوتی کے خلاف پیغمبر محمد پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔نرسنہانند تب سرخیوں میں آئے تھے، جب ڈاسنہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے ایک نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی تھی۔

ہندو رکشا دل کا چیف  پنکی چودھری۔ (فوٹو بہ شکری: اے این آئی)

جنتر منتر ہیٹ اسپیچ: جئے شری رام کے نعروں کے بیچ ہندو رکشا دل کے صدر پنکی چودھری کی ’خود سپردگی‘

آٹھ اگست کو دہلی کےجنتر منتر پر‘بھارت جوڑو آندولن’کےزیراہتمام منعقد تقریب میں اشتعال انگیز اورمسلم مخالف نعرے بازی کے کلیدی ملزم بھوپندر تومرعرف پنکی چودھری نے مندر مارگ تھانے میں خودسپردگی کر دی۔ دہلی ہائی کورٹ نے 27 اگست کو چودھری کو گرفتاری سے عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

یتی نرسنہانند اور سورج پال امو۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

نرسنہا نند اور سورج پال امو کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کرنے پر کورٹ نے دہلی پولیس سے رپورٹ طلب کی

گزشتہ4 اگست کو فیصل احمد خان نام کےقانون کے ایک استاذ نے رائٹ ونگ کے شدت پسند رہنماؤں یتی نرسنہانند اورسورج پال امو کے الگ الگ مواقع پرمسلم مخالف بیانات پر جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں شکایتیں کی تھیں۔ کوئی کارروائی نہ ہونے پر 7 اگست کو انہوں نے نے ساکیت ضلع کورٹ سے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کامطالبہ کیا۔

پنکی چودھری۔ (فوٹو: ویڈیو ا سکرین گریب)

جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی معاملے کے کلیدی ملزم کو پیشگی ضمانت دینے سے انکار

دہلی کے جنتر منتر پر اشتعال انگیزاور مسلمان مخالف نعرےبازی کےکلیدی ملزم ہندو رکشا دل کے صدر بھوپندر تومر عرف پنکی چودھری کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج انل انتل نے کہا کہ ہم طالبانی اسٹیٹ نہیں ہیں۔ قانون کی حکمرانی، ہماری کثیر ثقافتی اورتکثیری کمیونٹی کی حکمرانی کا مقدس اصول ہے۔

دہلی کے جنتر منتر پرمنعقدپروگرام میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے(درمیان)اور گجیندر چوہان۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

مسلم مخالف نعرے بازی: بی جے پی رہنما اور دیگر ملزم کے بیچ تعلقات کے شواہد موجود: پولیس

گزشتہ آٹھ اگست کو دہلی کےجنتر منتر پر ‘بھارت جوڑو آندولن’ کے زیر اہتمام منعقد پروگرام میں براہ راست مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل کی گئی تھی۔الزام ہے کہ بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور گجیندر چوہان کی موجودگی والے پروگرام میں اشتعال انگیز اور مسلم مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔ پولیس نے اشونی اپادھیائے سمیت چھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔

ارباب علی

مسلم مخالف نعرے بازی: مقدمہ درج کرانے پہنچے نوجوان نے دہلی پولیس پر ہراسانی کا الزام لگایا

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالبعلم ارباب علی نے الزام لگایا ہے کہ دہلی کےجنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی کے سلسلے میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور ہندوتوا کارکن اتم اپادھیائے کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کرنے پر انہیں حراست میں لیا گیا اور دھمکایا گیا۔ الزام ہے کہ اشونی اپادھیائے کی قیادت میں گزشتہ آٹھ اگست کو جنتر منتر پر ایک پروگرام کے دوران اشتعال انگیز اور مسلم مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔

45

کیا 2021 میں ذات پرمبنی مردم شماری ہونی چاہیے؟

ویڈیو: ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کی مانگ تیز ہو گئی ہے۔اس موضوع پر سی ایس ڈی ایس میں پروفیسر ابھے دوبے،سینئر صحافی ارملیش، دہلی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر لکشمن یادو اور ستیش دیش پانڈے سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

1706 YAQUT AAP OXYGEN.00_09_08_22.Still048

جنتر منتر پر خونی نعرے لگا رہے شخص کے والد نے کہا-سرینڈر کرے بیٹا

ویڈیو: گزشتہ8 اگست کو دہلی کےجنتر منتر پر ایک پروگرام کے دوران مسلم مخالف نعرے لگے تھے۔ اتم اپادھیائے ان لوگوں میں سے ایک ہیں،جنہیں ویڈیو میں یہ نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کے بعد سے وہ گھر نہیں لوٹے ہیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو میں کسی کی پہچان نہیں کر پائی ہے، لیکن دی وائر نے اتم کمار کی پہچان کی اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت بھی کی۔

دہلی کے جنتر منتر پرمنعقدپروگرام میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے(درمیان)اور گجیندر چوہان۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی: عدالت نے تین ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کیا

آٹھ اگست کو دہلی کے جنتر منتر پر ‘بھارت جوڑو آندولن’کے زیر اہتمام منعقد ایک پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف تشددکی اپیل کی گئی تھی۔ عدالت نے فرقہ وارانہ نعرے لگانے کےالزام میں گرفتار تین لوگوں کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو غیر جمہوری تبصرہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

(السٹریشن: علیزہ بخت)

ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ پھر زور کیوں پکڑ رہا ہے

وقت وقت پر ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کامطالبہ زور پکڑتا ہے،لیکن یہ پھر سست پڑ جاتا ہے۔ اس بار بھی ذات پر مبنی مردم شماری کو لےکرعلاقائی پارٹیاں کھل کر سامنے آ رہی ہیں اور مرکزی حکومت پر دباؤ بنا رہی ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔

(فوٹو: اے این آئی/ ٹوئٹر)

یوپی: بیٹی کے سامنے رکشہ ڈرائیور سے جبراً ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے کا الزام، تین گرفتار

اتر پردیش کے کانپور شہر کے برہ علاقے کا معاملہ۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیو میں کچھ لوگ ایک مسلمان رکشہ ڈرائیورکی پٹائی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اس سےمبینہ طور پر‘جئے شری رام’کا نعرہ لگانے کو کہہ رہے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ رکشہ ڈرائیورکے ایک رشتہ دار کا اس کے پڑوسیوں کے خلاف زمین کو لےکرمقدمہ چل رہا ہے اور جولائی میں اس معاملے میں دونوں فریق نے ایک دوسرے کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔

789

خونی نعروں پر خاموش اور پیگاسس کے سوالوں سے بچتی مودی سرکار

ویڈیو: دہلی کی عدالت نے جنتر منتر پر مظاہرہ کےدوران مبینہ طور پر مسلم مخالف نعرےبازی کے الزام میں گرفتار کیے گئے بی جے پی رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے کو ضمانت دے دی ہے۔ وہیں پیگاسس جاسوسی تنازعہ کے بیچ سرکار نے گزشتہ سوموار کو کہا کہ اس نے این ایس اوگروپ کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کیا ہے۔ ان مدعوں پر دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

ہندوتوادی نوجوان کو وارننگ دیتے ایس ایچ او سی پی بھاردواج۔

دہلی: مولوی کو پریشان کرنے سے رائٹ ونگ گروپ کو روکنے والے تھانہ انچارج سسپنڈ

یہ معاملہ دہلی کے آدرش نگر میں ایک فلائی اوور پر بنے مزار سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں ہندوتووادی تنظیم سے جڑے کچھ نوجوان وہاں پہنچتے ہیں اور مولوی سےسوال جواب کرتے ہوئے بحث کرنے لگتے ہیں۔تب بیچ بچاؤ کےلیےایس ایچ او آ جاتے ہیں۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے مدنظر انہیں سسپنڈ کیا گیا ہے، لیکن کارروائی کو اس واقعہ سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

دہلی کے جنتر منتر پرمنعقدپروگرام میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے(درمیان)اور گجیندر چوہان۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی: دہلی کی عدالت نے بی جے پی رہنما کو دی ضمانت

گزشتہ آٹھ اگست کو دہلی کےجنتر منتر پر‘بھارت جوڑو آندولن’نام کےآرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقد پروگرام میں براہ راست مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل کی گئی تھی۔ اس دوران بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور گجیندر چوہان موجود تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل پروگرام کے ایک مبینہ ویڈیو میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اشونی اپادھیائے نے اس پروگرام کے انعقاد میں اپنے رول سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ بھارت جوڑو آندولن کی ترجمان نے بتایا کہ مظاہرہ ان کی ہی سربراہی میں ہوا تھا۔

Capture

جنتر منتر پر ہندوتوا گروپ کے پرتشدد ہجوم کا اجتماع، صحافی پر بھی حملہ

ویڈیو: گزشتہ آٹھ اگست کو دہلی کے جنتر منتر پر ‘بھارت جوڑو آندولن’کے زیر اہتمام منعقد پروگرام میں براہ راست مسلمانوں کے خلاف تشددکی اپیل کی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل پروگرام کے ایک مبینہ ویڈیو میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس موضوع پر کیرل کے سابق ڈی آئی جی این سی استھانا، دی وائر کے رپورٹر یاقوت علی،نیشنل دستک کے رپورٹر انمول پریتم اور عالیشان جعفری سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے بات چیت کی۔

دہلی کے جنتر منتر پرمنعقدپروگرام میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے(درمیان)اور گجیندر چوہان۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی کے الزام میں بی جے پی رہنما سمیت چھ لوگ گرفتار

گزشتہ آٹھ اگست کو دہلی کےجنتر منتر پر‘بھارت جوڑو آندولن’نام کےآرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقد پروگرام میں براہ راست مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل کی گئی تھی۔ اس دوران بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور گجیندر چوہان موجود تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل پروگرام کے ایک مبینہ ویڈیو میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اشونی اپادھیائے نے اس پروگرام کے انعقاد میں اپنے رول سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ بھارت جوڑو آندولن کی ترجمان نے بتایا کہ مظاہرہ ان کی ہی سربراہی میں ہوا تھا۔

اسدالدین اویسی، فوٹو:پی ٹی آئی

جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے: اویسی نے کہا-نعرہ لگانے والوں کو پتہ ہے کہ مودی سرکار ان کے ساتھ کھڑی ہے

اے آئی ایم آئی ایم رہنما اسدالدین اویسی نےاس معاملے پر کہا کہ گزشتہ سال مودی کے وزیر نے ‘گولی مارو’ کا نعرہ لگایا تھا اور اس کے فوراً بعد شمال مشرقی دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ ایسی بھیڑ اور ایسے نعرے دیکھ کر ہندوستان کا مسلمان محفوظ کیسے محسوس کر سکتا ہے؟

دہلی کے جنتر منتر پرمنعقدپروگرام میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے(درمیان)اور گجیندر چوہان۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

دہلی: جنتر منتر پر بی جے پی رہنما کے پروگرام میں لگے مسلم مخالف اشتعال انگیز نعرے، مقدمہ درج

بی جے پی کے سابق ترجمان اشونی اپادھیائےکی طرف سے بغیرپولیس کی منظوری کے منعقد اس پروگرام میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرکےنوآبادیاتی قوانین کو ختم کرنے کی مانگ کی گئی۔سوشل میڈیا پر وائرل پروگرام کے ایک ویڈیو میں براہ راست مسلمانوں کو قتل کرنےکی اپیل کی گئی۔ اس دوران ایک یوٹیوب چینل کے رپورٹر کو مبینہ طور پر بھیڑ نے گھیر کر انہیں جئے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا۔

مرادآباد کے لاجپت نگر میں لگا بینر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

اتر پردیش: دو مکانات مسلمانوں کو فروخت کیے جانے پر مقامی لوگوں نے ’نقل مکانی‘ کی دھمکی دی

واقعہ مرادآباد کے لاجپت نگر کا ہے۔ ایس ایس پی کے ساتھ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد ڈی ایم شیلیندر کمار سنگھ نے کہا کہ انتطامیہ کی جانچ میں پایا گیا کہ یہ پراپرٹی کا معاملہ ہے۔ سامنے آیا ہے کہ کچھ مقامی لوگ ان دونوں مکانات کو خریدنے کے خواہش مندتھے اور اب انہیں پتہ چلا ہے کہ وہ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

سیڈیشن پر سپریم کورٹ کے تبصرے سے وکلاء کا اتفاق، کہا-اختلاف رائے کو دبانے کے لیے تھوپے جاتے ہیں مقدمے

وکیل ورندا گروور نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 میں سیڈیشن کے 30 معاملوں میں فیصلہ آیا، جہاں 29 میں ملزم بری ہوئے اور محض ایک میں سزا ہوئی۔ گروور نے بتایا کہ 2016 سے 2019 کے بیچ ایسے معاملوں کی تعداد 160فیصد تک بڑھی ہے۔

سپریم کورٹ(فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر تشویش کا اظہار کیا، پوچھا-آزادی کے 75 سال بعد بھی اس کو بنائے رکھنا ضروری کیوں

آئی پی سی کی دفعہ124اے کو چیلنج دینے والی عرضی پر مرکز سے جواب طلب کرتے ہوئے کورٹ نے کہا کہ یہ نوآبادیاتی دور کا قانون ہے، جسے برٹش نے آزادی کی تحریک کو دبانے اور مہاتما گاندھی اور دوسروں کو چپ کرانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ کیا آزادی کے اتنے وقت بعد بھی اسے بنائے رکھنا ضروری ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مہا راشٹر: بین مذہبی شادی کا کارڈ لیک ہونے کے بعد اس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بتاتے ہوئے مخالفت کی گئی

معاملہ ناسک کا ہے، جہاں ایک ہندو خاتون کی مسلمان مرد سے شادی کا کارڈ وہاٹس ایپ پر لیک ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ‘لو جہاد’ بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی تقریب 18 جولائی کو ہونی تھی، لیکن اب اسے رد کر دیا گیا ہے۔

1706 YAQUT AAP OXYGEN.00_25_19_19.Still029

پھل بیچنے والوں کو ہندو اور مسلمان میں بانٹنے سے کس کا فائدہ؟

ویڈیو: دہلی کےاتم نگر علاقے میں لگ بھگ 500 ریہڑی پٹری کی دکانیں روز لگتی ہیں۔ ان میں سے اکثر مسلمان دکاندار ہیں۔ گزشتہ 18 جون کو ایک پھل بیچنے والے اور ایک دکاندار کے بیچ ہوئی کہا سنی کے بعد بجرنگ دل نے کچھ پوسٹر لگائے تھے جس میں لکھا تھا ‘سبھی ہندوؤں سے گزارش ہے کہ کسی بھی غیرسماجی فروٹ ریہڑی والے سے خریداری نہ کریں’۔ اس کے بعد پھل بیچنے والوں کو اپنی روزی کمانے کے لیے مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔

0407 AKI.00_25_53_00.Still003

بھاگوت کہتے ہیں ہندو اور مسلمان کا ڈی این اے ایک، لیکن ہندوتوا سے نفرت کرنے والوں کا کیا؟

ویڈیو:ایک طرف آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کا ملک کی یکجہتی کو لےکر بیان آتا ہے اور دوسری طرف اقلیتی طبقے کے خلاف کچھ بی جے پی رہنما نفرت کی آگ پھیلا رہے ہیں۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ

موہن بھاگوت(فوٹو : پی ٹی آئی)

اگر ہندو کہتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہاں نہیں رہنا چاہیے تو وہ ہندو نہیں: موہن بھاگوت

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے آر ایس ایس کی اقلیتی اکائی مسلم راشٹریہ منچ کے ایک پروگرام میں کہا کہ تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ جو لوگ لنچنگ میں شامل ہیں، وہ ہندوتوا کے خلاف ہیں۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے ان کے بیان کو‘قول وفعل میں تضاد’قرار دیتے ہوئے ان کو نشانہ بنایا ہے۔

لکش دیپ میں احتجاج  کرتے مقامی لوگ(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@Anandans76)

لکش دیپ: انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف مقامی لوگوں کا ناریل کے پتوں کے ساتھ احتجاج

لکش دیپ انتظامیہ کے حالیہ احکامات میں کہا گیا کہ عوامی مقامات، گھروں کے آس پاس ناریل کے چھلکے، پیڑ کی پتیاں، ناریل کے خول، ٹہنیاں وغیرہ ملنے پر جرمانہ لگایا جائےگا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو جرما نے کے بجائے کچرے کے لیے مؤثر نظام کو لاگو کرنا چاہیے۔

عائشہ سلطانہ۔ (فوٹو بہ شکریہ فیس بک/@AishaAzimOfficial)

لکش دیپ: عدالت نے سیڈیشن معاملے میں فلمساز عائشہ سلطانہ کو عبوری پیشگی ضمانت دی

لکش دیپ کی کارکن اورفلمساز عائشہ سلطانہ نے کہا تھا کہ اس یونین ٹریٹری کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کھوڑا ایک حیاتیاتی ہتھیار ہیں، جن کا استعمال مرکزی حکومت کے ذریعے یہاں کے لوگوں پر کیا جا رہا ہے۔مسلم اکثریتی لکش دیپ حال ہی میں پیش کی گئیں تجاویز کو لےکر تنازعہ میں گھرا ہوا ہے۔ وہاں کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کو ہٹانے کی مانگ کی جا رہی ہے۔

عائشہ سلطانہ۔ (فوٹو بہ شکریہ فیس بک/@AishaAzimOfficial)

لکش دیپ: عائشہ سلطانہ پر سیڈیشن کے معاملے کے بعد کئی بی جے پی رہنماؤں کا استعفیٰ

لکش دیپ کی کارکن اور فلمساز عائشہ سلطانہ نے کہا تھا کہ مرکز ایڈمنسٹریٹرپرفل پٹیل کو ‘حیاتیاتی ہتھیار’کی طرح استعمال کر رہا ہے، اس کو لےکر بی جے پی کی مقامی اکائی نے ان پر سیڈیشن کا معاملہ درج کروایا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں نے سلطانہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی پوری اکائی پٹیل کی ‘جمہوریت مخالف، عوام دشمن اور خطرناک پالیسیوں کی خرابیوں’سے واقف تھی۔

WhatsApp Image 2021-06-10 at 21.44.26

لکش دیپ کو بچانے کے لیے پہلا تاریخی احتجاج

ویڈیو:لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کی جانب سے لائے گئے مسودہ قوانین کے تحت اس مسلم اکثریتی جزیرےسے شراب نوشی سے پابندی ہٹانے، بیف پر پابندی عائدکرنے اورساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کے جھونپڑے توڑے جانے ہیں۔ ان میں بےحد کم جرائم والے لکش دیپ میں اینٹی غنڈہ ایکٹ لانا اور دو سے زیادہ بچوں والوں کو پنچایت چناؤ لڑنے سے روکنے کا بھی اہتمام بھی شامل ہے۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

اس ملک میں مسلمانوں کو کھلے عام گالی دی جا سکتی ہے، ان کا خون کرنے کی بات کی جاسکتی ہے …

یہ ہندوستان کی معاشرتی فطرت بنتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام مارا جا سکتا ہے، ان کے خلاف پرتشدد پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے اور پولیس انتظامیہ سے لےکر سیاسی پارٹیوں تک کوئی بھی اسے سنگین معاملہ ماننے کو تیار نہیں۔

Lakshadweep administrator PK Patel. Photo: lakshadweep.gov.in

ملک کے 97 سابق  نوکر شاہوں نے وزیر اعظم  کو خط  لکھ کر لکش دیپ کے معاملے پرتشویش کا اظہا رکیا

یونین ٹریٹری لکش دیپ کےایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کچھ اہتمام لےکر آئے ہیں، جس کے تحت اس مسلم اکثریتی جزیرے سے شراب نوشی سےپابندی ہٹانے، بیف(گائے کا گوشت) پر پابندی لگانے اورساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کے جھونپڑے توڑے جانے ہیں۔ ان میں انتہائی کم جرائم والے لکش دیپ میں اینٹی غنڈہ ایکٹ لانا اور دو سے زیادہ بچوں والوں کو پنچایت انتخاب لڑنے سے روکنے کا بھی اہتمام بھی شامل ہے۔

متاثرہ نوجوان وسیم خان۔

ڈائل 100 پر کال کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر مسلم نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی کی

گزشتہ مئی میں جنوبی دہلی کے چھترپور علاقے کے رہنے والے وسیم خان نے پڑوس میں ہو رہی لڑائی کو دیکھ کر پولیس ہیلپ لائن پر کال کرکے مدد مانگی تھی۔ پولیس نے اس لڑائی کے سلسلے میں بیان دینے کے لیے انہیں تھانے میں بلایا تھا۔الزام ہے کہ انہیں بےرحمی سے پیٹا گیا۔ وسیم کی کمر میں شدید چوٹ آئی ہے، جس کی وجہ سے وہ فی الحال بستر پر ہیں اور مشکل سے چل پھر پا رہے ہیں۔

لکش دیپ کےایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کو واپس بلائے جانے کو لےکرمسلسل احتجاج  کیا جا رہا ہے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کھوکھلے ترقیاتی ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی جزائر لکش دیپ نشانے پر

قابل ذکر ہے کہ36 جزائر پر مشتمل لکش دیپ میں2011کی مردم شماری کے مطابق 64429نفوس رہتے ہیں اور ان میں 96فیصد مسلمان ہیں۔ کیرالا کے ساحل سے تقریباً400کیلومیٹر دور سمندر میں پھیلے ہوئے یہ جزائر زبان، ثقافت اور رہن سہن کے اعتبار سے اسی ریاست کا حصہ لگتے ہیں۔

Jawaharlal_Nehru_gives_his_-tryst_with_destiny-_speech_at_Parliament_House_in_New_Delhi_in_1947_02

پہلے عام انتخابات میں جواہر لعل نہرو نے ووٹ مانگتے ہوئے عوام سے کیا کہا تھا…

جواہر لعل نہر و نے کہا تھا کہ -اگر کوئی شخص مذہب کی بنیاد پر دوسروں کو نشانہ بنانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو میں ملک کا سربراہ ہونے کے ناطے یا عام آدمی کی حیثیت سے اپنی آخری سانس تک اس سے لڑوں گا۔

فوٹو: رائٹرس

اسرائیل، فلسطین جنگ اور ابو خان کی بکری

ٹائمز آف اسرائیل کے کالم نگار ڈیوڈ ہوروز کے مطابق اسرائیل لڑائی تو جیت گیا، مگر جنگ ہار گہا ہے۔ان کے مطابق اسرائیل کو بڑی طاقتوں کی طرف سے جو سفارتی امداد ایسے اوقات میں مہیا ہوتی تھی، و ہ اس بار اس سے محروم تھا اور دنیا بھر میں اس کے خلاف ایک ماحول بن گیا تھا، جو اب کسی وقت یہودی مخالف رویہ اختیار کر سکتا ہے۔

علامتی تصویر : پی ٹی آئی

دہلی میں افطار کی سیاست؛ جانے کہاں گئے وہ دن…

ہندوستان اس وقت کورونا وبا کی بدترین گرفت میں ہے۔ اس سال تو شایدہی کسی افطار پارٹی میں جانے کی سعادت نصیب ہوگی۔ امید ہے کہ یہ رمضان ہم سب کے لیےسلامتی لےکر آئے اور زندگی دوبارہ معمول پر آئے۔ اسی کے ساتھ دہلی میں حکمرانوں کو بھی اتنی سمجھ عطا کرکے کہ ہندوستان کا مستقبل تنوع میں اتحاداور مختلف مذاہب اور فرقوں کے مابین ہم آہنگی میں مضمر ہے، نہ کہ پوری آبادی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے اور ایک ہی کلچر کو تھوپنے سے۔

سبکدوش  جج سریندر کمار یادو۔

یوپی: بابری مسجد معاملے میں تمام ملزمین کو بری کرنے والے جج کو ڈپٹی لوک آیکت بنایا گیا

سریندر کمار یادو نے 30 ستمبر 2020 کو سی بی آئی کےخصوصی جج کے طور پر سنائے فیصلے میں1992 بابری انہدام معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت تمام ملزمین کو بری کیا تھا۔ اب گورنر آنندی بین پٹیل نے انہیں ریاست کا تیسرا ڈپٹی لوک آیکت مقرر کیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

مسلمانوں کو  ہراساں کرنے کی وجہ اب پولرائزیشن نہیں

ملک کے رہنماگزشتہ کوئی بیس سالوں کی انتھک کوششوں سے سماج کا اتنا پولرائزیشن پہلے ہی کر چکے ہیں کہ آنے والے کئی سالوں تک ان کی انتخابی جیت یقینی ہے۔ پھر کچھ لوگ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ذلیل وخوارکرنے کے لیے جوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے معاملے میں نرسنہانند پر کارروائی کا مطالبہ

اس سے پہلےصدرجمہوریہ کو لکھے گئے میمورنڈم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے ڈاسنہ مندر کے پجاری کی گرفتاری کا مطالبہ کیاتھا۔میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مختلف مذہبی گروپوں کے بیچ نفرت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرنے والوں کو سزادینے کے لیے ایک خصوصی اور سخت قانون بنایا جانا چاہیے۔

Don`t copy text!