مسلم

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندو راشٹر ہو یا نہ ہو ہم یقینی طور پر ایک غنڈہ راج میں تبدیل ہو چکے ہیں

پچھلےسات سالوں میں باربارمسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے اشارے کیےگئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کےحق میں دلائل دیے گئے ہیں۔ جب آپ آبادی کنٹرول کے نام پر قانون بناتے ہیں، اپنی بیٹیوں کی دوسرے مذاہب میں شادی کو روکنے کے نام پر، مسلم خواتین کو ان کے مردوں سے بچانے کے نام پر، آپ ان کے خلاف تشدد کے لیے زمین تیار کرتے ہیں۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ  منوہرلال کھٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کھلے میں نماز پڑھنے کی روایت کو ’برداشت‘ نہیں کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے یہ بھی کہا کہ ضلع انتظامیہ کا کھلی جگہوں پر نماز کے لیے کچھ جگہوں کو محفوظ رکھنے کاقبل کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ریاستی حکومت اب اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرے گی۔ گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں میں، کچھ ہندو تنظیموں کے ارکان ان جگہوں پر جمع ہوتے ہیں اور ‘بھارت ماتا کی جئے’ اور ‘جے شری رام’کے نعرے لگاتے ہیں جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

نماز میں رائٹ ونگ گروپوں کے رکاوٹ ڈالنے کی مذمت ہونی چاہیے: گڑگاؤں مسلم کاؤنسل

گڑگاؤں مسلم کاؤنسل نے کہا کہ دو دہائیوں سے زیادہ سے کھلی جگہوں پر جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی ہے، کیونکہ مسلمانوں کے پاس مطلوبہ تعدادمیں مسجد نہیں ہے۔ مئی 2018 کے بعد شہر میں پہلی بار نمازمیں خلل کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعے کا قانونی تصفیہ اس کا انجام نہیں محض آغاز تھا …

ایودھیاتنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدجن کو لگتا تھا کہ اس کے نام پرفرقہ وارانہ تعصب کی بلا اب ان کےسر سے ہمیشہ کے لیے ٹل جائےگی،اور سیاسی طور پراس کا غلط استعمال بند ہو جائےگا، ملک کی سیاسی قیادت ان کی معصوم امیدوں پر پانی پھیرنے کو تیار ہے۔

 (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: نماز جمعہ میں پھر سےخلل ڈالنے کی کوشش، مظاہرین  نے کھڑے کیے ٹرک

سنیکت ہندوسنگھرش سمیتی نےانتظامیہ کو ایک الٹی میٹم جاری کرکے کہا کہ وہ اگلے ہفتے سےشہر میں کسی بھی عوامی جگہ پر نماز کی اجازت نہیں دیں گے۔جمعہ کو گڑگاؤں کے سیکٹر37 میں مظاہرین کی طرف سے مسلسل نعرےبازی اور امن وامان میں خلل پڑنے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے 10 لوگوں کو حراست میں لیا اور بعد میں ایک کو گرفتار بھی کیا۔

گڑگاؤں میں نمازادا کرتے لوگ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: رائٹ ونگ گروپوں کی مخالفت کے بیچ نماز کے لیے اپنی جگہ دے گی گوردوارہ کمیٹی

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سے رائٹ ونگ گروپ کھلے میں نمازکی مخالفت کر رہے ہیں۔گوردوارہ کمیٹی ساتھ ہی اکشے یادو نام کے ایک دکان مالک نے بھی نماز کے لیے اپنی خالی جگہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

0511 Sumedha Pal Interview.00_14_36_09.Still001

اگر گڑگاؤں میں نماز ہوئی تو میں وہاں تلوار لےکر دکھائی دوں گا: ہندوتوا لیڈر

ویڈیو: گزشتہ پانچ نومبر کو بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے گڑگاؤں کے سیکٹر12اے میں اس جگہ پر گئووردھن پوجا کااہتمام کیا تھا، جہاں ہر جمعہ کو نماز ادا کی جاتی تھی۔ یہ کارکن پچھلے کچھ وقتوں سےیہاں نماز کی مخالفت کر رہے تھے۔ دی وائر نے دنیش بھارتی سے بات کی، جو گڑگاؤں میں نماز کو روکنے کےالزام میں کئی بار جیل جا چکے ہیں۔ دنیش بھارت ماتا واہنی کے رکن ہیں اور وشو ہندو پریشد سے بھی وابستہ ہیں۔

نرسنہانند اور کپل مشرا۔

گڑگاؤں: نماز کی جگہ  پر پوجا کے لیے ہندوتوا گروپ نے کپل مشرا اور نرسنہا نند کو مدعو کیا

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سےہندوتوا گروپ کھلے میں نماز کی مخالفت کر رہے ہیں۔انتطامیہ نے گزشتہ تین نومبرکو 37طے شدہ مقامات میں سے آٹھ پر نماز ادا کرنے کی منظوری کو منسوخ کر دیا ہے ۔ اس بیچ سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی نے سیکٹر12اے میں اس مقام پرگئووردھن پوجا کا اہتمام کیا ہے، جہاں پچھلے کچھ دنوں سے نماز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

زمین سودا: ایودھیا مندر ٹرسٹ کے ممبروں اور بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف مہنت نے شکایت درج کرائی

ایودھیا کے ہنومان گڑھی مندر کےمہنت دھرم داس نے ٹرسٹ کے تمام ممبروں کے علاوہ گوسائی گنج کے بی جے پی ایم ایل اے اندر پرتاپ تیواری، ایودھیا کےمیئررشی کیش اپادھیائے کے بھتیجے دیپ نارائن اپادھیائےوغیرہ کے خلاف شکایت کی ہے۔ الزام لگایا کہ دیپ نارائن نے مہنت دیویندر پرساداچاریہ سے 676مربع میٹر زمین20 لاکھ روپے میں خریدی تھی، جسے بعد میں2.5 کروڑ روپے میں مندر ٹرسٹ کو بیچ دیا گیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رام مندر ٹرسٹ نے خود کو دی کلین چٹ، کہا-زمین کے سودوں میں کسی بے ضابطگی  کے ثبوت نہیں

عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجےسنگھ اورسماجوادی پارٹی کی حکومت میں وزیر رہے ایودھیا کے سابق ایم ایل اے تیج نارائن ‘پون’ پانڈے نے رام مندرکی تعمیر کرا رہے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے پر الزام لگائے ہیں کہ انہوں نے ٹرسٹ کے ممبر انل مشرا کی مدد سے مارچ میں دو کروڑ روپے قیمت کی زمین 18 کروڑ روپے میں خریدی تھی۔

ایودھیا مسجد کمپلیکس  کے مجوزہ پروجیکٹ  کا بلیوپرنٹ۔ (بہ شکریہ: اسپیشل ارینجمنٹ)

ایودھیا مسجد پروجیکٹ کے نقشے انتظامیہ کے سپرد کیے گئے

ایودھیا مسجدٹرسٹ- انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن نے دھنی پور میں مجوزہ پروجیکٹ کے نقشے ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سپرد کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ذریعےدی گئی اس زمین پر ایک مسجد، ریسرچ سینٹر اور کمیونٹی کچن بنانے کامنصوبہ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

اخوت اور بھائی چارے کے بغیر آزادی اور مساوات ناممکن ہے

ذات پات ایک ایسی رخنہ اندازی ہے جو معاشرےکی تعمیر وتشکیل نہیں ہونے دیتی۔ ملک بن کر بھی نہیں بن پاتا کیونکہ ہم ایک دوسرے کے لیے جوابدہ نہیں ہوتے۔ اتحادیااخوت کی عدم موجود گی میں سماجی ورثےکی تعمیر بھی نہیں ہو پاتی۔

استاد بسم اللہ خاں (فوٹو :یوٹیوب)

استاد بسم اللہ خاں موسیقی کی دنیا کے سنت کبیر تھے، جن کے لیے مندر مسجد اور ہندو مسلمان کا فرق مٹ گیا تھا

یوم پیدائش پر خاص:استاد بسم اللہ خاں ایسے بنارسی تھے جو گنگا میں وضو کر کے نماز پڑھتے تھے اور سرسوتی کو یاد کر کے شہنائی کی تان چھیڑتے تھے ۔اسلام کے ایسے پیروکار تھے جو اپنے مذہب میں موسیقی کے حرام ہونے کے سوال پر ہنس کر کہتے تھے ،کیا ہو اسلا م میں موسیقی کی ممانعت ہے ،قرآن کی شروعات تو’ بسم اللہ‘ سے ہی ہوتی ہے۔

WhatsApp Image 2021-02-17 at 20.40.01

کپل مشرا کی ہندوتوا فیکٹری میں تیار ہو رہی ہے تشدد پسند نوجوانوں کی فوج

ویڈیو: کچھ دن پہلے ٹوئٹر پر بی جے پی رہنما کپل مشراکی جانب سے ہندو اِکوسسٹم بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس کے بعد ایک ٹیلی گرام گروپ بنایا گیا، جس میں کئی سارے لوگ جڑے ہوئے ہیں، جو عیسائی اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اس پر نیوزلانڈری ویب سائٹ کے رپورٹر میگھ ناد ایس سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

فوٹو بہ شکریہ : یوٹیوب ویڈیو

آسام: گائے کا گوشت فروخت کر نے کے الزام میں  پیٹے گئے شخص کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کی این ایچ آر سی کی ہدایت

اپریل 2019 میں بشو ناتھ ضلع کے 48 سالہ شوکت علی کو بھیڑ نے ان کی دکان پر پکا ہوا گائے کا گوشت بیچنے کے الزام میں پیٹا تھا اور خنزیر کا گوشت کھلایا تھا۔ این ایچ آر سی نے آسام سرکار کو علی کےانسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کی ہدایت دی ہے۔

Jaunpur

اتر پردیش: آپسی جھگڑے کے بعد سات دلتوں کے گھر جلانے کا الزام، 35 گرفتار

معاملہ جون پور ضلع کے سرائےخواجہ حلقہ کے بھدیٹھی گاؤں کا ہے۔ 9 جون کو آم توڑنے کو لےکر دوکمیونٹی کے بچوں میں تنازعہ ہوا، جس کے بعد ان کے بیچ پرتشدد جھڑپ ہوا۔ سو کے قریب لوگوں پر معاملہ درج ہوا ہے اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ملزمین پر این ایس اے اور گینگسٹر ایکٹ لگانے کی ہدایت دی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

اذان اسلام کا لازمی حصہ ہے، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

گزشتہ دنوں غازی پور،فرخ آباد اور ہاتھ رس کی ضلع انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کے دوران مسجدوں کے اذان لگانے پر روک لگانے کا زبانی حکم دیا تھا۔ اس حکم کو رد کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ مؤذن مسجد سے اذان دے سکتے ہیں لیکن آواز بڑھانے والے کسی آلہ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

(فوٹو: رائٹرس)

انکم ٹیکس  چھوٹ کے دائرے میں آئے گا رام مندر ٹرسٹ میں دیا گیا چندہ

ایک نوٹیفیکیشن میں سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس نے ‘شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر’ کو انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت ‘تاریخی اہمیت کا حامل اوراہم عوامی عبادت گاہ کے طورپرنوٹیفائیڈکیا ہےاور ٹرسٹ میں چندہ دینے والوں کو 50 فیصدی کی حد تک کٹوتی فراہم کی ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: tatanagar.com)

جھارکھنڈ: مسلم خاتون کا الزام، ہاسپٹل کے اسٹاف نے کی بدسلوکی اور مذہب کو لے کرقابل اعتراض تبصرہ

واقعہ جمشیدپور کے ایم جی ایم ہاسپٹل کا ہے۔خاتون کا کہنا ہے کہ وہ حاملہ تھیں اور اچانک شروع ہوئی بلیڈنگ کے بعد ہاسپٹل پہنچی تھیں، جہاں فرش پر خون گر جانے پر اسٹاف نے مارپیٹ کی۔ اس کے بعد وہ ایک نجی ہاسپٹل گئیں، جہاں بتایا گیا کہ حمل میں بچے کی موت ہو گئی ہے۔

0303 Sushil Mono.00_06_54_21.Still002

’میں فسادات کی رپورٹنگ پر تھا، انھوں نے مذہب کی پہچان کے لیے میرے کپڑے اتروائے‘

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران جن چوک نیوز پورٹل کے صحافی سشیل مانو کو ایک گروپ نے روک کران کے ساتھ مار پیٹ کی اور مذہبی پہچان ثابت کرنے کو کہا۔ سشیل کی آپ بیتی۔

ایودھیا(فوٹو بہ شکریہ : ٹورزم آف انڈیا)

ایودھیا: سنی وقف بورڈ نے قبول کی 5 ایکڑ زمین، کہا-مسجد کے ساتھ ہاسپٹل بھی بنے‌ گا

اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ نے ریاستی حکومت کے ذریعے ایودھیا میں دی گئی زمین کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہند -اسلامی تہذیب کے مطالعے کے لئے ایک سینٹر، ایک چیرٹیبل ہاسپٹل، پبلک لائبریری اور سماج کے ہر طبقے کی افادیت کی دیگر سہولیات کا انتظام بھی کیا جائے‌گا۔

شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترکےممبر بدھ کو نئی دہلی میں پہلی میٹنگ کرتے ہوئے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

رام مندر ٹرسٹ کی قیادت کریں‌ گے بابری معاملے کے ملزم، اویسی بو لے-مسجد توڑنے والے کو ملا انعام

اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ، ایک شخص جو بابری مسجد گرائے جانے کا ملزم ہے، اس کو حکومت نے رام مندر بنانے کاذمہ دیا ہے۔ یہ نیاہندوستان ہے جہاں پرمجرمانہ کاموں کوانعام دیا جاتا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ہندوستانی آئین کے 70 سال مکمل ہو نے پر جسٹس چیلا میشور سمیت آٹھ ہستیوں نے خودشناسی کی اپیل کی

ہندوستانی آئین کے 70 سال مکمل ہونے پرملک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ہستیوں نے اتوار کو ایک خط جاری کر واضح سوال کیا کہ کیا ‘آئین صرف انتظامیہ کے لیے ضابطوں کی ایک کتاب ہے؟

اٹل بہاری واجپائی، منموہن سنگھ، لال کرشن اڈوانی اورپرکاش کرات(فوٹو : رائٹرس)

شہریت قانون میں مذہب کے معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کے برعکس ہے مودی حکومت کا رویہ

شہریت قانون کو لےکر 2003 اور اس کے بعد ہوئی بحث میں نہ صرف کانگریس اور لیفٹ بلکہ بی جے پی رہنماؤں اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی نے بھی مذہبی طورپر مظلوم پناہ گزینوں کو لےکرمذہب کی بنیاد پر جانبداری نہ کرنے کی پیروی کی تھی۔

HBB 5 Dec 2019.00_38_57_00.Still002

ایک تھی بابری مسجد …

ویڈیو: 6 دسمبر 2019 کو بابری مسجد انہدام کے 27 سال پورے ہونے جا رہے ہیں۔ایودھیا میں 27 سال پہلے اسی دن کار سیوکوں نے بابری مسجد کو گرا دیا تھا۔گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نےبابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعے پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ زمین پرمسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے۔ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا۔اسی مدعے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے سماجی کارکن ہرش مندر اور سینئر صحافی قربان علی سے بات چیت کی۔

اسدالدین اویسی ،فوٹو: پی ٹی آئی

میری لڑائی 5 ایکڑ کی نہیں، مسجد کی ہے؛ اسدالدین اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا کہ جب سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہتا ہے کہ 1949 میں مورتیاں رکھ دی گئیں۔6 دسمبر کو مسجد کا ڈھانچہ گرائے جانے کو وہ جرم قرار دیتا ہے۔ 1934 میں ہوئے فسادات کو جرم بتاتا ہے۔تو یہ جگہ ہندوؤں کو کیسے مل سکتی ہے؟

راجیو دھون(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

راجیو دھون اب بھی ہمارے وکیل، غلط فہمی کے لیے معافی مانگیں گے: جمیعۃ

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ایودھیا تنازعہ میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے منگل کوسوشل میڈیا پر لکھا تھا کہانہیں جمیعۃ چیف مولانا ارشد مدنی کے اشارے پر ان کے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے اس معاملے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

راجیو دھون(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

ایودھیا تنازعے میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون معاملے سے ہٹائے گئے

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کوجمیعۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی کے اشارے پر ان کے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے اس معاملے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کو ایسا کرنے کا حق ہے، لیکن اس کے لئے بتائی جا رہی وجہ بدنیتی سے بھری اور جھوٹی ہے۔ اب وہ اس معاملے میں دائر ریویو کی عرضی سے کسی طرح سے نہیں جڑے ہیں۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریویو پٹیشن دائر

اترپردیش جمیعۃ علماء ہندکے صدر مولانا سید اشہد رشیدی کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ جبکہ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے گنبدوں کو نقصان پہنچانے اور اس کے گرانے کو اپنے علم میں لیا ، پھر بھی متنازعہ مقام اسی فریق کو سونپ دیا جس نے غیرقانونی کاموں کی بنیاد پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا۔

A photograph of the Babri Masjid from the early 1900s. Copyright: The British Library Board

تقریباً 100 مسلم شخصیات نے ایودھیا فیصلے میں ریویو پٹیشن کی مخالفت کی، کہا-اس سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا

فلم ،ادب اور صحافت سمیت مختلف شعبوں کی معروف مسلم شخصیات نے ایودھیا معاملے میں ریویو پٹیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو جاری رکھنے سے سنگھ پریوار کا ایجنڈہ پورا ہوگا ۔وہیں سنی وقف بورڈ نے کہا کہ – وہ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے۔

 فائل فوٹو :رائٹرس

بابری مسجد کومنہدم کرنے والوں کو ہیرو کیوں بنایا جا رہا ہے؟

ہندوستان میں بھی بابری مسجد گرانے والے لوگ شاید اس وقت اپنے آپ کو ونر محسوس کر رہے ہیں۔ ایک طرف 27 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بابری مسجدگرانے اور اس معاملے میں مسلمانوں کا قتل کرنے والے لوگوں کو اب تک کوئی سزا نہیں ہو سکی ہے اوردوسری طرف سپریم کورٹ کے ذریعہ انہی لوگوں کو بابری مسجد کی متنازعہ جگہ پر مندر بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان دونوں وجہوں سے ہندوستان میں بابری مسجد گرانے میں شامل تنظیموں اور اس سے جڑے لوگوں کا حوصلہ کافی بڑھا ہے اورنتیجتاً ہندو مہاسبھا جیسی ہندو نظریاتی تنظیم ان لوگوں کو ہیروبنا کر پیش کر رہی ہے۔

فوٹو : ویکی پدیا/رائٹرس

رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے سچ کو پیش کرتی ایک غیر معمولی کتاب

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

Don`t copy text!