مشرقی اتر پردیش

کانگریس صدر راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

کانگریس کی قیادت کا مسئلہ ’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون‘ کے مصداق ہو گیا ہے؟

کانگریس کی قیادت کا مسئلہ اس وقت بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون والے محاورے کے مصداق ہو گیا ہے۔ چونکہ راہل گاندھی کسی مکھوٹے نما صدر کو نامزد کرنے پر راضی نہیں ہیں، اس لیے کانگریس کی مجلس عاملہ کو بھی وفاداری نے عبوری صدر کے لیے کوئی نام پیش کرنے سے روک رکھا ہے۔

priyanka2222

ٹھیک ہی ہے پرینکا کے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ

اس لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کسی بھی طرح 100 سیٹیں لانے کی جدوجہد میں لگی ہے۔ یہ اس کے لیے کسی جنگ سے کم نہیں ہے۔ 100 سے کم سیٹیں آنا گاندھی خاندان کے ان تین فرد کی کمزوری ظاہر کرےگا، جو کانگریس کے لیے دل و جان سے تشہیر کر رہے ہیں۔

گجرات کے گاندھی نگر میں ہوئی ایک میٹنگ میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مشرقی اتر پردیش میں کانگریس کے لئے کیا امکانات ہیں؟

مشرقی اتر پردیش میں شناخت کی سیاست سب سے زیادہ تلخ ہے۔ پٹیل، کرمی، راج بھر، چوہان، نشاد، کرمی- کشواہا وغیرہ کی اپنی پارٹیاں بن چکی ہیں اور ان کی اپنی کمیونٹی پر گرفت بےحد مضبوط ہے۔ کانگریس کو ان سب کے درمیان اپنے لئے کم سے کم 20 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوگا تبھی وہ یوپی میں باعزت مقام پا سکتی ہے۔

PriyankaGandhi-PTI

کیا پرینکا اکیلے مودی اور یوگی کو روک پائیں گی ؟

کانگریس کئی سروے کرا چکی ہےجس سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اکیلی پرینکا ہی کانگریس کی انتخابی مہم میں جان پھونکنے کے لیے کافی ہیں۔ان کی حاضر جوابی اور طنزیہ جملے کانگریس کو وہ جوش و جذبہ دیں گے، جس کی آج سخت ضرورت ہے۔ اندرا گاندھی سے ملتی جلتی ان کی شباہت، پارٹی کیڈر؛ خصوصاً نوجوانوں کو متاثر و متحرک کرنے کی صلاحیت ان کو ایک جداگانہ پہچان دیتی ہیں۔

پرینکا گاندھی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

پرینکا گاندھی کا کرشمہ بھی یوپی میں کانگریس کو ہار سے نہیں بچا سکتا

ہندوستانی سیاست میں کرشمائی قیادت نے کئی کرشمے دکھائے ہیں، لیکن کسی بھی دور میں کرشمہ کے مقابلے زمینی فارمولے اور کمیونٹیز کی صف بندیاں زیادہ مؤثر رہی ہیں۔ فی الحال کانگریس کم سے کم یوپی میں تو ان دونوں مورچوں پر پچھڑتی نظر آ رہی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مکیش امبانی اور کانگریس صدر راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس / ٹوئٹر)

کیوں ملک کی سیاسی اور اقتصادی طاقت کچھ خاندانوں تک سمٹ‌کر رہ گئی ہے

کیا اگلے عام انتخاب میں مودی حکومت یا مہاگٹھ بندھن میں سے کوئی رہنما یا جماعت اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کر سکتی ہے کہ وہ ملک کےعوام کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت دینے کی آئینی ذمہ داری نبھانے کے لئے 2019 سے ملک کے ارب پتیوں اور امیروں پر مناسب ٹیکس لگانے کا کام کرے‌گی؟

فوٹو : پی ٹی آئی

عمر عبداللہ نے امت شاہ کے جواب میں کہا؛ ملک اوڈوماس –اوور ڈوز آف اونلی مودی اونلی شاہ سے پریشان ہے

ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے سابق فوجیوں کے لیے ون رینک ون پنشن اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ کانگریس کے لیے اس کا مطلب اونلی راہل اونلی پرینکا ہے۔

نریندر مودی اور امت شاہ، پرینکا اور راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کے لئے’پریوارواد‘کا مدعا صرف راہل اور پرینکا کے لئے ہے؟

ایک شہری اور کارکن کے طور پر محتاط رہنا چاہیے کہ سیاست چند گھرانوں کے ہاتھ میں نہ رہ جائے۔ لیکن اس سوال پر بحث کرنے کے لائق نہ تو امت شاہ ہیں، نہ نریندر مودی اور نہ راہل گاندھی۔ صرف عوام اس کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ جب تک یہ رہنما کوئی صاف لائن نہیں لیتے ہیں، پریوارواد کے نام پر ان کی بکواس نہ سنیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

راہل گاندھی نے کہا؛ یوپی میں نئے خواب کی تعبیر کے لیے دی گئی پرینکا اور جیوترادتیہ کو ذمہ داری

راہل گاندھی نے کہا کہ،پرینکا اور جیوترادتیہ سندھیا کو میں نے یوپی 2 مہینے کے لیے نہیں بھیجا، میں نے ان کو مشن دیا ہے کہ وہ پارٹی کی آئیڈیالوجی ، غریبوں اور کمزوروں کی آئیڈیالوجی کو آگے بڑھائیں ۔ مجھے اعتماد ہے کہ وہ اچھا کام کریں گے ۔

Don`t copy text!