مودی حکومت

انورادھا بھسین کی تحقیقی کتاب کا سرورق

کشمیر کی کسمپرسی: انورادھا بھسین کی تحقیقی کتاب

بارہ ابواب پر مشتمل 400صفحات کی اس کتاب میں کشمیر کے سبھی ایشوز خاص طور پر پچھلے تین سال کے دوران پیش آئے واقعات اور ان کے اثرات کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔ انورادھا نے اس کتاب میں ہندوستان کے سیکولر اور لبرل طبقہ کو مخاطب کرکے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت کشمیر کو ایک لیبارٹری کی طرح استعمال کر رہی ہے اور اگر اس کو روکا نہ گیاتو یہ تجربات قریہ قریہ، گلی گلی ہندوستان کے دیگر علاقوں میں دہرائے جائیں گے۔

 (علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

نوٹ بندی کے بعد بھی جعلی نوٹوں کا مسئلہ برقرار، پانچ سالوں میں 245 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ برآمد

مرکزی حکومت نے 2016 میں 1000 اور 500 روپے کے نوٹوں کو چلن سے باہر کر دیا تھا۔ اس فیصلے کا ایک اہم مقصد جعلی نوٹوں کے مسئلے کو ختم کرنا تھا۔ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں 2016 سے 2021 کے درمیان 245.33 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ ضبط کیے گئے۔ 2020 میں سب سے زیادہ 92.17 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ پکڑے گئے تھے۔

جسٹس بی وی ناگ رتنا اور سپریم کورٹ۔ (تصویر: سپریم کورٹ کی ویب سائٹ/پی ٹی آئی)

نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ: اختلاف کرنے والی جج نے کہا – آر بی آئی نے آزادانہ طور پر غور و فکر نہیں کیا

نوٹ بندی پر اکثریت سے الگ اپنے فیصلے میں جسٹس بی وی ناگ رتنا نے مودی حکومت کے اس قدم پر کئی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے پارلیامنٹ میں بحث ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر بی آئی نے اس بارے میں آزادانہ طور پر غوروفکرنہیں کیا اور پوری قواعد 24 گھنٹے میں پوری کی گئی۔

فوٹو: رائٹرس

نوٹ بندی کو لے کر حکومت نے کبھی بھی آر بی آئی کو  لوپ میں نہیں رکھا: رپورٹ

ایک میڈیا رپورٹ میں نوٹ بندی کے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ رہے اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے سینٹرل بورڈ میں اس موضوع پر ڈھنگ سے تبادلہ خیال نہیں کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سوموار کو مودی حکومت کے 2016 میں لیے گئے نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف دائر کئی عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے اس فیصلے کو 4:1 کی اکثریت سے درست قرار دیا تھا۔

(علامتی  تصویر: رائٹرس)

ملک میں بے روزگاری کی شرح دسمبر میں 16 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچی: سی ایم آئی ای

سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دسمبر کے مہینے میں شہری بے روزگاری کی شرح 10.09 فیصد اور دیہی بے روزگاری کی شرح 7.44 فیصد رہی ۔ سب سے زیادہ شرح 37.4 فیصد ہریانہ میں درج کی گئی۔

سپریم کورٹ(فوٹو : رائٹرس)

نوٹ بندی: سپریم کورٹ نے مرکز کے حق میں فیصلہ سنایا، بنچ کے ایک جج نے الگ رائے رکھی

مودی حکومت کے 2016 میں نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف کئی عرضیوں کی سماعت کر رہی سپریم کورٹ کی بنچ نے اسے جائز ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کا مقصد کالا بازاری ،ٹیرر فنڈنگ ​​وغیرہ کو ختم کرنا تھا، یہ بات غیر متعلق ہے کہ ان مقاصد کو حاصل کیا گیایا نہیں۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

کالے دھن سے نمٹنے کے لیے نوٹ بندی کی تجویز کو آر بی آئی نے مارچ 2016 میں خارج کر دیا تھا

گزشتہ ماہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ آر بی آئی کے مرکزی بورڈ کی خصوصی سفارش پر لیا گیا تھا۔ تاہم، آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والے نتائج مرکزی حکومت کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں پیش کیے گئے اس حلف نامے کے برعکس ہیں۔

ہیلتھ ورکر جمعہ کو پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی جانچ کر تے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کووڈ: ماہرین صحت نے کہا – ہندوستان کی حالت ٹھیک ہے، سب –ویرینٹ کی وجہ سے کیسز میں اضافے کا امکان نہیں

کووڈ-19 کے حوالے سے حکومتی رہنما خطوط کے درمیان ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک میں بڑھتے ہوئے کووڈ کیسز کے پیش نظر چوکسی اور احتیاط ضروری ہے۔ ایمس، دہلی کے سابق ڈائریکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ چین میں انفیکشن کے لیے ذمہ دار اومیکرون بی ایف7 سب –ویرینٹ پہلے ہی ملک میں پایا جا چکا ہے اور ملک میں کووِڈ کے سنگین معاملات میں اضافے اورمریضوں کے اسپتال میں داخل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

'کسان آندولن گراؤنڈ زیرو' کتاب اور تحریک کے دوران 2021 میں سنگھو بارڈر پر بیٹھے کسان۔ (تصویر: راج کمل پرکاشن/پی ٹی آئی)

’کسان آندولن، گراؤنڈ زیرو‘ کسانوں کی جدوجہد کو پُر اثر انداز میں پیش کرنے والی ضروری کتاب ہے

بک ریویو: تحریک کے ساتھ ہی تحریکوں کو دستاویزی پیرہن عطا کرنا ایک اہم اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ صحافی مندیپ پنیا نے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے سفر کو تخلیقی انداز میں حقائق کے ساتھ پیش کرکے اس سمت میں کوشش کی ہے۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک وزیر اعظم نریندر مودی کےہمراہ۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: پی ایم او انڈیا/ٹوئٹر)

وزیر اعظم نریندر مودی کو سمجھنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہے: ستیہ پال ملک

راجستھان یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں میگھالیہ کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کہا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے۔ اندرا گاندھی کا اقتدار بھی چلا گیا جبکہ لوگ کہتے تھے کہ انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ایک دن آپ بھی چلے جائیں گے، اس لیے حالات کو اتنا بھی خراب نہ کریں کہ اس کو بہتر نہ کیاجاسکے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

نوٹ بندی کا فیصلہ آر بی آئی کے ساتھ مشورے اور پیشگی تیاری کے ساتھ لیا گیا تھا: مرکزی حکومت

سپریم کورٹ مودی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کو چیلنج دینے والی متعدد عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حلف نامہ پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ نوٹ بندی کے بارے میں اس نے فروری 2016 میں آر بی آئی کے ساتھ بات چیت شروع کی تھی اور اسی کے مشورے پر یہ فیصلہ لیا گیا۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نوٹ بندی معاملے میں سپریم کورٹ نے سرکار کی شنوائی ملتوی کرنے کی درخواست کو ’شرمناک‘ بتایا

مودی حکومت کےنوٹ بندی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی 58عرضیوں کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ سےمرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئےاٹارنی جنرل نے حلف نامہ تیار نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے کارروائی ملتوی کرنے کو کہا تھا۔ عدالت نے کہا کہ آئینی بنچ اس طرح سے کام نہیں کرتی اور یہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔

(تصویر: رائٹرس)

کووڈ کے دوران جان گنوانے والے 73 فیصد ڈاکٹروں کو معاوضہ نہیں ملا: رپورٹ

ایک میڈیا رپورٹ میں آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری کے حوالےسے بتایا گیا ہے کہ 30 مارچ 2020 سے 30 ستمبر 2022 تک کووڈ کے دوران اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے جان گنوانے والے 428 ڈاکٹروں کے اہل خانہ کو 214 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا گیا،جبکہ آئی ایم اے کے مطابق، کووڈ کی پہلی دو لہروں میں اپنی جان گنوانے والے ڈاکٹروں کی تعداد 1596 تھی۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

’لکشمن ریکھا‘ سے واقف، لیکن نوٹ بندی کے معاملے کی تحقیقات کی جائے گی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے سوال کیا کہ کیا حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے 2016 میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کی پالیسی کے ذریعے کالے دھن، ٹیرر فنڈنگ اور جعلی کرنسی کو روکنے کے اپنے بیان کردہ مقاصد کو حاصل کرلیا ہے؟

(فوٹو:  رائٹرس)

حکومت نے کسانوں کی تحریک، کووڈ مینجمنٹ پر سوال اٹھانے والے اکاؤنٹ کوبلاک کرنے کو کہا: ٹوئٹر

ٹوئٹر نے کرناٹک ہائی کورٹ میں بتایا کہ حکومت نے اسےکسی ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر پورے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کو کہا تھا، حالانکہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 (اے) پورے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس کی دفعہ کے تحت صرف کسی خاص انفارمیشن یا ٹوئٹ کو بلاک کرنے کی اجازت ہے۔

(السٹریشن: دی وائر)

ملک کے خلاف جرائم کے لیے گزشتہ سال 5100 سے زیادہ معاملے درج کیے گئے: این سی آر بی

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، 2021 میں سیڈیشن ، آفیشیل سیکرٹس ایکٹ اور یو اے پی اے سمیت ملک کے خلاف مختلف جرائم کے الزام میں 5164 معاملے، یعنی ہر روز اوسطاً 14 معاملے درج کیے گئے۔ پچھلے سال ملک میں سیڈیشن کے کل 76 اور یو اے پی اے کے 814 معاملے درج کیے گئے تھے۔

آکار پٹیل۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

ای ڈی نے ایمنسٹی انڈیا پر 51.72 کروڑ روپے اور سابق سی ای او آکار پٹیل پر 10 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کے لیے ایمنسٹی انڈیا اور اس کے سابق سی ای او آکار پٹیل پر یہ جرمانہ عائد کیا ہے۔ پٹیل نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی حکومت ہے، عدلیہ نہیں۔ ہم عدالت میں اس کا مقابلہ کریں گے۔

15 اپریل2021 کو سورت کے ایک شمشان میں کووڈ 19 سے جان گنوانے والوں کی لاشیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ سے ہوئی اموات پر ڈبلیو ایچ او کے اندازے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے حکومت نے غلط ڈیٹا کا استعمال کیا

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ 2020 میں ہی ہندوستان میں 8.30 لاکھ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔دی رپورٹرز کلیکٹو کے ایک تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان اندازوں کو حقائق سے پرے قرار دے کر مسترد کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے جن اعداد وشمار کا استعمال کیا ، ان کی صداقت مشتبہ ہے۔

The Wire

یوپی: عدالت نے کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق رپورٹ پر دی وائر اور مدیر کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کیا

چھبیس جنوری 2021 کو نئی دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کے دوران احتجاج کررہے ایک شخص کی موت سے متعلق رپورٹ کے سلسلے میں دی وائر، اس کے مدیر سدھارتھ وردراجن اور رپورٹر عصمت آرا کے خلاف یوپی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خبرمیں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔

(علامتی تصویر، بہ شکریہ: Ahdieh Ashrafi/Flickr CC BY-NC-ND 2.0)

سیڈیشن پر پابندی بجا ہے، لیکن عدالتوں کو حکومت کے جابرانہ رویوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے

اس بات کا امکان ہے کہ سیڈیشن کے جلد خاتمہ کے بعد صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں ،حزب اختلاف کے رہنماؤں کو چپ کرانے اور ناقدین کو ڈرانے کے لیے ملک بھر کی پولیس (اور ان کے آقا) دوسرے قوانین کے استعمال کی طرف قدم بڑھائے گی۔

(تصویر: دی وائر)

سپریم کورٹ نے قانون پر نظر ثانی تک سیڈیشن معاملوں کی کارروائی پر روک لگائی

سپریم کورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں کسی بھی ایف آئی آر کو درج کرنے، جانچ جاری رکھنے یا آئی پی سی کی دفعہ 124 اے (سیڈیشن) کے تحت زبردستی قدم اٹھانے سے تب تک گریز کریں گی، جب تک کہ اس پر نظر ثانی نہیں کر لی جاتی ۔ یہ مناسب ہوگا کہ اس پر نظرثانی ہونے تک قانون کی اس شق کااستعمال نہ کیا جائے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

سال 2020 میں مرنے والے 82 لاکھ افراد میں سے 45 فیصد کو کوئی طبی سہولت نہیں ملی: رجسٹرار جنرل

رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں رجسٹرڈ کل اموات میں سے تقریباً 1.3 فیصد لوگوں کو ایلوپیتھی یا دیگر طبی شعبوں کے اہل پیشہ ور افراد سے طبی سہولیات ملی تھیں۔ مرنے والوں میں سے 45 فیصد کو ان کی موت کے وقت کوئی طبی سہولت نہیں مل پائی تھی۔ 2019 میں طبی سہولیات کے فقدان میں مرنے والوں کی تعداد 35.5 فیصد تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حق نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے بدایوں ضلع کے رہنے والے عرفان کی جانب سے دائرعرضی کو خارج کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ اس عرضی میں ضلع انتظامیہ کے دسمبر 2021 کے فیصلے کو رد کرنے کی مانگ کی گئی تھی، جس کے تحت مسجد میں اذان کے وقت لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے کی گزارش کو مسترد کر دیا گیاتھا۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

کووڈ-19 سے دنیا میں ایک اندازے کے مطابق 1.5 کروڑ موتیں ہوئیں، ہندوستان میں 47 لاکھ لوگوں کی جان گئی: ڈبلیو ایچ او

ہندوستان نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مصدقہ اعداد و شمار کی دستیابی کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے متعلق اموات کی اعلیٰ شرح کے تخمینے کو پیش کرنے کے لیے ریاضیاتی ماڈل کے استعمال پر شدید اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ماڈل اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا طریقہ کارمشکوک ہے۔

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

عدم برداشت کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 میں آئی اے ایس کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شاہ فیصل سروس میں واپس لوٹے

بتایا جا رہا ہے کہ شاہ فیصل نے اپنے تمام سابقہ ​​ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیے ہیں، جو مرکزی حکومت کی تنقید میں لکھے گئے تھے۔ ساتھ ہی وہ سوشل میڈیا پر موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے زبردست حامی نظر آ رہے ہیں۔ ان دنوں وہ اکثر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی تقاریر، بیانات اور اعلانات کو شیئر کر رہے ہیں۔

دہلی میں سی این جی کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے خلاف کئی کیب اور آٹو ڈرائیوروں نے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

سی این جی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف دہلی کے کیب اور آٹو ڈرائیور کا احتجاجی مظاہرہ

کیب اور آٹو ڈرائیوروں نے دہلی میں سی این جی کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کرایے پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں 18 اپریل سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں سی این جی کی قیمت میں 13.1 روپے فی کیلو گرام کا اضافہ ہوا ہے۔

Aakar-Patel1

آکار پٹیل کو پھر امریکہ جانے سے روکا گیا، عدالت نے اپنے فیصلے پر اسٹے لگایا

دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق چیئرمین اور رائٹر آکار پٹیل کو امریکہ جانے کی اجازت دیتے ہوئےسی بی آئی کو لک آؤٹ سرکلر واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ اب اس نے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ وہیں، جمعرات کی شام پٹیل کو پھر سے بنگلورو ایئرپورٹ پر روکا گیا۔

آکار پٹیل، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

آکار پٹیل کو امریکہ جانے کی اجازت، سی بی آئی کو لک آؤٹ سرکلر واپس لینے کی ہدایت

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق چیئرمین اور رائٹر آکار پٹیل کو سی بی آئی نے ان کے خلاف جاری لک آؤٹ سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئے 6 اپریل کو بنگلورو ہوائی اڈے سےبیرون ملک جانے سے روک دیاتھا۔ عدالت نے سی بی آئی کے ڈائریکٹرکی جانب سے اپنے ماتحت کی طرف سے غلطی کو قبول کرتے ہوئے کہا وہ پٹیل سے تحریری طور پرمعافی نامہ جاری کریں۔

آکار پٹیل۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

کرناٹک: عدالت کی ہدایت کے باوجود سی بی آئی نے ایمنسٹی انڈیا کے سابق سربراہ کو بیرون ملک جانے سے روکا

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ اوررائٹرآکار پٹیل کو سی بی آئی نے ایف سی آر اے سے متعلق ایک معاملے میں لک آؤٹ سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلورو ہوائی اڈے پر روک دیا۔ وہ برکلے اور نیویارک یونیورسٹی کے پروگراموں میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے تھے۔

جی ٹی بی اسپتال میں بھرتی ہونے کا انتظار کرتا ایک کووڈ مریض ۔ (فوٹو: رائٹرس)

کسی بھی ریاست نے مہاماری  کے دوران آکسیجن کی کمی سے موت کی تصدیق نہیں کی: مرکزی حکومت

مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود بھارتی پوار نے پارلیامنٹ میں بتایا کہ ملک میں کووڈ-19 کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر 521358 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ مرکز ی حکومت کی درخواست پر 20 ریاستوں اور یونین ٹریٹری کی جانب سے […]

آلوک ورما۔ (فوٹو: اسپیشل اینجمنٹ)

سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے سے زبردستی ہٹائے گئے آلوک ورما اپنے حقوق کے لیے بھٹکنے کو مجبور کیوں ہیں؟

سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹرآلوک ورما کی جانب سے سینٹرل انفارمیشن کمیشن کو رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت دی گئی دو درخواستوں سے پتہ چلا ہے کہ کس طرح اچانک ان کے کیرئیر کے خاتمے کے بعد سے حکومت نے ان کی سابقہ ​​سروس کی مکمل جانکاری کو ضبط کر لیا۔ اس کے بعدان کی پنشن، طبی اہلیت اور گریجویٹی سمیت ریٹائرمنٹ کے تمام واجبات حتیٰ کہ پراویڈنٹ فنڈ کی ادائیگی سےبھی انکار کر دیا گیا۔

2014 کے عام انتخابات سے قبل بی جے پی کی طرف سے جاری کیا گیا ایک پوسٹر۔ (فائل فوٹو ، بہ شکریہ: بھارتیہ جنتا پارٹی)

پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ: احتجاج سے حمایت تک بی جے پی کا موقف کیسے تبدیل ہوا

بی جے پی نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت پر حملہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی، حالانکہ اس نے اقتدار میں آتے ہی پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اس کے لیے بین الاقوامی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرانے لگی۔

یوگ گرو بابا رام دیو(فوٹو: پی ٹی آئی)

چالیس روپے لیٹر پٹرول سے متعلق بیان یاد دلانے پر رام دیو برہم، بولے- چپ ہوجا، ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا

ہریانہ میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے آئے یوگا گرو بابا رام دیو جب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کر رہے تھے تو ایک صحافی نے ان کو ان کاپرانا بیان یاد دلایا،جس میں انھوں نے ایسی حکومت کے لیے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی ، جس کے دور اقتدار میں پٹرول 40 روپے فی لیٹرہو۔ صحافی کا سوال سن کر رام دیو برہم ہوگئے اور انہوں نے اس کو دھمکی دے ڈالی۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

نو دنوں میں آٹھویں بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

گزشتہ نو دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 5.60 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، سرکاری کمپنیوں کو ‘بیچنا’ اور کسانوں کو ‘لاچار’ کرنا ان کا روز کا کام ہو گیا ہے۔

علامتی تصویر : پی ٹی آئی

گزشتہ پانچ دنوں میں چوتھی بار پٹرول – ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

سنیچر کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ تیل کمپنیاں خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہیں۔ اب تک چار بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 3.20  فی لیٹر اضافہ […]

(تصویر: پی ٹی آئی)

گھریلو گیس سلنڈر میں 50 روپے اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں 80-80 پیسے کا اضافہ

گزشتہ سال اکتوبر کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ پہلا اضافہ ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اتر پردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل 4 نومبر 2021 سے مستحکم تھیں ۔ قیاس آرائیاں تھیں کہ 10 مارچ کو انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ہی اضافے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اب حکومت لگاتار قیمتوں کا ‘وکاس’ کرے گی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا کے دوران ہندوستان میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے زیادہ موتیں ہوئیں: رپورٹ

لانسیٹ جریدے کے ایک نئے تجزیے کے مطابق، 2020 اور 2021 میں کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہندوستان میں ایک اندازے کے حساب سے 40.7 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد سرکاری طور پر ہندوستان میں کووڈ-19 سے ہونے والی اموات سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ حالاں کہ حکومت نے اس رپورٹ کو خارج کر دیا ہے۔

فائل فوٹو: رائٹرس

ای وی ایم: وہ کون ہے جس کے دباؤ میں ہم اس سسٹم کو اپنائے ہوئے ہیں

رویش کا بلاگ: وہ کون ہے جس کے دباؤ میں ہم اس سسٹم کو اپنائے ہوئے ہیں جو امریکہ، فرانس، جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک تک نہیں اپناتے؟ کس کا پریشر ہے ؟؟؟ اتنا ہی بتا دو کہ دباؤ اندرون ملک سے ہی کسی کا ہے یا کوئی بیرون ملک بیٹھا ہوا سب کچھ سنبھال رہا ہے؟

Don`t copy text!