میڈیا

Journalist-Kishorechandra-credit-Facebook

منی پور ہائی کورٹ نے دیا این ایس اے کے تحت گرفتار صحافی کی رہائی کا حکم

منی پور کے صحافی کشورچندر وانگ کھیم کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک یوٹیوب ویڈیو میں وزیر اعظم مودی، ریاست کے وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ اور آر ایس ایس کو تنقیدکا نشانہ بنانے کے لئے نومبر 2018 میں این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

فوٹو: بہ شکریہ وکی پیڈیا

آکاش وانی میں جنسی استحصال کی شکایتوں کو دوبارہ دیکھے وومین کمیشن: اسٹاف یونین

می ٹو : کیژول اسٹاف یونین نے کہا کہ وومین اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ منسٹر مینکا گاندھی اور نیشنل کمیشن فار وومین کے جانچ‌کا حکم دینے کے پانچ مہینے بعد بھی آکاش وانی نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ایک شکایت گزار کا کہنا ہے کہ اگر آکاش وانی نے اس معاملے کو حل نہیں کیا تو وہ 15 اپریل سے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں‌گی۔

fake 2

بالاکوٹ سے متعلق ویڈیو پر میڈیا اور حکومت کے دعوے، پلے کارڈ کی عبارت اور نہرو پر حکومت کے الزام کا سچ

انتخابات کے دور میں فیک نیوز کی اشاعت میں اضافہ ہونا سوشل میڈیا کا فطری تقاضا ہے اور اس کی دلیل اس رپورٹ میں موجود ہے جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح سیاسی پارٹیاں فیک نیوز کی اشاعت میں کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہیں۔

مرکزی وزیر روی شنکر پرساد (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بالاکوٹ حملے کے ثبوت کے طور پر غلط خبر کا حوالہ دیا؟

14 مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کانگریس صدر راہل گاندھی پر بالاکوٹ ایئراسٹرائک پر حکومت کی حمایت نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایئر فورس کی کارروائی کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو کا حوالہ دیا تھا۔ آلٹ نیوز کی جانچ‌کے مطابق یہ ویڈیو بالاکوٹ سے متعلق نہیں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹو : رائٹرس)

راشٹر واد کی آڑ میں سوالوں کو دبایا جا رہا ہے

میڈیا کا ایک بڑا طبقہ، جس کا مذہب اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال پوچھنا ہونا چاہیے، گھٹنے ٹیک چکا ہے اور ملک کے کچھ سب سے طاقتور لوگوں نے خاموشی اختیار کرلی ہے، لیکن عام لوگ ایسا نہیں کرنے والے ہیں۔ ان کی آواز اونچے تختوں پر بیٹھے لوگوں کو سنائی نہیں دیتی، لیکن جب وقت آتا ہے وہ اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: سپریم کورٹ کی ریاستی حکومت کو پھٹکار ، کہا – بہت ہوا، بچوں کو بخش دیں

سپریم کورٹ نے مظفرپور شیلٹر ہوم معاملے کی شنوائی پٹنہ سے دہلی منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ حکومت کیسے چلا رہے ہیں۔

Media Bol_PliableMedia

میڈیا بول: Pliable میڈیا، ایڈیٹرس گلڈ اور صحافت پر حملہ

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے مودی کے انٹرویو، منی پور کے صحافی کی گرفتاری اور سبری مالا مندر میں ہڑتال کور کرنے آئی شاذلہ عبدالرحمٰن کے ساتھ بدتمیزی پر ہندوستان ٹائمز کے پالیٹیکل ایڈیٹر ونود شرما، دی ٹریبون کی ڈپٹی ایڈیٹر اسمتا شرما اور سنیئر صحافی آلوک مہتہ سے ارملیش کی بات چیت

Media Bol 79.00_31_15_01.Still006

میڈیا بول: صحافی کی گرفتاری، عام شہریوں کی جاسوسی اور امبانی گھرانے میں شادی

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے صحافی کشور چندر وانگ کھیم کی گرفتاری ، سرکار کے ذریعے عام شہریوں کے کمپیوٹر کی نگرانی اور امبانی گھرانے میں ہوئی شادی کے موضوع پر سینئر صحافی انل چمڑیا، سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی اور سینئر صحافی شیتل پرشاد سنگھ سے ارملیش کی بات چیت۔

منی پور کے صحافی کشورچندر وانگ کھیم (فوٹو بشکریہ: فیس بک(

منی پور: ریاستی حکومت اور وزیراعلیٰ کی تنقید کرنے والے صحافی کو ایک سال کی جیل

امپھال کے صحافی کشورچندر وانگ کھیم کو گزشتہ 26 نومبر کو سوشل میڈیا پر ریاست کی بی جے پی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے ویڈیو اپلوڈ کرنے اور وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ کو مبینہ طور پر نازیبا لفظ بولنے کی وجہ سے نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

فوٹو: دی وائر

مظفر پور شیلٹر ہوم: سپریم کورٹ نے حکومت کو لگائی پھٹکار، پوچھا؛ ایف آئی آر میں کیوں نہیں ہیں سنگین دفعات

کورٹ نے بہار حکومت کو 24 گھنٹے میں ایف آئی آر میں بدلاؤ کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چیف سکریٹری کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ شنوائی کے دوران کورٹ میں ہی موجود رہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: سابق وزیر منجو ورما کی گرفتاری نہ ہونے پر سپریم کورٹ ناراض

بہار حکومت نے کہا کہ منجو ورما نہیں مل رہی ہیں،کورٹ نے کہا،بہت اچھا۔اس معاملے میں سپریم کورٹ نے بہار کے ڈی جی پی کو طلب کیا ہے۔وہیں دوسری طرف کورٹ نے بہار کے دوسرے شیلٹر ہوم کے خلاف کارروائی نہ کرنے کو لے کر ریاست کے چیف سکریٹری کو بھی طلب کیا ہے۔

جمال خاشقجی،فوٹو: رائٹرس

جمال خاشقجی: جیسامیں نے ان کو پایا…

مدیر کی حیثیت سے جمال خاشقجی نے ایسی تحریریں شائع کیں جو سعودی حکام کی قدامت پسند سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔مگر ان کی اسی انقلابی سوچ کی وجہ سے مغرب میں ان کے بہت سارے مداح پیدا ہو گئے جو انھیں ایک آزاد خیال اور ترقی پسند صحافی کے طور پر دیکھنے لگے۔

فوٹو: بہ شکریہ وکی پیڈیا

آکاش وانی نے جنسی استحصال کو لے کر شکایت کرنے والی 9 خاتون ملازمین کو نکالا

می ٹو: مدھیہ پردیش کے شہڈول کے علاوہ 6 دوسرے آکاش وانی مراکز سے بھی جنسی استحصال کی شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کے ملازمین کی ٹریڈ یونین کا دعویٰ ہے کہ ایسے سبھی معاملوں میں ملزم کو صرف وارننگ دی گئی ہے ، وہیں سبھی شکایت کرنے والوں کی خدمات ختم کر دی گئی ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

مظفر پور شیلٹر ہوم: سپریم کورٹ نے کہا ’بے حد ڈراونا اور خوفناک‘ ہے یہ معاملہ، بہار سرکار کیا کر رہی ہے؟

سپریم کورٹ نے برجیش ٹھاکر کو نوٹس جاری کرکے پوچھا کہ کیوں نہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے اس کو بہار سے باہر جیل میں ٹرانسفر کر دیا جائے ؟سی بی آئی نے اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں کہا کہ جیل کے اندر بھی برجیش ٹھاکر کے پاس سے موبائل فون برآمد کیا گیا ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

مودی حکومت نے ساڑھے 4سالوں میں اشتہار پر خرچ کئے 5000 کروڑ روپے

مودی حکومت میں اشتہار پر خرچ کی گئی رقم یو پی اے حکومت کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔یو پی اے نے 10سال کی مدت میں اشتہار پر اوسطاً 504کروڑروپے سالانہ خرچ کیا تھا، وہیں مودی حکومت میں ہرسال اوسطاً 1202 کروڑ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

علامتی تصویر، ٖفوٹو : رائٹرس

شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال  سے نپٹنے کے لئے موجودہ نظام ناکافی: سپریم کورٹ

بہار کے مظفرپور کے شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر موجودہ نظام کافی ہوتا، تو مظفرپور میں جو بھی ہوا، وہ نہیں ہوتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ریپ اور جنسی استحصال کی خبریں؛ پریس کاؤنسل ، ایڈیٹرس گلڈ کی غیر موجودگی پر سپریم کورٹ نے جتائی ناراضگی

میڈیا کے ذریعے ریپ اور جنسی استحصال کی پہچان پبلک کرنے سے جڑے معاملوں کے بارے میں پریس کاؤنسل آف انڈیا، ایڈیٹرس گلڈآف انڈیااور انڈین براڈ کاسٹنگ فیڈریشن اور نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی کو سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا۔

ری پبلک کے ایڈیٹران چیف ارنب گوسوامی (فوٹو بشکریہ : ری پبلک ٹی وی)

نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینل کب تک ’میڈیا کی آزادی‘ کا سہارا لیتے رہیں گے ؟

جسٹس کاٹجو کی تجویز پر ٹی وی چینلس کے مالکان نے زبردست واویلا مچایا اور اسے میڈیا کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ ان کی تجویز سرد خانے میں پڑ گئی۔ مگر یہ مسئلہ اب بھی باقی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔