نکسل انکاؤنٹر

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر

سکما انکاؤنٹر: چھتیس گڑھ حکومت نے انکاؤنٹر کی آزادانہ جانچ کی سپریم کورٹ میں مخالفت کی

چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں 6 اگست کو ہوئے انکاؤنٹر میں پولیس کے 15 نکسلیوں کو مارنے کے دعوے پر مقامی گاؤں والوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ نکسلیوں کے نام پر بے قصور آدیواسیوں کا قتل کیا گیا ہے۔ معاملے کی آزادانہ جانچ کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دی گئی ہے۔

اس مبینہ تصادم، جس میں کہا جا رہا ہے کہ مبینہ نکسلی نے بھی گولیاں چلائیں، کوئی پولیس اہلکار یا محافظ دستہ کا آدمی زخمی نہیں ہوا/ (علامتی فوٹو : رائٹرس)

کیا گڑھ چرولی’انکاؤنٹر‘ میں نکسلی کے ساتھ عام لوگ بھی مارے گئے ہیں؟

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤوادی)کے ذریعے مبینہ طور پر جاری ایک ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گڑھ چرولی کی اندراوتی ندی میں ‘ انکاؤنٹر ‘ کے بعد ملی 40 لاشوں میں سے صرف 22 لاشیں اس گروہ کے لوگوں کی ہیں۔