وجے مالیا

(فوٹو: بشکریہ  فیس بک / نیرو مودی)

پنجاب نیشنل بینک گھوٹالے کا کلیدی ملزم نیرو مودی لندن میں گرفتار، ضمانت عرضی خارج

نیرو مودی کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کی ضمانت عرضی خارج ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی معاملے کی شنوائی بھی ملتوی ہوگئی ۔اب چیف مجسٹریٹ کے سامنے 29 مارچ کو اگلی سماعت ہوگی ۔

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی (فوٹو : پی ٹی آئی)

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی کا ارون جیٹلی پر الزام، کہا-ایک سونے کے بسکٹ کے لیے  نیرو مودی کو جانے دیا

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے کہا ، وزارت خزانہ کی وجہ سے نیرو مودی کی گرفتاری میں دیری ہوئی ہے۔ ایک سونے کے بسکٹ ملنے پر وزارت خزانہ نے نیرو مودی کو اپنے ہاتھوں سے جانے دیا۔

(فوٹو: بشکریہ  فیس بک / نیرو مودی)

لندن میں نظر آیا مفرور ہیرا کاروباری نیرو مودی، وزارت خارجہ نے کہا-تحویل کی کوشش جاری

برٹن حکومت سے پناہ دینے کی دہائی لگانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے کئی سوالوں کے جواب میں نیرو مودی نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔کانگریس نے پوچھا وزیر اعظم بتائیں کہ نیرو مودی کس کے تحفظ میں عیش و آرام کی زندگی گزا ررہا ہے۔

(فوٹو :رائٹرس)

کیاقرض وصولی اور این پی اے سے دھیان ہٹانے کے لیے 3 بینکوں کو ضم کیا جارہا ہے؟

آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن نے کہا کہ اس سے پہلے ایس بی آئی کے ساتھ پانچ معاون بینکوں کا انضمام ہوا تھا، لیکن کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ گجرات بینک ملازم یونین کا کہنا ہے کہ اس سے بےروزگاری بڑھے‌گی۔

وجے مالیا (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی بی آئی نے خط لکھ‌کر کہا تھا؛مالیا کے بارے میں چپ چاپ بتائیں، حراست میں لینے کی ضرورت نہیں

23 نومبر 2015 کو سی بی آئی کو یہ جانکاری دی گئی تھی کہ وجے مالیا 24 نومبر کو دہلی آ رہے ہیں اور 24 نومبر کو ہی سی بی آئی نے ممبئی پولیس کو خط لکھ‌کر کہا کہ مالیا کو حراست میں نہ لیا جائے۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

این پی اے معاملہ : رگھو رام راجن کی رپورٹ رسوخ داروں پر سرکاری مہربانی کا دستاویز ہے

اب یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ کیا مودی حکومت ان بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے، جو آنے والے عام انتخابات میں نامعلوم انتخابی بانڈس کے سب سے بڑے خریدار ہو سکتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

کنگ فیشر ایئر لائنس کے بعد مالیا کی کمپنی یوبی ہولڈنگس کو بھی وجہ بتاؤ نوٹس

نیشنل اسٹاک ایکسچنج کی جانب سے بتائے گئے اصول اور شرطوں کو پورا نہیں کرنے کی وجہ سے پہلے ہی کافی وقت سے ٹریڈنگ التوا میں ہے۔اس سے پہلے 21 مئی 2018 کو این ایس ای نے کنگ فیشر ایئر لائنس سمیت 16 کمپنیوں کو 30 مئی سے ڈی لسٹ کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔