ورلڈ اکانومک فورم

(فوٹو : رائٹرس)

ایک فیصدی کے پاس 70 فیصدی ہندوستانیوں سے چار گنا زیادہ دولت: آکسفیم رپورٹ

آکسفیم نے اپنی رپورٹ ٹائم ٹو کیئر میں کہا کہ دنیا کے 2153 ارب پتیوں کے پاس دنیا کی 60 فیصد آبادی کے مقابلے زیادہ جائیداد ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ایک گھریلو ملازمت کرنے والی خاتون کو کسی ٹکنالوجی کمپنی کے سی ای او کے برابر کمانے میں 22 ہزار 277سال لگ جائیں گے۔

(فوٹو : رائٹرس)

ورلڈ اکانومک فورم کے مسابقتی انڈیکس میں 10 ویں مقام پر پھسلا ہندوستان

ورلڈ اکانومک فورم کے سالانہ عالمی مسابقتی انڈیکس میں ہندوستان اس سال برکس ممالک میں سب سے خراب مظاہرہ کرنے والی معیشت میں سے ایک رہا، جبکہ چین کی حالت سب سے اچھی رہی۔ وہیں، صحت مند زندگی کے امکان کے معاملے میں ہندوستان کا مقام افریقی براعظم کے ممالک کو چھوڑ‌کر سب سے خراب رہا۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مکیش امبانی اور کانگریس صدر راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس / ٹوئٹر)

کیوں ملک کی سیاسی اور اقتصادی طاقت کچھ خاندانوں تک سمٹ‌کر رہ گئی ہے

کیا اگلے عام انتخاب میں مودی حکومت یا مہاگٹھ بندھن میں سے کوئی رہنما یا جماعت اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کر سکتی ہے کہ وہ ملک کےعوام کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت دینے کی آئینی ذمہ داری نبھانے کے لئے 2019 سے ملک کے ارب پتیوں اور امیروں پر مناسب ٹیکس لگانے کا کام کرے‌گی؟

Modi_WEF

آخر بین الاقوامی میڈیا نے وزیر اعظم مودی کی تقریر کی ان دیکھی کیوں کی؟

ورلڈ اکانومک فورم کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جو کچھ کہا وہ سب وہ تین سال سے بول رہے ہیں۔ آپ کو برا لگے‌گا لیکن آپ وزیر اعظم کی تقریر میں ہندوستان کی وضاحت دیکھیں‌گے تو وہ دسویں کلاس کے مضمون سے زیادہ کا نہیں ہے۔

Don`t copy text!