پاکسو

بہار کے مظفر پور واقع بالیکا گریہہ میں بچوں سے ریپ  کے معاملے کا اہم ملزم برجیش ٹھاکر۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

کیا ’جنگل راج‘ کی اصطلاح صرف غیر بی جےپی حکومت والے صوبوں کے لئے ہی ہے؟

اتنے بڑے اسکینڈل کے باوجود’جنگل راج‘ کااستعمال کہیں نہیں کیا گیا۔ گذشتہ دو دہائیوں سے ایک روایت سی بن گئی تھی کہ جب بھی اتر پردیش یا بہار میں کوئی بڑا جرم یا لاقانونیت کا معاملہ سامنے آتا تھااخبارات اور ٹی وی فوراً اس کو جنگل راج سے تشبیہ دیتے تھے۔

 (فوٹو : پی ٹی آئی)

مظفرپور اور دیوریا جیسے نابالغوں کے استحصال کے اور بھی کئی معاملے ہو سکتے ہیں : مینکا گاندھی

وومین اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کی مرکزی وزیر نے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے میں رکن پارلیامان سے التجا کر رہی ہوں کہ وہ اپنے علاقوں کے شیلٹر ہوم کا دورہ کریں۔ ہم نے این جی او سے شیلٹر ہوم کا آڈٹ کرایا، انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں ہونے کی بات کہی۔

مظفر پور بالیکا گریہہ میں بچیوں کے ساتھ ریپ  معاملے کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر، اخبار پراتہہ کمل اور وزیراعلیٰ نتیش  کمار۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / رائٹرس)

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ : کیس درج ہوجانے کے باوجود ملتا رہا کلیدی ملزم کے اخبار کو سرکاری اشتہار

ایک جون سے 14 جون تک بہار کے محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ کی طرف سے اہم ملزم برجیش ٹھاکر کے اخبار ‘ پراتہہ کمل ‘ کے نام 14 اشتہار جاری کئے گئے۔ محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ کو خود وزیراعلیٰ نتیش کمار سنبھالتے ہیں۔

بہار کے مظفر پور واقع بالیکا گریہہ میں بچوں سے ریپ  کے معاملے کا اہم ملزم برجیش ٹھاکر۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

بہار بالیکا گریہہ: ملزم برجیش ٹھاکر کے ہیں 3 اخبار، فرضی واڑے  سے پائے لاکھوں کے اشتہار

برجیش کی ملکیت والے ایک ہندی روزنامہ کی 300 سے زیادہ کاپیاں شائع نہیں ہوتی ہیں لیکن روزانہ 60862 کاپیاں چھپیں دکھاکر بہار حکومت سے ہر سال تقریباً 30 لاکھ روپے کے اشتہار ملتے تھے۔ ملزم آئی پی آر ڈی سے منظور شدہ صحافی تھا۔

Bal-grih

ایک نہیں بہار کے 15اداروں میں ہورہا ہے بچوں کا استحصال

خیر مظفرپور کا واقعہ تو اب حکومت اور انتظامیہ کی نظر میں ہے اور اس پر کارروائی بھی ہوتی دکھ رہی ہے، لیکن ٹی آئی ایس ایس کی جس رپورٹ پر یہ ساری معلومات سامنے آئی تھی اس میں 14 دوسرے بال گریہہ کے اوپر بھی انگلی اٹھائی گئی تھی۔