پرشانت بھوشن

پرشانت بھوشن۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

یو پی اے سرکار کو گرانے کے لیے ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ تحریک کو بی جے پی اور سنگھ کی حمایت حاصل تھی: پرشانت بھوشن

سینئر وکیل پرشانت بھوشن انڈیا اگینسٹ کرپشن کے کورممبر تھے،جنہیں سال 2015 میں مبینہ طور پرتنظیم مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے یوگیندریادو کے ساتھ پارٹی سے باہرکر دیا گیا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

توہین عدالت معاملے میں سپریم کورٹ نے وکیل پرشانت بھوشن پر ایک روپے کا جرمانہ لگایا

ٹوئٹر پر کیے گئے دو تبصروں کے لیے توہین عدالت کے مجرم ٹھہرائے گئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کو سزا سناتے ہوئے جسٹس ارون مشرا کی بنچ نے ہدایت دی کہ 15 ستمبر تک جرمانہ نہ دینے پر انہیں تین مہینے جیل ہوگی اور تین سال تک وکالت کرنے سے روک دیا جائےگا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

توہین عدالت معاملہ: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا، پوچھا-معافی مانگنے میں غلط کیا ہے

دو ٹوئٹ کے لیےتوہین عدالت کےقصوروار ٹھہرائے گئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے معافی مانگنے سے انکار کے بعد ان کی سزا کو لےکر ہوئی شنوائی میں جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ اگر آپ معافی مانگتے ہیں تو گاندھی جی کی صف میں آئیں گے۔ ایسا کرنے میں چھوٹا محسوس کرنے جیسا کچھ نہیں ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

سی اے جی کے دفاعی آڈٹ میں رافیل ڈیل کی جانچ شامل نہیں: میڈیا رپورٹ

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2019 میں کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل(سی اے جی) کے ذریعے سونپی گئی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ میں سی اے جی نے صرف بارہ دفاعی آفسیٹ سودوں کا تجزیہ کیا ہے۔وزارت دفاع نے آڈیٹر کورافیل آفسیٹ سودے سے متعلق کوئی جانکاری ہونے سے انکار کیا ہے۔

سابق مرکزی وزیر ارون شوری۔ (فوٹو: دی  وائر)

عدالت کی توقیر ٹوئٹ سے نہیں، ججوں کے کام اور ان کے فیصلوں سے کم ہوتی ہے:ارون شوری

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کوتوہین عدالت کاقصوروار ٹھہرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پرسابق مرکزی وزیر ارون شوری نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جمہوریت کا یہ ستون اتنا کھوکھلا ہو چکا ہے کہ محض دو ٹوئٹ سے اس کی بنیاد ہل سکتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

توہین عدالت معاملہ: پرشانت بھوشن نے کہا-معافی نہیں مانگوں گا، جو بھی سزا ملے قبول ہے

گزشتہ14اگست کو قصوروار ٹھہرائے گئے پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان دائر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ جس عدالت کی عظمت کو قائم رکھنے کے لیے وہ پچھلی تین دہائی سے کام کرتے آ رہے ہیں، اسی کورٹ کی ہتک کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بھوشن اپنے بیان پر 2-3 دن نظرثانی کرکے جواب دیں۔

پرشانت بھوشن، فوٹو: پی ٹی آئی

توہین عدالت کے معاملے میں پرشانت بھوشن کا معافی سے انکار، کہا-افسوس ہے کہ بیان کو غلط سمجھا گیا

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے2009 میں تہلکہ میگزین کو دیےانٹرویو میں سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف غلط تبصرہ کرنے کاالزام ہے، جس کے لیے سپریم کورٹ نے انہیں اور میگزین کے سابق مدیرترون تیج پال کو معافی نامہ جاری کرنے کو کہا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

توہین عدالت کے نوٹس پر پرشانت بھوشن نے کہا-چیف جسٹس کی تنقید سپریم کورٹ کی توہین نہیں ہے

سپریم کورٹ نےسینئر وکیل پرشانت بھوشن کےٹوئٹس کو لےکر انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ بھوشن نے اس کے جواب میں دیے حلف نامے میں کہا کہ سی جےآئی کو سپریم کورٹ مان لینا اور کورٹ کو سی جی آئی مان لیناسپریم کورٹ کو کمزور کرنا ہے۔

برندا کرات۔(فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر / سی پی آئی (ایم))

سی پی ایم نے وزیر داخلہ کو خط لکھا، سابق سی بی آئی ڈائریکٹر کے فرقہ وارانہ ٹوئٹ پر کارروائی کی مانگ

سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ نے پچھلے ہفتے مجاہد آزادی مولانا آزاد اور جانےمانے مسلمان ماہرین تعلیم پر تاریخ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کا الزام لگایا تھا۔ سی پی ایم کا کہنا ہے کہ راؤ کے لفظ ، زبان ،مفہوم اورمقصد دوکمیونٹی کے بیچ نفرت پھیلائیں گے۔

ایم ناگیشور راؤ/ فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

سابق سی بی آئی ڈائریکٹر بو لے، مولانا آزاد اور بائیں بازو کے اسکالروں نے تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی

سی بی آئی کےسابق ڈائریکٹرایم ناگیشور راؤ فائر سروس،سول ڈیفنس اینڈ ہوم گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ گزشتہ سنیچرکوانہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ آزادی کے بعد کے30 سالوں میں سرکار نے لیفٹ اور اقلیتوں کے مفادوالے اسکالر اور اکیڈمک دنیا کے لوگوں کو بڑھنے دیا اور ہندو نیشنلسٹ اسکالروں کو سائیڈلائن کیا گیا۔

پرشانت بھوشن۔ (فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے پرشانت بھوشن کے خلاف توہین عدالت کے 11 سال پرانے معاملے میں کارر وائی شروع کی

سال2009 میں پرشانت بھوشن نے تہلکہ میگزین کو دیے ایک انٹرویو میں مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف غلط تبصرہ کیا تھا۔وہیں ایک مبینہ توہین آمیز ٹوئٹ کے الزام میں بھوشن کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی ایک اور کارروائی چل رہی ہے۔

راکیش استھانا (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی بی آئی کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کو رشوت معاملے میں کلین چٹ ملی

سی بی آئی نے ساتھ ہی راء چیف ایس کے گوئل کو معاملے میں پاک صاف قرار دیا ہے جو اس معاملے میں جانچ‌کے گھیرے میں تھے۔ سی بی آئی کے ڈی ایس پی دیویندر کمار کو بھی ایجنسی سے کلین چٹ مل گئی جن کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور جن کو بعد میں ضمانت مل گئی تھی۔

پرشانت بھوشن، فوٹو: پی ٹی آئی

شہریت ترمیم قانون مظاہرہ: پرشانت بھوشن، ہرش مندر سمیت کئی دوسروں کو حراست میں لیا گیا

دہلی پولیس کے ذریعے حراست میں لیے جانے والوں میں یوگیندر یادو،دھرم ویر گاندھی،اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد،کانگریس رہنما سندیپ دیکشت، سوراج انڈیا کے دہلی صدر کرنل جئےویر، آئیسا صدر سچیتا ڈے، یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ کے رہنما ندیم خان سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔

فرانس میں داسو ایویشن کی فیکٹری میں رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : رائٹرس)

رافیل معاملے میں بی جے پی ایک با رپھر ملک کو گمراہ کر رہی ہے، کورٹ نے جانچ کا راستہ کھول دیا ہے: کانگریس

کانگریس نے دعویٰ کیا کہ ، سپریم کورٹ نے اب رافیل ڈیل کے مجرمانہ جانچ کا دائرہ کھول دیا ہے۔کانگریس کے ترجمان سرجےوالا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ آئینی اہتماموں کی وجہ سے سپریم کورٹ کے ہاتھ بندھے ہو سکتے ہیں جانچ ایجنسیوں کے نہیں۔

فوٹو: رائٹرس

چوکیدار چور ہے، تبصرہ: سپریم کورٹ نے ’احتیاط‘ کی صلاح کے ساتھ راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ بند کیا

کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے رافیل معاملے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابی تشہیر کے دوران کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ ’چوکیدار چور ہے‘۔ ان کے اس تبصرے کے خلاف ہتک عزت کی عرضی دائر کی گئی تھی۔

راکیش استھانا( فوٹو: پی ٹی آئی)

راکیش استھانا رشوت معاملے کی جانچ دو مہینے میں پوری کرے سی بی آئی: دہلی ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے راکیش استھانا کے خلاف مبینہ طورپر رشوت لینے کے معاملے کی جانچ پوری کرنے کے لیے سی بی آئی کو دی گئی مدت کو تیسری بار بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد اور وقت نہیں دیا جائےگا۔

سی بی آئی ہیڈ کوارٹر (فوٹو : پی ٹی آئی)

راکیش استھانا معاملے کی جانچ کی قیادت کر رہے سی بی آئی افسر نے مانگی رضاکارانہ سبکدوشی

سی بی آئی کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے خلاف مبینہ بد عنوانی کے معاملے کے جانچ افسر ستیش ڈاگر نے ایسے وقت میں رضاکارانہ سبکدوشی کی مانگ کی ہے، جب گزشتہ 31 اگست کو دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی جانچ چار مہینے میں پوری کرنے کا حکم دیا تھا۔

رافیل طیارہ(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل سودے میں پی ایم او کی نگرانی کو دخل کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا: مرکزی حکومت

رافیل سودے کو لے کر دائر عرضی کے تناظر میں سرکار نے سپریم کورٹ میں ایک نیا حلف نامہ دائر کرکے کہا ہے کہ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس سے سودے پر دوبار ہ غور کرنے کی بنیاد فراہم نہیں ہوتی۔

وجے مالیا اور نیرو مودی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی / فیس بک)

وجے مالیا، نیرو مودی جیسے 36 بزنس مین ملک چھوڑ‌ کر بھاگ گئے: ای ڈی

ای ڈی نے گزشتہ سوموار کو اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر گھوٹالہ میں گرفتار مبینہ ڈیفنس ایجنٹ سوشین موہن گپتا کی ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کورٹ سے کہا کہ جیسے 36 بزنس مین ملک سے بھاگ گئے، ویسے ہی یہ بھی بھاگ سکتے ہیں۔

رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل تنازعہ: سپریم کورٹ نے خفیہ دستاویز سے متعلق مرکز کے اعتراضات کو خارج کیا

درخواست گزاروں نے ریویو پیٹیشن میں ’دی ہندو‘اخبار کے ذریعے شائع رافیل ڈیل سے متعلق دستاویز پیش کئے تھے۔ اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسی جانکاری کو شنوائی میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کو’خصوصی اختیارات ‘کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل ڈیل: مرکز نے سپریم کورٹ میں کہا، ریویو پیٹیشن سے قومی سلامتی کو خطرہ

وزارت دفاع کے سکریٹری سنجے مترا کے ذریعے داخل یہ حلف نامہ اس لئے اہم ہو گیا ہے کیونکہ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے  6 مارچ کو الزام لگایا تھا کہ ریویو پیٹیشن ان دستاویزوں پر مبنی ہے جو وزارت دفاع سے چرائے گئے ہیں۔ حالانکہ […]

رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : پی ٹی آئی)

ویڈیو: رافیل پر صحافیوں کو دھمکی، کیا چھپا رہی ہے مودی حکومت؟

ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیےرافیل معاملے کی شنوائی کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعے دی ہندو کی رپورٹ کو چوری کے دستاویز کے حوالے سے چھاپنے کے الزام اور اخبار پر آفیشیل سیکریٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی بات پر دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو اور وکیل صارم نوید سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

فوٹو: دی وائر

حکومت کا میڈیا کے خلاف آفیشیل سیکریٹس ایکٹ کے استعمال کی کوشش قابل مذمت : میڈیا ایسو سی ایشن

رافیل معاملے کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعے دی ہندو کی رپورٹ کو چوری کے دستاویز کے حوالے سے چھاپنے کے الزام اور اخبار پر کارروائی کی بات کہنے کی ایڈیٹرس گلڈ سمیت مختلف پریس تنظیموں نے تنقید کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور رافیل(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: وزیر اعظم چاہیں تو پاتال میں جا کر رافیل کی فائل تلاش کر سکتے ہیں

سیکریٹ آؤٹ ہونے پر ہی گھوٹالہ آؤٹ ہوتا ہے۔ گھوٹالہ آؤٹ ہونے پر فائل کو سیکریٹ بتانے کا فارمولہ پہلی بار آؤٹ ہوا ہے۔ وزیر اعظم کو ہر بات میں خود کو چوکیدار نہیں کہنا چاہیے۔ خود کو چوکیدار اور پردھان سیوک کہتےکہتے بھول گئے ہیں کہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں، اس لئے جاگتے رہو، جاگتے رہو بول‌کر کچھ بھی بول جاتے ہیں۔

N._Ram_Photo_Credit_The_Hindu

رافیل ڈیل: دستاویز’چوری‘کے الزام کے بعد دی ہندو کے چیئر مین نے کہا-اپنے ذرائع کے تحفظ  کے لئے پرعزم ہوں

د ی ہندو کے چیئر مین اور سینئر صحافی این رام نے کہا کہ رافیل ڈیل سے جڑی جانکاریاں دباکر یا چھپاکر رکھی گئی تھیں جس کی وجہ سے ہی ان سے متعلق دستاویز مفاد عامہ کے لئے شائع کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس کو چوری ہو گئے دستاویز کہہ سکتے ہیں لیکن ہم اس کو لےکر فکرمند نہیں ہیں۔

رافیل (فوٹو : رائٹرس)

رافیل ڈیل: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا، وزارت دفاع سے چوری ہوئے ڈیل  سے متعلق دستاویز

رافیل ڈیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر ریویو پیٹیشن پر سماعت کے دوران درخواست گزار پرشانت بھوشن کے دی ہندو کی خبر کا حوالہ دینے پر اٹارنی جنرل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مضمون چوری کئے گئے خفیہ دستاویزوں پر مبنی ہے، جو پرائیویسی کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ناگیشور راؤ/ فوٹو: پی ٹی آئی

ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنانے کے معاملے میں دخل دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

جسٹس ارون مشرا اور جسٹس نوین سنگھ کی بنچ نے کہا کہ نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری ہو جانے کی وجہ سے وہ اس معاملے میں کوئی دخل نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ بنچ نے تقرری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

Don`t copy text!