پرشانت بھوشن

رافیل طیارہ(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل سودے میں پی ایم او کی نگرانی کو دخل کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا: مرکزی حکومت

رافیل سودے کو لے کر دائر عرضی کے تناظر میں سرکار نے سپریم کورٹ میں ایک نیا حلف نامہ دائر کرکے کہا ہے کہ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس سے سودے پر دوبار ہ غور کرنے کی بنیاد فراہم نہیں ہوتی۔

وجے مالیا اور نیرو مودی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی / فیس بک)

وجے مالیا، نیرو مودی جیسے 36 بزنس مین ملک چھوڑ‌ کر بھاگ گئے: ای ڈی

ای ڈی نے گزشتہ سوموار کو اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر گھوٹالہ میں گرفتار مبینہ ڈیفنس ایجنٹ سوشین موہن گپتا کی ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کورٹ سے کہا کہ جیسے 36 بزنس مین ملک سے بھاگ گئے، ویسے ہی یہ بھی بھاگ سکتے ہیں۔

رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل تنازعہ: سپریم کورٹ نے خفیہ دستاویز سے متعلق مرکز کے اعتراضات کو خارج کیا

درخواست گزاروں نے ریویو پیٹیشن میں ’دی ہندو‘اخبار کے ذریعے شائع رافیل ڈیل سے متعلق دستاویز پیش کئے تھے۔ اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسی جانکاری کو شنوائی میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کو’خصوصی اختیارات ‘کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل ڈیل: مرکز نے سپریم کورٹ میں کہا، ریویو پیٹیشن سے قومی سلامتی کو خطرہ

وزارت دفاع کے سکریٹری سنجے مترا کے ذریعے داخل یہ حلف نامہ اس لئے اہم ہو گیا ہے کیونکہ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے  6 مارچ کو الزام لگایا تھا کہ ریویو پیٹیشن ان دستاویزوں پر مبنی ہے جو وزارت دفاع سے چرائے گئے ہیں۔ حالانکہ […]

رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : پی ٹی آئی)

ویڈیو: رافیل پر صحافیوں کو دھمکی، کیا چھپا رہی ہے مودی حکومت؟

ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیےرافیل معاملے کی شنوائی کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعے دی ہندو کی رپورٹ کو چوری کے دستاویز کے حوالے سے چھاپنے کے الزام اور اخبار پر آفیشیل سیکریٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی بات پر دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو اور وکیل صارم نوید سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

فوٹو: دی وائر

حکومت کا میڈیا کے خلاف آفیشیل سیکریٹس ایکٹ کے استعمال کی کوشش قابل مذمت : میڈیا ایسو سی ایشن

رافیل معاملے کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعے دی ہندو کی رپورٹ کو چوری کے دستاویز کے حوالے سے چھاپنے کے الزام اور اخبار پر کارروائی کی بات کہنے کی ایڈیٹرس گلڈ سمیت مختلف پریس تنظیموں نے تنقید کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور رافیل(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: وزیر اعظم چاہیں تو پاتال میں جا کر رافیل کی فائل تلاش کر سکتے ہیں

سیکریٹ آؤٹ ہونے پر ہی گھوٹالہ آؤٹ ہوتا ہے۔ گھوٹالہ آؤٹ ہونے پر فائل کو سیکریٹ بتانے کا فارمولہ پہلی بار آؤٹ ہوا ہے۔ وزیر اعظم کو ہر بات میں خود کو چوکیدار نہیں کہنا چاہیے۔ خود کو چوکیدار اور پردھان سیوک کہتےکہتے بھول گئے ہیں کہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں، اس لئے جاگتے رہو، جاگتے رہو بول‌کر کچھ بھی بول جاتے ہیں۔

N._Ram_Photo_Credit_The_Hindu

رافیل ڈیل: دستاویز’چوری‘کے الزام کے بعد دی ہندو کے چیئر مین نے کہا-اپنے ذرائع کے تحفظ  کے لئے پرعزم ہوں

د ی ہندو کے چیئر مین اور سینئر صحافی این رام نے کہا کہ رافیل ڈیل سے جڑی جانکاریاں دباکر یا چھپاکر رکھی گئی تھیں جس کی وجہ سے ہی ان سے متعلق دستاویز مفاد عامہ کے لئے شائع کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس کو چوری ہو گئے دستاویز کہہ سکتے ہیں لیکن ہم اس کو لےکر فکرمند نہیں ہیں۔

رافیل (فوٹو : رائٹرس)

رافیل ڈیل: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا، وزارت دفاع سے چوری ہوئے ڈیل  سے متعلق دستاویز

رافیل ڈیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر ریویو پیٹیشن پر سماعت کے دوران درخواست گزار پرشانت بھوشن کے دی ہندو کی خبر کا حوالہ دینے پر اٹارنی جنرل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مضمون چوری کئے گئے خفیہ دستاویزوں پر مبنی ہے، جو پرائیویسی کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ناگیشور راؤ/ فوٹو: پی ٹی آئی

ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنانے کے معاملے میں دخل دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

جسٹس ارون مشرا اور جسٹس نوین سنگھ کی بنچ نے کہا کہ نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری ہو جانے کی وجہ سے وہ اس معاملے میں کوئی دخل نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ بنچ نے تقرری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

رافیل ڈیل پر کیگ نے پارلیامنٹ میں پیش کی رپورٹ، اپوزیشن  نے کہا-حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی

بدھ کو پارلیامنٹ میں رافیل پر اپنی رپورٹ پیش کرکے کیگ نے دعویٰ کیا کہ یہ رافیل ڈیل یو پی اے کی ڈیل کے مقابلے 2.86 فیصد سستی ہے۔ حالانکہ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعت کیگ رپورٹ کی تنقید کر رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند کے ساتھ نئے رافیل معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو : پی آئی بی)

نریندر مودی کے ذریعے کی گئی رافیل ڈیل یو پی اے والی ڈیل سے بہتر نہیں ہے : رپورٹ

رافیل کو لےکر مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئی ڈیل یو پی اے حکومت سے بہتر ہے اور اس کی وجہ سے ہندوستان کو طیارے جلدی مل جائیں‌گے۔ حالانکہ وزارت دفاع کے تین سینئر افسروں نے حکومت کے ان دعووں سےاتفاق نہیں کیا تھا۔

سپریم کورٹ / فوٹو: پی ٹی آئی

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: ناگیشور راؤ ہتک عزت کے مجرم، کارروائی پوری ہونے تک کورٹ میں بیٹھنے کی سزا

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کے ذریعے سی بی آئی کے سابق عبوری ڈائریکٹر این ناگیشور راؤ کا بچاؤ کیے جانے پر چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں میں نے ہتک عزت کے اختیار کا استعمال نہیں کیا اور کسی کو بھی سزا نہیں دی۔ لیکن یہ تو حد ہے۔

فوٹو: رائٹرس

رویش کا بلاگ: دی ہندو کی رپورٹ سے اٹھا سوال، کس کے لئے رافیل ڈیل میں ڈیلر اور کمیشن خور پر مہربانی کی گئی؟

آخر مودی حکومت فرانس کی دونوں کمپنیوں کو بد عنوانی کی حالت میں کارروائی سے کیوں بچا رہی تھی؟ اب مودی جی ہی بتا سکتے ہیں کہ بد عنوانی ہونے پر سزا نہ دینے کی مہربانی انہوں نے کیوں کی۔ کس کے لئے کی۔

فوٹو: رائٹرس

ویڈیو: رافیل ڈیل میں پی ایم اوکا دخل اور وزارت دفاع کا اعتراض

ویڈیو: ایک میڈیا رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رافیل ڈیل میں پی ایم او کے دخل پر وزارت دفاع نے اعتراض کیا تھا۔ دی وائر کے ذریعے بھی اس سال جنوری میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزارت دفاع کے رافیل ڈیل کی شرطوں کو لے کر وزیراعظم دفتر سمجھوتہ کر رہا تھا۔ اس معاملے پر دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو سے اجئے آشیرواد کی بات چیت۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: رافیل معاملے میں امبانی کے لئے وزیر اعظم نے وزارت دفاع اور سپریم کورٹ سے جھوٹ بولا

دی ہندو میں این رام نے جو نوٹ چھاپا ہے وہ کافی ہے وزیر اعظم مودی کے کردار کو صاف صاف پکڑنے کے لئے۔ یہی نہیں حکومت نے اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ سے بھی یہ بات چھپائی ہے کہ اس ڈیل میں وزیر اعظم دفتر بھی شامل تھا۔

فوٹو : دی ہندو

دی ہندو کی رپورٹ میں ہوا انکشاف: رافیل ڈیل میں پی ایم او نے دیا تھا دخل، وزارت دفاع نے کیا تھا اعتراض

دی ہندو اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس حکومت کے ساتھ رافیل سمجھوتے کو لے کر وزارت دفاع کے ساتھ پی ایم او بھی متوازی بات چیت کر رہا تھا ۔ دی وائر نے بھی اس سال جنوری میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ وزارت دفاع کے رافیل معاہدے کی شرطوں کو لے کر پی ایم او سمجھوتہ کر رہا تھا۔

سی بی آئی ہیڈکوارٹر (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی بی آئی: مرکزی حکومت نے آلوک ورما-راکیش استھانا تنازعے سے جڑے افسر کی مدت کارختم کی

مرکزی حکومت کے ذریعےسی بی آئی کے ڈی آئی جی انیش پرساد کی مدت کار بیچ میں ہی ختم کرتے ہوئے ان کے کیڈر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وہ ان 14 افسروں میں شامل تھے، جن کا ورما-استھانا تنازعے کے بعد 24 اکتوبر کو تبادلہ کیا گیا تھا۔

PTI9_6_2018_000097B

اٹارنی  جنرل کے کے وینو گوپال نے پرشانت بھوشن کے خلاف دائر کی ہتک عزت کی عرضی

سینئر وکیل پرشانت بھوشن نےایک فروری کو سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کی تقرری کو لے کر اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا۔

سی بی آئی ڈی ایس پی اے کے بسی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈی ایس پی اےکے بسی کے تبادلے پر سپریم کورٹ نے سی بی آئی سے مانگا جواب

سی بی آئی کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے خلاف رشوت معاملے کی جانچ‌کر رہے ڈی ایس پی،اے کے بسی نے اپنے تبادلے کو بدنیتی سے متاثر بتاتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سی بی آئی کو چھے ہفتوں میں دینا ہوگا جواب۔

PTI5_14_2018_000192B

چیف جسٹس کے بعد اب جسٹس سیکری نے بھی ناگیشور راؤ معاملے کی شنوائی سے خود کو الگ کیا

ایم ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں پی آئی ایل دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے وکیل دشینت دوے سے جسٹس سیکری نے کہا ، برائے مہربانی میری حالت کو سمجھیے ۔ میں یہ معاملہ نہیں سن سکتاہوں۔

ایم ناگیشور راؤ/ فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

سی بی آئی میں تبادلوں کا سلسلہ جاری، ایم ناگیشور راؤ نے 20 افسروں کا تبادلہ کیا

تبادلہ کئے گئے افسروں میں 2 جی گھوٹالے کی جانچ کر رہے ایس پی وویک پریہ درشی اور اسٹر لائٹ پلانٹ کے مظاہرے کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے 13 لوگوں کے معاملے کی جانچ کر رہے افسر اے سرونن بھی شامل ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر ناگیشور راؤ پر شنوائی سے الگ ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی

چیف جسٹس نے بتایا کہ وہ نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری کے لیے 24 جنوری 2019 کو اعلیٰ سطحی کمیٹی کی میٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں، اس لیے وہ اس معاملے میں شنوائی کے لیے بنچ کا حصہ نہیں ہو سکتے ہیں۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

نریندر مودی نے 36 رافیل لڑاکو ہوائی جہاز کا سودا 41 فیصد زیادہ قیمت پر کیا

سال 2007 میں اس وقت کی یو پی اے حکومت نے رافیل کی قیمت 643.26 کروڑ روپے فی طیارہ طے کی تھی۔ سال 2015 میں نریندر مودی کے ذریعے کئے گئے سودے کے بعد یہ رقم بڑھ‌کر 1037.21 کروڑ روپے فی طیارہ ہو گئی۔ پچھلی حکومت میں 126 طیاروں کا سودا کیا گیا تھا وہیں مودی حکومت نے اس کو کم کرکے 36 طیارہ کر دیا۔