پی این بی گھوٹالہ

وزیر اعظم نریندر مودی اور آر بی آئی گورنرارجت پٹیل(فوٹو : پی ٹی آئی/رائٹرس)

ریزرو بینک تنازعہ میں مرکز ی حکومت بھلےہی پیچھے ہٹتی  نظر آرہی ہو، لیکن مسائل  اب بھی برقرار ہیں

اگر کل ممکنہ این پی اے کا تقریباً40 فیصد 10 کے قریب بڑے کاروباری گروپوں میں پھنسا ہوا ہے، تو بینک اس کا حل کئے بغیر قرض دینا شروع نہیں کر سکتے ہیں۔یہ بات واضح ہے لیکن حکومت بڑے بقائے والے بڑے کاروباری گروپوں کے لئے الگ سےاصول چاہتی ہے، جو ان کے مفادات کا خیال رکھتے ہوں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: کیا ریزرو بینک کے ریزرو پرحکومت کی نظر ہے؟

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر مہر شرما نے لکھا ہے کہ ریزرو بینک اپنے منافع سے ہرسال حکومت کو 50 سے 60 ہزار کروڑ دیتی ہے۔ اس کے پاس ساڑھے تین لاکھ کروڑ سے زیادہ کا ریزرو ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس ریزرو سے پیسہ دے تاکہ وہ انتخابات میں عوام کے بیچ گل چھرے اڑا سکے۔

ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل اور سابق گورنر رگھو رام راجن (فوٹو : رائٹرس)

بڑے کاروباریوں کی مدد کے لئے آر بی آئی پر حکومت کا حملہ مہلک ثابت ہوگا

آر بی آئی ایکٹ کی دفعہ 7 کا استعمال مفاد عامہ میں نہیں ہے-یہ موقع کےتلاش میں بیٹھے کاروباریوں کو آر بی آئی کے ذریعے پیسہ دینے کے لئے مجبور کرنے کے ارادے سے اٹھایا گیا ایک بےشرمی بھرا قدم ہے۔

میہل چوکسی (فوٹو کریڈٹ: گیتانجلی جویلس)

کانگریس کا الزام ،میہل چوکسی نے ارون جیٹلی کے بیٹی داما د کی فرم کو کیا تھا ہائر،پیش کیے دستاویز

کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے الزام لگایا کہ میہل چوکسی کے بھاگنے کے بعد فرم نے پیسے لوٹائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کس بنا پر وزیر خزانہ کی بیٹی اور داماد کے لاء فرم کو ہائر کیا گیا تھا۔