ڈی او پی ٹی

آلوک ورما/ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی بی آئی تنازعہ: آلوک ورما نے سی وی سی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں داخل کیا جواب

گزشتہ 16 نومبر کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سی وی سی نے اپنی جانچ رپورٹ میں آلوک ورما پر ‘بہت ہی ناپسندیدہ ‘ تبصرہ کیا ہے اور وہ کچھ الزامات کی آگے جانچ کرنا چاہتا ہے، جس کے لئے اس کو اور وقت چاہیے۔

بہار کے سابق وزیراعلی ٰلالو پرساد یادو (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

استھانا، سشیل مودی اور پی ایم او، لالو کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا دباؤ بنا رہے تھے: سی بی آئی ڈائریکٹر

دی وائر کی خاص رپورٹ: سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما نے سی وی سی کو بھیجے اپنے جواب میں الزام لگایا ہے کہ آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ کی جانچ‌کے وقت راکیش استھانا، بہار کے نائب وزیراعلیٰ اور بی جے پی رہنما سشیل مودی اور پی ایم او کے ایک سینئر افسر کے لگاتار رابطہ میں تھے اور کافی ثبوت نہ ہونے کے باوجود لالو یادو کے خلاف معاملہ درج کرانے کی جلدبازی میں تھے۔

(گرافکس : منندر پال سنگھ / دی وائر)

سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما نے سی وی سی کو بھیجے جواب میں مودی حکومت پر سنگین سوال اٹھائے ہیں

دی وائر کی خاص رپورٹ : سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما نے کہا ہے کہ وزیر اعظم دفتر کے ایک بڑے افسر کے اشارے پر ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سی وی کمشنر کے وی چودھری پر جانبداری اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

RTI_urdu

’آر ٹی آئی ایکٹ میں ترمیم عوام کے حقوق اور انفارمیشن کمیشن کی آزادی پر حملہ ہے‘

ویڈیو: مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ترمیم کو لے کر دی نیشنل کیمپین فار پیوپلس رائٹ ٹو انفارمیشن ( این سی پی آر آئی)کی ممبر انجلی بھاردواج اور آرٹی آئی کارکنان سے بات چیت۔

 (فوٹو : پی ٹی آئی / وکپیڈیا)

کیا حکومت آر ٹی آئی قانون میں ترمیم کر کے اس کو کمزور کرنے جا رہی ہے؟

مرکزی حکومت نے اس بات کو عام نہیں کیا ہے کہ وہ آخر آر ٹی آئی قانون میں کیا ترمیم کرنے جا رہی ہے۔ ترمیمی بل کے اہتماموں کو نہ تو عام کیا گیا ہے اور نہ ہی عوام کی رائے لی گئی ہے۔ جان کار اس کو لمبی جدو جہد کے بعد ملے اطلاعات کے حق پر حملہ بتا رہے ہیں۔

شاہ فیصل (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

جموں و کشمیر : آئی اے ایس افسر شاہ فیصل کے ریپ والے ٹوئٹ پر ہوا ڈسپلنری ایکشن

2010 بیچ کے یو پی ایس سی کے ٹاپر فیصل نے ریپ کے بڑھتے واقعات کو لےکر ایک ٹوئٹ کیا تھا، جس پر ان کو مرکزی حکومت کےڈپارمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) کے ذریعے نوٹس بھیجا گیا ہے۔ فیصل نے ٹوئٹر پر نوٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جمہوری‎ ہندوستان میں نوآبادیاتی رجحان سے بنائے اصولوں کے ذریعے اظہار آزادی کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔