کشمیر

جوبائیڈن۔ (فوٹو: رائٹرس)

کشمیری شہریوں کے تمام حقوق بحال ہو نے چاہیے: جو بائیڈن

امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدوار اور سابق نائب صدر جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے لیے ان کی ٹیم نے ایک پالیسی پیپر جاری کیا ہے۔ اس میں بائیڈن نے آسام میں این آرسی نافذ کرنے اورسی اے اے کو لےکر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

 احمد آباد میں ہوئے ایک پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کی حصولیابی: وزارت داخلہ نے ترمیم شدہ فہرست میں سی اے اے کو شامل کیا

قابل ذکر ہے کہ پہلے جاری کی گئی فہرست میں سی سی اے کو حصولیابی کے طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا ۔وہیں وزارت داخلہ نےاپنی حصولیابیوں میں جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والےآئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرنے کو تاریخی قدم بتایا ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں صرف انٹرنیٹ نہیں، کشمیریوں کی زندگی کے کئی دروازے بند تھے

گزشتہ 5 مارچ کو سات مہینے کے بعد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سے پابندی ہٹائی گئی ہے۔ ایک طبقے کا ماننا تھا کہ یہ پابندی امن امان کی بحالی کے لئے ضروری تھی ، حالانکہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ پابندی تفریح یا سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ عوام کے جاننے اور بولنے پرتھی۔

فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر کو سینٹرل جیل میں کیوں نہیں بدل دیتی مرکزی حکومت: یوسف تاریگامی

جموں وکشمیر کے سابق ایم ایل اے اور سینئرسی پی ایم رہنما یوسف تاریگامی نے ریاست کے بڑے رہنماؤں کی حراست کو لےکر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر جموں وکشمیر میں حالات معمول پر ہیں تو حکومت وہاں الیکشن کیوں نہیں کراتی۔

سابق ممبر پارلیامان اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر مظفر حسین بیگ، فوٹو: پی ٹی آئی

مظفر حسین بیگ کو پدم بھوشن دے کر جموں وکشمیر کی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا گیا ہے؟

تحلیل شدہ ریاست جموں و کشمیر سے اس سا ل سویلین یعنی پدم ایوارڈ سابق ایم پی اورپی ڈی پی رہنمامظفر حسین بیگ کو دیا گیا۔ آخر ان کو یہ ایوارڈ کیوں دیا گیا؟ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں دور دور تک کوئی ایسی کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی ہے، جس کی بنا پر وہ کسی ایسے ایوارڈ کے مستحق ہوسکتے تھے۔لگتا ہے کہ کسی متو قع ذمہ داری کے پیش نظر شیشے میں اتارنے کے لیے ان کو بطور پیشگی ایوارڈ دے دیا گیا۔

2901 Anmol Interview Master.00_23_28_21.Still002

’کشمیری پنڈتوں کا کیا…صحیح سوال پوچھیں، کھلواڑ نہ کریں…‘

ویڈیو: کشمیری پنڈتوں کا کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کئی سالوں سے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس سوال نے صرف کشمیری پنڈتوں کے زخم ہرے کیے اور مسلمانوں کی خراب امیج کو پیش کیا ۔ اس مدعے پر ٹیچر انمول ٹکو سے سرشٹی شریواستو کی بات چیت۔

ایلس ویلس، فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

جموں وکشمیر: امریکی حکام نے ہندوستان سے سیاسی قیدیوں کو رہا کر نے کی اپیل کی

ہندوستانی حکومت کے ذریعے منعقد رائے سینا ڈائیلاگ میں حصہ لینے کے بعد واپس لوٹ کر جنوبی اوروسط ایشیا کی اسسٹنٹ سکریٹری ایلس ویلس نے شہریت ترمیم قانون کو لےکرملک گیر احتجاج پر کہا کہ ایک مستحکم جمہوری تجزیہ ہونا چاہیے چاہے وہ سڑکوں پر ہو، چاہے سیاسی اپوزیشن ، میڈیا یا عدالتوں کے ذریعے ہو۔

فوٹو : پی ٹی آئی

جموں و کشمیر میں آج سے 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال

جموں و کشمیر انتظامیہ کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، موبائل فون پر 2جی اسپیڈ کے ساتھ انٹرنیٹ سہولت 25 جنوری سے شروع ہو جائے‌گی۔ سوشل میڈیا کی سائٹ تک وادی کے لوگوں کی رسائی نہیں ہوگی اور طے شدہ ویب سائٹس تک ہی ان کی رسائی ہو سکے‌گی۔

فوٹو بہ شکریہ، دی اکانومسٹ /ٹوئٹر:@TheEconomist

معروف برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ نے اپنی کور اسٹوری میں کہا-ہندوستان میں مودی کی وجہ سے ہے خونی تشدد کا خطرہ

میگزین کے اس نئے سرورق پر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ میگزین نے شہریت قانون اور این آر سی کو لےکر ہندوستان میں ہو رہے احتجاج اور مظاہرے کے تناظرمیں مودی حکومت کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دراصل سرورق پرخاردار تاروں کے بیچ بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی نشان ‘کمل ‘ موجود ہے اور اس کے اوپریہ عبارت درج ہے، ’متعصب ہندوستان ، کیسے مودی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کوخطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

فوٹو: پی ٹی آئی

سیاسی قیدیوں کی رہائی سے کشمیر میں حالات نارمل  ہوں گے، نہ کہ فوٹو کھنچوانے سے: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، انٹرنیٹ کی بحالی اور گھاٹی میں لوگوں کا ڈر دور کرنے سے حالات نارمل ہوں گے، نہ کہ وزراء کے فوٹو کھنچوانے سے۔

Jammu-Kashmir-Mobile-PTI10_14_2019_000233B-e1579346236239

جموں و کشمیر میں بحال ہوئی پری پیڈ موبائل خدمات

جموں کشمیر انتظامیہ کے افسروں نے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سبھی مقامی پری پیڈ موبائل فون پر کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے جموں علاقے کے سبھی دس ضلعوں اور شمالی کشمیر کے دو ضلعوں کپواڑہ اور باندی پورا میں فکس لائن انٹرنیٹ کمیونی کیشن سروس مہیا کرنے کو کہا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد براڈبینڈ، 2 جی انٹرنیٹ خدمات جزوی طور پر بحال

سپریم کورٹ نے پچھلے ہفتہ اپنے ایک بےحد اہم فیصلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر پابندی سے متعلق تمام احکام پر غور کرے۔ یہ پابندی گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد سے لگائی گئی تھی۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر انتظامیہ نے 26 لوگوں پر لگا پی ایس اے ہٹایا

جن 26 لوگوں پر سے پبلک سیفٹی ایکٹ ہٹایا گیا ہے ان میں سے کچھ یونین ٹریٹری سے باہر اتر پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں بند ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نذیر احمد رونگا بھی شامل ہیں، جنہیں اتر پردیش کی مرادآباد سینٹرل جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

سپریم کورٹ نے کہا-غیر معینہ مدت کے لیے انٹرنیٹ بین کی اجازت نہیں، کشمیر انتظامیہ تمام پابندیوں پر پھر سے غور کرے

سپریم کورٹ نے کہا کہ کہ انٹرنیٹ کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حصہ ہے۔ انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کا کوئی بھی حکم جوڈیشیل جانچ کے دائرے میں ہوگا۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

17 غیر ملکی سیاسی رہنما کو آج جموں و کشمیر کا دورہ کرائے‌ گی حکومت، یورپی یونین شامل نہیں

اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔

14 اگست، 2019 کو سرینگر میں ہوئے ایک مظاہرہ کے بعد(فوٹو : رائٹرس)

جموں و کشمیر میں 2017 اور 2018 کے مقابلے 2019 میں پتھربازی کے واقعات میں اضافہ، 1996 معاملے درج: آر ٹی آئی

جموں و کشمیر میں 2018 میں پتھر پھینکنے کے 1458 اور 2017 میں 1412 واقعات درج کئے گئے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے بعد سے یہاں 1193 واقعات درج کئے گئے ہیں۔ اگست 2019 میں ریاست میں پتھربازی کے کل 658 واقعات سامنے آئے، جبکہ اس سے پہلے جولائی میں صرف 26 واقعات ہوئے تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پانچ مہینے بعد کشمیر میں موبائل ایس ایم ایس خدمات شروع، انٹر نیٹ پر اب بھی پابندی

گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد سے انتظامیہ نے کمیونی کیشن کی سبھی لائنوں –لینڈ لائن ٹیلی فون خدمات، موبائل فون خدمات اور انٹر نیٹ خدمات کو بند کر دیا تھا۔

فوٹو : پی ٹی آئی

واجپائی :معتدل یا موقع پرست سیاستداں؟

اٹل بہاری واجپائی کے تئیں بہتر خراج عقیدت یہی ہوسکتا ہے کہ ہزاروں بے گناہ اور معصوم افرادکو مزیدآگ کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے سرحد کے دونوں طرف کے عوام کے لئے امن کی راہیں ہموار کی جائیں اور دیرینہ تنازعات کے لئے کوششوں کو تیز کیا جائے۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

کشمیر سے مواصلات پر پابندی ختم کرنے اور بندیوں کو رہا کرنے کے لئے امریکی پارلیامنٹ میں تجویز

ہندنژاد-امریکی رکن پارلیامان پرمیلا جئے پال نے امریکی پارلیامنٹ میں جموں و کشمیر پر ایک تجویز پیش کرتے ہوئے ہندوستان سے وہاں لگائی گئی مواصلات پر پابندیوں کو جلد سے جلد ہٹانے اور سبھی باشندوں کی مذہبی آزادی محفوظ رکھے جانے کی اپیل کی۔

فوٹو : رائٹرس

کشمیر: لوگ مقامی اخبارات سے ناراض کیوں ہیں؟

فون او رانٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کے بعد سے اب تک صحافیوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک فوٹو جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ، میں نے کبھی اپنے کیمرے کو بند نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ 17 ہفتوں کے دوران جہاں بھی گیا مجھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں ایک دوسری صحافی کا کہنا ہے کہ ، میں نے کشمیر کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب میری اسٹوری چھپتی تھی تو اس میں میرا لکھا ہوا 40 فیصد ہی ہوتا تھا اور باقی وہ خود ہی شامل کرتے تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر میں پابندیوں کے خلاف عرضی پر شنوائی پوری، فیصلہ محفوظ

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ہٹانے کے ساتھ ہی وہاں ذرائع ابلاغ پر لگی پابندیوں کو چیلنج دیتےہوئے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد، کشمیر ٹائمس کی مدیر انورادھا بھسین اور دیگرلوگوں نے عرضیاں دائر کی تھیں۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس سوشل میڈیا پوسٹ کی نگرانی کر رہی ہے

جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انجانے میں صحافیوں کو بھیجے گئے ای میل میں ’ ڈی این اے فائل ‘نام سے ایک فائل تھی، جس میں ایسے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹ تھے، جو کہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بارے میں لکھے گئے تھے۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، کہا-انتظامیہ کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق ایک ایک سوال کا جواب دے

کشمیر میں لگی پابندی پر عرضی داخل کرنے والوں کی جانب سے پیش ایک وکیل نے جب کہا کہ ہردن ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے باوجود ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے مظاہرین پر سے سرکاری پابندی ہٹا لینے کی مثال دی ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بنائے رکھنے میں ہندوستان کا سپریم کورٹ کہیں زیادہ بہترہے۔

فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں حالات معمول پر ہو نے کے امت شاہ کے دعوے کو نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مکر و فریب بتایا

پارلیامنٹ سیشن میں فاروق عبداللہ کو حصہ لینے کی اجازت دینے کے اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے دوران 30 رکن پارلیامان کو حراست میں رکھا تھا۔ اس پر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریڈی کا تبصرہ اس بات کی دلیل ہےکہ جموں و کشمیر ایمرجنسی کے برے دور سے گزر رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر میں 4 اگست سے اب تک 5000 لوگ گرفتار: امت شاہ

وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد پتھربازی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ حالانکہ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے 4 اگست تک اوسطاً ہر مہینے پتھربازی کے 50 واقعات ہوئے۔وہیں 5 اگست کے بعد ایسے معاملے اوسطاً ہر مہینے بڑھ‌کر 55 ہو گئے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو بہ شکریہ : انفارمیشن منسٹری پاکستان)

کیا کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر پاکستان سفارتی محاذ پر اپنی کوشش جاری رکھ سکتا ہے؟

آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی صاحب سے بس یہی گزارش ہے کہ امن، قدر و منزلت، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

سابق وزرائے اعلیٰ  کے نظربند رہنے سے اگر گھاٹی میں امن  ہے، تو بہتر ہے وہ ایسے ہی رہیں:وزیر

مرکزی وزیر نے کہا، ‘ہمارے پاس ایک نیا نظام ہے اوریہ نظام سیدھے مرکز کو رپورٹ کرتا ہے اور ہم اسے اس حلقے کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے اور کامیاب بنانے کے لئے اس کا سہرا دیتے ہیں۔’

Don`t copy text!