کشمیر

جمو ں میں بند کے دوران سکیورٹی اہلکار(فوٹو : رائٹرس)

حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق اور چار دیگر کشمیری رہنماؤں نے رہائی کے لئے بانڈ پر کیے دستخط

انتظامیہ کی طرف سے تقریباً 3000 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں جمو ں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ بھی شامل ہیں۔ حالانکہ ان میں سے دو تہائی لوگوں کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن ابھی بھی تقریباً 1000 لوگ حراست میں ہیں۔

منگل کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے سی پی آئی ایم  جنرل سکریٹری سیتارام یچوری اور محمد یوسف تاریگامی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نہ تو میں غیر ملکی ہوں، نہ ہی ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دوسرے کشمیری رہنما دہشت گرد ہیں: سی پی آئی ایم رہنما تاریگامی

کشمیر کے سی پی آئی ایم رہنما اور سابق ایم ایل اے محمد یوسف تاریگامی پہلے ایسے کشمیری رہنما ہیں جو حراست میں رکھے جانے کے بعد دہلی آ سکے ہیں ۔ نئی دہلی واقع پارٹی صدر دفتر پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے کشمیری آہستہ آہستہ مر رہے ہیں، گھٹن ہو رہی ہے وہاں۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

کشمیر پر مسلم رہنماؤں کا رویہ -یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا…

یہ واقعی شرم کی بات ہے کہ ہندوستان کے مسلم لیڈران نے جموں وکشمیر میں ہورہی زیادتیوں کے متعلق اپنے منہ ایسے بند کئے ہیں جیسے ان کی چابیاں ہندو انتہا پسندوں کے پاس ہوں۔ جمیعۃ کے لیڈران آئین کی اس شق کی ترمیم و تحلیل کی حمایت کرتے ہیں تو پھر یونیفار م سول کوڈ اور تین طلاق قانون کے اطلاق پر کیوں شور مچا رہے ہیں؟

فوٹو: رائٹرس

مدھیہ پردیش: آرٹیکل 370 ہٹانے پر لکھی کتاب بیچنے والے سی پی آئی ایم رہنما کے خلاف معاملہ درج

یہ معاملہ مدھیہ پردیش کے گوالیار کا ہے ۔سی پی ایم رہنما شیخ عبدل غنی’ دھارا 370:سیتو یا سرنگ‘نامی کتاب بیچ رہے تھے۔ جس کے مصنف مدھیہ پردیش کی سی پی آئی ایم یونٹ کے چیف جسوندر سنگھ ہیں۔

کشمیری اسٹوڈنٹ میر فیض، اسکرین گریب/ٹوئٹر

راجستھان: کشمیری اسٹوڈنٹ کو عورتوں کا کپڑا پہنا کر بازار میں گھمایا ، کھمبے سے باندھ کر پیٹا

معاملہ راجستھان کے الور کا ہے۔ متاثرہ نوجوان کے بھائی کا الزام ہے کہ پولیس اسٹیشن میں ان کے بھائی سے اس طرح سے پوچھ تاچھ کی رہی تھی جیسے وہ خود ہی ملزم ہیں۔ کالج انتظامیہ نے بھی کسی بھی طرح کا تعاون نہیں دیا۔

التجا مفتی اور محبوبہ مفتی (فوٹو: پی ٹی آئی/فیس بک)

سپریم کورٹ نے محبوبہ مفتی کی بیٹی کو ان سے ملنے کی اجازت دی

جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو 5 اگست سے سرینگر کے چشم شاہی ہٹ کی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اپنی عرضی میں، محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا تھا کہ وہ اپنی ماں کی صحت کے بارے میں فکرمند ہے کیونکہ وہ ان سے ایک مہینے سے نہیں ملی ہیں۔

سرینگر کے ایک گھر میں سکیورٹی اہلکاروں  کی پیلیٹ گن سے زخمی ایک آدمی (فوٹو : رائٹرس)

پانچ اگست کے بعد کشمیر میں پیلیٹ سے 36 لوگ زخمی ہوئے : رپورٹ

ریاست سے آرٹیکل 370 ہٹانے اور دو یونین ٹریٹری میں باٹنے کے بعد سے حالات معمول پر نہیں ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ پیلیٹ سے زخمی 36 لوگوں میں سے 8 بند کے پہلے ہفتے میں زخمی ہوئے تھے۔ اس دوران پتھربازی کے 200 واقعات ہوئے۔

جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک (فوٹو : پی ٹی آئی)

انتخاب میں لوگوں سے کہہ دیں‌گے کہ یہ 370 کے حمایتی ہیں، تو لوگ جوتوں سے ماریں‌گے: ستیہ پال ملک

جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور فون خدمات بند کرنے پر گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ دہشت گردوں اور پاکستان کے لئے یہ زیادہ مفید ہے۔ اس کا استعمال جھوٹ پھیلانے اور ورغلانے کے لئے کیا جاتا ہے۔

فائل فوٹو :رائٹرس

آخر کیوں کشمیری پنڈت کشمیریوں کے ہم قدم نہیں ہیں؟

کشمیریوں نے اقلیت کو کبھی اقلیت نہیں سمجھا بلکہ انہیں ہمیشہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی مانند اپنی محبتوں سے نوازا ہے۔ مگر بد قسمتی یہ رہی کہ جب بھی کوئی تاریخی موڑ آیا‘یہاں کی اقلیت اکثریت کے ہم قدم نہیں تھی۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ دہلی کے ایوانوں میں نوکر شاہی کو اپنا کعبہ و قبلہ تصور کرنے کے بجائے کشمیری پنڈت ہم وطنوں کے مفادات کا بھی خیال رکھیں۔

راہل گاندھی: پی ٹی آئی

کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ، یہاں ہو رہے تشدد میں ہے پاکستان کا ہاتھ: راہل گاندھی

کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کئی مدعوں پر نریندر مودی حکومت سے متفق نہیں ہیں، لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان یا کوئی دوسرا ملک اس میں دخل نہیں دے سکتا۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

تقریباً بند پڑا ہوا ہے جموں و کشمیر ہائی کورٹ

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے لوگ اپنے معاملوں کی سماعت کے لئے ہائی کورٹ نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سرکاری محکمے بھی اپنی پیروی کرنے کے لئے کورٹ میں حاضر نہیں ہو سکے۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

اننت ناگ میں پتھراؤ سے ایک کی موت، کشمیر میں 22ویں دن بھی عام زندگی متاثر

کشمیر میں 22ویں دن بھی دکانیں اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔سرینگر کے لال چوک اور پریس انکلیو میں اب بھی لینڈلائن ٹیلی فون خدمات بند ہیں۔ موبائل خدمات اور بی ایس این ایل براڈبینڈ اور انٹرنیٹ سے متعلق دیگر خدمات پانچ اگست سے ہی بند ہیں۔

فوٹو : رائٹرس

کشمیر میں جو ہوا اس کا مقصد کشمیریوں  پر کنٹرول ہی نہیں، ان کو ذلیل کرنا بھی ہے

ابلاغ کے سارے ذرائع کو کاٹ‌کر، ان کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے سکیورٹی اہلکاروں کے استعمال کا مقصد کشمیریوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے-ان کا وجود اقتدار کے ہاتھ میں ہے، وہ اقتدار جس کی نمائندگی وہاں ہرجگہ موجود فوج کر رہی ہے۔

AppleMark

جموں و کشمیر کے حالات جاننے سرینگر پہنچے اپوزیشن رہنماؤں کو واپس دہلی بھیجا گیا

آٹھ سیاسی پارٹیوں کے 11 ممبران جموں وکشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے سرینگر پہنچے تھے ۔ وفد میں شامل کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے اپنے ساتھ گئے میڈیا اہلکاروں سے بدسلوکی کا الزام لگایا ہے۔

فرانس کے صدر  امانوئل میکروں   (فائل فوٹو : رائٹرس)

کشمیر مدعا ہندوستان، پاکستان کو دو طرفہ طریقے سے حل کرنا چاہیے: فرانسیسی صدر میکروں

امانوئل میکروں نے کہا کہ میں کچھ دنوں بعد پاکستان کے وزیر اعظم سے بات کروں‌گا اور ان سے کہوں‌گا کہ مذاکرہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس اگلے مہینے ہندوستان کو 36 رافیل جنگی طیاروں میں سے پہلا طیارہ بھیجے‌گا۔

ڈی ایم کے کی قیادت میں جموں و کشمیر کے رہنماؤں کی گرفتاری کی مخالفت میں جنتر منتر پر مظاہرہ کرتی حزب مخالف پارٹیاں (فوٹو : اے این آئی)

کشمیر میں رہنماؤں کی گرفتاری پر ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے جنتر منتر پر کیا مظاہرہ

نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمعرات کو ڈی ایم کے کی قیادت میں کانگریس، ٹی ایم سی، آر جے ڈی، سی پی آئی اور سی پی ایم سمیت کئی دیگر پارٹیوں نے ایک ساتھ آکر جموں و کشمیر میں حالات کو نارمل کرنے، وادی میں مواصلاتی نظام کو درست کرنے اور حراست میں لئے گئے تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی کی مانگ کی۔

سرینگر میں تعینات سکیورٹی اہلکار (فوٹو : رائٹرس)

ایک طرف 370 کا جشن اور دوسری طرف اسکول بند، کالج بند، دفتر بند، دکانیں بند، کشمیر کی زبان بند…

اس پورے باب نے کشمیر کی آواز اور بولنے کا حق دونوں چھین لیا، لیکن کہا گیا کہ کشمیری عوام خوش ہے۔ اجیت ڈوبھال کو سب نے چار کشمیری کے ساتھ کھانا کھاتے تو دیکھا پر کسی کو نہیں پتہ کہ ان تصویروں میں پیچھے کتنے فوجی بندوق تانے کھڑے تھے۔

سرینگر کا لال چوک (فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: آرٹیکل 370 ہٹانے کے فیصلے کو سابق نوکرشاہوں اور فوجی افسروں نے کیا سپریم کورٹ میں چیلنج

یہ عرضی رادھا کمار، ہندل حیدر طیب جی، کپل کاک، اشوک کمار مہتہ، امیتابھ پانڈے اور گوپال پلئی نے دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بنا لوگوں کی رائے جانے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا قدم جمہوریت کے بنیادی اصولوں، وفاقیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

16 اگست کو سرینگر میں پولیس اور سیکڑوں مظاہرین کے بیچ ہوا تھا تصادم : رپورٹ

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، یہ تصادم سرینگر کے سورا علاقے میں مظاہرین کے ذریعے نکالی گئی ریلی کے دوران ہوا ۔ وہیں 12دن بعد کشمیر وادی کے 17 ٹیلی فون ایکسچینج میں لینڈ لائن خدمات بحال کر دی گئی ہی اور جموں کے 5 اضلاع میں 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئی ہیں ۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

جموں و کشمیر: کانگریسی رہنماؤں کی حراست پر راہل نے کہا، کب ختم ہوگا یہ پاگل پن

کانگریس کی جموں و کشمیر اکائی کو جمعہ کو پریس کانفرنس کرنے سے روکتے ہوئے پارٹی کے اہم ترجمان رویندر شرما کو حراست میں لے لیا گیا۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس کے اترپردیش صدر غلام احمد میر کو بھی اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ پارٹی آفس جا رہے تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر میں پابندی پر مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا-حکومت کے سر پر بندوق رکھنا صحیح نہیں

سی جے آئی رنجن گگوئی کی صدارت والی بنچ کشمیر ٹائمس کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کی ریاست میں ذرائع ابلاغ سے پابندی ہٹانے سے متعلق عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جہاں مرکز نے عدالت سے کہا کہ ریاست میں کسی بھی اشاعت پر کوئی روک نہیں ہے۔

محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی اور وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو: ٹوئٹر/ دی وائر)

محبوبہ مفتی کی بیٹی کا وزیر داخلہ امت شاہ سے سوال، کس قانون کے تحت مجھے حراست میں رکھا گیا ہے

محبوبہ مفتی کی چھوٹی بیٹی التجا مفتی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھے خط میں کہا ہے کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مجھے کشمیریوں کی آواز بلند کرنے کے لیے کیوں سزا دی جارہی ہے ۔ کیا کشمیریوں کے درد ، استحصال اور غصے کا اظہار کرناجرم ہے۔