کمیونلزم

فوٹو : پی ٹی آئی

ایودھیا تنازعہ: ثالثی بے نتیجہ، اگلے ہفتے سے سپریم کورٹ میں روز ہوگی شنوائی

بابری-رام جنم بھومی تنازعہ پر ثالثی کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے ایک دن بعد سپریم کورٹ نے بتایا کہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی وجہ سے اب پانچ ججوں کی آئینی بنچ بحث پوری ہونے تک روز اس معاملے کی سماعت کرے‌گی۔

Court-Hammer-2

جھارکھنڈ: سوشل میڈیا پوسٹ کے لئے گرفتار طالبہ کو 5 قرآن عطیہ کرنے کی شرط پر ضمانت

رانچی کی ایک 19 سالہ طالبہ ریچا بھارتی کو سوشل میڈیا پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی پوسٹ کرنے کے الزام میں 12 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مقامی عدالت نے ان کو 5 قرآن عطیہ کرنے کی شرط پر ضمانت دی ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتیں۔

فوٹو بہ شکریہ : d.indiarailinfo.com

یو پی: جئے شری رام نہ کہنے پر مدرسے کے طلبا سے مارپیٹ کا الزام، 1 گرفتار

یہ واقعہ اتر پردیش کے اناؤ کا ہے۔ الزام ہے کہ کرکٹ کھیلنے پہنچے ایک مدرسے کے طلبا کو بھلابرا کہتے ہوئے کچھ نو جوانوں نے مبینہ طور پر جئےشری رام بولنے کو کہا۔ منع کرنے پر ان کو بلے سے پیٹا گیا اور بھاگنے پر پتھراؤبھی کیا گیا۔

Kanpur-Map-e1536220914938

اتر پردیش: کانپور میں’جئے شری رام‘ نہ کہنے پر 16 سالہ مسلم بچے کو پیٹا

یہ واقعہ کانپور کے برہ علاقے کا ہے۔ مسلم نوجوان کا الزام ہے کہ 28 جون کو مسجد سے نماز پڑھ‌کر لوٹنے کے دوران تین سے چار بائیک سوار نے اس کے ٹوپی پہننے کی مخالفت کرتے ہوئے مارپیٹ کی۔ اس کے ساتھ ہی دوبارہ ٹوپی پہن‌کر علاقے میں نہ آنے کی بھی دھمکی دی گئی۔

حافظ محمد شاہ رخ

گراؤنڈ رپورٹ: ’انہوں نے مجھ سے زبردستی جئے شری رام کے نعرے لگوائے، یہ بات پولیس نے ایف آئی آر سے غائب کر دی ‘

گزشتہ ہفتے مغربی بنگال میں مبینہ طور پر ’ جئے شری رام ‘ نہ کہنے پرمدرسہ ٹیچر کو ٹرین سےدھکہ دے دیا گیا تھا۔ مدرسہ ٹیچر محمد شاہ رخ کا دعویٰ ہے کہ حملہ کرنے والے لوگوں اور ان کی تنظیم کے بارے میں پولیس کو بتانے کے باوجود کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مہاراشٹر: ٹھانے میں ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ مار پیٹ، جبراً ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگوائے گئے

یہ واقعہ مہاراشٹر کے ٹھانے میں 24 جون کو اس وقت ہوا، جب مسلم ٹیکسی ڈرائیور سواری کو لےکر لوٹ رہا تھا اور بیچ راستے میں اس کی ٹیکسی خراب ہو گئی۔معاملے میں 3 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

Canning-West-Bengal

مغربی بنگال: مبینہ طور پر جئے شری رام نہ بولنے  پر مدرسہ ٹیچر کو  چلتی ٹرین سے پھینکا

مغربی بنگال کے ایک مدرسہ ٹیچر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 20 جون کو اس وقت ہوا جب وہ ٹرین سے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے ہگلی جا رہے تھے۔ الزام ہے کہ ٹرین میں کچھ لوگ جئے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے،انھوں نے ان کو بھی نعرے لگانے کو کہا،انکار کرنے پر مار پیٹ کی گئی اور ٹرین سے دھکہ دے دیا گیا۔

Photo : PTI

ایودھیا تنازعہ: وشو ہندو پریشد نے کہا، رام مندر عدالت کی ترجیحات میں نہیں

وشو ہندو پریشد نے اپنے خط میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ عدلیہ کی ترجیحات میں نہیں ہے،اس لیے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔عدلیہ اپنی ذمہ داری سے منھ نہ موڑے،وہ اس معاملے میں جلد سے جلد شنوائی پوری کرے،جس سے معاملہ حل ہو سکے۔

نریندر مودی(فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا مودی کی واپسی سے مسلمان بے وجہ ڈرے ہوئے ہیں؟

کیا نریندر مودی یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو جس ڈر کی سیاست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں‌گے؟ اگر ان کو سنجیدگی کے ساتھ اس کے لیے کام کرنا ہے تو اس کی شروعات سنگھ پریوار سے نہیں ہونی چاہیے؟

نئی دہلی واقع پارٹی صدر دفتر پر وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا بی جے پی کی واپسی نے ہندوستان کے چہرے سے ’سیکولرازم کا نقاب‘ اتار دیا ہے؟

آخر بی جے پی نے اتنی بڑی جیت کیسے درج کی؟ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق پچھلے سال اہم صوبوں کے انتخابات کے بعد یہ طے ہوگیا تھا کہ کسان اور بی جے پی کا اپنا اعلیٰ ذات کا ہندو ووٹ بینک اس سے ناراض ہے۔ دوسری طرف اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد نے بھی گھنٹی بجائی تھی۔ اس لئے ان طبقات کو را م کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے پارلیامنٹ سے ایک آئینی ترمیمی بل پاس کروایا،جس کی رو سے اقتصادی طور پر پسماندہ اعلیٰ ذاتوں کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکریوں میں نشستیں مخصوص کروائی گیئں۔

BJP_Reuters

بی جے پی کیسے جیتتی ہے…؟

مودی ایک ایسے قائد کے طو رپر سامنے لائے گئے جو پاکستان کو سبق دے سکتا تھا اور اعلیٰ ذات کی خواہشات کی تکمیل بھی کرسکتا تھا۔ قوم پرستی کے جذبے کو اس حد تک پروان چڑھایاگیاکہ’نوٹ بندی’ اور’جی ایس ٹی’ کے بداثرات نظر انداز کرکے لوگوں کے ووٹ بی جے پی کو گئے۔

جسٹس رنجن گگوئی/فوٹو: پی ٹی آئی

ایودھیا میں پوجا کی مانگ والی عرضی خارج، سی جے آئی نے کہا-آپ اس ملک میں امن و امان نہیں رہنے دیں گے

سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایودھیا میں 67.7’ایکڑ زمین کے غیر متنازعہ حصے‘ پر پوجا کرنے کی اجازت دینے کی عرضی خارج کر دی۔ اس کے علاوہ عرضی گزاروں پر لگائے گئے 5 لاکھ روپے کے جرمانے کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا تنازعے میں سپریم کورٹ نے صلح کے امکانات پر غور کرنے کو کہا

 چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے کہا کہ کیا آپ سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اتنے سالوں سے چل رہا یہ پورا تنازعہ جائیداد کے لیے ہے ؟ ہم صرف جائیداد کے حقوق کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن […]

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی۔ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا کی 67 ایکڑغیر متنازعہ زمین کو لےکر واجپائی نے کہا تھا؛ حکومت صورت حال کو بنائے رکھنے کے لیے پرعزم

مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ زمین کے آس پاس 67 ایکڑ غیر متنازعہ زمین ہے اس سے عدالت پہلے والی صورت حال کو ہٹالے اور یہ زمین اس کے مالکوں کو واپس کردے۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا تنازعہ: جسٹس یو یو للت نے خود کو بنچ سے الگ کیا، سماعت 29 جنوری کو ہوگی

سینئر وکیل راجیو دھون نے کہا کہ جسٹس یو یو للت نے وکیل رہتے ہوئے بابری مسجد سے متعلق ایک ہتک عزت کے معاملے میں اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کی طرف سے پیروی کی تھی۔ اس کے بعد جسٹس للت نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا۔

دہلی کے رام لیلا میدان میں وشو ہندو پریشد کی ریلی میں بولتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر رہنما بھیاجی جوشی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مندر بنانے کے لئے حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، ملک رام راجیہ  چاہتا ہے : سنگھ  رہنما بھیاجی جوشی

دہلی کے رام لیلا میدان میں وشو ہندو پرشد کی ریلی میں اتوار کو ہزاروں لوگ ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مانگ کے ساتھ جمع ہوئے تھے۔ اس دوران آر ایس ایس کے سینئر رہنما بھیاجی جوشی نے کہا کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں، ان کو مندر بنوانا چاہیے۔

فوٹو: ٹوئٹر/اے این آئی

افرازل قتل معاملہ : ملزم شمبھو کو نونرمان سینا لوک سبھا الیکشن میں اپنا امیدوار بنائے گی

اتر پردیش نو نرمان سینا کے قومی صدر امت جانی کا کہنا ہے کہ ہمیں آگرہ پارلیامانی حلقے سےہندو چہرے کی ضرورت تھی،اور شمبھو لال ریگر سےبہتر کوئی اور ہندو چہرہ ہمیں نظر نہیں آتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی) 

عام انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے ساتھ ہی ’فرقہ وارانہ ایمرجنسی‘ کا آغاز ہوچکا تھا

2014 کے پہلے تک’سیاسی اکثریت’اور’فرقہ وارانہ اکثریت’کے بیچ کی کھائی رسمی طور پر بنی رہی۔زمین پر جو بھی حالات رہے ہوں لیکن انتخاب غلط فہمی پیدا کرنے والے ایک مکھوٹا کے طور پر کام کرتا رہا۔لیکن مرکز میں بی جے پی کے آنے کے بعد یہ مکھوٹا بھی اتر گیا۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

بجرنگ دل پر اب تک پابندی کیوں نہیں؟

تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے: ہندو دھرم کی رکشا کے نام پر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور فریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا استعمال۔