کنال کامرا

کنال کامرا، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

عدلیہ کی ہتک کے معاملے میں اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے اپنا دفاع کیا

خودکشی کے لیے اکسانے کے معاملے میں صحافی ارنب گوسوامی کو ضمانت ملنے کے سلسلے میں اسٹینڈاپ کامیڈین کنال کامرا نے سپریم کورٹ اور ان کے ججوں کے خلاف کئی ٹوئٹ کیے تھے۔ اپنے دفاع میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ مان لینا کہ صرف ان کے ٹوئٹ سے دنیا کی سب سے طاقتورعدالت کی بنیاد ہل سکتی ہے، ان کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر سمجھنا ہے۔

کنال کامرا اور رچتا تنیجہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/پی ٹی آئی/ٹوئٹر)

سپریم کورٹ نے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا اور کارٹونسٹ رچتا تنیجہ کو توہین عدالت کے نوٹس بھیجے

گزشتہ11 نومبر کواسٹینڈاپ کامیڈین کنال کامرا نےخودکشی کے لیےاکسانےکےمعاملے میں صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت کے سلسلےمیں سپریم کورٹ اور اس کے ججوں کے خلاف کئی ٹوئٹ کیے تھے۔ اسی بارے میں کارٹونسٹ رچتا تنیجہ نے بھی ٹوئٹ کیے تھے۔ اٹارنی جنرل نے دونوں کے خلاف کارروائی کی منظوری دی ہے۔

اٹارنی جنرل  کے کے  وینو گوپال۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کنال کامرا کے بعد کارٹونسٹ کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی شروع کر نے کی اجازت

اٹارنی جنرل نے سینٹری پینلس نام کے ایک ویب کامکس پیج پرشائع ایک کارٹون کو لےکر کارٹونسٹ رچتا تنیجہ کے خلاف کارروائی کو منظوری دی ہے۔اس کارٹون میں ارنب گوسوامی کی ضمانت پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کامیڈین کنال کامرا کے خلاف اسی سلسلے میں کارروائی کی اجازت دی گئی تھی۔

0102 Media Bol Master.00_24_53_02.Still002

میڈیا بول: جامعہ ملیہ میں فائرنگ اور ارنب کے لیے اتری سرکار

ویڈیو: دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس فائرنگ اور اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا اور ٹی وی جرنلسٹ ارنب گوسوامی کے بیچ ہوئے تنازعہ پر سی ایس ڈی ایس کے مدیر ابھئے کمار دوبے اور سینئر صحافی شیبااسلم فہمی کے ساتھ سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

کنال کامرا، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

انڈیگو، اسپائس جیٹ اور ایئر انڈیا نے کامیڈین کنال کامرا پر لگائی پابندی، صحافی ارنب گوسوامی کو پریشان کر نے کا الزام

وہیں سول ایویشن منسٹر ہردیپ سنگھ پوری نے معاملے کو اپنی جانکاری میں لیتے ہوئے ہندوستان کی دوسری ایئرلائنس سے کامراپر اسی طرح کی پابندی لگانے کی‘صلاح’دی ہے۔

kunal-kamra-1200x600

گجرات: وزیر اعظم مودی کی تنقید کرنے والے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کا شو رد

اس شو میں شریک ہونے کی کوشش کرنے والے ایک فرد نے کئی ٹوئٹ کرکے یہ کہا ہے کہ پروگرام میں رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد ہندو تنظیم سے وابستہ تھے اور وہ کنال کامرا کو اینٹی نیشنل اور اینٹی ہندو کہہ رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ اسلام مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

Don`t copy text!