کورونا لاک ڈاؤن

5 ستمبر 2021 کو مظفر نگرمیں کسان مہاپنچایت کو خطاب  کرتے راکیش ٹکیت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مظفر نگر مہاپنچایت نے فرقہ واریت پر وہ چوٹ کی ہے، جس کی ملک کو ضرورت تھی

کسانوں کی تحریک کےغیرسیاسی ہونے کواس کی اضافی قوت کی صورت میں دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مسلم بھائی چارے کی یہ مہم سیاسی نفع نقصان سے وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ قابل اعتماد ہے اور زیادہ امیدیں جگاتی ہے۔

mukul

مظفر نگر مہا پنچایت کا اثر صرف اتر پردیش نہیں پورے ہندوستان  پر پڑے گا

ویڈیو: سنیکت کسان مورچہ نےمظفر نگر کی کسان مہاپنچایت سے ایک بار پھر اپنی تحریک کورفتار دینے کی کوشش کی۔اس مہاپنچایت میں کسانوں کا بڑا ہجوم دیکھ دیکھا گیا۔مغرب اور شمال کے کسان بڑی تعداد میں یہاں پہنچے۔ دی وائر نے مہا پنچایت میں شامل کسانوں سے بات کی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

ہندوستان میں حکومت کے خلاف خبریں لکھنے والی صحافت کو دبایا جا رہا ہے: امریکی رپورٹ

امریکہ کی‘2020 کنٹری رپورٹس آن ہیومن رائٹس پریکٹسیس’ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے میڈیا کی آواز کو دبانے کے لیےقومی سلامتی ، ہتک عزت ،سیڈیشن اور ہیٹ اسپیچ کے ساتھ ساتھ عدالت کی توہین جیسے قوانین کا سہارا لیا ہے۔

دشا روی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: ٹول کٹ معاملے میں نوجوان کارکن دشا روی کو ضمانت ملی

کسانوں کے احتجاج سےمتعلق ٹول کٹ شیئر کرنے کے معاملے میں گرفتار دشا روی کو ضمانت دیتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ معاملے کی ادھوری اور غیرواضح جانچ کو دیکھتے ہوئے کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے کہ بنا کسی مجرمانہ ریکارڈ کے کسی 22 سالہ لڑکی کے لیے ضمانت کے اصول کو توڑا جائے۔

دشا روی اور گریتا تُنبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/رائٹرس)

ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر نے ٹول کٹ معاملے میں گرفتار دشا روی کی حمایت کی

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی کارکن دشا روی نے کسانوں کےاحتجاج سے متعلق اس دستاویز کو شیئر کیا ہے، جس کو ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیرنے ٹوئٹ کیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹریکٹر پریڈ کے دوران دہلی میں ہوئےتشدد سمیت کسانوں کی تحریک کےواقعات ٹوئٹر پرشیئرکیے گئے ٹول کٹ میں بتائے گئے مبینہ منصوبے سے ملتا جلتا ہے۔

نکیتا جیکب۔ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

ٹول کٹ معاملے میں نکیتا جیکب کو تین ہفتے کے لیے پیشگی ضمانت ملی

بامبے ہائی کورٹ نےممبئی کی وکیل نکیتا جیکب کو راحت دیتے ہوئے دہلی کی متعلقہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔ یہ معاملہ کسانوں کے احتجاج کے سلسلے میں ماحولیاتی کارکن گریتا تنبیرکی جانب سے شیئر کیے گئے ٹول کٹ سے متعلق ہے۔

1502 AKI.00_33_35_07.Still002

اکیس سالہ دشا روی کی گرفتاری کیا مودی سرکار کی بوکھلاہٹ دکھاتی ہے؟

ویڈیو:کسانوں کی تحریک سےمتعلق ٹول کٹ معاملہ اب بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں ماحولیاتی کارکن دشا روی کو بنگلورو سے گرفتار کیا ہے۔ اس پورے مسئلے پر پولیس اور سرکار نے کس طرح سے کام کیا، بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

حراست میں دشا روی۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

دشا روی کی گرفتاری ہم سب کے منھ پر اس اقتدار کا بوٹ ہے…

دوسرے ممالک ہوں گے جہاں گریتااسٹار ہیں ، ہم اپنی گریتا دشا روی کو جیل میں رکھتے ہیں۔ وہ کوئی اور زمانہ ہوگا اور کوئی اور ملک جہاں مفاد سے اوپر اٹھ کر فطرت اور ماحولیات کی فکرکرنے والوں کا استقبال ہوتا ہے۔ یہاں ان کو جیل ملتا ہے۔

سدھارتھ وردراجن اور عصمت آرا۔ (فوٹو: دی  وائر )

اتر پردیش: عدالت نے دی وائر کے بانی مدیر اور رپورٹر کی گرفتاری پر روک لگائی

گزشتہ 26 جنوری کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران جان گنوانے والےنوجوان کے اہل خانہ کے دعووں کو لےکر دی وائر کی عصمت آرا نے ایک رپورٹ لکھی تھی،جس کو ٹوئٹر پرشیئر کرنے کے بعد دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے خلاف رام پور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

دیپ سدھو۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ واقعے کے ملزم دیپ سدھو گرفتار

مرکز کے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کی کسان تنظیموں کی مانگ کی حمایت میں 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران بہت سے مظاہرین لال قلعہ تک پہنچ گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ایکٹر سے کارکن بنے دیپ سدھو نے وہاں ایک ستون پر مذہبی جھنڈا لگایا تھا۔

ششی تھرور، راجدیپ سردیسائی اور مرنال پانڈے۔ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

کسانوں کی تحریک: سپریم کورٹ نے ششی تھرور، راجدیپ سردیسائی اور دیگر کی گرفتاری پر روک لگائی

گزشتہ 26 جنوری کو دہلی میں کسانوں کے ٹریکٹر پریڈ کے دوران غیرمصدقہ خبریں شیئر/نشر کرنے کے الزام میں کانگریس رہنماششی تھرور،سینئر صحافی راجدیپ سردیسائی، مرنال پانڈےاور چار دیگر صحافیوں کے خلاف سیڈیشن کی دفعات میں معاملہ درج ہوا۔

IMG-20210208-WA0002

کسان مہا پنچایت: مظفر نگر فسادات  کے بعد پہلی بار مسلم-جاٹ کسان ایک پلیٹ فارم پر آئے

ویڈیو: کسانوں کی تحریک کی بازگشت مغربی اتر پردیش تک پہنچ چکی ہے اور حال ہی میں شاملی میں کسان رہنماؤں کی ایک مہاپنچایت ہوئی۔ یہاں کے کسانوں سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: کسانوں کی تحریک میں شامل کسان کی موت، بیوی اور بھائی پر قومی ترنگے کی توہین کا معاملہ درج

پیلی بھیت کے سہرامئو تھانہ حلقہ کے بلویندر سنگھ 23 جنوری کو غازی پوربارڈر کے لیے نکلے تھے۔ ایک ہفتے بعد ان کے اہل خانہ کو دہلی پولیس نے فون کرکے سڑک حادثےمیں ان کی موت کے بارے میں بتایا۔ بدھ کو آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران ان کی لاش کو ترنگے میں لپیٹا گیا تھا۔

مندیپ پنیا، فوٹو: دی وائر

تہاڑ جیل سے لوٹ کر مندیپ پنیا کی رپورٹ: جیل میں بند کسانوں کے بھی حوصلے توڑ پانا سرکار کے بس کی بات نہیں

تہاڑ جیل میں آزاد صحافی مندیپ پنیا کو ایک کسان نے کہا،سرکار کو کیا لگتا ہےکہ وہ ہمیں جیل میں ڈال کر ہمارے حوصلے توڑ دےگی۔ وہ بڑی غلط فہمی میں ہے۔ شاید اس کو ہماری تاریخ کاعلم نہیں۔ جب تک یہ تینوں زرعی قوانون واپس نہیں ہو جاتے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کسانوں کو روکنے کے لیے خاردار تار، بیریکیڈنگ اور سیمنٹیڈ دیوار کے ذریعے بنایا جا رہا سکیورٹی  گھیرا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

زرعی قانون: امریکہ نے کہا-انٹرنیٹ کی دستیابی اور پرامن مظاہرہ متحرک جمہوریت کی نشانی

یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا یہ بیان امریکی گلوکارہ یحانہ سمیت کئی ہستیوں کی جانب سے کسانوں کی تحریک کو حمایت پر ہندوستانی وزارت خارجہ کی تنقید پر آیا ہے۔ محکمہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایسے ا قدامات کا خیرمقدم کرتا ہے جو ہندوستانی بازار کو بہتر بناتے ہیں اور بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرتے ہیں۔

غازی پور بارڈر پر پولیس کی جانب سے کی گئی گھر ا بندی۔ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر اپوزیشن  نے کہا، غازی پور بارڈر پر حالات ہند و پاک سرحد جیسے

شرومنی اکالی دل،ڈی ایم کے ، این سی پی اور ترنمول کانگریس سمیت ان پارٹیوں کے 15ایم پی کو پولیس نے غازی پور بارڈر پر کسانوں سے ملنے نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کی حالت جیل کے قیدیوں جیسی ہے۔

ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر(فوٹو: رائٹرس)

کسانوں کی حمایت کر نے پر دہلی پولیس نے گریتا تُنبیر کے خلاف ایف آئی آر درج کی

دہلی کی مختلف سرحدوں پر زرعی قوانین کی مخالفت میں جاری کسانوں کی تحریک کی ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیرنے حمایت کی تھی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ اب بھی کسانوں کے ساتھ ہیں۔

سنگھو بارڈر پر لگے نئے بیریکیڈ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کسانوں کی تحریک کو دنیا کی نامور ہستیوں کی حمایت فخر کی بات: سنیکت کسان مورچہ

گزشتہ دنوں میں دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک کو پاپ گلوکارہ ریحانہ اور ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر جیسی کچھ عالمی ہستیوں نے حمایت کی ہے۔تحریک کی قیادت کر رہے سنیکت کسان مورچہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ حکومت ان کا درد نہیں سمجھ رہی ہے۔

پاپ گلوکارہ ہ یحانہ اور ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر(فوٹو:  رائٹرس)

کسانوں کی تحریک کو متعدد بین الاقوامی شخصیات کی حمایت ،ہندوستان  نے کہا-غیر ذمہ دارانہ

ملک میں تین زرعی قوانین کی مخالفت میں 70 دنوں سے جاری کسانوں کی تحریک کو لے کر پاپ گلوکارہ ریحانہ، کارکن گریتا تُنبیر، امریکی نائب صدرکملا ہیرس کی بھتیجی مینا ہیرس، یوٹیوبر للی سنگھ سمیت کئی لوگوں نے حمایت کی ہے۔ اس قدم کے لیے انہیں سوشل میڈیا پر ایک طبقہ کے ذریعے ٹرول کیا جا رہا ہے۔

سدھارتھ وردراجن اور عصمت آرا۔ (فوٹو: دی  وائر )

یوپی: سدھارتھ وردراجن کے خلاف درج ایف آئی آر میں دی وائر اور رپورٹر کا نام بھی شامل

گزشتہ 26 جنوری کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران جان گنوانے والے نوجوان کے اہل خانہ کے دعووں کو لےکر دی وائر کی عصمت آرا نے ایک رپورٹ لکھی تھی، جس کو ٹوئٹر پر شیئر کرنے کے بعد دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے خلاف رام پور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

اتوار کو عدالت لے جانے کے دوران مندیپ پنیا۔ (فوٹو: Twitter/@TimesTrolley)

دہلی:سنگھو بارڈر سے گرفتار صحافی مندیپ پنیا کو ضمانت ملی

آزادصحافی مندیپ پنیا کوسنگھو بارڈر سے سنیچر کو حراست میں لینے کے بعد اتوارکو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔ عدالت نے انہیں ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ شکایت گزار، متاثرہ، گواہ سب پولیس اہلکارہیں۔ اس بات کا امکان نہیں ہےکہ ملزم کسی پولیس افسر کو متاثر کر سکتا ہے۔

punia

دہلی پولیس نے سنگھو بارڈر سے صحافی کو کیا گرفتار، ایک دیگر صحافی کو رہا کیا

آزادصحافی اور کارواں میگزین کے لیے لکھنے والے مندیپ پنیا اور ایک دیگرصحافی دھرمیندر سنگھ کو سنیچر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ دھرمیندر سنگھ کو اتوار کوصبح رہا کر دیا گیا۔ وہیں بتایا جا رہا ہے کہ پنیا کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

سدھارتھ وردراجن/ فوٹو: فیس بک

یوپی پولیس نے ایک ٹوئٹ کے لیے دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے خلاف مقدمہ درج کیا

دی وائر کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن نےیوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کے ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئےتشدد میں دہلی کے آئی ٹی او پرمظاہرہ میں شامل ایک نوجوان کی موت کو لےکر ان کے اہل خانہ کے دعووں سے متعلق خبر ٹوئٹر پر شیئرکی تھی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ 19کی وجہ سے 2030 تک ایک ارب سے زیادہ افراد انتہائی غربت کا شکار ہوسکتے ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کےمطالعے میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19کےاثرات سے نجات پانے کاعمل طویل عرصے تک چلےگا۔ کووڈ 19 ایک اہم پڑاؤ ہے اور دنیاکے رہنما ابھی جو فیصلہ لیں گے، اس سے دنیا کی سمت و رفتار بدل سکتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ بحران کے بیچ جان اور نوکری گنواتے صحافیوں کی سننے والا کون ہے؟

کووڈانفیکشن کےخطرے کے بیچ بھی ملک بھر کےمیڈیااہلکار لگاتار کام کر رہے ہیں، لیکن میڈیااداروں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ جوکھم اٹھاکر کام کررہے ان صحافیوں کو کسی طرح کا بیمہ یا اقتصادی تحفظ دینا تو دور، انہیں بناوجہ بتائے نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران پیدل جاتے مزدور۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ 19وبا کی وجہ سے تقریباً 13کروڑ لوگ ہو سکتے ہیں بھوک مری کا شکار: رپورٹ

اقوام متحدہ کی پانچ ایجنسیوں کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اونچی قیمتوں اور خرچ برداشت کرنے کی قوت نہ ہو پانے کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو صحت مند اور مقدی غذا نہیں مل پا رہی ہے۔کووڈ وبا کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں اور اقتصادی بحران سے بھوک مری کا سامنا کر رہی آبادی کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

’حکومتیں احتجاج کو دبانے کے لیے اقتدار کا استعمال کر رہی ہیں‘

وزیر اعظم کے گود لیے گئے گاؤں سےمتعلق ایک رپورٹ پرصحافی سپریہ شرما کے خلاف وارانسی میں کیس درج کیا گیا ہے۔میڈیااداروں کا کہنا ہے کہ حکام کے ذریعےقوانین کے اس طرح سے غلط استعمال کا بڑھتاہوارجحان ہندوستان کی جمہوریت کے ایک اہم ستون کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

صحافی سپریہ شرما۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

مودی کے گود لیے گاؤں پر رپورٹ کر نے کی وجہ سے صحافی سپریہ شرما کے خلاف مقدمہ

نیوزپورٹل‘اسکرال ڈاٹ ان’کی ایگزیکٹو ایڈیٹر سپریہ شرما اور ایڈیٹران چیف کے خلاف ایس سی/ایس ٹی(انسداد مظالم)ایکٹ 1989 اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت اتر پردیش پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران پیدل جاتے مزدور۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا بحران سے اس سال 4.9 کروڑ سے زیادہ  لوگ غربت کا شکار ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ

فوڈ سکیورٹی پر ایک پالیسی جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دنیا کی 7.8 ارب آبادی کو کھلانے کے لیے کافی سے زیادہ غذا دستیاب ہے، لیکن موجودہ وقت میں 82 کروڑ سے زیادہ لوگ بھوک مری کا شکار ہیں۔ ہماراغذائی نظام ٹوٹ رہا ہے۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ 19: لفٹننٹ گورنر نے بدلا کیجریوال کا فیصلہ، دہلی میں ہوگا سب کا علاج

اتوار کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ کووڈ 19انفیکشن کے دوران دہلی کے سرکاری اور نجی اسپتال صرف دہلی کے باشندوں کاہی علاج کریں گے۔لفٹننٹ گورنر انل بیجل نے اسے پلٹتے ہوئے انتظامیہ کوہدایت دی ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ رہائش کی بنیاد پر کسی بھی مریض کو علاج کے لیے منع نہ کیا جائے۔

 (فوٹوبہ شکریہ: پی آئی بی)

وزارت صحت کورونا اسپتالوں کے بارے میں تمام جانکاریاں 15 دن کے اندر اپ لوڈ کرے: سی آئی سی

سی آئی سی نے کہا کہ اس معاملے کے حقائق اورتمام اسٹیک ہولڈرس کے ذریعے کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا سے متعلق بےحد ضروری جانکاری کو وزارت کے کسی بھی محکمہ کے ذریعے مہیا نہیں کرایا جا سکا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

کورونا کی وجہ سے 26.5 کروڑ لوگوں کے سامنے بھوک مری کا خطرہ: رپورٹ

سینٹر فار سائنس اینڈانوائرنمنٹ(سی ایس ای)کی رپورٹ کے مطابق، کووڈ 19 کی وجہ سے عالمی سطح پرغربت کی شرح میں 22 سالوں میں پہلی بار اضافہ ہوگا۔ہندوستان کی غریب آبادی میں ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ اور جڑ جا ئیں گے، جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

AKI 30 May 2020.00_11_53_11.Still005

مودی 2.0 کا 1 سال: بیک گیئر میں ہندوستانی جمہوریت

ویڈیو: مودی سرکار 2.0 کی پہلی سالگرہ پر پی ایم نریندر مودی نے عوام کے نام ایک خط لکھا ہے۔ پی ایم مودی نے خط میں اپنی سرکار کے پچھلی مدت کار کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں بتایا ہے۔ اس مدعے پر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

Don`t copy text!