کورونا

بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشنن۔ (فوٹو: رائٹرس)

اتراکھنڈ: انتظامیہ نے پتنجلی کی پانچ دواؤں اور ان کے اشتہارات پر روک لگائی

خبروں کے مطابق، اتراکھنڈ کی آیورویدک اور یونانی خدمات کے عہدیدار کی طرف سے جاری کردہ ایک خط میں رام دیو کی پتنجلی دیویہ فارمیسی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی پانچ دواؤں کی تیاری اوران کی تشہیر بند کرے۔ اس سے پہلے بھی کورونیل سمیت کچھ دوائیوں کے بارے میں سوال اٹھ چکے ہیں۔

(تصویر: رائٹرس)

کووڈ کے دوران جان گنوانے والے 73 فیصد ڈاکٹروں کو معاوضہ نہیں ملا: رپورٹ

ایک میڈیا رپورٹ میں آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری کے حوالےسے بتایا گیا ہے کہ 30 مارچ 2020 سے 30 ستمبر 2022 تک کووڈ کے دوران اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے جان گنوانے والے 428 ڈاکٹروں کے اہل خانہ کو 214 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا گیا،جبکہ آئی ایم اے کے مطابق، کووڈ کی پہلی دو لہروں میں اپنی جان گنوانے والے ڈاکٹروں کی تعداد 1596 تھی۔

فوٹو : رائٹرس

ہماری ترقی کے باوجود لوگ بھوک سے مر رہے ہیں: سپریم کورٹ

زیادہ سے زیادہ مہاجرمزدوروں کو راشن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومتوں کوطریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ حتمی مقصد یہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی شہری بھوک سے نہ مرے۔ عدالت نے کہا کہ مہاجرمزدور نیشن بلڈنگ میں اہم رول ادا کرتے ہیں اور کسی بھی طور پران کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

15 اپریل2021 کو سورت کے ایک شمشان میں کووڈ 19 سے جان گنوانے والوں کی لاشیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ سے ہوئی اموات پر ڈبلیو ایچ او کے اندازے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے حکومت نے غلط ڈیٹا کا استعمال کیا

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ 2020 میں ہی ہندوستان میں 8.30 لاکھ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔دی رپورٹرز کلیکٹو کے ایک تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان اندازوں کو حقائق سے پرے قرار دے کر مسترد کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے جن اعداد وشمار کا استعمال کیا ، ان کی صداقت مشتبہ ہے۔

The Wire

یوپی: عدالت نے کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق رپورٹ پر دی وائر اور مدیر کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کیا

چھبیس جنوری 2021 کو نئی دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کے دوران احتجاج کررہے ایک شخص کی موت سے متعلق رپورٹ کے سلسلے میں دی وائر، اس کے مدیر سدھارتھ وردراجن اور رپورٹر عصمت آرا کے خلاف یوپی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خبرمیں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

سال 2020 میں مرنے والے 82 لاکھ افراد میں سے 45 فیصد کو کوئی طبی سہولت نہیں ملی: رجسٹرار جنرل

رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں رجسٹرڈ کل اموات میں سے تقریباً 1.3 فیصد لوگوں کو ایلوپیتھی یا دیگر طبی شعبوں کے اہل پیشہ ور افراد سے طبی سہولیات ملی تھیں۔ مرنے والوں میں سے 45 فیصد کو ان کی موت کے وقت کوئی طبی سہولت نہیں مل پائی تھی۔ 2019 میں طبی سہولیات کے فقدان میں مرنے والوں کی تعداد 35.5 فیصد تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حق نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے بدایوں ضلع کے رہنے والے عرفان کی جانب سے دائرعرضی کو خارج کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ اس عرضی میں ضلع انتظامیہ کے دسمبر 2021 کے فیصلے کو رد کرنے کی مانگ کی گئی تھی، جس کے تحت مسجد میں اذان کے وقت لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے کی گزارش کو مسترد کر دیا گیاتھا۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

کووڈ-19 سے دنیا میں ایک اندازے کے مطابق 1.5 کروڑ موتیں ہوئیں، ہندوستان میں 47 لاکھ لوگوں کی جان گئی: ڈبلیو ایچ او

ہندوستان نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مصدقہ اعداد و شمار کی دستیابی کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے متعلق اموات کی اعلیٰ شرح کے تخمینے کو پیش کرنے کے لیے ریاضیاتی ماڈل کے استعمال پر شدید اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ماڈل اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا طریقہ کارمشکوک ہے۔

جی ٹی بی اسپتال میں بھرتی ہونے کا انتظار کرتا ایک کووڈ مریض ۔ (فوٹو: رائٹرس)

کسی بھی ریاست نے مہاماری  کے دوران آکسیجن کی کمی سے موت کی تصدیق نہیں کی: مرکزی حکومت

مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود بھارتی پوار نے پارلیامنٹ میں بتایا کہ ملک میں کووڈ-19 کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر 521358 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ مرکز ی حکومت کی درخواست پر 20 ریاستوں اور یونین ٹریٹری کی جانب سے […]

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا کے دوران ہندوستان میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے زیادہ موتیں ہوئیں: رپورٹ

لانسیٹ جریدے کے ایک نئے تجزیے کے مطابق، 2020 اور 2021 میں کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہندوستان میں ایک اندازے کے حساب سے 40.7 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد سرکاری طور پر ہندوستان میں کووڈ-19 سے ہونے والی اموات سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ حالاں کہ حکومت نے اس رپورٹ کو خارج کر دیا ہے۔

اتر پردیش کے اناؤ میں کووڈ 19 کے بڑھتے معاملوں کے بیچ گنگا کنارے ریت میں دفن لاشیں ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ کی دوسری لہر کے دوران گنگا میں پھینکی گئی لاشوں کا کوئی ڈیٹا نہیں: مرکزی حکومت

جل شکتی کی وزارت نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ گنگا ندی میں پھینکے گئے ممکنہ کووڈ لاشوں کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ جل شکتی کے وزیر مملکت نے کہا کہ نیشنل مشن فار کلین گنگا اور ان کی وزارت نے اس سلسلے میں ریاستی حکومتوں سے رپورٹ طلب کی ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں نریندر مودی۔ (تصویر: اسکرین گریب/سنسد ٹی وی)

مودی بولے-اپوزیشن نے مزدوروں کو واپس بھیج کر کورونا پھیلایا، اپوزیشن نے کہا-انتخابی فائدے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوموار کو پارلیامنٹ میں خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹراور دہلی حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے مزدوروں کو لوٹنے کے لیے اکسایا تھا، جس کی وجہ سے کورونا کا انفیکشن پھیلا۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کووڈ: تین صوبوں میں سرکاری اعداد و شمار سے 3.5 لاکھ زیادہ موتیں، معاوضہ پانا ٹیڑھی کھیر

خصوصی رپورٹ: جنوری کے اوائل تک راجستھان، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش میں کووڈ-19 سے ہوئی اضافی موت حکومت کی گنتی سے 12 گنا زیادہ تھی۔ قابل ذکر ہے کہ غیر مرتب ریکارڈ اور لال فیتہ شاہی کی وجہ سے ہزاروں خاندان معاوضے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

گجرات: سرکاری اعداد و شمار میں کووڈ سے 10 ہزار موت، معاوضے کے لیے 90 ہزار درخواستیں

گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے کورونا متاثرین کے ذریعے معاوضے سےمتعلق 68370 دعووں کو منظوری دی ہے، حالانکہ اپنے سرکاری اعداد و شمار میں حکومت نے کووڈ 19 سے ہوئی موتوں کی تعداد 10094 ہی بتائی ہے۔

مئی2021 میں اتر پردیش کے زیور کے میولا گوپال گڑھ گاؤں میں اپنی بیمار ماں کے ساتھ دینیش کمار۔ (فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش حکومت کا دعویٰ-دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت نہیں ہوئی

مرکز کی مودی حکومت نے گزشتہ ماہ جولائی میں پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ ریاستی حکومتوں اور یونین ٹریٹری نے بالخصوص آکسیجن کی کمی کی سے کسی بھی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔حالاں کہ ایک ماہ بعد اگست میں پہلی بار مرکز نے اعتراف کیا تھاکہ آکسیجن کی کمی کے باعث کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی موت ہوئی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

وزارت صحت نے مہلوکین کو بھی کورونا ٹیکہ کاری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا: رپورٹ

معاملہ مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع کا ہے، جہاں کے رہنے والے اکشے بھٹناگر نے بتایا کہ مئی میں کوروناانفیکشن کی وجہ سے ان کے بھائی گزر گئے تھے، لیکن وزارت صحت کی جانب سے دسمبر میں آئے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ان کے بھائی کو ٹیکے کی دوسری خوارک لگ گئی ہے۔

کرن تھاپر اورانجلیک کوٹزی۔ (فوٹو: دی  وائر)

کووڈ 19: اومیکران اس وقت زیادہ باعث تشویش نہیں ہے: جنوبی  افریقی میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر

جنوبی افریقی میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدرانجلیک کوٹزی نے کہا کہ کورونا وائرس کے اس نئے ویرینٹ کے مریضوں میں ہلکی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ حالانکہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس کے سنگین معاملے آ سکتے ہیں۔

دشا روی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ٹول کٹ کیس: دشا روی کے خلاف جانچ میں کچھ ملا نہیں، پولیس فائل کر سکتی ہے کلوزر رپورٹ

دہلی پولیس نے ماحولیاتی کارکن دشا روی کو کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنے والے ٹول کٹ کو شیئر کرنے میں مبینہ رول کی وجہ سے 14 فروری کو بنگلورو سے گرفتارکیا تھا۔ ان پر 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئےتشدد کے سلسلے میں سیڈیشن اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔

jago

منجدھار میں پھنسی پی ایم مودی کے پارلیامانی حلقہ وارانسی کے ملاحوں کی زندگی

ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی کےپارلیامانی حلقہ وارانسی کے ملاح روزگار کو لےکر بےحد پریشان ہیں۔ کورونا وائرس مہاماری نے ان کی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور کسی طرح کی کوئی سرکاری امداد نہ ملنے سے وہ بے حد مایوس ہیں۔

ramkumar-vaccination

ٹیکہ کاری کا جشن منانا جلد بازی، 100 کروڑ کا ہدف بہت پہلے حاصل کر لینا چاہیے تھا: ٹس کے پروفیسر

ٹاٹاانسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(ٹس)کےپروفیسرآر رام کمار نےکووڈ19ٹیکےکی100کروڑ خوراکوں کےہدف کےحصول کو ‘ہندوستانی سائنس کی فتح’ بتاتے ہوئے وزیر اعظم کے ٹوئٹ کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں88 فیصدی ٹیکہ کووی شیلڈ کا لگایا گیا ہے، جو ایک برطانوی ویکسین ہے۔ٹیکہ کاری کی سست رفتار اور ٹیکے کی کمی کی وجہ سے اس سال کے آخر تک تمام بالغان کو دونوں ڈوز لگانے کاسرکارکاہدف بھی تقریباً پانچ چھ مہینے پیچھے رہ گیا ہے۔

(فوٹو:  پی ٹی آئی)

وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر ٹیکہ کاری کے ریکارڈ میں ہوا فرضی واڑہ، بنا ٹیکہ لگے بانٹے سرٹیفکیٹ: رپورٹ

دی کارواں کی رپورٹ میں مختلف صوبوں کے لوگوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پرکئی لوگوں کو کووڈ ٹیکہ کاری کاسرٹیفکیٹ ملا، جبکہ انہیں ٹیکہ پہلے لگا تھا۔ کئی لوگوں کو ٹیکے کی دوسری خوراک لینے کاسرٹیفکیٹ ملا جبکہ انہوں نے دوسری ڈوز لی ہی نہیں تھی۔

پی ایم مودی کے یوم پیدائش پر بڑے پیمانےپرٹیکہ کاری مہم کا اعلان کرتےوزیر اعلیٰ نتیش کمار۔(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/Nitish Kumar)

بہار: مودی کے یوم پیدائش پر زیادہ  ٹیکہ کاری دکھانے کے لیے سرکار نے اعداد و شمار میں پھیر بدل کیا

اسکرول ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق، 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم پیدائش پر زیادہ کووڈ ٹیکہ کاری دکھانے کے لیے بہار سرکار نے 15 اور 16 ستمبر کے اعدادوشمار کو کو ون پورٹل پر اپ لوڈ نہیں کیا اور اسے 17 ستمبر والے اعدادوشمار میں جوڑا گیا۔

(فوٹو؛  شوم بسو)

کووڈ 19کے پھیلاؤ پر آئی سی ایم آر نے مودی حکومت کے ایجنڈے کے مطابق رپورٹ دیا: نیویارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق،انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے مودی سرکار کے ایجنڈے کےمدنظر کووڈ 19 کے خطرے کو کم دکھانے کے لیےسائنسدانوں پر دباؤ ڈالا۔ اخبار نے ایسے کئی شواہد پیش کیےہیں، جو دکھاتے ہیں کہ کونسل نے سائنس اور شواہد کےمقابلےحکومت کےسیاسی مقاصدکو ترجیح دی۔

نئی دہلی کا نظام الدین مرکز واقع علاقہ:(فوٹو: پی ٹی آئی)

نظام الدین مرکز کو نہ کھولنے کی دلیل دیتے ہوئے حکومت  نے کہا، سرحد پار تک ہو سکتا ہے اثر

پچھلے سال مارچ میں دہلی کا نظام الدین مرکز کو رونا ہاٹ اسپاٹ بن کر ابھرا تھا۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے کئی لوگوں کے کورونا وائرس سے متاثر پائے جانے کے بعد 31 مارچ 2020 سے ہی یہ بند ہے۔

5 ستمبر 2021 کو مظفر نگرمیں کسان مہاپنچایت کو خطاب  کرتے راکیش ٹکیت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مظفر نگر مہاپنچایت نے فرقہ واریت پر وہ چوٹ کی ہے، جس کی ملک کو ضرورت تھی

کسانوں کی تحریک کےغیرسیاسی ہونے کواس کی اضافی قوت کی صورت میں دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مسلم بھائی چارے کی یہ مہم سیاسی نفع نقصان سے وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ قابل اعتماد ہے اور زیادہ امیدیں جگاتی ہے۔

mukul

مظفر نگر مہا پنچایت کا اثر صرف اتر پردیش نہیں پورے ہندوستان  پر پڑے گا

ویڈیو: سنیکت کسان مورچہ نےمظفر نگر کی کسان مہاپنچایت سے ایک بار پھر اپنی تحریک کورفتار دینے کی کوشش کی۔اس مہاپنچایت میں کسانوں کا بڑا ہجوم دیکھ دیکھا گیا۔مغرب اور شمال کے کسان بڑی تعداد میں یہاں پہنچے۔ دی وائر نے مہا پنچایت میں شامل کسانوں سے بات کی۔

15 اپریل2021 کو سورت کے ایک شمشان میں کووڈ 19 سے جان گنوانے والوں کی لاشیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

گجرات: ڈیتھ رجسٹر کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ کووڈ موت کا سرکاری ڈیٹا 27 گنا کم ہے

صوبے کی170بلدیات میں سے 68 کے ڈیٹا کےتجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ 2020 اور اپریل2021 کے بیچ16892‘اضافی موتیں’ ہوئیں۔اگر پورے صوبے کے لیےاسی ڈیٹاکی توسیع کریں تو اس کا مطلب ہوگا کہ گجرات میں کووڈ سے ہوئی اصل موتوں کا ڈیٹا کم از کم 2.81 لاکھ ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

پہلی بار مرکز نے تسلیم کیا کہ آکسیجن کی کمی سے کورونا مریضوں کی موت ہوئی تھی

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ آندھر اپردیش کو چھوڑکر کسی بھی صوبے نے بالخصوص آکسیجن کی دستیابی کی کمی کی وجہ سےکووڈ 19مریضوں کی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔اس سے پہلے مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ کووڈ 19 مہاماری کی دوسری لہر کے دوران کسی بھی صوبے یا یونین ٹریٹری سے آکسیجن کے فقدان میں کسی بھی مریض کی موت کی خبر نہیں ملی ہے۔

2021-04-29T171818Z_1_LYNXMPEH3S16N_RTROPTP_4_HEALTH-CORONAVIRUS-INDIA-OXYGEN-1200x600

سی آئی سی نے آکسیجن سپلائی سےمتعلق کمیٹی کی جانکاری مانگی تو مرکز نے کہا-ایسی کوئی کمیٹی بنی ہی نہیں

سی آئی سی کے حکم کی تعمیل میں ایک خط میں سرکار کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے مدنظر آکسیجن کی خاطرخواہ دستیابی کو یقنیی بنانے کے لیے سکریٹری ،محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت(ڈی پی آئی آئی ٹی) کی سربراہی میں ایسی کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی تھی۔ اس پر آر ٹی آئی کے تحت جانکاری مانگنے والے کارکن نے کہا ہے کہ جب ایسی کوئی کمیٹی وجود میں ہی نہیں تھی تو پھر سرکار نے سی آئی سی کے سامنے اس کمیٹی کے ریکارڈ کو عوامی نہ کرنے کی لڑائی کیوں لڑی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

محرم کے پیش نظر یوپی پولیس کی جانب سے جاری سرکولر پر تنازعہ، کارروائی کا مطالبہ

کورونا وائرس کی وبا کے مدنظراتر پردیش کی یوگی سرکار کی جانب سےمحرم کے جلوس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ مجلس علماءہند کے جنرل سکریٹری اورمعروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے اتر پردیش ڈی جی پی مکل گوئل کی طرف سےتمام ضلع پولیس کو جاری سرکولرمیں کہی گئی باتوں پر سخت اعتراض کیااور کہا کہ پولیس انتظامیہ نے اس میں بےحد توہین آمیز لفظوں کا استعمال کرکے محرم اور شیعہ مسلمانوں کی امیج خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہریانہ کے مانیسر میں ایک پلانٹ کے باہر آکسیجن سلینڈر بھروانے کی قطار میں کھڑے مریضوں کے اہل خانہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اس سرکار کے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں …

گزشتہ 20 جولائی کومرکز کی نریندر مودی سرکار کی جانب سے راجیہ سبھا میں کہا گیا کہ کورونا وائرس انفیکشن کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی غیرمتوقع ڈیمانڈ کے باوجودکسی بھی صوبےیایونین ٹریٹری میں اس کے فقدان میں کسی کے مرنے کی اسے جانکاری نہیں ہے۔اس کے پاس اس بات کی جانکاری بھی نہیں ہے کہ دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے کسانوں میں سے اب تک کتنے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنی بیوی رنجیتا ایلنگبام کے ساتھ صحافی کشورچندر وانگ کھیم۔

منی پور: ’گوبر سے کووڈ کا علاج نہ ہونے کی بات‘ کہنے کی وجہ سے جیل میں ڈالے گئے صحافی رہا

منی پور کےصحافی کشورچندر وانگ کھیم نے بی جے پی صدرایس ٹکیندرسنگھ کی کووڈ 19 مہاماری سے موت کے بعد فیس بک پر ایک طنزیہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ گئوموتر(گائے کا پیشاب) اور گوبر کام نہیں آیا۔گزشتہ مئی مہینے میں گرفتاری کے فوراً بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی، لیکن انتظامیہ نے انہیں جیل میں ڈال کر این ایس اے لگا دیا تھا۔

2107 Mukul.00_08_46_01.Still001

ہمیں گنگا میں تیرتی لاشوں سے معافی مانگنی چاہیے: آر جے ڈی ایم پی منوج جھا

ویڈیو: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی )کےایم پی منوج جھا نے راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ کو ان لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے، جو کووڈ 19 کی دوسری لہر کے دوران مارے گئے، لیکن جن کی موت کو قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اموات نے ہماری ناکامی کا ایک زندہ دستاویز چھوڑ دیا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

ہریانہ میں کووڈ 19 سے ہوئی اموات کے سرکاری اعداد و شمار سے سات گنا زیادہ جانیں گئیں: رپورٹ

ہریانہ کے سول رجسٹریشن سسٹم کے ذریعےاپریل 2020 سے مئی2021 کے بیچ60397 اموات درج کی گئی ہیں، جو کورونا سے ہوئی اموات کے سرکارکی جانب سے فراہم کیے گئے سرکاری اعداد و شمار 8303 کے مقابلے 7.3 گنازیادہ ہے۔

صحافی کشورچندر وانگ کھیم اور کارکن ایریندرو لیچومبام۔

منی پور: ’گوبر سے کووڈ کا علاج نہ ہونے‘ کی بات کہنے والے کارکن اور صحافی دو مہینے سے جیل میں

منی پور بی جے پی کے صدرسیکھوم ٹکیندر سنگھ کی کورونا انفیکشن سے موت کے بعدصحافی کشورچندر وانگ کھیم اور کارکن ایریندرو لیچومبام نے اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعے سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا کہ کورونا کا علاج گائےکا پیشاب یاگوبر نہیں بلکہ سائنس ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی ٹی آئی)

کووڈ بحران: کیا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے ملک کی امیج خراب ہوتی ہے

کووڈمینجمنٹ کی تنقیدکومودی حکومت ملک کی امیج کوخراب کرنا بتا رہی ہے۔ حالانکہ ملک کی امیج تب بھی بگڑتی ہے، جب وزیر اعظم انتخابی تشہیر میں حریف خاتون وزیر اعلیٰ کو ‘دیدی او دیدی’ کہہ کر چھیڑتے ہیں۔ وہ تب بھی بگڑتی ہے، جب ان کے حامی قاتل ہجوم میں بدل جاتے ہیں یا ریپ کرنے والوں کے حق میں ترنگے لہراکر جلوس نکالتے ہیں۔

بھوپال کی ایل این سی ٹی یونیورسٹی کی جانب سے ان کے سوشل میڈیا پر ساجھا کیا گیا پوسٹر۔(بہ شکریہ: ٹوئٹر/@LNCTUniversity)

کیا آفات میں پبلسٹی اسٹنٹ کے لیے تعلیمی ادارے وزیر اعظم کو ’تھینک یو‘ بولیں

گزشتہ دنوں یوجی سی نے تمام یونیورسٹیوں، کالجوں اور تکنیکی اداروں کو 18سال سے زیادہ کی عمر والوں کے لیے مفت ٹیکہ کاری شروع کرنے کے لیےوزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوسٹرلگانے کوکہا ہے۔

کووی شیلڈ۔ (فوٹو: رائٹرس)

ہندوستان میں بنے کووی شیلڈ کو ’گرین پاس‘ کے لیے یورپی یونین سے اب تک نہیں ملی منظوری

برٹن اور یورپ میں بنے آکسفورڈ اسٹرازنیکا کی‘ویکس زیوریا’ کو یورپی ممالک میں منظوری مل گئی ہے، لیکن کووی شیلڈ کو گرین پاس کے لیےمنظوری نہیں دی گئی ہے،جبکہ آکسفورڈ اسٹرازنیکا نے ہندوستان میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ساتھ مل کر اپنی ویکسین کو کووی شیلڈ کا نام دیا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی ہندوستانیوں کو ان ممالک میں سفر کے دوران پریشانی آ رہی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کورونا وائرس کا ’ڈیلٹا‘ ویرینٹ سب سے زیادہ متعدی: ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او کےسربراہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا ہندوستان میں پہلی بار پایا گیا‘ڈیلٹا’ویرینٹ اب تک کی سب سے زیادہ متعدی صورت ہے۔ اب یہ ویرینٹ کم از کم 85ممالک میں پھیل رہا ہے ۔ غریب ممالک میں ٹیکے کی عدم دستیابی اس کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ امیرملک ترقی پذیر ممالک کو فوراً ٹیکہ نہیں دینا چاہتے۔

ہریانہ کے مانیسر میں ایک پلانٹ کے باہر آکسیجن سلینڈر بھروانے کی قطار میں کھڑے مریضوں کے اہل خانہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

آکسیجن بحران پر سپریم کورٹ کمیٹی کی مبینہ رپورٹ کو لےکر آمنے سامنے آئے بی جے پی اور عآپ

بی جے پی نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران سپریم کورٹ کے ذریعےبنی آکسیجن آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہلی سرکار نے ضرورت سے چار گنا زیادہ آکسیجن کی مانگ کی تھی۔وہیں عآپ سرکار کا کہنا ہے کہ بی جے پی جھوٹی رپورٹ پیش کر رہی ہے۔ اس نے اس کمیٹی کے ممبروں سے بات کی ہے،جنہوں نے اس طرح کی کسی رپورٹ کو منظوری نہ دینے کی بات کہی ہے۔

Don`t copy text!