گئو رکشا

راجستھان کے الور میں گئو تسکری کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیے  گئے اکبر خان۔ (فوٹو : جیوتی یادو / دی وائر)

کیا پولیس اکبر خان کے قتل کے ملزمین کو بچا رہی ہے؟

الور ماب لنچنگ معاملے میں پولیس کی طرف سے داخل ادھوری چارج شیٹ نہ صرف جیل میں بند ملزمین کے لئے قانونی طور پر مفید ہے، بلکہ اس سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ پولیس کا باقی ملزمین کو پکڑنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ماب لنچنگ کے خلاف قانون : کمیٹی نے راجناتھ سنگھ کی صدارت والے وزیروں کے گروپ کو رپورٹ سونپی

گزشتہ ایک سال میں 9ریاستوں میں تقریباً 40لوگوں کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار دیا ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اس پر قانون بنانے کی ہدایت دی تھی۔

Collage_muslim-Mob-Violence

کیا بیف کے بہانے آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار ماب لنچنگ کو جائز ٹھہرا رہےہیں؟

اندریش کماراور ان جیسوں کے رد عمل پر حیرت نہیں ہوتی لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر جھوٹ گڑھ رہے ہیں اور ان کے ارد گرد بیٹھے مدرسوں کے فارغین عالم فاضل لوگ خاموش ہیں تو حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی / السٹریشن : دی وائر

جس طرح گھوٹالے کانگریس کی پہچان  بنے تھے، بی جے پی ماب لنچنگ کے لئے جانی جائے‌گی

اقلیتوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات لگاتار بڑھ رہے ہیں، لیکن وہ شہری متوسط طبقہ، جو بد عنوانی کے مدعے پر سڑکوں پر اتر آیا تھا، وہ اس تشدد پر بے نیازتماشائی بنا ہوا ہے۔

اکبر خان (فوٹو : جیوتی یادو)

الور ماب لنچنگ : کیا تشدد روکنے کے نام پر سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے؟

الور قتل معاملے میں تو ایک نیا پینترا بھی سامنے آیا۔ وہ یہ کہ گاؤں والوں نے پولیس کو اور پولیس نے گاؤں والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ درحقیقت یہ پورا کھیل کیس کو قانونی طور پر کمزور کرنے کا ہے۔

Harishankar-Parsai-The-Wire-Hindi

دوسرے ممالک میں گائے دودھ کے لئے ہوتی ہے، ہمارے یہاں فساد کرنے کے لئے

عوام کہتی ہے ہماری مانگ ہے مہنگائی بند ہو، منافع خوری بند ہو، تنخواہ بڑھے، استحصال بند ہو، تب ہم اس سے کہتے ہیں کہ نہیں، تمہاری بنیادی مانگ گئورکشا ہے۔ یہ آندولن عوام کو الجھائے رکھنے کے لئے ہے۔

بستر پر نڈھال پڑی اکبر کی بیوی اسمینہ اور ان کے بغل میں بیٹھی اکبر کی ماں حبیبن /(فوٹو: دی وائر)

اکبر کے گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ: یقین و اعتماد کی ٹوٹتی سانسیں اور انصاف کی امید

اکبر خان اپنے گھر کے اکیلے کمانے والے تھے، اب ان کے 60 سال کے والد پر بیمار بہو، بزرگ بیوی، 7 پوتے پوتیوں اور 5 گایوں کی ذمہ داری ہے۔ بیٹے کی موت نے ان کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ وہ کسی پر یقین نہیں کر پا رہے ہیں۔ ہر ملنے آنے والے سے بس یہی پوچھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی جگہ ہے جہاں انصاف کی فریاد کی جا سکے۔

اکبر خان (فوٹو : جیوتی یادو)

اکبر کے گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ : ’میٹ ہی بیچنا ہوتا تو اکبر 60 ہزار کی گائے نہیں خریدتا ‘

اکبر کا نام ‘ رکبر ‘ نہیں، اکبر ہی ہے۔ جب وہ اپنا آدھار بنوانے گئے تھے، تو بنانے والا میواتی سمجھ نہیں پایا اور ان کا نام ‘ رکبر ‘ لکھ دیا۔ چچا زاد بھائی نے بتایا کہ اس کو آدھار میں نام ٹھیک کروانے کا کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ 7 بچّوں کا پیٹ پالنے والے آدمی نے سسٹم کا دیا نام قبول کر لیا۔

فوٹو: اے این آئی

لوگ بیف کھانا چھوڑ دیں تو رک سکتی ہے ماب لنچنگ :  آر ایس ایس رہنما

آر ایس ایس رہنما اندریش کمار نے رانچی میں سوموار کو ایک پروگرام میں کہا کہ’ماب لنچنگ کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا لیکن اگر لوگ بیف کھانا چھوڑ دیں تو ‘شیطانوں’کے ذریعے کیے جانے والے اس طرح کے جرائم کو روکا جا سکتاہے۔’

فوٹو: اے این آئی

راجستھان: الور میں گئو تسکری کے شک میں ایک شخص کی ماب لنچنگ

گزشتہ شب مبینہ طور پربھیڑ نے اکبر نام کے ایک آدمی کوگائے اسمگلنگ کے شک میں پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔پولیس جائے واردات پر پہنچ کر معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔سراغ کے لیے پولیس کھوجی کتوں کا بھی سہارا لے رہی ہے۔

Photo: Facebook

کیا ماب لنچنگ کے خلاف قانون بنانا مسئلے کا حل ہے ؟

ایڈوائزری میں دو دن قبل جاری عدالتی حکم کی جھلک بھی تھی۔مگر جو ہوشیاری حکومت نےکی تھی کہ اس میں گئو رکشکوں ذکر نہیں تھا۔سارا زور صرف بچہ چوری کی افواہوں پر تھا،حیرت ہےکہ سپریم کورٹ نے حکومت کی اس ہوشیاری کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جھارکھنڈ: گئو رکشا کے نام پر ہوئے قتل کے مجرموں کے جیل سے نکلنے پر خیر مقدم کرنے آئے مرکزی وزیر

رام گڑھ میں گزشتہ سال مبینہ طور پر گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں ہوئے علیم الدین انصاری کے قتل کے مجرم ٹھہرائے گئے 8 ملزموں کو گزشتہ ہفتے ضمانت ملی تھی۔ بدھ کو ان کے جیل سے نکلنے پر بی جے پی رکن پارلیامان اور مرکزی وزیر جینت سنہا نے ان کا خیر مقدم کیا۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

’سنگھ،وی ایچ پی جیسی تنظیموں کی وجہ سے ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں کی حالت خراب‘

امریکی حکومت کے ذریعے قائم کیے گئے ایک کمیشن نے عالمی مذہبی آزادی پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں جاری بھگواکرن مہم کے شکار مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور دلت ہندو ہیں۔