گجرات فسادات

Hate

گجرات 2002 کے ’کل‘اور’آج‘ سے روشناس کرواتی ہوئی ایک کتاب

فسادات نہ ہوئے ہوتے تو مودی اس ملک کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔ آخر فسادات کے دوران کچھ لوگوں نے ایک فرقے کے تئیں شدید بلکہ شدید ترین ’نفرت‘ کا اظہار کیوں کیا؟ اور کیا ’نفرت‘ میں اچانک ہی شدت آئی تھی یا بتدریج اور کیا اس میں کبھی کوئی کمی بھی آسکتی ہے؟ ریواتی لعل نے تین بنیادی کرداروں پر ساری توجہ مرکوز کرکے مذکورہ سوالوں کے جواب دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نرودا پاٹیا فساد معاملے میں مجرم بابو بجرنگی کو سپریم کورٹ نے دی ضمانت

سال 2002 میں گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے کے ایک دن بعد ریاست میں بھڑکے فسادات میں احمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقے میں 28 فروری، 2002 کو بھیڑ نے 97 لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔ اس حادثہ میں مارے گئے زیادہ تر لوگ اقلیتی کمیونٹی کے تھے۔ اس قتل معاملے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد سے بابو بجرنگی سابرمتی سینٹرل جیل میں بند تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نرودا پاٹیا فساد: 10 سال کی سزا پانے والے 4 مجرموں کو ملی ضمانت

سال 2002 میں گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے کے ایک دن بعد ریاست میں ہوئے فسادات میں احمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقے میں بھیڑ نے 97 لوگوں کا قتل کر دیا۔ مارے گئے زیادہ تر لوگ اقلیت کمیونٹی کے تھے۔

امت شاہ (فوٹو : رائٹرس) گجرات فسادات (فائل فوٹو : پی ٹی آئی) مایا کوڈنانی (فوٹو : پی ٹی آئی)

نرودا گام فسادات: ایس آئی ٹی نے کہا، کوڈنانی تقریباً10 منٹ  تک جائے  واردات پر موجود تھیں

گزشتہ 2 اگست کو ایس آئی ٹی نے مایا کوڈنانی کے حق میں دئے گئے بی جے پی صدر امت شاہ کے بیان کے مستند ہونے پر سوال اٹھایا تھا۔ 2002 میں نرودا گام میں ہوئے فسادات کے دوران مسلم کمیونٹی کے 11 لوگوں کا قتل کر دیا گیا تھا۔

GujaratFiles_Urdu

بک ریویو : رعنا ایوب کی کتاب گجرات فائلس

رعنا ایوب کئی برسوں تک  تہلکہ میگزین سے وابستہ رہیں ۔تہلکہ سے الگ ہونے کے بعدبطورآزادصحافی،انہوں نےاپنےکام کو جا ری رکھا۔حالاں کہ وہ اپنے اس پیشہ سے وابستگی کے باوجودرپورٹنگ کر سکتی،مضامین لکھ سکتی تھیں،ٹی وی میں اینکرنگ کرسکتی تھیں،لیکن انھوں نےگجرات کےفسادات اورفرضی انکاونٹرسےمتعلق تفتیش کی اور کئی […]