گودھرا

بی جے پی امیدوار متیش پٹیل ،فوٹو بہ شکریہ ،فیس بک

گجرات میں بی جے پی نے آنند سیٹ سے گودھرا کے بعد ہوئے فسادات کے ملزم کو بنایا امیدوار

گجرات کی آنند سیٹ سے بی جے پی امیدوار متیش پٹیل نے اپنے حلف نامے میں اقرار کیا ہے کہ وہ گودھرا کے بعد 2002 میں ہوئے فسادات سے جڑے معاملوں میں ملزم ہے ۔ ان پر فساد، پتھراؤ، چوری اور آگ زنی میں شامل ہونے سمیت کئی دوسرے الزام ہیں۔

پی آر پٹیل (فوٹو بہ شکریہ: انڈین ایکسپریس)

گودھرا معاملے میں سزا سنانے والے جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد گجرات حکومت میں ملا جوڈیشل افسر کا عہدہ

پی آر پٹیل جون 2017 میں ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ لیکن31 دسمبر، 2018 تک دو باران کی تقرری کی گئی ۔گزشتہ1 جنوری سے انہوں نے ریاستی حکومت کے محکمہ قانون میں اپنا نیا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

 نتن اور چیتن سندیسرا

اسٹرلنگ بایوٹیک اور سندیسرا بندھو: کاروبار نہیں کرپشن کا’گجرات ماڈل‘

کسی زمانے میں وڈودرا کی کاروباری کمیونٹی میں بات چیت کے مرکز میں رہے سندیسرا بندھو کو تقریباً5000 کروڑ روپے کا قرض کا ول فل ڈفالٹر مانا جا رہا ہے، ساتھ ہی ان کو حکومت کے ذریعے اقتصادی بھگوڑا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔حالیہ سی بی آئی تنازعہ میں ایجنسی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے اسٹرلنگ بایوٹیک کے مالکوں سے نزدیکی کی بات سامنے آئی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

اٹل بہاری واجپائی کی کوشش کارگر ہوئی ہوتی تو…!

لوگوں کا ماننا ہے کہ آگرہ سربراہ کانفرنس اور رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ حل کرنے میں اٹل بہاری واجپائی کو کامیابی ملی ہوتی تو ملک کی صورتِحال آج کچھ اور ہوتی۔ لیکن تاریخ میں اگر مگر کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے!

فائل فوٹو: رائٹرس

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق کو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔