ہندتوا

 (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: نماز جمعہ میں پھر سےخلل ڈالنے کی کوشش، مظاہرین  نے کھڑے کیے ٹرک

سنیکت ہندوسنگھرش سمیتی نےانتظامیہ کو ایک الٹی میٹم جاری کرکے کہا کہ وہ اگلے ہفتے سےشہر میں کسی بھی عوامی جگہ پر نماز کی اجازت نہیں دیں گے۔جمعہ کو گڑگاؤں کے سیکٹر37 میں مظاہرین کی طرف سے مسلسل نعرےبازی اور امن وامان میں خلل پڑنے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے 10 لوگوں کو حراست میں لیا اور بعد میں ایک کو گرفتار بھی کیا۔

گڑگاؤں میں نمازادا کرتے لوگ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: رائٹ ونگ گروپوں کی مخالفت کے بیچ نماز کے لیے اپنی جگہ دے گی گوردوارہ کمیٹی

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سے رائٹ ونگ گروپ کھلے میں نمازکی مخالفت کر رہے ہیں۔گوردوارہ کمیٹی ساتھ ہی اکشے یادو نام کے ایک دکان مالک نے بھی نماز کے لیے اپنی خالی جگہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

0511 Sumedha Pal Interview.00_14_36_09.Still001

اگر گڑگاؤں میں نماز ہوئی تو میں وہاں تلوار لےکر دکھائی دوں گا: ہندوتوا لیڈر

ویڈیو: گزشتہ پانچ نومبر کو بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے گڑگاؤں کے سیکٹر12اے میں اس جگہ پر گئووردھن پوجا کااہتمام کیا تھا، جہاں ہر جمعہ کو نماز ادا کی جاتی تھی۔ یہ کارکن پچھلے کچھ وقتوں سےیہاں نماز کی مخالفت کر رہے تھے۔ دی وائر نے دنیش بھارتی سے بات کی، جو گڑگاؤں میں نماز کو روکنے کےالزام میں کئی بار جیل جا چکے ہیں۔ دنیش بھارت ماتا واہنی کے رکن ہیں اور وشو ہندو پریشد سے بھی وابستہ ہیں۔

نرسنہانند اور کپل مشرا۔

گڑگاؤں: نماز کی جگہ  پر پوجا کے لیے ہندوتوا گروپ نے کپل مشرا اور نرسنہا نند کو مدعو کیا

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سےہندوتوا گروپ کھلے میں نماز کی مخالفت کر رہے ہیں۔انتطامیہ نے گزشتہ تین نومبرکو 37طے شدہ مقامات میں سے آٹھ پر نماز ادا کرنے کی منظوری کو منسوخ کر دیا ہے ۔ اس بیچ سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی نے سیکٹر12اے میں اس مقام پرگئووردھن پوجا کا اہتمام کیا ہے، جہاں پچھلے کچھ دنوں سے نماز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

0808 Daulat.00_33_13_20.Still001

آرٹیکل 370 ہٹانے سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی بڑھے گی: سابق راء چیف

ویڈیو: مودی حکومت کے جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے ریاست کو 2 یونین ٹریٹریز میں باٹنے کے فیصلے پر ہندوستانی خفیہ ایجنسی راء کے سابق چیف اے ایس دولت سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

Engineer-Rashid

کشمیر: رہنماؤں کو حراست میں لئے جانے کے درمیان ٹیرر فنڈنگ معاملے میں راشد انجینئر گرفتار

جموں و کشمیر کے سابق آزاد ایم ایل اے راشد انجینئر سے گزشتہ کچھ دنوں سے کشمیری علیحدگی پسندوں کے ذریعے لشکر طیبہ سرغنہ حافظ سعید سمیت پاکستان سے پیسے لےکر وادی میں کشیدگی پھیلانے سے متعلق پوچھ تاچھ کی جا رہی تھی۔

IrfanHabib_TheHindu

مؤرخ عرفان حبیب نے کہا؛ آر ایس ایس جموں و کشمیر میں مقامی مسلمانوں کو پریشان کرتا تھا، ان کی زمینیں چھین لیتا تھا

مؤرخ عرفان حبیب نے علی گڑھ میں کہا کہ ، اس وقت سنگھ پریوار نے کشمیر کے مسلمانوں پر حملے کرنے شروع کر دیے تھے۔ سنگھ کے ممبر مقامی مسلمانوں کو پریشان کرنے لگے تھے اور ان کی زمینیں چھین لیتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ سردار پٹیل پرمٹ سسٹم کے لیے راضی ہوئے تاکہ باہری لوگوں کو مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

مودی حکومت کی واپسی: مسلمان فکرمند ہیں، خوفزدہ نہیں…

ہمارے لبرل صحافی اور روشن خیال دانشوران فاشزم اورکمیونلزم کے خلاف اپنی لڑائی کو مسلمانوں کے کندھوں پر رکھ کر کیوں لڑنا چا ہتے ہیں؟ ڈر کو مسلمانوں کے ساتھ کیوں چپکا دینا چاہتے ہے؟ جہاں تک مسلمانوں کے ڈر جانے کا سوال ہے تو یہ محض ایک فیک نیوز ہے۔ متھ ہے۔ اور کچھ نہیں۔ مسلمان فکر مند ضرور ہیں، خوف زدہ با لکل نہیں۔تقسیم کے بعد جن مسلمانوں نے پاکستان کو ٹھکرا دیا کم از کم ان کے بارے میں تو ایسا ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

کیا اب مسلمان سیاسی پارٹیوں کی مجبوری نہیں ہیں؟

کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھولے سے بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔کانگریس نے تو انتخابی منشور کی رسم اجراء کی تقریب میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے قدآور لیڈروں کو بھی دوررکھا۔ بہار کی راشٹریہ جنتا دل ،جس کی پوری سیاست مسلمانوں اوریادو پر منحصر ہے اس نے بھی اپنے منشور میں ایک جگہ بھی مسلم لفظ نہیں لکھا۔

Bengal-Ram_Navami_Violence-PTI

ویڈیو: بنگال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی لمبی تاریخ ہے: نیلانجن مُکھوپادھیائے

ویڈیو:ان دنوں کے اس ایپی سوڈ میں سنیے بنگال میں حالیہ تشدد، ہندتوا کے ابھار ارو آر ایس ایس پر تازہ ترین کتاب (The RSS : Icons of the Indian Right) کے مصنف نیلانجن مُکھوپادھیائے کے ساتھ مہتاب عالم کی بات چیت۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

رام چندر گہا کا کالم : کیا ہندوستان ایک ہندو پاکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے؟

2019 میں بی جے پی کی مہم خصوصی طور پر ہندو اکثریت کے لیے ہے۔ پارٹی ان کے خوف اور عدم تحفظ کے احساسات کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ اسی لیے امت شاہ مسلمانوں کو ‘دیمک’ بتا چکے ہیں، آدتیہ ناتھ بجرنگ بلی کو علی کے بالمقابل کھڑا کر چکے ہیں اور مودی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ مغربی بنگال میں ہندو ‘جئے شری رام‘ کا نعرہ بھی بلند نہیں کر سکتے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

جئے شری رام کا نعرہ رام کی عظمت کا اقرار نہیں، غنڈہ گردی  کا اعلان ہے

لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ ان کی رام تحریک مذہبی نہیں تھی۔ وہ رام نام کے پس پردہ مسلمانوں سے نفرت والےسیاسی ہندو کو تیار کرنے کی تحریک تھی۔ جئے شری رام اسی گروپ کا ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اس نعرے کا رام سے اور رام کے احترام سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں۔ آپ جب جئے شری رام سنیں تو مان لیں کہ آپ کو جئے آر ایس ایس کہنے کی اور سننے کی عادت ڈالی جا رہی ہے۔

شریش تلپڑے، راکھی ساونت، جیکی شراف، سنی لیون اور کیلاش کھیر

کوبراپوسٹ کا انکشاف، پیسے لےکر سیاسی پارٹیوں کی آن لائن تشہیرکو راضی تھیں فلمی ہستیاں

کوبراپوسٹ کے اسٹنگ آپریشن میں انکشاف ہوا ہے کہ ابھجیت بھٹاچاریہ، کیلاش کھیر، جیکی شراف، وویک اوبیرائے، سونو سود، راکھی ساونت اورسنی لیون جیسے30 سے زیادہ فلمی ستارے سوشل میڈیا پوسٹ کے لئے دو لاکھ سے دو کروڑ روپے تک لینے کو تیار تھے۔

گزشتہ اکتوبر میں مدھیہ پردیش کی دتیا کے پیتامبرا پیٹھ میں پوجا کرتے کانگریس صدر راہل گاندھی، مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ اور کانگریس رکن پارلیامان جیوترادتیہ سندھیا (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اس ملک میں اب بحث صرف اچھے ہندو اور برے ہندو کے بیچ رہ گئی ہے؟

کانگریس نے سیکولرازم کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسا خیال جس میں اس پارٹی کی خاص خدمات تھیں، ہندوستان کو ہی نہیں، پوری دنیا کو، اب اس میں اتنا اعتماد نہیں رہ گیا ہے کہ انتخاب کے وقت اس کی بات بھی کی جا سکے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

بجرنگ دل پر اب تک پابندی کیوں نہیں؟

تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے: ہندو دھرم کی رکشا کے نام پر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور فریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا استعمال۔

منوہر لال کھٹر (فوٹو بشکریہ : فیس بک / منوہر لال کھٹر)

گڑگاؤں معاملہ : ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا،’پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن حال ہی میں کھلے میں نماز پڑھنے کے معاملے میں اضافہ ہوا ہے‘

ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن حال ہی میں کھلے میں نماز پڑھنے کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نماز اس کے طےشدہ مقام پر پڑھی جائے، نہ کہ عوامی مقامات پر۔

PTI

آر ایس ایس سربراہ کے بیان کے جواب میں شنکرآچاریہ نے کہا ، ہندوستان میں پیدا ہونے سے ہر آدمی ہندو نہیں ہوتا

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے حال میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان میں رہنے والا ہر آدمی ہندو ہے۔ نئی دہلی : دوارکا واقع شاردا پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی نے یہاں رامائن اور مہابھارت کی تعلیم کو نصاب میں شامل […]

BJP_PTI

گجرات الیکشن نتائج : ’ہندتوا کا مقابلہ ،سافٹ ہندتوا سے نہیں ہارڈ سیکولرازم سے ہی کیا جا سکتا ہے‘

گجرات اسمبلی الیکشن میں سوشل میڈیا پر لوگوں کے ردعمل : کوثر تسنیم نے لکھا ؛ اپوزیشن کی واپسی جمہوریت کو بچانے کے لیے ضروری ہے ۔ نئی دہلی :کانگریس رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے گجرات اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بارے میں کہا کہ اس الیکشن کا […]

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

کرنل پروہت کو ضمانت : دہشت گردی کے خلاف کاروائی اور حکومت کا دوہرا پیمانہ

دہشت گردی کی کاروائی میں دوہرا پیمانہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے جرم میں ملوث ہندو شدت پسند وں کو اکثربے قصور مانا جارہا ہے اور دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اکثریتی طبقہ سے متعلق لوگ قطعی اس طرح کی کاروائی انجام نہیں دےسکتے […]

Don`t copy text!