ہندو راشٹر

فائل فوٹو: رائٹرس

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق کو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔

فوٹو: دی وائر

جھارکھنڈ: افواہوں کی وجہ سے 7 لوگوں کی لنچنگ ہوئی، این سی آر بی رپورٹ میں کہا-کوئی معاملہ نہیں

ریاست میں گزشتہ تین سال میں گئوکشی، چوری، بچہ چوری اور افواہوں کی وجہ سے 21 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جنوری 2017 سے لےکر اب تک ریاست میں جادو-ٹونا کرنے کے شک کی بنیاد پر ہوئی ماب لنچنگ میں 90 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

فوٹو: دی وائر

این سی آر بی رپورٹ: وزارت داخلہ نے کہا، قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ  سے 25 زمروں میں اعداد و شمار جاری نہیں کیے

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی)کی رپورٹ میں ماب لنچنگ کے اعداد وشمار کو شامل نہیں کیے جانے پر صفائی دیتے ہوئے وزارت داخلہ نے کہا کہ ان اعداد وشمار کو اس لیے شامل نہیں کیا گیا،کیونکہ وہ قابل اعتماد نہیں تھے اور ان میں غلط اطلاعات کے شامل ہونے کا خطرہ تھا۔

موہن بھاگوت(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

موہن بھاگوت کی تقریر: کیا آر ایس ایس کا قد مودی-شاہ کے سامنے چھوٹا پڑگیا ہے؟

مانا جاتا ہے کہ جب بھی این ڈی اے اقتدار میں آتی ہے، اس کی ڈور آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ لیکن 2019 کی وجئے دشمی کی تقریرکے زیادہ تر حصے میں سنگھ چیف موہن بھاگوت کا مودی حکومت کے بچاؤ میں بولنا ان کے گھٹتے قدکی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ناگپور میں سنگھ ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئےموہن بھاگوت۔ (فوٹو :پی ٹی آئی)

آر ایس ایس چیف نے کہا؛لنچنگ ایک سازش ہے، ہندوستان کو بدنام کر نے کے لئے اس کا استعمال کیا جارہا ہے

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ سنگھ کا نام لےکر،ہندوؤں کا نام لےکر ایک سازش چل رہی ہے، یہ سب کو سمجھنا چاہیے۔ لنچنگ کبھی ہمارے ملک میں رہا نہیں، آج بھی نہیں ہے۔

Hindutva_Reuters-1

اگر یہ ہندو راشٹر نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

لبرل دانشور جماعت کے لئے ہندوستان بھلےہی اب تک ہندو راشٹر نہ بنا ہو، لیکن گلیوں میں گھومنے والے ہندتووادیوں کے لئے یہ ایک ہندو راشٹر ہے۔ اس کی علامت بھلے چھپی ہوئی ہوں، لیکن اس کے حمایتی اور متاثرین، دونوں ہی بہت واضح طور پر اس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

میگھالیہ ہائی کورٹ (فوٹو: وکی پیڈیا)

میگھالیہ ہائی کورٹ نے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنائے جانے والےاپنے متنازعہ فیصلے کو خارج کیا

10 دسمبر، 2018 کو دئے ایک فیصلے میں میگھالیہ ہائی کورٹ کے جسٹس سدیپ رنجن سین نے وزیر اعظم سے گزارش کی تھی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی، عیسائی، کھاسی، جینتیا اور گارو لوگوں کو بنا کسی سوال یا دستاویزوں کے شہریت دی جائے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ملک کو ہندو راشٹر بنائے جانے سے متعلق تبصرہ پر میگھالیہ ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ کا نوٹس

میگھالیہ ہائی کورٹ کے جسٹس ایس آر سین نے دسمبر 2018 کے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ بٹوارے کے بعد ہندوستان کو ہندوراشٹر بنایا جانا چاہیے تھا۔ اس تبصرے کو ہٹانے کو عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے سی جے آئی رنجن گگوئی کی بنچ نے ہائی کورٹ سے جواب مانگا ہے۔

میگھالیہ ہائی کورٹ۔  (فوٹو بشکریہ: وکیپیڈیا)

میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج نے اپنے ایک فیصلے میں کہا؛ ہندوستان کو ہندو راشٹر ہونا چاہیے تھا

میگھالیہ ہائی کورٹ نے وزیر اعظم سے گزارش کی ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، جین، بدھ ، پارسی، عیسائی، کھاسی، جینتیا اور گارو لوگوں کو بنا کسی سوال یا دستاویز کےشہریت دی جائے۔

Don`t copy text!