ہندو

HBB 5 Dec 2019.00_38_57_00.Still002

ایک تھی بابری مسجد …

ویڈیو: 6 دسمبر 2019 کو بابری مسجد انہدام کے 27 سال پورے ہونے جا رہے ہیں۔ایودھیا میں 27 سال پہلے اسی دن کار سیوکوں نے بابری مسجد کو گرا دیا تھا۔گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نےبابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعے پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ زمین پرمسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے۔ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا۔اسی مدعے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے سماجی کارکن ہرش مندر اور سینئر صحافی قربان علی سے بات چیت کی۔

اسدالدین اویسی ،فوٹو: پی ٹی آئی

میری لڑائی 5 ایکڑ کی نہیں، مسجد کی ہے؛ اسدالدین اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا کہ جب سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہتا ہے کہ 1949 میں مورتیاں رکھ دی گئیں۔6 دسمبر کو مسجد کا ڈھانچہ گرائے جانے کو وہ جرم قرار دیتا ہے۔ 1934 میں ہوئے فسادات کو جرم بتاتا ہے۔تو یہ جگہ ہندوؤں کو کیسے مل سکتی ہے؟

راجیو دھون(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

راجیو دھون اب بھی ہمارے وکیل، غلط فہمی کے لیے معافی مانگیں گے: جمیعۃ

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ایودھیا تنازعہ میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے منگل کوسوشل میڈیا پر لکھا تھا کہانہیں جمیعۃ چیف مولانا ارشد مدنی کے اشارے پر ان کے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے اس معاملے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

راجیو دھون(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

ایودھیا تنازعے میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون معاملے سے ہٹائے گئے

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کوجمیعۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی کے اشارے پر ان کے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے اس معاملے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کو ایسا کرنے کا حق ہے، لیکن اس کے لئے بتائی جا رہی وجہ بدنیتی سے بھری اور جھوٹی ہے۔ اب وہ اس معاملے میں دائر ریویو کی عرضی سے کسی طرح سے نہیں جڑے ہیں۔

AKI 2 December.00_15_31_08.Still002

مودی کی تنقید گناہ ہے؛ مودی کے وزراء کا راہل بجاج پر حملہ

ویڈیو: بجاج گروپ کے چیئر مین راہل بجاج نے ایک پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے کہا کہ جب یو پی اے حکومت اقتدار میں تھی،تو ہم کسی کی بھی تنقید کر سکتے تھے۔ اب ہم اگر آپ کی کھلے طور پر تنقید کریں تو اتنا یقین نہیں ہے کہ آپ اس کو پسند کریں گے۔اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریویو پٹیشن دائر

اترپردیش جمیعۃ علماء ہندکے صدر مولانا سید اشہد رشیدی کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ جبکہ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے گنبدوں کو نقصان پہنچانے اور اس کے گرانے کو اپنے علم میں لیا ، پھر بھی متنازعہ مقام اسی فریق کو سونپ دیا جس نے غیرقانونی کاموں کی بنیاد پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا۔

نرملا سیتارمن (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

راہل بجاج کے ’ڈر کا ماحول‘ والے بیان پر وزیر خزانہ نے کہا، ایسے خیالات کی تشہیر سے قومی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے

بجاج گروپ کے چیئر مین راہل بجاج نے اکانومکس ٹائمس کے ایک پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے کہا تھا کہ جب یو پی اے حکومت اقتدار میں تھی،تو ہم کسی کی بھی تنقید کر سکتے تھے۔ اب ہم اگر آپ کی کھلے طور پر تنقید کریں تو اتنا یقین نہیں ہے کہ آپ اس کو پسند کریں گے۔

فوٹو: دی وائر

پرگیہ ٹھاکر کو دہشت گرد بتانے پر بی جے پی کا ہنگامہ، راہل گاندھی کے خلاف تحریک استحقاق کا مطالبہ

مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو دیش بھکت کہنے پر بی جے پی رہنما اور ایم پی پر گیہ ٹھاکر کے خلاف مدھیہ پردیش کے کانگریس ایم ایل اے نے دھمکی دی ہے کہ ؛پر گیہ ٹھاکر کبھی ایم پی آئیں تو ان کا پتلا نہیں، بلکہ ان کو پورا جلا دیں گے۔

پرگیہ سنگھ ٹھاکر (فوٹو : پی ٹی آئی)

گاندھی کا احترام کرتی ہوں، میرے کسی تبصرے سے ٹھیس لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں: پر گیہ ٹھاکر

لوک سبھا میں ناتھورام گوڈسے کو ‘دیش بھکت’ کہنے پر ہوئے تنازعہ کے بعد بی جے پی ایم پی پر گیہ ٹھاکر نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط طرح سے پیش کیا گیا۔ اس بیان پر مدھیہ پردیش کانگریس کے کارکنوں نے ٹھاکر کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کروایا ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے  سریند رسنگھ ،فائل فوٹو: اے این آئی

مہاتما گاندھی کا قتل کرنے کی بھول ضرور ہوئی، لیکن گوڈسے دہشت گرد نہیں تھے: بی جے پی ایم ایل اے

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا گوڈسے راشٹر بھکت تھے، بی جے پی ایم ایل اےنے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے والادہشت گرد ہوتا ہے۔

 پرگیہ سنگھ ٹھاکر(فوٹو : پی ٹی آئی)

بی جے پی کا اصلی گناہ پرگیہ ٹھاکر کو ایم پی بنانا تھا…

بی جے پی کے لوگ چاہے جو دکھاوا کریں، لیکن پرگیہ ٹھاکر ہندوستان کے لئےشرمندگی کا سبب ہیں۔ وہ پارلیامنٹ اور اس کے دفاعی امورکی کمیٹی کے لئے باعث شرمندگی ہیں۔ اور یقینی طور پر وہ اپنے سیاسی آقاؤں کے لئے بھی شرمندگی کا باعث ہیں۔لیکن شاید ان کو اس لفظ کا مطلب نہیں پتہ۔

فوٹو: رائٹرس

متنازعہ ’دیش بھکت‘ بیان کے بعد پر گیہ ٹھاکر دفاعی امور کی پارلیامانی کمیٹی سے باہر

لوک سبھا میں پر گیہ ٹھاکر کے ذریعے ناتھورام گوڈسے کو دیش بھکت کہنے کوبی جے پی نے قابل مذمت بتاتے ہوئے ان کو دفاعی امور کی پارلیامانی کمیٹی سے باہرکئے جانے کی بات کہی۔ ساتھ ہی بتایا کہ انہیں اس سیشن میں پارٹی کی پارلیامنٹری اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

لوک سبھا میں پر گیہ ٹھاکر نے ناتھو رام گوڈسے کو پھر بتایا دیش بھکت

ایس پی جی ترمیم بل پر ہو رہی بحث میں ایم پی اے راجہ ناتھورام گوڈسے کے ایک بیان کاحوالہ دے رہے تھے، جب بھوپال سے بی جے پی رکن پارلیامان پر گیہ ٹھاکر نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ ایک دیش بھکت کی مثال نہیں دے سکتے۔

A photograph of the Babri Masjid from the early 1900s. Copyright: The British Library Board

تقریباً 100 مسلم شخصیات نے ایودھیا فیصلے میں ریویو پٹیشن کی مخالفت کی، کہا-اس سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا

فلم ،ادب اور صحافت سمیت مختلف شعبوں کی معروف مسلم شخصیات نے ایودھیا معاملے میں ریویو پٹیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو جاری رکھنے سے سنگھ پریوار کا ایجنڈہ پورا ہوگا ۔وہیں سنی وقف بورڈ نے کہا کہ – وہ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے۔

Vadodara

گجرات: سوسائٹی کی مخالفت کے بعد مکان مالک نے مسلم نوجوان کو مکان بیچنے سے کیا انکار

یہ معاملہ گجرات کے وڈودرا کے وسنا علاقے کا ہے۔ ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ کاحوالہ دےکر علاقے کے لوگوں نے مسلم نوجوان کو مکان بیچنے کی مخالفت کی تھی۔ اس ایکٹ کے تحت پڑوسیوں کے اتفاق کے بغیر ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں اور مسلم اکثریتی علاقے میں ہندوؤں کو جائیداد بیچنے کی ممانعت ہے۔

 فائل فوٹو :رائٹرس

بابری مسجد کومنہدم کرنے والوں کو ہیرو کیوں بنایا جا رہا ہے؟

ہندوستان میں بھی بابری مسجد گرانے والے لوگ شاید اس وقت اپنے آپ کو ونر محسوس کر رہے ہیں۔ ایک طرف 27 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بابری مسجدگرانے اور اس معاملے میں مسلمانوں کا قتل کرنے والے لوگوں کو اب تک کوئی سزا نہیں ہو سکی ہے اوردوسری طرف سپریم کورٹ کے ذریعہ انہی لوگوں کو بابری مسجد کی متنازعہ جگہ پر مندر بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان دونوں وجہوں سے ہندوستان میں بابری مسجد گرانے میں شامل تنظیموں اور اس سے جڑے لوگوں کا حوصلہ کافی بڑھا ہے اورنتیجتاً ہندو مہاسبھا جیسی ہندو نظریاتی تنظیم ان لوگوں کو ہیروبنا کر پیش کر رہی ہے۔

فوٹو : ویکی پدیا/رائٹرس

رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے سچ کو پیش کرتی ایک غیر معمولی کتاب

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

U26kCy3d

پرگیہ ٹھاکر کو دفاعی امور کی پارلیامانی کمیٹی میں شامل کرنے کے کیا معنی ہیں؟

ویڈیو: 2008 کے مالیگاؤں بم بلاسٹ کی ملزم اور بھوپال سے ایم پی پرگیہ ٹھاکرکو وزارت دفاع کی پارلیامانی صلاح کار کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔21 ممبروں والی کمیٹی کی صدارت وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کریں گے۔موجودہ وقت میں پرگیہ ضمانت پر باہر ہیں۔ دہشت گردی کے الزامات کی ملزم پرگیہ سنگھ ٹھاکرکو وزارت دفاع کی کمیٹی میں شامل کرنے کے کیا معنی ہیں، بتا رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن۔

 فوٹو : پی ٹی آئی

ایودھیا: مسجد کو گرا کر وہاں مندر بنانا امن کاراستہ نہیں ہے

اب جب ‘ قانون کے ہتھوڑے ‘سے مسجد کو گرایا جائے‌گا، اور اس کی تصویریں میڈیا چینلوں اور اخباروں میں پوری کمنٹری کے ساتھ نشر کریں‌گے، تب کیاہوگا؟ کئی چینل ہیں، جو اس کو ‘حملہ آوروں ‘ کی پوری تاریخ کے ساتھ پیش کریں ‌گے۔تب کیا اس کا جشن نہیں منے‌گا؟ کیا تب یہ سب وہاٹس ایپ پر نہیں چلے‌گا؟

پرگیہ سنگھ ٹھاکر(فوٹو : پی ٹی آئی)

مالیگاؤں بلاسٹ معاملے کی ملزم ایم پی پرگیہ ٹھاکر دفاعی امور کی پارلیامانی کمیٹی کی ممبر نامزد

لوک سبھا انتخابی تشہیر کے دوران مالیگاؤں بلاسٹ معاملے کی ملزم بی جے پی ایم پی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو دیش بھکت بتایا تھا۔ اس پر وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اس بیان کے لیے وہ پرگیہ ٹھاکر کو کبھی بھی من سے معاف نہیں کر پائیں گے۔

(فوٹو :اے پی/پی ٹی آئی)

ایودھیا فیصلہ: ریویو پیٹیشن داخل کرے گا مسلم پرسنل لاء بورڈ، ہندو مہاسبھا نے کہا-بورڈ کو اپیل کاحق نہیں

وہیں ہندو مہاسبھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں صرف مقدمے میں شامل فریق ہی ریویو پیٹیشن داخل کر سکتے ہیں۔ بورڈ اس معاملے میں پارٹی نہیں ہے، اس لیے اس کو عرضی داخل کرنے کاحق نہیں ہے۔

علامتی تصویر/پی ٹی آئی

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ جارحیت کے اچھے دنوں کی نشانی ہے؟

سپریم کورٹ نے بھی متنازعہ زمین رام للا کو دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ اس کافیصلہ نہ صرف 6 دسمبر، 1992 کی توڑپھوڑبلکہ 22-23 دسمبر، 1949 کی رات مسجدمیں مورتیاں رکھنے والوں کی بھی جیت ہوگی۔ ایسے میں عدالت کا ان دونوں کارناموں کوغیر-قانونی ماننے کا کیا حاصل ہے؟

 ایودھیا معاملے کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ  کی بنچ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی،جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑاور جسٹس ایس عبدالنذیرشامل تھے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ انصاف پر اکثریت کی جیت ہے

بابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعہ میں’امن اور ہم آہنگی’بنائےرکھنے کے لئے متنازعہ زمین کو نہ بانٹنے کا ججوں کا فیصلہ اکثریتی دباؤ سے متاثرلگتا ہے، جس میں مسلم فریقوں کے قانونی دعویٰ کو نظرانداز کر دیا گیا۔

AKI 14 November.00_18_40_17.Still002

ایودھیا فیصلہ: انصاف کے بنا امن ممکن نہیں

ویڈیو: گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے میں ان لوگوں کے حق میں فیصلہ دیا ، جو براہ راست بابری مسجد کو گرانے کے کلیدی ملزمین سے جڑے ہوئے ہیں یہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے ۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ ۔

بی جے پی ایم ایل اے  سریند رسنگھ ،فائل فوٹو: اے این آئی

بی جے پی ایم ایل اے نے کہا-ایودھیا پر فیصلہ سنانے والے ججوں کو دیا جائے بھارت رتن

بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ ایودھیا میں رام نہیں ہوں گے تو کیا عرب میں رام ہوں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ،فیصلہ دینے والے پانچوں جج ملک کے رتن ہیں، ان ججوں کو بھارت رتن ملنا چاہیے۔ نئی دہلی : اپنے متنازعہ […]

بی جے پی ایم ایل اے وید گپتا اپنے کیمپ میں آفس میں مٹھائی کھلاتے ہوئے۔

وزیر اعظم مودی کی اپیل کو درکنار کر تے ہوئے فیصلے کا ’جشن‘ منا رہے ہیں ایودھیا کے بھاجپائی

ایودھیا میں بی جے پی کے منتخب رکن پارلیامان، ایم ایل اے اور اہلکاروں نےسنیچر کو فیصلے کے دن دیپ جلائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ سوموار کو پارٹی ضلع صدردفتر پر رامائن کاپاٹھ کیا گیا ، جہاں رہنما اور کارکنان نے ایک دوسرے کو مبارکبادی۔وہیں منگل کو 1992 کی کارسیوا کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے رضاکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

1311 AKMC Master.00_11_44_10.Still001

’ایودھیا  کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے عدالت‘

ویڈیو: سپریم کورٹ کے متنازعہ زمین پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے ، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ہندوستان کی سیاست اور سما ج میں کیا تبدیلی آئے گی ۔ اس بارے میں اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں پروفیسر اپوروانند۔

A photograph of the Babri Masjid from the early 1900s. Copyright: The British Library Board

کیا اب بابری مسجد صرف تاریخ کے اوراق میں گم ہوکر رہ جائے گی؟

تقریباًایک ہزار صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلہ کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے میں کشمیری نوجوان افضل گرو کو دی گئی سزائے موت کے فرمان کو پڑھ رہا ہوں۔ جب لگ رہا تھا کہ شاید کورٹ اپنے ہی دلائل کی روشنی میں گرو کر بری کردے گی،تب فیصلے کا آخری پیراگراف پڑھتے ہوئے، جج نے فرمان صادر کیا کہ’اجتماعی ضمیر’ کو مطمئن کرنے کی خاطر، ملزم گرو کو سزائے موت دی جاتی ہے۔بالکل اسی طرح بابری مسجد سے متعلق فیصلہ میں بھی کورٹ نے ہندو فریقین کو مطمئن کردیا۔

فوٹو بہ شکریہ: India Rail Info

ایودھیا: مسلم مذہبی رہنماؤں اور مدعی کا مطالبہ-67 ایکڑ  زمین میں سے ہی دی جائے مسجد کی زمین

مسلم مذہبی رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ سرکار کے ذریعے لی گئی67 ایکڑ زمین میں سے زمین ملتی ہے تبھی قبول کیا جائےگا۔ مسلم کمیونٹی مسجد بنانے کے لیے اپنے پیسے سے زمین خرید سکتی ہے اور وہ اس کے لیےمرکزی حکومت پرمنحصر نہیں ہے۔ ادھر حکومت نے ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل کی کارروائی شروع کردی ہے۔

1111 Media Bol Master.00_32_56_42.Still006

میڈیا بول: سپریم کورٹ کا فیصلہ، انصاف اور میڈیا

ویڈیو: بابری مسجد -رام جنم بھومی زمینی تنازعہ پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کو 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق ملے گا ۔وہیں سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔اس مدعے پر سینئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے، سینئر صحافی صبا نقوی اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

فوٹو: رائٹرس

خصوصی تجزیہ: بابری-رام جنم بھومی تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تضادات سے پُر ہے

دی وائر کا خصوصی تجزیہ : اس معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے کہا کہ مسلم فریق یہ ثابت نہیں کر سکے ہیں کہ 1528 سے 1857 کے بیچ مسجد میں نماز پڑھی جاتی تھی اور اس پر ان کا خصوصی حق تھا۔ حالانکہ ہندوفریقین کے بھی یہ ثابت نہ کر پانے پر ان کو زمین کا مالکانہ حق دے دیا گیا ہے۔

Urmilesh.00_22_05_13.Still003

ایودھیا فیصلے پر سوال بھی کم نہیں !

ویڈیو: رام جنم بھومی ٹرسٹ کو ملےگا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مندر کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانا ہوگا ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائےگی۔اس مدعے پرسینئرصحافی ارملیش کا نظریہ۔

HBB 1011.00_27_10_17.Still001

ایودھیا فیصلے سے بدلے گی ہندوستان کی سیاست؟

ویڈیو: رام جنم بھومی ٹرسٹ کو ملےگا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مندر کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانا ہوگا ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائےگی۔اس مدعے پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور دی وائر کے ڈپٹی ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے دی وائر کی سنیئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

Don`t copy text!