یوگی حکومت

A video screengrab allegedly showing the remnants of rice and turmeric water_Twitter

اتر پردیش: مڈ ڈے میل میں بچوں کو ہلدی ملے پانی کے ساتھ چاول دینے کا الزام

یہ معاملہ سیتا پور کے بچپریاگاؤں کا ہے۔ سوشل میڈیا پر آئے ایک ویڈیو میں گاؤں کے پرائمری اسکول کے بچے ہلدی ملے پانی کے ساتھ چاول کھاتے نظر آ رہے ہیں۔ بیسک ایجوکیشن آفیسر کا کہنا ہےکہ ویڈیو کھانا ختم ہونے کے وقت کا ہے۔ بچوں کو سبزی چاول پروسے گئے تھے۔

AKI 26 September.00_11_35_15.Still002

یوگی حکومت میں مبینہ ریپ متاثرہ کو جیل، قتل کے ملزم کو ضمانت

ویڈیو: اتر پردیش کے بلند شہر میں مبینہ گئو کشی کے بعد ہوئے تشدد کے کلیدی ملزم کو ضمانت مل گئی ہے۔ دوسری طرف سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما چنمیانند پر ریپ کا الزام لگانے والی طالبہ کو رنگداری مانگنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان مدعوں پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

چنمیانند پر ریپ کا الزام لگانے والی طالبہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

چنمیانند پر ریپ کا الزام لگانے والی گرفتار طالبہ کی ضمانت عرضی خارج

بی جے پی رہنما اور سابق مرکزی وزیر چنمیانند پر جنسی استحصال کا الزام لگانے والی طالبہ کو بدھ کو اسپیشل جانچ ٹیم نے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے ان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا۔متاثرہ کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس کےپاس کوئی ثبوت نہیں ہے ، وہ صرف دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

اترپردیش: ریپ کے ملزم سابق بی جے پی ایم پی چنمیانندگرفتار

اتر پردیش کے شاہجہاں پورواقع سوامی شکدیوانند ودھی مہاودیالیہ کی لاء اسٹوڈنٹ نے سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما سوامی چنمیانند پراستحصال اور کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کرنے کاالزام لگایا ہے۔چنمیانند کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا ہے۔

چنمیانند، فوٹو: پی ٹی آئی

کانگریس کا الزام- چنمیانند کے ساتھ کھڑی ہے بی جے پی حکومت،معاملے پر خاموش کیوں ہیں وزیر اعظم

کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ ، چنمیانند کے پیچھے کون ہے؟ ان کی مدد کو ن کر رہا ہے؟ چنمیانند کی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ یہ حکومت کب تک خاموش رہے گی؟ 300 دنوں کا جشن منانے والی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت خاموش کیوں ہے؟ تتلی اڑانے والے وزیر اعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں؟

صحافی پون جیسوال

مرزاپور: صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر ڈی ایم نے کہا، پرنٹ صحافی ہوکر ویڈیو کیوں بنایا؟

مرزاپور کے ضلع مجسٹریٹ انوراگ پٹیل نے ایف آئی آر کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کسی اسٹوری کو کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر وہ پرنٹ صحافی ہیں تو ان کو تصویریں لینی چاہیے تھی، ویڈیو کیوں بنایا۔ اس لئے ہمیں لگتا ہے کہ وہ سازش میں شامل ہے۔

علامتی فوٹو: سلمان انصاری/ڈی این اے

اتر پردیش میں زہریلی شراب پینے سے کم سے کم 14 لوگوں کی موت، 39 بیمار

دریں اثنااس معاملے کے کلیدی ملزم پپو جیسوال کو پولیس نے ایک مڈبھیڑ کے دوران گرفتار کرلیا ہے ۔ رام نگر کے بھنڈ کے امرائی کنڈ کے پاس ایک مڈبھیڑ کے دوران اس کو گرفتار کیا گیا ۔ مڈبھیڑ میں پولیس نے ملزم کےپاؤں میں گولی بھی ماری اور اس کو زخمی حالت میں ضلع ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ے ۔ اس معاملے میں اب تک تین ملزموں کی گرفتاری ہوئی ہے۔

الٰہ آباد میں کمبھ میلے کے دوران غسل کرتے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

کمبھ میلے کے بعد جمع کچرے کو ہٹانے کے لئے فوراً قدم اٹھائے یوگی حکومت: این جی ٹی

این جی ٹی نے یہ ہدایت ایک رپورٹ کے حوالے سے دی، جس میں کہا گیا ہے کہ الٰہ آباد کے کچھ سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں اتنا آلودہ پانی جمع ہے کہ صرف 50 فیصد کا ہی تصفیہ ہو پا رہا ہے، باقی 50 فیصد آلودہ پانی بنا تصفیہ کے ہی گنگا میں چھوڑا جا رہا ہے۔

شنکراچاریہ سوروپ آنند سرسوتی(فوٹو : پی ٹی آئی)

رام مندر کے لئے ہندوؤں کو گولی کھانے کے لئے تیار رہنا چاہیے: شنکراچاریہ

شاردا پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی نے سہ روزہ’پرم دھرم سنسد’میں رام مندر کے سنگ بنیاد کے لئے 21 فروری کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انکورواٹ مندر کی طرح ایودھیا میں ایک عظیم الشان مندر بنے‌گا اور بعد میں اس کو ویٹکن سٹی کی طرح درجہ دیا جائے‌گا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

یو پی: مبینہ انکاؤنٹر معاملہ میں سپریم کورٹ شنوائی کے لیے تیار

پیپلس یونین فار سول لبرٹیز نے پی آئی ایل دائر کر کے مانگ کی ہے کہ اتر پردیش میں پولیس کے ذریعے کئے گئے انکاؤنٹر اور اس میں مارے گئے لوگوں کی سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کرائی جانی چاہیے۔ کورٹ نے یوگی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے ۔

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جمہوریت اور آئین بھی اقتدار کے سامنے بےمعنی ہو گیا ہے…

اے ڈی آر اور نیشنل الیکشن واچ کی رپورٹ مانیں تو جس پارلیامنٹ کو ملک کا قانون بنانے کا حق ہے، اسی کے اندر لوک سبھا میں 185 اور راجیہ سبھا میں 40 رکن پارلیامان داغدار ہیں۔ تو یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آخر کیسے وہ رہنما ملک میں بد عنوانی یا سیاست میں جرم کو لےکر غوروفکربھی کر سکتے ہیں جو خود داغدار ہیں۔