جواہر لال نہرو

استاد بسم اللہ خاں (فوٹو :یوٹیوب)

استاد بسم اللہ خاں موسیقی کی دنیا کے سنت کبیر تھے، جن کے لیے مندر مسجد اور ہندو مسلمان کا فرق مٹ گیا تھا

یوم پیدائش پر خاص:استاد بسم اللہ خاں ایسے بنارسی تھے جو گنگا میں وضو کر کے نماز پڑھتے تھے اور سرسوتی کو یاد کر کے شہنائی کی تان چھیڑتے تھے ۔اسلام کے ایسے پیروکار تھے جو اپنے مذہب میں موسیقی کے حرام ہونے کے سوال پر ہنس کر کہتے تھے ،کیا ہو اسلا م میں موسیقی کی ممانعت ہے ،قرآن کی شروعات تو’ بسم اللہ‘ سے ہی ہوتی ہے۔

کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کی وداعی  کے موقع  پر پارلیامنٹ میں اپنےخطاب  کے دوران جذباتی ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ :ویڈیوگریب/پی ایم او)

وزیر اعظم مودی نے اپنے آنسوؤں کو سیاست کی قلابازیوں میں کیوں بدل دیا ہے

نریندر مودی کواقتدارسنبھالے ساڑھے چھ سال ہو چکے ہیں اور اس دوران وہ لگ بھگ اتنی ہی بار رو چکے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی سیاست ہی طے کرتی ہے کہ ان کے آنسوؤں کو کب بہنا ہے اور کب سوکھ جانا ہے۔

جواہرلال نہرو،فوٹو بہ شکریہ: IISG/Flickr (CC BY-SA 2.0

کشمیر اور 370 سے لے کر تقسیم تک نہرو سے بی جے پی کی نفرت جھوٹ کی بنیاد پر ٹکی ہے

خصوصی تحریر: وزیر داخلہ امت شاہ نے اگست میں کی گئی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر نہرونہ ہوتے، تو پاک مقبوضہ کشمیر ہندوستان کے قبضے میں ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آج کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے تو یہ صرف نہرو کی وجہ سے ہی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

اگرویر ساوکر وزیر اعظم ہوتے تو پاکستان نہیں بنتا: ادھو ٹھاکرے

ٹھاکرے نے   کہا، مجھے   نہرو  کو ویر کہنے میں گریز نہیں ہوتااگر وہ ساورکر کی طرح  14 منٹ بھی جیل میں رہے ہوتے ،جبکہ ساورکر   14 سالوں  تک جیل میں رہے۔ نئی دہلی: شیو سینا چیف  ادھو ٹھاکرے نےاپنے ایک بیان میں  کہا کہ پاکستان نہیں  بنتا اگر  بٹوارے کے […]

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ہمارا بس چلے تو سیڈیشن کا ایسا قانون بنائیں‌ کہ لوگوں کی روح کانپ اٹھے: راجناتھ سنگھ

جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پر ریاست کے لئے الگ وزیر اعظم کی ان کی مانگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں ان رہنماؤں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ایسی مانگ جاری رکھتے ہیں، تو ہمارے پاس آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو رد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

فوٹو : پی ٹی آئی

رام چندر گہا کا کالم: دلائی لاماکوبھارت رتن سے سرفراز کیا جانا چاہیے

ہندوستان کی عوام نے دلائی لاما سے محبت کی اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا؛ بدلے میں یہی انہوں نے ہندوستانی عوام کو لوٹایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی حالیہ حکومتوں نے، چین کے خوف سے انہیں لے کر محتاط رویہ اپنایا۔ جبکہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔

nehru dilip

الیکشن کے قصے: جب دلیپ کمار نے نہرو کے وزیر دفاع کو ہارتا ہوا انتخاب جتایا

الیکشن کے قصے: 1980 کے انتخاب میں لیفٹ کے نعرے-چلے‌گا مزدور اڑے‌گی دھول، نہ بچے‌گا ہاتھ، نہ رہے‌گا پھول -کے جواب میں کانگریس نے -نہ ذات پر، نہ پات پر، اندرا جی کی بات پر، مہر لگے‌گی ہاتھ پر – کا نعرہ دیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: اب کی بار پچکاری سرکار ؟

نہرو چپ ہو گئے لیکن نریندرچپ نہیں رہیں‌گے۔ جو نہرو نہیں کر پائے، وہی تو نریندر کرتے ہیں۔ وہ جھولا جھلاتے ہیں تو چین کو جھلسا بھی دیں‌گے۔ مار پچکاری، مار پچکاری رنگ دیں‌گے۔ چین کا چہرہ بدل دیں‌گے۔ مسعود اظہر کا جو دوست ہے، وہ چین ہمارا دشمن ہے۔

فوٹو : سوشل میڈیا

آچاریہ کر پلانی کو ہمیں کیوں یاد کرنا چاہیے؟

1977 میں اندرا کی مخالفت میں کرپلانی نے یہ صاف کردیا تھا کہ اظہار رائےکی آزادی صرف دانشوروں کی ضرورت نہیں بلکہ غربا اور مظلوموں کی بھی اہم ضرورت ہے۔ وہ آمرانہ حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے آمادہ کرنےمیں بھی یقین رکھتےتھے۔

Sonia_FakeNews

کرناٹک انتخابات کے دعووں اور’آئی ٹی سیل‘ کا کھیل

فیک نیوز راؤنڈ اپ:بھگوا تنظیموں اور ان کے کارکنوں کا یہی ہتھکنڈہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفاد کے کے لئے ملک کی اکثریت یعنی ہندو عوام میں ایک طرح کا خوف پیدا کرتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ ہندو مذہب کو مسلمانوں اور دوسرے اقلیتوں سے خطرہ ہے۔

(فوٹو : رائٹرس / وکی پیڈیا)

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کوئی کانگریسی جیل میں انقلابیوں سے نہیں ملا، لیکن سچ یہ نہیں ہے

کرناٹک اسمبلی انتخاب کے لئے تشہیر کر رہے نریندر مودی کا کانگریس کے کسی رہنما کے بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت  سے جیل میں نہ ملنے کے بارے میں کیا گیا دعویٰ بالکل غلط ہے۔ نئی دہلی: 9 مئی کو کرناٹک اسمبلی انتخاب کے لئے تشہیر کر رہے […]