سیکشن 377

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ریپ کو جینڈر نیوٹرل کرائم بنانے کے لئے عرضی پر غورکرنے سے سپریم کورٹ کا انکار

عرضی میں کہا گیا تھا کہ دفعہ 376 صرف خواتین کو متاثرہ اور مردوں کو جرم کرنے والا مانتی ہے۔ اس میں خاتون کے ذریعے خاتون پررضامندی کے بغیر جنسی تشدد یا پھر مرد کے ذریعے دوسرے مرد یا پھر کسی ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے آدمی کے ذریعے دوسرے ایسے ہی آدمی پر یا کسی مرد کے ساتھ خاتون کے ذریعے کئے گئے جرم کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

section-377-1152x600

ہم جنسی کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند کیوں ہے؟

اس فیصلے سے ایک بات اور صاف ہوتی ہے وہ یہ کہ ایک شہری کیا کھاتا اور کیا پیتا ہے یا کیا کھا، پی، پہن اور پڑھ – لکھ سکتا یا نہیں یہ اس پر منحصر نہیں کرتا کہ ‘عوام’ یا ‘اکثریت’ اسے پسند کرتی ہے یا نہیں۔ کئ معنوں میں کورٹ کا یہ فیصلہ رائٹ ٹو پرائیویسی والے فیصلے کو آگے بڑھانے والے فیصلے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔