مختار عبّاس نقوی

(فوٹو: رائٹرس)

کورونا وائرس: حکومت کا فیصلہ، اس سال حج کے لیے سعودی عرب نہیں جائیں گے عازمین حج

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا کہ کورونا وائرس کےمدنظرسعودی عرب حکومت کے فیصلے کااحترام کرتے ہوئے اور لوگوں کی صحت اور سلامتی کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

فوٹو : عشق اردو

کیا حکومت این سی پی یو ایل کے بہانے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے؟

ذرائع نے بتایا کہ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کونسل کی منتقلی کے لئے گزشتہ سال پی ایم او کو خط لکھا تھا ، جس میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ کونسل اقلیتوں سے متعلق کام کررہی ہے اس لیے اس کو ان کی وزارت (اقلیتی امور)کے تحت لایا جانا چاہیے۔اس کے بعد کئی دانشور وں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ، اردو کو صرف مسلمانوں سے جوڑنا غلط ہےاور ہم اس طرح کی کسی بھی تبدیلی کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔

(فوٹو : پی آئی بی)

’جئے شری رام‘ گلا دباکر نہیں، گلے لگا کر بولا جا سکتا ہے: مختار عباس نقوی

جھارکھنڈ میں 24 سالہ نوجوان کا پیٹ-پیٹ‌کر قتل کئے جانے کے واقعہ کو’ گھناؤنا جرم ‘قرار دیتے ہوئے مودی حکومت میں وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ جو بھی لوگ اس میں شامل ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہو۔

PTI

کیا جھارکھنڈمیں حج کمیٹی کی تشکیل نو سنگھ اور بی جے پی کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے؟

گراؤنڈ رپورٹ : کمیٹی میں بی جے پی کے 7 اور سنگھ کے مسلم راشٹریہ منچ سے 3 لوگ شامل ہیں۔ساتھ ہی مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کا ممبر بنائے جانے پر بھی سوال کھڑا کیا جا رہا ہے۔

فوٹو : سوشل میڈیا

راشٹریہ شیعہ سماج (آر ایس ایس) 2019الیکشن میں دے گی بی جے پی کا ساتھ

اس خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نے کہا ہے کہ بکل نواب اور ان کے ساتھیوں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ان کی اپنی نجی رائے ہے ۔باقی شیعہ کمیونٹی نے 2019کے لوک سبھا انتخاب میں کسی پارٹی کو اپنی حمایت دینے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

علامتی تصویر/فوٹو ؛ مختار عباس نقوی

راہل کے جواب میں نقوی کریں گے تین طلاق متاثرین کے لیے افطار پارٹی

مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ؛ راہل گاندھی سیاسی مفاد کے لیے افطار پارٹی کر رہے ہیں جبکہ میں ضرورت مندلوگوں کے کر رہا ہوں ۔ہم ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کررہے ہیں ۔

Talaq_MWomen

’طلاق ثلاثہ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ‘

مسلم خاتون کارکنوں نے کہا، مجوزہ قانون میں طلاق ثلاثہ کے ساتھ نکاح، حلالہ اور ایک سے زیادہ شادی کا مسئلہ  بھی شامل ہو۔ تمام سیاسی جماعتیں مل‌کر مسلم خواتین کے مدعوں کو حل کریں۔ نئی دہلی : ایک بار میں تین طلاق (طلاق بدعت) کے خلاف بل […]