نہرو

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

رام چندر گہا کا کالم: سچی حب الوطنی کو دکھاوے کی ضرورت کیا ہے؟

راقم کی کام کاجی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے مرد و خواتین کے بارے میں لکھتے ہوئے گزرا، جنہوں نے اس ملک کی تعمیر کی۔ ایسے مرد و خواتین جنہیں اپنی خدمات کا مظاہرہ کرنے کے لیے کبھی ‘دیش بھکتی’ کا لبادہ اوڑھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔یہ ان کے کام تھے، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ہندوستان کے کیسے خدمت گزار سپوت تھے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے منہ سے کبھی کچھ نہیں کہا۔

اندرا گاندھی۔  (فوٹو بشکریہ : وکیمیڈیا کامنس)

کیا کانگریس والے 1978 کی تاریخ 2019 میں دوہرا سکتے ہیں؟

اگر 1977 ہندوستان کی پہلی غیرکانگریسی حکومت کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے ہندوستانی سیاست کا ایک بڑا پڑاؤ ہے تو 1978 کو اندرا گاندھی کو اس قوت ارادی اورسوچ کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے، جس کی بنا پر انہوں نے اپنی واپسی کی عبارت لکھی۔

سابق مرکزی وزیرششی تھرور(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

2019 میں بی جے پی جیتی تو ’ہندو پاکستان ‘بن جائے‌گا ہندوستان : تھرور

بی جے پی نے کانگریس رہنما اور سابق مرکزی وزیرششی تھرور پر بولا حملہ۔ تھرور نے کہا، اگر بی جے پی ہندو راشٹر کے نظریے میں اعتماد نہیں کرتی ہے تو ان کو یہ بات سب کے سامنے کہنی چاہیے کہ ہم ہندو راشٹر میں نہیں بلکہ سیکولرازم میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ بحث ختم ہو جائے‌گی۔

پی سی جوشی/  فوٹو : کارواں میگزین

یوم پیدائش پر خاص:  نہرو کے بعد ملک کے دوسرے مقبول رہنما پی سی جوشی کون تھے

پی سی جوشی کی فعال قیادت ہی تھی کہ پارٹی اپنی سیاسی سمجھ کو عوام کے درمیان لے جانے میں کامیاب رہی۔ انہوں نےفاشسٹ قدموں کی آہٹ اس وقت سن لی تھی جب ان کے ہی کمیونسٹ دوستوں کے علاوہ دوسرےمکتبہ فکر کے لوگ اس خطرہ کو بہت ہلکے میں لے رہے تھے۔