agrarian crisis

فوٹو: رائٹرس

مرکز نے طے شدہ ہدف کا صرف 50 فیصدی دال-تلہن خریدا، 9 ریاستوں میں بالکل بھی خریداری نہیں ہوئی

دی وائر کی جانب سےآرٹی آئی کے تحت حاصل کیے گئے دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی حکومت نے ربیع 2020خریداری سیزن میں20ریاستوں سے کل58.71 لاکھ ٹن دال اور تلہن خریدنے کا ہدف رکھا تھا، حالانکہ اس میں سے صرف 29.25 لاکھ ٹن پیداوار کی خریداری ہو پائی ہے۔

 (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

منریگا کو کانگریس کی ناکامیوں کی یادگار بتانے والے مودی اسی کے سہارے بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں

کو رونا بحران سے بڑھتی بےروزگاری میں منریگا ہی واحد سہارا رہ گیا ہے۔ لوگوں کو روزگار دینے کی صحیح پالیسی نہیں ہونے کی وجہ سے مودی سرکار کو اپنی مدت کار میں منریگا کا بجٹ لگ بھگ دوگنا کرنا پڑا ہے اور حال ہی میں اعلان کیےگئے اضافی 40000 کروڑ روپے کو جوڑ دیں تو یہ تقریباً تین گنا ہو جائےگا۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

بی جے پی مقتدرہ ریاستوں سمیت کئی ریاستوں نے کی تھی ایم ایس پی بڑھانے کی سفارش، مرکز نے ٹھکرایا

دی وائر کی خصوصی رپورٹ: آر ٹی آئی کے تحت حاصل کئے گئے دستاویز بتاتےہیں کہ مہاراشٹر، راجستھان، اتر پردیش سمیت کئی دیگر ریاستوں نے مرکز کے ذریعےطےشدہ ایم ایس پی پر اتفاق نہیں کیا تھا۔ ریاستوں نے اپنے یہاں کی پیداواری لاگت کے حساب سے امدادی قیمت طے کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن مرکز نے تمام تجاویز کوخارج کر دیا۔

Photo: Dominik Hundhammer/CC BY-SA 3.0

پی ایم کسان یوجنا: تقریباً 75 فیصد کسانوں کو تینوں قسط نہیں ملی

پی ایم کسان یوجنا کے تحت کسانوں کو ایک سال میں 2000 روپے کی تین قسطوں کے ذریعے کل 6000 روپے دینے تھے۔ حالانکہ آر ٹی آئی کے تحت حاصل کی گئی جانکاری سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً25 فیصد کسانوں کو ہی اس کا پورا فائدہ مل پایاہے۔

نرملا سیتارمن ، فوٹو: پی ٹی آئی

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا- ’میں ایسی فیملی سے آتی ہوں، جہاں پیاز سے مطلب نہیں رکھتے‘

لوک سبھا میں وزیرخزانہ نرملا سیتارمن پیاز کی کم پیداوار اور بڑھتی قیمتوں پر این سی پی ایم پی سپریا سلے کے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ اسی دوران ایک ایم پی نے انہیں بیچ میں ٹوکتے ہوئے پوچھا، ‘کیا آپ پیاز کھاتی ہیں؟’

 (علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

مرکزی حکومت کو کسان کی تعریف اور کسانوں  کی تعداد کے بارے میں واضح جانکاری نہیں

کسان کی تعداد کاپتہ نہیں ہونے اور اس کی صحیح تعریف نہیں طے کئے جانے کی وجہ سے مودی حکومت کی پی ایم-کسان جیسی اسکیموں پر کافی برا اثر پڑ رہاہے اور لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں مل پا رہا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

خودکشی کر نے والے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا اہتمام نہیں: حکومت

راجیہ سبھا میں وزیر زراعت پرشوتم روپالا نے کہا کہ سرکار کی جانب سے کسانوں کی معاشی حالت کو ٹھیک کرنے کے لیے کئی پروگرام عمل میں لائے جا رہے ہیں لیکن خودکشی کرنے والے کسانوں کو معاوضہ دینے کا اہتمام موجودہ وقت میں چلائی جا رہی کسی پالیسی میں نہیں ہے۔

علامتی تصویر ، فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی میں پیاز 80 روپے کیلو ، ایک ہفتے میں 45 فیصدی بڑھی قیمت

مہاراشٹر جیسی پیازپیدا کرنے والی ریاستوں میں شدید بارش کے بعداس کی فراہمی پر اثر پڑا ہے۔ سرکاری اعداد وشمارکے مطابق پیاز کی قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ نومبر 2018 میں خردہ بازار میں پیاز کی قیمت 30-35 روپے کیلو تھا۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

پی ایم کسان: 30 فیصد رقم خرچ نہیں ہو پا ئے‌گی کیونکہ مرکز کو کسانوں کی کل تعداد کا پتہ نہیں

وزارت زراعت نے شروع میں اندازہ لگایاتھا کہ پی ایم کسان یوجنا کے تحت کل 14.5 کروڑ کسان فیملی کو فائدہ مل سکتا ہے۔حالانکہ صحیح اعداد و شمار نہیں ہونے کی وجہ سے یہ تعداد گھٹ‌کر 10 کروڑ تک آنے کا امکان ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

پیاز 70 سے 80 روپے کیلو، اسٹاک کی حد طے کرنے پر غور کررہی ہے حکومت

وزارت برائے امور صارفین کے اعداد وشمارکے مطابق ،دہلی میں پچھلے ہفتے پیاز کی خردہ قیمت57روپے کیلورہی۔وہیں ممبئی میں یہ 56 روپے ،کولکاتہ میں 48 روپے اور چنئی میں 34 روپے کیلوتھی۔گروگرام اور جموں و کشمیر میں پیاز 60 روپیہ کیلو تک پہنچ گی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پی ایم کسان یوجنا کے تحت ہزاروں کسانوں کے اکاؤنٹ میں ڈالے گئے پیسے واپس لئے گئے

آر ٹی آئی کے تحت اسٹیٹ بینک آف انڈیا، بینک آف مہاراشٹر، یوکو بینک، سنڈکیٹ بینک، کینرا بینک جیسے نیشنلائزڈ بینکوں نے قبول کیا ہے کہ کسانوں کے اکاؤنٹ میں ڈالے گئے کروڑوں روپے واپس لے لئے گئے ہیں۔

mind the gap 2

ہندوستان سماجی تحفظ پرسری لنکا اور نیپال سے بھی کم خرچ کرتا ہے

یہ صورت حال اس وقت ہے جب ہندوستان کم از کم مزدوری کا قانون بنانے والا پہلا ترقی یافتہ ملک 1948 میں ہی بن گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان سماجی تحفظ پر چین،سری لنکا، تھائی لینڈیہاں تک کہ نیپال سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

وزیر اعظم کسان سمان ندھی سے ملے پیسے یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیج کرکسان نے مانگی مرنے کی اجازت

اتر پردیش کے آگرہ ضلع‎ کے کسان کا کہنا ہے کہ مجھ پر 35 لاکھ روپے کا قرض ہے اور اگر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ مدد نہیں کر سکتے تو کم سے کم مجھے مرنے کی اجازت تو دے ہی سکتے ہیں۔

 (علامتی فوٹو : رائٹرس)

آب وہوا کی تبدیلی سے کھیتی  پر برا اثرپڑ رہاہے، 23 فیصد تک کم ہو سکتی ہے گیہوں کی پیداوار

خاص رپورٹ : وزارت زراعت نے سینئر بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی کی صدارت والی پارلیامانی کمیٹی کو بتایا کہ اگر وقت رہتے مؤثر قدم نہیں اٹھائے گئے تو دھان، گیہوں، مکئی، جوار، سرسوں جیسی فصلوں پر آب وہوا کی تبدیلی کا کافی برا اثر پڑ سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی کوششوں کو ناکافی بتایا ہے۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

19 ہزار کلو آلو بیچنے پر ملے محض 490 روپے، ناراض کسان نے پورا پیسہ نریندر مودی کو بھیجا

اتر پردیش میں آگرہ کے کسان پردیپ شرما نے فصل بیما سے متعلق زراعت محکمہ میں بد عنوانی کا بھی الزام لگایا ہے۔ اس سے پہلے شرما نے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے عزت سے مرنے کی خواہش(Euthanasia)کی اجازت مانگی تھی۔

بینگلورو میں ایچ ڈی کمارسوامی کی حلف برداری کے دوران اسٹیج پر متحدہ ہوئے اپوزیشن کے رہنما (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟

اتر پردیش میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد میں نہ رہنا کانگریس کے لیے بھی سودمند رہے گا۔ اس سے اسے راجستھان، مدھیہ پردیش و چھتیس گڑھ میں ایس پی، بی ایس پی کے امیدواروں کا تصفیہ کرنے میں آسانی ہوگی، جہاں پارٹی کو بی جے پی سے سیدھے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہونے کی امید ہے۔

علامتی تصویر (فوٹو : رائٹرس)

مہاراشٹر: 500 کلو پیاز بیچنے پر ملے 216 روپے، کسان نے وزیراعلیٰ کو بھیجے

ناسک کی یولا تحصیل میں اگریکلچرل پروڈکشن مارکیٹ کمیٹی میں ایک کسان نے 545 کلوگرام پیاز 51 پیسے فی کلوگرام کی قیمت سے بیچی۔ کسان کا کہنا ہے کہ علاقے میں سوکھے جیسے حالات ہیں۔ اس آمدنی میں کیسے گھر چلاؤں، کیسے اپنا قرض چکاؤں۔

فوٹو: رائٹرس

مدھیہ پردیش: منڈی میں کوڑیوں کے بھاؤ لہسن-پیاز، فصل پھینکنے کو مجبور کسان

ریاست کی سب سے بڑی نیمچ منڈی میں پیاز 50 پیسے فی کلوگرام اور لہسن 2 روپے فی کلوگرام کی قیمت سے فروخت ہوا۔ منڈی کے سکریٹری کا کہنا ہے کہ کسان بہتر معیار کا مال لےکر منڈی آئیں‌گے تو بہتر قیمت ملے‌گی۔

Don`t copy text!