anti-national

جسٹس دیپک گپتا(فوٹو : وکی پیڈیا)

عدم اتفاق کا حق جمہوریت کے لیے ضروری ہے: جسٹس دیپک گپتا

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقد ‘ جمہوریت اور عدم اتفاق ‘کے موضوع پر ایک لیکچر دیتے ہوئے جسٹس دیپک گپتا نے کہا کہ اگر یہ بھی مان لیا جائےکہ اقتدار میں رہنے والے 50 فیصد سے زیادہ رائےدہندگان کی نمائندگی کرتے ہیں تب کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ باقی کی 49 فیصد آبادی کا ملک چلانے میں کوئی رول نہیں ہے؟

فوٹو: دی وائر

مدھیہ پردیش: مہاتما گاندھی کی باقیات کی چوری، پوسٹر پر لکھا ’راشٹر دروہی‘

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔واضح ہو کہ موت کے بعد مہاتما گاندھی کی باقیات کو ندی میں نہیں بہایا گیا تھا۔ ان کو الگ الگ حصوں میں بانٹ کر ملک میں بنے مختلف میوزیم میں رکھا گیا اس میں سے ایک ریو کا باپو بھون بھی ہے۔

لال کرشن اڈوانی(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

کیا اڈوانی نے موجودہ بی جے پی کا موازنہ ایمرجنسی والی کانگریس سے کیا ہے؟

بی جے پی کے بانی نے مخالفین کو اینٹی نیشنل کہنے پر اعتراض کیا ہے، جو مودی-شاہ کی حکمت عملی اور مہم کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایسا ہی کچھ لال کرشن اڈوانی نے 1970 کی دہائی کے وسط میں ایمرجنسی کے وقت جیل میں بند ہونے کے دوران بھی لکھا تھا۔

نرملا سیتارمن (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: نرملا جی کو کوئی یاد دلائے کہ وہ جے این یو کی نہیں، ملک کی وزیر دفاع ہیں

اگر وزیر دفاع کو یونیورسٹیوں میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو جیو اانسٹی ٹیوٹ پر ہی ایک پریس کانفرنس کر دیں۔ بہت سی یونیورسٹی میں استاد نہیں ہیں۔ جو عارضی استاد ہیں ان کی تنخواہ بہت کم ہیں۔ ان سب پر بھی پریس کانفرنس کریں۔

فوٹو : رائٹرس

یہ چپی میڈیا نہیں،پپی میڈیا ہے، جو حکومت کے پھینکےگئے ٹکڑوں پر پل رہا ہے

ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمیں بولنا پڑتا ہے۔ چپی توڑنی پڑتی ہے۔ ٹوکنا پڑتا ہے ان کو بھی جو جھوٹ بول رہے ہیں اور ساتھ دینا پڑتا ہے ان کا جو سچ بول رہے ہیں۔ اب وقت ہے ان کو ٹوکنے کا، جنہوں نے کروڑوں روپیوں میں ہمارا اعتماد بیچ دیا ہے۔ کوبراپوسٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے، یہ چپی میڈیا نہیں ہے ‘ پپی میڈیا ‘ ہے، جو حکومت کے پھینکے گئے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

ہر درد کی دوا—بھارت ماتا کی جے

انڈین نیشنل ازم:اگر آپ کو ڈر نہیں لگتا تو اس کا مطلب آپ ہوش میں نہیں ہیں…میں چاہتا ہوں کہ آپ ڈریں۔ جس دن ڈر سما جائے گا، آپ کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے۔ اور تب آپ بول اٹھیں گے۔ ہم سب بول اٹھیں گے۔

16 مارچ کو زی ہندوستان نے ' جیتا مسلمان…اب ارریہ آتنکستان 'کے نام سے ایک پروگرام نشر کیا تھا/فوٹو :زی ہندوستان /ویڈیو اسکرین شاٹ

فرقہ پرستی پھیلانے کے الزام میں زی ہندوستان کے خلاف شکایت درج

ارریہ ضمنی انتخاب کے بعد وائرل ہوئے مبینہ ‘ ملک مخالف ‘ ویڈیو کی صداقت کی وضاحت کے بغیر اس پر فرقہ پرستی بھڑکانے والا پروگرام کرنے کے الزام میں ایک سابق بیوروکریٹ نے زی گروپ کے ایک چینل کے خلاف News Broadcasting Standards Authority (این بی ایس اے)میں شکایت درج کروائی ہے۔

Photo : PTI

موجودہ حالات پر شتروگھن سنہا کا تبصرہ ؛’بولنا بھی ہے منع سچ بولنا تو درکنار‘

’بھارت کے راج نیتا، علی انور‘نامی کتاب کا رسم اجرا،شتروگھن سنہا نے کہا آج دھن شکتی جن شکتی پر بھاری پڑ رہا ہے۔ نئی دہلی:سابق وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیامنٹ شتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ آج ملک کے حالات ایسے ہیں کہ یا تو […]

Don`t copy text!