Atal Bihari Vajpayee

dharti-pakad-politician

انتخابات میں مقدر آزمانے والے آزاد امیدواروں کی دلچسپ کہانیاں

الیکشن کےقصے:دلچسپ بات یہ ہے کہ ان آزاد امیدواروں کا مقصد کسی بھی طرح انتخاب جیتنا نہیں ہے۔ باجوریا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ راشٹرپتی کے انتخاب سے لے کر مقامی سطح کے انتخابات تک میں 278 بارمقدر آزما چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر میں کاغذات نامکمل ہونے کی بنا پر وہ میدان سے باہر ہو گئے۔ انتخاب لڑنے کے ان کے شوق کا یہ عالم ہے کہ شورش زدہ کشمیر تک سے وہ خم ٹھوک چکے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں ضمانت ضبط کرانے کا نایاب تمغہ بھی انہیں کے پاس ہے۔

priyanka2222

ٹھیک ہی ہے پرینکا کے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ

اس لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کسی بھی طرح 100 سیٹیں لانے کی جدوجہد میں لگی ہے۔ یہ اس کے لیے کسی جنگ سے کم نہیں ہے۔ 100 سے کم سیٹیں آنا گاندھی خاندان کے ان تین فرد کی کمزوری ظاہر کرےگا، جو کانگریس کے لیے دل و جان سے تشہیر کر رہے ہیں۔

لال کرشن اڈوانی(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

کیا اڈوانی نے موجودہ بی جے پی کا موازنہ ایمرجنسی والی کانگریس سے کیا ہے؟

بی جے پی کے بانی نے مخالفین کو اینٹی نیشنل کہنے پر اعتراض کیا ہے، جو مودی-شاہ کی حکمت عملی اور مہم کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایسا ہی کچھ لال کرشن اڈوانی نے 1970 کی دہائی کے وسط میں ایمرجنسی کے وقت جیل میں بند ہونے کے دوران بھی لکھا تھا۔

(فوٹو : رائٹرس)

الیکشن کے قصے: جب متھرا سے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی

الیکشن کےقصے:1957 کے لوک سبھا انتخاب میں متھرا سے کانگریس اور جن سنگھ کے امیدواروں کو شکست دیتے ہوئے آزادانہ طورپر لڑے راجا مہیندر پرتاپ سنگھ نے جیت حاصل کی تھی ۔ اٹل بہاری واجپائی اتر پردیش میں لکھنؤ، بلرام پور اور متھرا سیٹ سے انتخاب لڑے تھے اور بلرام پور سے جیت‌کر لوک سبھا پہنچے تھے۔

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن /فوٹو : پی ٹی آئی

آر ایس ایس ہندوستان کے لئے مسئلہ بن سکتا ہے: رگھو رام راجن

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کا محدود عالمی نقطہ نظر ہندوستان کے لئے بحران پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ملک ہمارے معماروں نہرو، گاندھی کے خیالات اور آئین کی بنیاد پر کھڑا ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

رام چندر گہا کا کالم: دلائی لاماکوبھارت رتن سے سرفراز کیا جانا چاہیے

ہندوستان کی عوام نے دلائی لاما سے محبت کی اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا؛ بدلے میں یہی انہوں نے ہندوستانی عوام کو لوٹایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی حالیہ حکومتوں نے، چین کے خوف سے انہیں لے کر محتاط رویہ اپنایا۔ جبکہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔

گجرات کے گاندھی نگر میں ہوئی ایک میٹنگ میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مشرقی اتر پردیش میں کانگریس کے لئے کیا امکانات ہیں؟

مشرقی اتر پردیش میں شناخت کی سیاست سب سے زیادہ تلخ ہے۔ پٹیل، کرمی، راج بھر، چوہان، نشاد، کرمی- کشواہا وغیرہ کی اپنی پارٹیاں بن چکی ہیں اور ان کی اپنی کمیونٹی پر گرفت بےحد مضبوط ہے۔ کانگریس کو ان سب کے درمیان اپنے لئے کم سے کم 20 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوگا تبھی وہ یوپی میں باعزت مقام پا سکتی ہے۔

PriyankaGandhi-PTI

کیا پرینکا اکیلے مودی اور یوگی کو روک پائیں گی ؟

کانگریس کئی سروے کرا چکی ہےجس سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اکیلی پرینکا ہی کانگریس کی انتخابی مہم میں جان پھونکنے کے لیے کافی ہیں۔ان کی حاضر جوابی اور طنزیہ جملے کانگریس کو وہ جوش و جذبہ دیں گے، جس کی آج سخت ضرورت ہے۔ اندرا گاندھی سے ملتی جلتی ان کی شباہت، پارٹی کیڈر؛ خصوصاً نوجوانوں کو متاثر و متحرک کرنے کی صلاحیت ان کو ایک جداگانہ پہچان دیتی ہیں۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

مدرسوں کو بند کیے جانے سے متعلق رضوی کی تجویزکو  مرکزی حکومت نے ایم ایچ آر ڈی کو بھیجا

اتر پردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئر مین وسیم رضوی نے مدرسوں کو بند کیے جانے کی تجویز سے متعلق اپنے خط کو  حکومت ہند کے ذریعے منظور کیے جانے اور اس تجویز کو آگے کی کارروائی کے لیے  ایم ایچ آر ڈی کو بھیجنے پر خوشی […]

rk-dhawan_indiragandhi

کوری جذباتیت نہیں، حوصلے اور حکمت سے جیتی تھی اندرا نے 71 کی جنگ

پاکستان کو اس طرح کراری شکست سے دو چار کر دینے پر تب حزبِ اختلاف میں صفِ اول کے قائد اٹل بہاری واجپائی نے اندرا گاندھی کو ’ابھینو چنڈی دُرگا‘ کا لقب دیا۔ واجپائی کے ذریعہ دیے گئے اس لقب نے کانگریس کی وزیر اعظم کو ایک عظیم شخصیت کی شکل دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

پرینکا گاندھی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

پرینکا گاندھی کا کرشمہ بھی یوپی میں کانگریس کو ہار سے نہیں بچا سکتا

ہندوستانی سیاست میں کرشمائی قیادت نے کئی کرشمے دکھائے ہیں، لیکن کسی بھی دور میں کرشمہ کے مقابلے زمینی فارمولے اور کمیونٹیز کی صف بندیاں زیادہ مؤثر رہی ہیں۔ فی الحال کانگریس کم سے کم یوپی میں تو ان دونوں مورچوں پر پچھڑتی نظر آ رہی ہے۔

(اسمرتی اییرانی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی

مودی جس دن سنیاس  لیں‌ گے، میں بھی اسی دن سیاست چھوڑ دوں‌گی: اسمرتی ایرانی

میں خود کو کافی خوش قسمت مانتی ہوں کہ میں نے اٹل بہاری واجپائی جیسے کرشمائی رہنما کے ساتھ کام کیا ہے اور موجودہ وقت میں نریندر مودی کی قیادت میں کام کر رہی ہوں اور جس دن پردھان سیوک سنیاس لے لیں‌گے، میں بھی اسی دن سیاست کو الوداع کہہ دوں‌گی۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی۔ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا کی 67 ایکڑغیر متنازعہ زمین کو لےکر واجپائی نے کہا تھا؛ حکومت صورت حال کو بنائے رکھنے کے لیے پرعزم

مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ زمین کے آس پاس 67 ایکڑ غیر متنازعہ زمین ہے اس سے عدالت پہلے والی صورت حال کو ہٹالے اور یہ زمین اس کے مالکوں کو واپس کردے۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

اترپردیش: شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین کا دعویٰ،مدارس میں آئی ایس آئی ایس کے خیالات کو فروغ دیا جارہا ہے

وزیر اعظم کو لکھے اپنے خط میں رضوی نے کہا ہےکہ ،کوئی بھی مشن چلانے کے لیے بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس وقت آئی ایس آئی ایس ایک خطرناک دہشت گرد تنظیم ہے جو دھیرے دھیرے مسلم آبادی میں اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

چھتیس گڑھ : بی جے پی اٹل جی کی موت کو الیکشن کے لیے استعمال کر رہی ہے : اٹل جی کی بھتیجی

اٹل بہاری واجپائی کی بھتیجی اور کانگریس لیڈر کرونا شکلا نے کہا کہ اٹل کے آخری سفر میں 5کیلومیٹر چلنے کے بجائے اگر نریندر مودی ان کے دکھائے گئے راستے پر چلیں تو ملک کے لیے اچھا ہوگا۔

فوٹو : پی ٹی آئی

واجپائی :معتدل یا موقع پرست سیاستداں؟

اٹل بہاری واجپائی کے تئیں بہتر خراج عقیدت یہی ہوسکتا ہے کہ ہزاروں بے گناہ اور معصوم افرادکو مزیدآگ کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے سرحد کے دونوں طرف کے عوام کے لئے امن کی راہیں ہموار کی جائیں اور دیرینہ تنازعات کے لئے کوششوں کو تیز کیا جائے۔

فوٹو: رائٹرس

اٹل بہاری واجپائی کی کوشش کارگر ہوئی ہوتی تو…!

لوگوں کا ماننا ہے کہ آگرہ سربراہ کانفرنس اور رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ حل کرنے میں اٹل بہاری واجپائی کو کامیابی ملی ہوتی تو ملک کی صورتِحال آج کچھ اور ہوتی۔ لیکن تاریخ میں اگر مگر کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے!

فائل فوٹو: رائٹرس

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق کو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔

فوٹو : پی ٹی آئی

واجپائی کے بارے میں ایک ہی بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے؛ وہ ہمیشہ سنگھ کے وفادار رہے

نریندر مودی سے الگ وہ اپنے خلاف لکھنے والے یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ذریعے تعمیرکی گئی ان کی عالمی شناخت سے اتفاق نہ رکھنے والے صحافیوں کے متعلق بھی خاکساری اور نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

کرونا ندھی کے بعد تمل سیاست کا مستقبل

گزشتہ دو سالوں میں تمل ناڈو کے دو اہم سیاسی رہنماوں کا انتقال ہو چکا ہے- ان دنوں صوبہ کے ایک اور اہم سیاسی لیڈر وجے کانت بھی علیل ہیں۔ اس صورت حال میں اندیشہ ہے کہ ان کی پارٹیاں بکھر سکتی ہیں اور قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے لئے جگہ بن سکتی ہے۔

فوٹو : سوشل میڈیا

راشٹریہ شیعہ سماج (آر ایس ایس) 2019الیکشن میں دے گی بی جے پی کا ساتھ

اس خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نے کہا ہے کہ بکل نواب اور ان کے ساتھیوں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ان کی اپنی نجی رائے ہے ۔باقی شیعہ کمیونٹی نے 2019کے لوک سبھا انتخاب میں کسی پارٹی کو اپنی حمایت دینے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

rahul

ہے گودی میڈیا، ذرا گود سے اترو بھی…

راہل کو فلموں کے علاوہ نوٹنکی دیکھنی چاہیے۔ کیسے بولتے بولتے رویا جاتا ہے۔ کیسے چیخا جاتا ہے۔ کیسے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ نوٹنکی بہت کام کی چیز ہے۔ راہل گاندھی فلم دیکھنے چلے گئے۔ اگر یہ بھی بحث ومباحثے  کا موضوع ہے تو میری آپ سے درخواست […]