Attack on Muslims

امید پہلوان ادریسی۔ (فوٹو: فیس بک/Ummed Pahalwan Idrisi)

غازی آباد حملہ: متاثرہ بزرگ کے ساتھ فیس بک لائیو کرنے والے سماجوادی رہنما پر این ایس اے لگا

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں بزرگ مسلمان عبدالصمدسیفی نے غازی آباد کے لونی علاقے میں چار لوگوں پر انہیں مارنے، داڑھی کاٹنے اور ‘جئے شری رام’ بولنے کے لیے مجبور کرنے کا الزام لگایا تھا۔واقعہ کے بعد سماجوادی رہنما امید پہلوان ادریسی نے ان کے ساتھ فیس بک لائیو کیا تھا۔

(فوٹو: رائٹرس)

بزرگ مسلمان پر حملہ: غازی آباد پولیس نے ٹوئٹر انڈیا کے ایم ڈی کو بھیجا دوسرا نوٹس

غازی آباد پولیس نےسوموار دیر شام نوٹس جاری کر ٹوئٹر انڈیا کے ایم ڈی کو آگاہ کیا کہ اگر وہ 24 جون کو اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو اسے جانچ میں رکاوٹ کے مترادف مانا جائےگا اور قانونی کارروائی کی جائےگی۔

(فوٹو:  رائٹرس)

غازی آباد میں بزرگ مسلمان  پر حملے کے سلسلے میں ٹوئٹر انڈیا نے 50 ٹوئٹ پر روک لگائی

ٹوئٹرکی جانب سے یہ کارروائی یوپی پولیس کے ذریعےمبینہ طور پرفرقہ وارنہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف چل رہی جانچ کے مد نظر کی گئی ہے۔ غازی آباد کے لونی میں ایک بزرگ مسلمان کے ساتھ مارپیٹ، ان کی داڑھی کاٹنے اور انہیں‘جئے شری رام’بولنے کے لیے مجبور کرنے کے واقعہ سے متعلق ویڈیو/خبر ٹوئٹ کرنے کو لےکردی وائر اور ٹوئٹر کے ساتھ کئی صحافیوں اور رہنماؤں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔

امید پہلوان ادریسی۔ (فوٹو: فیس بک/Ummed Pahalwan Idrisi)

بزرگ مسلمان پر حملہ: متاثرہ  کے ساتھ فیس بک لائیو کرنے والے سماجوادی رہنما دہلی سے گرفتار

سماجوادی پارٹی کےرہنما امید پہلوان ادریسی نے مذہبی وجوہات سے حملے کا شکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے 72سالہ عبدالصمد سیفی کے ساتھ فیس بک لائیوکیا تھا۔الزام ہے کہ اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں چار نوجوانوں نے سیفی کو ‘جئے شری رام’کے نعرے لگانے کو مجبور کیا تھااور اس کی داڑھی کاٹنے کے ساتھ ان کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔

فوٹو: رائٹرس

بزرگ مسلمان  پر حملہ: یوپی پولیس نے ٹوئٹر کے ایم ڈی کو ایک ہفتے میں پیش ہونے کو کہا

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی میں گزشتہ پانچ جون کو ایک بزرگ مسلمان پرحملہ کرنے کےمعاملے میں پولیس نے ٹوئٹر انڈیا کےایم ڈی کو نوٹس بھیج کر جانچ میں شامل ہونے کے لیے کہا ہے۔ معاملے سے متعلق ویڈیو/خبر ٹوئٹ کرنے کو لےکر دی وائر اور ٹوئٹر سمیت کئی صحافیوں کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ اس بیچ عدالت نے بزرگ پر حملے کے ملزم9 لوگوں کو ضمانت دے دی ہے۔

علامتی تصویر، وکی میڈیا کامنس

میڈیا تنظیموں نے دی وائر اور صحافیوں کے خلاف یوپی پولیس کی ایف آئی آر کو ہراسانی بتایا

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی میں گزشتہ پانچ جون کو ایک بزرگ مسلمان پرحملہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔متاثرہ کاالزام تھا کہ حملہ آوروں نے ان کی داڑھی کاٹ دی تھی اور ان سے جبراً ‘جئے شری رام’ کا نعرہ لگانے کو کہا تھا۔اس معاملے سے متعلق ویڈیو/خبر ٹوئٹ کرنے کو لےکر دی وائر سمیت کئی صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

امید پہلوان ادریسی۔ (فوٹو: فیس بک/Ummed Pahalwan Idrisi)

متاثرہ مسلمان  کے ساتھ فیس بک لائیو کرنے والے سماجوادی پارٹی کے رہنما کے خلاف بھی ایف آئی آر درج

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں عبدالصمد سیفی نام کے ایک بزرگ مسلمان پر حملہ کرنے اور انہیں‘جئے شری رام’ کہنے پر مجبور کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس سلسلے میں دہلی کے تلک مارگ تھانے میں دی گئی ایک شکایت میں اداکارہ سورا بھاسکر، ٹوئٹر کے ایم ڈی منیش ماہیشوری، دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی، ٹوئٹر انک، ٹوئٹر انڈیا اور آصف خان کا نام شامل ہے۔

بلندشہر میں ببلو سیفی۔ (فوٹو: عصمت آرا/دی وائر)

متاثرہ مسلمان کے اہل خانہ نے معاملے میں یوپی پولیس کے ’فرقہ وارانہ زاویہ‘ نہ ہونے کے دعوے کو چیلنج کیا

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں عبدالصمد سیفی نام کے ایک بزرگ مسلمان پر حملہ کرنے اور انہیں ‘جئے شری رام’ کہنے پر مجبور کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ متاثرہ کے بیٹے کا کہنا ہے کہ والد نےتحریری شکایت میں ان کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کو بیان کیا ہے، لیکن پولیس نے جو ایف آئی آر لکھی ہے، اس میں اہم تفصیلات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

دی وائر اور دیگر کے خلاف یوپی پولیس کی ایف آئی آر انتقامی جذبے کو دکھاتی ہے: پریس کلب

دی وائر سمیت دیگر میڈیا اداروں نے اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں ایک بزرگ مسلمان پر حملہ کر انہیں ‘جئے شری رام’ کہنے پر مجبور کرنے کا الزام لگانے سے متعلق خبر شائع کی تھی۔ اس کو لےکر دی وائر اور دیگرتمام لوگوں کے خلاف یوپی پولیس نے کیس درج کر دیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

غازی آباد حملہ: آدھی رات کو ٹوئٹر، اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج

غازی آباد میں ایک بزرگ مسلمان کی بے رحمی سے پٹائی کے سلسلے میں ٹوئٹ کرنے کے معاملے میں منگل کی دیر رات کو آلٹ نیوز کے محمد زبیر،صحافی رعنا ایوب، دی وائر، کانگریس رہنما سلمان نظامی، مشکور عثمانی، شمع محمد، صبا نقوی، ٹوئٹر انک و ٹوئٹر کمیونی کیشن انڈیا پی وی ٹی کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔

متاثرہ بزرگ  مسلمان کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو کاا سکرین شاٹ۔ (فوٹو: ٹوئٹر/@unknwnn_girl)

یوپی: غازی آباد میں بزرگ مسلمان شخص پر حملہ، ’جئے شری رام‘ کہنے کے لیے مجبور کرنے کا الزام

اتر پردیش میں غازی آباد کے لونی میں یہ واقعہ گزشتہ پانچ جون کو رونماہوا۔ اس سے متعلق ویڈیو کچھ دن پہلے ہی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔ اس مبینہ ویڈیو جس میں بلندشہر کے رہنے والے عبدالصمدسیفی کو کم از کم دو ملزمین کے ذریعےپیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک سیفی کو مارتا ہے اور ان کی داڑھی کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مسلمانوں کو ولن دکھانے کے لیے ہندوتوا گروپوں کے بنائے متھ توڑنے ہوں گے: ایس وائی قریشی

ملک کےسابق چیف الیکشن کمشنرایس وائی قریشی نے اپنی نئی کتاب‘دی پاپولیشن متھ:اسلام، فیملی پلاننگ اینڈ پالیٹکس ان انڈیا’ میں کہا ہے کہ مسلمانوں نے آبادی کے معاملے میں ہندوؤں سے آگے نکلنے کے لیے کوئی سازش نہیں کی ہے اور ا ن کی تعداد ملک میں ہندوؤں کی تعداد کو کبھی چیلنج نہیں دے سکتی۔

آفتاب عالم۔ (فوٹو:  Special Arrangementt)

نوئیڈا: جئے شری رام نہ بولنے پر ڈرائیور کے قتل کا الزام، پولیس نے کہا-لوٹ کا معاملہ

واقعہ اتوارکو بادل پور تھانہ حلقہ میں ہوا۔الزام ہے کہ پیشہ سےکیب ڈرائیور آفتاب عالم ایک شخص کو بلندشہر چھوڑکر واپس آ رہے تھے، جب ان کی کیب میں سوار ہوئے کچھ لوگوں نے ان سے جبراً جئے شری رام بولنے کو کہا اور ایسا نہ کرنے پر ان کو ہلاک کر دیا۔

اسپتال میں بھرتی محمد اجرائیل۔

بہار: مسلم نوجوان کا الزام، جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر بےرحمی سے پیٹا گیا

مشرقی چمپارن ضلع کے مہسی تھانہ حلقہ کے ایک نوجوان محمد اجرائیل کا الزام ہے کہ دو جون کو پڑوس کے ایک گاؤں میں اپنے دوست سے ملنے جانے کے دوران ایک گروپ نے انہیں روک کر جئے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔ ایسا نہ کرنے پر گا لی گلوچ کرتے ہوئے بری طرح مارپیٹ کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور بجرنگ دل کے لوگ ہیں۔

تبریز انصاری (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

جھارکھنڈ لنچنگ: تبریز انصاری کے قتل معاملے کے سبھی  چھ ملزمین کو ضمانت

جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع‎ میں گزشتہ 18 جون کو چوری کے الزام میں تبریز انصاری نامی نو جوان کو بھیڑ نے ایک کھمبے سے باندھ‌کر بےرحمی سے کئی گھنٹوں تک پیٹا تھا، جس سے ان کی موت ہو گئی تھی۔

bokaro

جھارکھنڈ: چوری کے الزام میں بھیڑ نے دو نوجوانوں کو پیٹا، ایک کی موت

معاملہ بوکاروتھرمل تھانہ حلقہ کے گووندپور کالونی کا ہے،جہاں بیٹری چرانے کے الزام میں بھیڑ نے دو لوگوں کو باندھ کر پیٹا۔پولیس نے معاملے میں 5 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ نئی دہلی: جھارکھنڈ کے بوکارو تھرمل تھانے کی گووند پور کالونی میں بیٹری چوری کے الزام میں […]

فوٹو: دی وائر

جھارکھنڈ: افواہوں کی وجہ سے 7 لوگوں کی لنچنگ ہوئی، این سی آر بی رپورٹ میں کہا-کوئی معاملہ نہیں

ریاست میں گزشتہ تین سال میں گئوکشی، چوری، بچہ چوری اور افواہوں کی وجہ سے 21 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جنوری 2017 سے لےکر اب تک ریاست میں جادو-ٹونا کرنے کے شک کی بنیاد پر ہوئی ماب لنچنگ میں 90 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

جھارکھنڈ ماب لنچنگ: پولیس اور ڈاکٹروں کی لاپروائی سے ہوئی تھی تبریز کی موت

جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرسانواں ضلع میں تبریز انصاری کی چوری کے الزام میں بھیڑ نے بےرحمی سے پٹائی کی، جس کے کچھ روز بعد انصاری کی موت ہو گئی تھی۔ معاملے کی جانچ‌کر رہی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ پولیس نے مستعدی نہیں دکھائی جبکہ ڈاکٹر انصاری کی چوٹ کا پتہ نہیں لگا سکے۔

master class

اپوروانند کی ماسٹر کلاس: جئے شری رام کا نعرہ تشدد کا بہانہ ہے

ویڈیو: جھارکھنڈ میں کچھ دن پہلے چوری کے شک میں تبریز انصاری کو بھیڑ کے ذریعے پیٹا گیا، جس کے بعد ہاسپٹل میں ان کی موت ہوگئی۔ان سے مبینہ طور پر جبراً جئے شری رام اور جئے ہنومان کے نعرے بھی لگوائے گئے تھے۔اس واقعہ پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

حافظ محمد شاہ رخ

گراؤنڈ رپورٹ: ’انہوں نے مجھ سے زبردستی جئے شری رام کے نعرے لگوائے، یہ بات پولیس نے ایف آئی آر سے غائب کر دی ‘

گزشتہ ہفتے مغربی بنگال میں مبینہ طور پر ’ جئے شری رام ‘ نہ کہنے پرمدرسہ ٹیچر کو ٹرین سےدھکہ دے دیا گیا تھا۔ مدرسہ ٹیچر محمد شاہ رخ کا دعویٰ ہے کہ حملہ کرنے والے لوگوں اور ان کی تنظیم کے بارے میں پولیس کو بتانے کے باوجود کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مہاراشٹر: ٹھانے میں ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ مار پیٹ، جبراً ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگوائے گئے

یہ واقعہ مہاراشٹر کے ٹھانے میں 24 جون کو اس وقت ہوا، جب مسلم ٹیکسی ڈرائیور سواری کو لےکر لوٹ رہا تھا اور بیچ راستے میں اس کی ٹیکسی خراب ہو گئی۔معاملے میں 3 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

(فوٹو : پی آئی بی)

’جئے شری رام‘ گلا دباکر نہیں، گلے لگا کر بولا جا سکتا ہے: مختار عباس نقوی

جھارکھنڈ میں 24 سالہ نوجوان کا پیٹ-پیٹ‌کر قتل کئے جانے کے واقعہ کو’ گھناؤنا جرم ‘قرار دیتے ہوئے مودی حکومت میں وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ جو بھی لوگ اس میں شامل ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہو۔

AKI-24-June.00_40_43_00.Still002

نیو انڈیا کی وحشی بھیڑ: ایک اور مسلم نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل

ویڈیو: جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع میں ایک شخص کی لوگوں نے پیٹ پیٹ کر جان لے لی۔ الزام ہے کہ 18 جون کو ایک مسلم نوجوان کو بے رحمی سے کئی گھنٹوں تک ایک پول سے باندھ کر پیٹا گیا۔ اس سے جبراً جئے شری رام اور جئے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔ اسی موضوع پر تفصیل سے اظہا رخیال کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

Canning-West-Bengal

مغربی بنگال: مبینہ طور پر جئے شری رام نہ بولنے  پر مدرسہ ٹیچر کو  چلتی ٹرین سے پھینکا

مغربی بنگال کے ایک مدرسہ ٹیچر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 20 جون کو اس وقت ہوا جب وہ ٹرین سے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے ہگلی جا رہے تھے۔ الزام ہے کہ ٹرین میں کچھ لوگ جئے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے،انھوں نے ان کو بھی نعرے لگانے کو کہا،انکار کرنے پر مار پیٹ کی گئی اور ٹرین سے دھکہ دے دیا گیا۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

جھارکھنڈ : بھیڑ کے ذریعے مسلم نوجوان کے قتل معاملے میں 11 گرفتار، دو پولیس اہلکار معطل

جھارکھنڈ کے سرائےکیلا کھرساواں ضلع میں 17 جون کو چوری کے شک میں تبریز انصاری کی بےرحمی سے گھنٹوں پٹائی کی گئی، جس کے بعد انہوں نے ہاسپٹل میں دم توڑ دیا۔ ان سے جبراً ‘جئے شری رام ‘ اور ‘جئے ہنومان ‘ کے نعرے بھی لگوائے گئے تھے۔

Don`t copy text!