Ayodhya

سن 1870 میں اودھ گورنمنٹ پریس میں ایودھیافیض آباد کےاس وقت کے سیٹلمنٹ آفیسر پی کارنیگی کی رپورٹ ایودھیا میں مذہبی اہمیت  کےحامل مقامات کی فہرست میں‘جنم استھان’ پہلے نمبر پر درج ہے۔

ایودھیا: نئے رام مندر کے لیے تین سو سالہ قدیم اور تاریخی رام جنم استھان مندر کو منہدم کیا گیا

خصوصی رپورٹ : تین سو سال پرانا ‘جنم استھان مندر’1980 کی دہائی میں شروع ہوئی رام جنم بھومی تحریک سے پہلے رام کی پیدائش سے وابستہ تھا اور ایک مسلم زمیندارکی طرف سے عطیہ میں دی گئی زمین پر بنایا گیا تھا۔ یہ رام کے باہمی وجود والی اس ایودھیا کی علامت تھا، جس کا نام و نشان اب نظر نہیں آتا۔

رام جنم بھومی ٹرسٹ کے چیف مہنت نرتیہ گوپال داس کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹوبہ شکریہ: پی آئی بی)

رام جنم بھومی ٹرسٹ کے چیف کورونا پازیٹو، وزیر اعظم کے ساتھ شیئر کیا تھا منچ

اتر پردیش سرکارکی جانب سے بتایا گیا ہےکہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نےکورونامتاثر پائے گئے رام جنم بھومی ٹرسٹ کے چیف مہنت نرتیہ گوپال داس کے صحت کی جانکاری لی اور میدانتااسپتال سےفوراً طبی امداد فراہم کرانے کی گزارش کی ہے۔

بھومی پوجن کے دن ایودھیا میں جمع لوگ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

’مندروں کی تعمیر سے ترقی ہوا کرتی تو ایودھیا میں کب کا ’رام راجیہ‘ آ چکا ہوتا‘

گزشتہ پانچ اگست کوایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ہوئے بھومی پوجن اورشہر کی ترقی کے دعووں کے بیچ ایودھیاکے لوگ صرف ویسا نہیں سوچ رہے ہیں جیسا اکثرذرائع ابلاغ کی جانب سے بتایا جا رہا ہے۔

0508 Apoorvanand'.00_19_21_01.Still008

کیا رام مندر کا سنگ بنیاد ’ہندو راشٹر‘ کا یوم تاسیس ہے؟

ویڈیو: ایودھیا میں رام مندر کے بھومی پوجن تقریب میں وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ برسوں سے ٹاٹ اور ٹینٹ کے نیچے رہ رہے ہمارے رام للا کے لیے اب ایک عظیم الشان مندر کی تعمیر ہوگی۔ ٹوٹنا اور پھر اٹھ کھڑا ہونا، صدیوں سے جاری رکاوٹ سے رام جنم بھومی کو آج آزادی مل گئی۔اسی مدعے پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

ایودھیا میں رام مندر بھومی پوجن تقریب  میں وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹو: پی ٹی آئی)

رام مندر بھومی پوجن: نریندر مودی بو لے-صدیوں کا انتظار آج ختم ہوا

ایودھیا میں رام مندر کے بھومی پوجن تقریب میں وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ برسوں سے ٹاٹ اور ٹینٹ کے نیچے رہ رہے ہمارے رام للا کے لیے اب ایک عظیم الشان مندر کی تعمیر ہوگی۔ ٹوٹنا اور پھر اٹھ کھڑا ہونا، صدیوں سے جاری رکاوٹ سے رام جنم بھومی کو آج آزادی مل گئی۔

WhatsApp Image 2020-07-28 at 20.36.26 (1)

میڈیا بول: ملک کورونا سے بےحال، ٹی وی پر ایودھیا اور رافیل!

ویڈیو: کووڈ 19کےدورمیں ملک کی عوام بےحال ہے، لیکن میڈیا کاایک بڑا حصہ، بالخصوص ٹی وی چینلوں کے لیے ان دنوں بڑے مسئلے ہیں ایودھیا میں رام مندر کا بھومی پوجن، رافیل کاہندوستان آنا، سرحدی کشیدگی یا ایک اداکار کی خودکشی سے جڑے معاملے۔ اس بارے میں سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ

بابری مسجد انہدام معاملے کو لےکرجمعرات  کو اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں بی جے پی کی سینئررہنما اوما بھارتی پیش ہوئیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بابری مسجد انہدام: سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئیں اوما بھارتی، خود کو بتایا بے قصور

خصوصی سی بی آئی عدالت 6 دسمبر، 1992 کوایودھیا میں بابری مسجد انہدام معاملے میں 32 ملزمین کے بیان درج کر رہی ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی رہنما اورسابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، اتر پردیش کےسابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ اورسابق مرکزی وزیرمرلی منوہر جوشی کا بیان درج ہونا ابھی باقی ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

’حکومتیں احتجاج کو دبانے کے لیے اقتدار کا استعمال کر رہی ہیں‘

وزیر اعظم کے گود لیے گئے گاؤں سےمتعلق ایک رپورٹ پرصحافی سپریہ شرما کے خلاف وارانسی میں کیس درج کیا گیا ہے۔میڈیااداروں کا کہنا ہے کہ حکام کے ذریعےقوانین کے اس طرح سے غلط استعمال کا بڑھتاہوارجحان ہندوستان کی جمہوریت کے ایک اہم ستون کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

صحافی سپریہ شرما۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

مودی کے گود لیے گاؤں پر رپورٹ کر نے کی وجہ سے صحافی سپریہ شرما کے خلاف مقدمہ

نیوزپورٹل‘اسکرال ڈاٹ ان’کی ایگزیکٹو ایڈیٹر سپریہ شرما اور ایڈیٹران چیف کے خلاف ایس سی/ایس ٹی(انسداد مظالم)ایکٹ 1989 اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت اتر پردیش پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔

 (فوٹو: اےپی/پی ٹی آئی)

بابری انہدام معاملہ: 32 میں سے چار ملزمین  نے اسپیشل سی بی آئی عدالت میں بیان درج کرائے

بابری مسجد انہدام معاملے میں اپنا بیان درج کرانے کے لیے رام ولاس ویدانتی، سینئر بی جے پی رہنما ونئے کٹیار، سنتوش دوبے اور وجئے بہادر سنگھ جمعرات کو لکھنؤ کی اسپیشل سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔

(فوٹو: رائٹرس)

انکم ٹیکس  چھوٹ کے دائرے میں آئے گا رام مندر ٹرسٹ میں دیا گیا چندہ

ایک نوٹیفیکیشن میں سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس نے ‘شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر’ کو انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت ‘تاریخی اہمیت کا حامل اوراہم عوامی عبادت گاہ کے طورپرنوٹیفائیڈکیا ہےاور ٹرسٹ میں چندہ دینے والوں کو 50 فیصدی کی حد تک کٹوتی فراہم کی ہے۔

ڈی ڈبلیو فریڈم آف اسپیچ ایوارڈ سے سرفراز ہونے والےصحافی ایلینا میلاشینا، سدھارتھ وردراجن، شین کوئشی اور نرکان بایسال۔

’دی وائر‘ کے سدھارتھ وردراجن سمیت دنیا کے 17صحافیوں کو ملا ڈی ڈبلیو فریڈم آف اسپیچ ایوارڈ

سال2015 سے ڈوئچے ویلے کی جانب سےیہ سالانہ اعزازصحافت کے شعبہ میں انسانی حقوق اور بولنے کی آزادی کے لیے کام کرنے کے لیے دیا جاتا رہا ہے۔ اس بار یہ ایوارڈ دنیا بھر کے ان صحافیوں کو دیا جا رہا ہے، جنہوں نے کو رونابحران کے دوران ان کے ملکوں میں اقتدارکے استحصال اور کارروائی کا سامنا کیا ہے۔

فوٹو: د ی وائر

ماہر قانون اور قلمکاروں سمیت 3500 لوگوں نے ’دی وائر‘ اور اس کے مدیر  کے خلاف درج کیس کی مذمت کی

اتر پردیش کی فیض آباد پولیس کے ذریعے درج ایک ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘دی وائر’ کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن نے اتر پردیش کےوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں ‘قابل اعتراض ’ تبصرہ کیا تھا۔

ایودھیا کے کلکٹر (دائیں)، پجاریوں اور دیگر لوگوں کےساتھ وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ(فوٹو : پی ٹی آئی)

ملک گیر لاک ڈاؤن کے بیچ یوپی پولیس نے ’دی وائر‘ کے بانی مدیر کو ایودھیا طلب کیا

سی آر پی سی کی دفعہ41 (اے)کے تحت بھیجے گئے نوٹس میں فیض آباد پولیس کے ذریعے درج ایک ایف آئی آر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘دی وائر’ کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں ‘قابل اعتراض ’ تبصرہ کیا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کوئی بھی جمہوریت میڈیا کا منھ بند کر کے عالمی وبا سے نہیں لڑ رہی ہے: ایڈیٹرس گلڈ

اس ہفتے کی شروعات میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ میڈیا کو رونا وائرس سے متعلق کوئی بھی جانکاری چھاپنے یا دکھانے سے پہلے سرکار سے اس کی تصدیق کرائے۔ اس کے بعد عدالت نے میڈیا کو ہدایت دی کہ وہ خبریں چلانے سے پہلے اس معاملے پر سرکاری بیان لے۔

ایودھیا(فوٹو بہ شکریہ : ٹورزم آف انڈیا)

ایودھیا: سنی وقف بورڈ نے قبول کی 5 ایکڑ زمین، کہا-مسجد کے ساتھ ہاسپٹل بھی بنے‌ گا

اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ نے ریاستی حکومت کے ذریعے ایودھیا میں دی گئی زمین کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہند -اسلامی تہذیب کے مطالعے کے لئے ایک سینٹر، ایک چیرٹیبل ہاسپٹل، پبلک لائبریری اور سماج کے ہر طبقے کی افادیت کی دیگر سہولیات کا انتظام بھی کیا جائے‌گا۔

شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترکےممبر بدھ کو نئی دہلی میں پہلی میٹنگ کرتے ہوئے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

رام مندر ٹرسٹ کی قیادت کریں‌ گے بابری معاملے کے ملزم، اویسی بو لے-مسجد توڑنے والے کو ملا انعام

اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ، ایک شخص جو بابری مسجد گرائے جانے کا ملزم ہے، اس کو حکومت نے رام مندر بنانے کاذمہ دیا ہے۔ یہ نیاہندوستان ہے جہاں پرمجرمانہ کاموں کوانعام دیا جاتا ہے۔

اوما بھارتی(فوٹو : پی ٹی آئی)

اگربابری مسجد کا ڈھانچہ نہیں ہٹایا جاتا، تو سچائی لوگوں کے سامنے نہیں آتی: اوما بھارتی

ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے ٹرسٹ کے اعلان کے بعد بی جے پی کی سینئر رہنما اوما بھارتی نے کہا کہ 9 نومبر 2019 کے فیصلے کا سہرا سپریم کورٹ کو جاتا ہے، لیکن جن شواہد نے اصل میں اس فیصلے کی بنیاد کو بنایا، وہ ایودھیا میں 6 دسمبر، 1992 کو اپنی جان گنوانے والوں کے نتائج تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں کیا رام مندر ٹرسٹ کا اعلان

وزیر اعظم نریندر مودی کے ایوان میں اعلان کرنے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا کہ ٹرسٹ میں 15 ٹرسٹی ہوں‌گے، جن میں سے ایک ہمیشہ دلت ہوگا۔وہیں، اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سنی وقف بورڈ کو ایودھیا سے22 کلومیٹر دور روناہی میں زمین دینے کی تجویز کو منظوری دی ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ : وکی پیڈیا)

ایودھیا میں مسلمانوں کو دوسری زمین ملی تو دہشت گردوں کی حمایتی کہلائے گی کورٹ اور حکومت: سوامی نشچلانند

سوامی نشچلانند سرسوتی نے کہا، ‘مسلمانوں کو اگر تاریخ میں اپنا نام دہشت گردوں کو پالنے والوں کے طور پردرج نہیں کرانا ہے تو وہ اعلان کریں کہ وہ ایک دہشت گردکے نام پر ایک انچ بھی زمین نہیں لیں گے۔’

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/ویڈیو گریب

کرناٹک: اسکول میں بابری انہدام کو ڈرامائی صور ت میں دکھانے پر سنگھ رہنما سمیت پانچ لوگوں پر معاملہ درج

معاملہ جنوبی کنڑ ضلع کا ہے، جہاں آر ایس ایس رہنما کے ایک اسکول کی سالانہ تقریب میں بچوں نے بابری مسجد کے انہدام کو ایک ڈرامے کی صورت میں پیش کیا تھا۔ پدوچیری کی لیفٹنٹ گورنر کرن بیدی بھی اس پروگرام کا حصہ تھیں، جس کے لیے سی پی آئی (ایم)نے ان کے استعفیٰ کی مانگ کی ہے۔

HBB 5 Dec 2019.00_38_57_00.Still002

ایک تھی بابری مسجد …

ویڈیو: 6 دسمبر 2019 کو بابری مسجد انہدام کے 27 سال پورے ہونے جا رہے ہیں۔ایودھیا میں 27 سال پہلے اسی دن کار سیوکوں نے بابری مسجد کو گرا دیا تھا۔گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نےبابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعے پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ زمین پرمسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے۔ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا۔اسی مدعے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے سماجی کارکن ہرش مندر اور سینئر صحافی قربان علی سے بات چیت کی۔

اسدالدین اویسی ،فوٹو: پی ٹی آئی

میری لڑائی 5 ایکڑ کی نہیں، مسجد کی ہے؛ اسدالدین اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا کہ جب سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہتا ہے کہ 1949 میں مورتیاں رکھ دی گئیں۔6 دسمبر کو مسجد کا ڈھانچہ گرائے جانے کو وہ جرم قرار دیتا ہے۔ 1934 میں ہوئے فسادات کو جرم بتاتا ہے۔تو یہ جگہ ہندوؤں کو کیسے مل سکتی ہے؟

راجیو دھون(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

راجیو دھون اب بھی ہمارے وکیل، غلط فہمی کے لیے معافی مانگیں گے: جمیعۃ

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ایودھیا تنازعہ میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے منگل کوسوشل میڈیا پر لکھا تھا کہانہیں جمیعۃ چیف مولانا ارشد مدنی کے اشارے پر ان کے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے اس معاملے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

راجیو دھون(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

ایودھیا تنازعے میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون معاملے سے ہٹائے گئے

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کوجمیعۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی کے اشارے پر ان کے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے اس معاملے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کو ایسا کرنے کا حق ہے، لیکن اس کے لئے بتائی جا رہی وجہ بدنیتی سے بھری اور جھوٹی ہے۔ اب وہ اس معاملے میں دائر ریویو کی عرضی سے کسی طرح سے نہیں جڑے ہیں۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریویو پٹیشن دائر

اترپردیش جمیعۃ علماء ہندکے صدر مولانا سید اشہد رشیدی کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ جبکہ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے گنبدوں کو نقصان پہنچانے اور اس کے گرانے کو اپنے علم میں لیا ، پھر بھی متنازعہ مقام اسی فریق کو سونپ دیا جس نے غیرقانونی کاموں کی بنیاد پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا۔

A photograph of the Babri Masjid from the early 1900s. Copyright: The British Library Board

تقریباً 100 مسلم شخصیات نے ایودھیا فیصلے میں ریویو پٹیشن کی مخالفت کی، کہا-اس سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا

فلم ،ادب اور صحافت سمیت مختلف شعبوں کی معروف مسلم شخصیات نے ایودھیا معاملے میں ریویو پٹیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو جاری رکھنے سے سنگھ پریوار کا ایجنڈہ پورا ہوگا ۔وہیں سنی وقف بورڈ نے کہا کہ – وہ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے۔

 فائل فوٹو :رائٹرس

بابری مسجد کومنہدم کرنے والوں کو ہیرو کیوں بنایا جا رہا ہے؟

ہندوستان میں بھی بابری مسجد گرانے والے لوگ شاید اس وقت اپنے آپ کو ونر محسوس کر رہے ہیں۔ ایک طرف 27 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بابری مسجدگرانے اور اس معاملے میں مسلمانوں کا قتل کرنے والے لوگوں کو اب تک کوئی سزا نہیں ہو سکی ہے اوردوسری طرف سپریم کورٹ کے ذریعہ انہی لوگوں کو بابری مسجد کی متنازعہ جگہ پر مندر بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان دونوں وجہوں سے ہندوستان میں بابری مسجد گرانے میں شامل تنظیموں اور اس سے جڑے لوگوں کا حوصلہ کافی بڑھا ہے اورنتیجتاً ہندو مہاسبھا جیسی ہندو نظریاتی تنظیم ان لوگوں کو ہیروبنا کر پیش کر رہی ہے۔

فوٹو : ویکی پدیا/رائٹرس

رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے سچ کو پیش کرتی ایک غیر معمولی کتاب

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

 فوٹو : پی ٹی آئی

ایودھیا: مسجد کو گرا کر وہاں مندر بنانا امن کاراستہ نہیں ہے

اب جب ‘ قانون کے ہتھوڑے ‘سے مسجد کو گرایا جائے‌گا، اور اس کی تصویریں میڈیا چینلوں اور اخباروں میں پوری کمنٹری کے ساتھ نشر کریں‌گے، تب کیاہوگا؟ کئی چینل ہیں، جو اس کو ‘حملہ آوروں ‘ کی پوری تاریخ کے ساتھ پیش کریں ‌گے۔تب کیا اس کا جشن نہیں منے‌گا؟ کیا تب یہ سب وہاٹس ایپ پر نہیں چلے‌گا؟

(فوٹو :اے پی/پی ٹی آئی)

ایودھیا فیصلہ: ریویو پیٹیشن داخل کرے گا مسلم پرسنل لاء بورڈ، ہندو مہاسبھا نے کہا-بورڈ کو اپیل کاحق نہیں

وہیں ہندو مہاسبھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں صرف مقدمے میں شامل فریق ہی ریویو پیٹیشن داخل کر سکتے ہیں۔ بورڈ اس معاملے میں پارٹی نہیں ہے، اس لیے اس کو عرضی داخل کرنے کاحق نہیں ہے۔

علامتی تصویر/پی ٹی آئی

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ جارحیت کے اچھے دنوں کی نشانی ہے؟

سپریم کورٹ نے بھی متنازعہ زمین رام للا کو دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ اس کافیصلہ نہ صرف 6 دسمبر، 1992 کی توڑپھوڑبلکہ 22-23 دسمبر، 1949 کی رات مسجدمیں مورتیاں رکھنے والوں کی بھی جیت ہوگی۔ ایسے میں عدالت کا ان دونوں کارناموں کوغیر-قانونی ماننے کا کیا حاصل ہے؟

 ایودھیا معاملے کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ  کی بنچ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی،جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑاور جسٹس ایس عبدالنذیرشامل تھے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ انصاف پر اکثریت کی جیت ہے

بابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعہ میں’امن اور ہم آہنگی’بنائےرکھنے کے لئے متنازعہ زمین کو نہ بانٹنے کا ججوں کا فیصلہ اکثریتی دباؤ سے متاثرلگتا ہے، جس میں مسلم فریقوں کے قانونی دعویٰ کو نظرانداز کر دیا گیا۔

Don`t copy text!