B. R. Ambedkar

وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی) 

عام انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے ساتھ ہی ’فرقہ وارانہ ایمرجنسی‘ کا آغاز ہوچکا تھا

2014 کے پہلے تک’سیاسی اکثریت’اور’فرقہ وارانہ اکثریت’کے بیچ کی کھائی رسمی طور پر بنی رہی۔زمین پر جو بھی حالات رہے ہوں لیکن انتخاب غلط فہمی پیدا کرنے والے ایک مکھوٹا کے طور پر کام کرتا رہا۔لیکن مرکز میں بی جے پی کے آنے کے بعد یہ مکھوٹا بھی اتر گیا۔

gaandhi

فلم ریویو: ہم نے گاندھی کو مار دیا …

سنیما:اس سوچ کو قبول کرنے کا مطلب ہے گاندھی اور جناح  کے نام پر ساورکر کو’ ویر‘ کہنا ۔بھلے آپ نے اس کو ہندو شدت پسند اور مسلم شدت پسند کہہ دیا ہے ۔لیکن اس شدت پسندی میں جہاں بہت سی باتوں کوسادہ بلکہ Generalizeکرنے کی کوشش کی […]