beaten to death

(فوٹو: پی ٹی آئی)

پنجاب: ماب لنچنگ کے وحشیانہ واقعات کو جائز کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے

سکھوں کی مذہبی علامتوں کی مبینہ بے حرمتی کے الزام کے سلسلے میں گزشتہ دنوں پنجاب میں میں دو افراد کو بھیڑ نے قتل کر دیا۔عوامی جذبات لنچنگ کے ان واقعات کے حق میں کھڑےنظر آتے ہیں اور مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں اور سکھ دانشور، ان جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاناچاہتے۔

1412 Gondi.00_32_00_24.Still046

ہریانہ: کھٹر حکومت نے دلت مزدور کی موت پر خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟

ویڈیو: ہریانہ کے حصار ضلع کے میرکن گاؤں میں14دسمبر کو اشرافیہ کےتقریباً17جاٹ لوگوں نے پمپ چوری کرنے کے الزام میں ایک دلت نوجوان کی پیٹ پیٹ کر جان لے لی۔ اہل خانہ نے پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھائے ہیں۔

(فوٹو: اسکرین شاٹ)

پنجاب لنچنگ: انگریزی اخباروں کے اداریے میں انتظامیہ سے واضح ردعمل کا مطالبہ

انگریزی کے اہم اخباروں نے پنجاب میں ‘بے ادبی’کے واقعات پراپنےاداریوں کو مرکوز کرتے ہوئےسخت لفظوں میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ آخر سیاست داں ماب لنچنگ کی مذمت کیوں نہیں کرتے ۔ان اداریوں میں کہا گیا ہےکہ ان کی خاموشی کا مقصدانتخابات سےقبل رائے دہندگان کے ایک طبقے کو ناراض نہیں کرنا ہے۔

رمیش رام۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

اتراکھنڈ: اشرافیہ کے ساتھ کھانا کھانے کے الزام میں دلت کی بے رحمی سے پٹائی، موت

یہ واقعہ 28 نومبر کو اتراکھنڈ کے چمپاوت ضلع میں پیش آیا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ دلت رمیش رام کو اسپتال لے جانے سے قبل کئی گھنٹے تک جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، جس کے بعد 29 نومبر کو انہوں نے دم توڑ دیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

فوٹو: ٹوئٹر

ہاپوڑ ماب لنچنگ میں مارے گئے قاسم کے بھائی پر جان لیوا حملہ

قاسم کے بھائی نے شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ غازی آباد کے مسوری سے ہوتے ہوئے ہاپوڑ جا رہا تھا۔ اسی دوران نیشنل ہائی وے 24 پر ایک گاڑی نے سکیورٹی گارڈ اور قاسم کے بھائی کو کچلنے کی کوشش کی۔

سمیع الدین / فوٹو : ہفنگٹن پوسٹ

ہاپوڑ لنچنگ کے عینی شاہد کا الزام ؛ پولیس قاسم کے قاتلوں سے ملی ہوئی ہے

ہاپوڑلنچنگ معاملے میں زخمی سمیع الدین نے کہا ؛ وہ قاسم اور ان پر تشدد کرنے والوں کو پہچانتے ہیں اور ان میں سے کچھ کے نام بھی جانتے ہیں لیکن گزشتہ ایک مہینے میں پولیس کے کسی افسر نے ان سے بات چیت نہیں کی ہے۔

Don`t copy text!