Bharat Band

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ  منوہرلال کھٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ہریانہ: احتجاج کے ڈر سے بی جے پی نے زرعی قوانین سے متعلق بیداری پروگرام پر روک لگائی

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالا کی بیٹھک کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ریاست کی بی جے پی قیادت والی سرکار نئے زرعی قوانین کو لےکر کسانوں کی شدید مخالفت کا سامنا کر رہی ہے۔

بھوپیندر سنگھ مان۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

زرعی قانون: سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی  سے الگ ہو ئے بھارتیہ کسان یونین کے بھوپیندر سنگھ مان

بھارتیہ کسان یونین کے صدربھوپیندر سنگھ مان نے کہا کہ کمیٹی  میں انہیں لینے کے لیے وہ سپریم کورٹ کے شکرگزار ہیں لیکن کسانوں کے مفادات سےسمجھوتا نہ کرنے کے لیے وہ انہیں ملے کسی بھی عہدہ کو چھوڑنے کو تیار ہیں۔ مان نے یہ بھی کہا کہ […]

دہلی کے سنگھو بارڈر پر بدھ کوزرعی قوانین کی کاپیاں جلاتے کسان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مظاہرہ کر رہے کسانوں نے لوہڑی پر نئے زرعی قوانین کی کاپیاں جلائیں

دہلی کی مختلف سرحدوں پر لکڑیاں اکٹھا کرکے جلائی گئیں اور اس کے چاروں طرف گھومتے ہوئے کسانوں نے نئےزرعی قوانین کی کاپیاں جلائیں۔ اس دوران مظاہرہ کررہے کسانوں نے نعرے لگائے، گیت گائے اور اپنی تحریک کی جیت کی دعاکی۔ کسان ایک مہینے سے زیادہ سے ان قوانین کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

تاریخی احتجاجات کی سرگزشت: حالیہ احتجاج-عدالت اور حکومت کا امتحان

ہندوستان دو راہے پر کھڑا ہے اور عدالت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ پڑوسی ملک کی عدالتوں نے’نظریہ ضرورت’کی نا مبارک اصطلاح وضع کر کے ایوب خان، یحیی خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی آمریت کو سند جواز بخشا اور آئین کی پامالی کا سبب بنتی رہی ہیں۔ ہماری عدالتوں نے بھی’آستھا/عقیدہ’ اور ‘جَن بھاونا/عوامی امنگوں’ کی نا معقول اصطلاحات وضع کر کے گزشتہ دنوں میں اچھی مثال قائم نہیں کی ہے۔

farmer

بی جے پی رہنماؤں کی طرح سرکار نے بھی سپریم کورٹ میں کہا-کسانوں کے مظاہرہ میں ہوئی خالصتانی گھس پیٹھ

سپریم کورٹ میں سرکار کےاس قبولنامے سے پہلے پچھلے کچھ مہینوں میں کئی بی جے پی رہنما کسانوں کے مظاہرہ میں خالصتانیوں کے شامل ہونے کاالزام لگا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ کابینہ وزیر روی شنکر پرساد، پیوش گوئل اور وزیر زراعت نریندر تومر نے بھی اس سلسلے میں ماؤنواز اور ٹکڑ ٹکڑے گینگ جیسے لفظوں کا استعمال کیا ہے۔

 (فوٹو : پی ٹی آئی)

زرعی قوانین کے برعکس سپریم کورٹ کئی متنازعہ قوانین پر روک لگانے سے کر چکا ہے انکار

متنازعہ زرعی قوانین کےآئینی جواز کی جانچ کیے بناسپریم کورٹ کے اس پر روک لگانے کے قدم کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ کام نہیں ہے۔ اس سے پہلے ایسے کئی کیس جیسے کہ آدھار، الیکٹورل بانڈ، سی اے اےکو لےکر مانگ کی گئی تھی کہ اس پر روک لگے، لیکن عدالت نے ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر روک لگائی، کسانوں سے بات چیت کے لیے بنائی کمیٹی

سپریم کورٹ کی جانب سےزرعی قوانین پر مرکز اور کسانوں کے بیچ تعطل کو ختم کرنے کے مقصد سے بنائی گئی کمیٹی میں بھارتیہ کسان یونین کے بھوپیندر سنگھ مان، شیتکاری سنگٹھن کے انل گھانوت ، پرمود کمار جوشی اور ماہرمعاشیات اشوک گلاٹی شامل ہیں۔ ان چاروں نےنئے قوانین کی حمایت کی ہے۔

بی جے پی صدر جےپی نڈا کے ساتھ وزیر اعلیٰ منوہرلال کھٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کسانوں کا مظاہرہ: کیا ہریانہ میں کمزور ہو رہی ہے بی جے پی کی زمین

حالیہ دنوں میں عوام کا احتجاج کرتے ہوئےوزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے دورے پر ان کا ہیلی کاپٹر نہ اترنے دینا، میئر کے انتخاب میں امبالہ میں وزیر اعلیٰ کی مخالفت ہونا اور اسی انتخاب میں سونی پت اور امبالہ جیسی شہری سیٹیوں پرہارنا اس بات کے اشارے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی کی حالت کمزور ہو رہی ہے۔

دہلی کے غازی پور بارڈر پرمظاہرین۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کسانوں کے مظاہرہ کو سنبھالنے میں ناکام مرکز، زرعی قوانین پر روک لگانی چاہیے: سپریم کورٹ

مرکز کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کئی عرضیوں کو سنتے ہوئے سی جےآئی ایس اے بوبڈے نے کہا کہ سرکار جس طرح سے معاملے کو سنبھال رہی ہے اس سے وہ بےحدمایوس ہیں۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر سرکار کہے کہ قوانین کونافذکرنے پر روک لگائےگی، تو عدالت اس کے لیےکمیٹی بنانے کو تیار ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا، کیا کسانوں کے مظاہرے سے تبلیغی جماعت جیسی ’دقت‘ پیش آئے گی

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کے مدنظر زرعی قوانین کی مخالفت میں بڑی تعداد میں دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے کسانوں کو لےکرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے مرکزی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیامظاہرین کو کووڈ 19سے بچانے کے لیے احتیاطی قدم اٹھائے گئے ہیں۔

کنول گریوال اور حرف چیمہ کے نئے البم کسانوں کے مظاہروں پر مبنی ہیں۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/حرف چیمہ)

پنجابی نغموں میں سنائی دے رہی ہے کسانوں کے مظاہرے کی بازگشت

نئےزرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے کسانوں کو پنجاب کے گلوکاروں کی طرف سےبھی بڑے پیمانے پر حمایت مل رہی ہے۔ نومبر کے اواخر سے جنوری کے پہلے ہفتے تک الگ الگ گلوکار وں کے دو سو سے زیادہ ایسے گیت آ چکے ہیں، جو کسانوں کے مظاہروں پرمبنی ہیں۔

ٹکری بارڈر کو جاتے کسان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کسانوں کا مظاہرہ: سرکار کے ساتھ بات چیت سے پہلے کسانوں نے نکالی ٹریکٹر ریلی

مرکزی حکومت سے جمعہ کو ہونے والی آٹھویں دور کی بات چیت سے پہلے ہزاروں کسانوں نے دہلی اور ہریانہ میں ٹریکٹر مارچ نکالا۔کسانوں کا کہنا ہےکہ 26 جنوری کوہریانہ،پنجاب اور اتر پردیش کے مختلف حصوں سے قومی راجدھانی میں آنے والے ٹریکٹروں کی مجوزہ پریڈ سے پہلےیہ محض ایک ریہرسل ہے۔

فوٹو: رائٹرس

کسانوں کا مظاہرہ: نہرو ہارے تھے، اب مودی کی باری ہے

یہ کھیت اور پیٹ کی لڑائی ہے جو سڑکوِں پر لڑی جا رہی ہے۔ قیادت پنجاب ضرور کر رہا ہے لیکن اس میں پورے بھارت کے کسان شامل ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کو جمہوری ریاست عزیز ہے تو انہیں اب کی بار جمہور کے سامنے ہارنا ہی ہوگا، ہمیشہ جیت کی بے لگام خواہش کبھی کبھی بڑی تکلیف دہ دائمی ہار پر منتج ہوتی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

پنجاب: مظاہرہ کر نے والے  کسانوں کے گروپس  نے 1500 سے زیادہ موبائل ٹاور توڑے، ٹیلی کام خدمات متاثر

ٹاور انفرااسٹرکچر پرووائیڈرس ایسوسی ایشن کے مطابق،ریاست میں کم سے کم 1600 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کئی حصوں میں ٹاوروں کی بجلی فراہمی روک دی گئی ہے اور ساتھ ہی کیبل بھی کاٹ دیے گئے ہیں۔ وہیں جالندھر میں جیو کی فائبر کیبل کے کچھ بنڈل بھی جلا دیے گئے ہیں ۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ہریانہ: سی ایم کا قافلہ روکنے کے الزام  میں 13 کسانوں کے خلاف فساد اور قتل کی کوشش کا مقدمہ درج

ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر آئندہ میونسپل انتخاب کی تشہیر کے لیے گزشتہ منگل کو ایک عوامی اجلاس کرنے امبالہ گئے تھے۔ اس دوران مظاہرہ کررہے کسانوں کے ایک گروپ نے انہیں کالے جھنڈے دکھائے اور سرکار کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

10دسمبر کو کسانوں کے مظاہرہ میں گرفتار کیے گئے سماجی  کارکنوں کےلیےاپنی حمایت کا اظہار کرتے مظاہرین۔ (فوٹو: د ی وائر)

’ پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی پیروی کر نے والوں کے لیے آدی واسی کسان نہیں ہیں

ایک جانب کارپوریٹس تمام اقتصادی شعبوں اور ریاستوں کی سرحدوں میں اپنے کام کی توسیع کے لیےآزاد ہیں، وہیں ملک بھر کے کسانوں کےزرعی قوانین کے خلاف متحد ہونے پر بی جے پی ان کی تحریک میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

(کسان ایکتا مورچہ کے فیس بک پیج کو لگ بھگ تین گھنٹے بعد بحال کیا گیا۔)

فیس بک نے کسان ایکتا مورچہ کا پیج بلاک کیا، تنازعہ کے بعد بحال

کسانوں کے مظاہرہ سےمتعلق جانکاری دینے کے لیے دہلی کی سرحدوں پر تقریباً چار ہفتوں سے جمع کسان تنظیموں نے ‘کسان ایکتا مورچہ’کے نام سے فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا اکاؤنٹ بنایا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سابق مرکزی وزیر بریندر سنگھ۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

ہریانہ دھرنا دے رہے کسانوں کے بیچ پہنچے بی جے پی رہنما بو لے-یہ سب کی تحریک

سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما چودھری بریندر سنگھ جمعہ کو ہریانہ کے جھجر ضلعے کے سیمپلا میں دھرنا دے رہے کسانوں کے بیچ پہنچے، جہاں انہوں نے کہا، ‘یہ سب کی تحریک ہے۔ میں پہلے سے ہی میدان میں ہوں۔ اگر میں مورچے پر نہیں ہوں تو لوگوں کو لگےگا کہ میں صرف سیاست کر رہا ہوں۔’

1412 Zobia.00_14_28_13.Still001

کسانوں کا مظاہرہ: دہلی بارڈر پر کسانوں کے ساتھ مظاہرہ میں طلبا بھی شامل

ویڈیو:مرکزکےمتنازعہ زرعی قوانین کی مخالفت مسلسل تیز ہورہی ہے۔ سرکار اور کسانوں کے بیچ کوئی آپسی رضامندی نہیں ہوئی ہے۔ کسانوں کے مظاہرہ میں نہ صرف کسان بلکہ پنجاب اور ہریانہ کے نوجوان اور طلبا بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ان سے بات چیت۔

گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل۔ (فوٹو: اےاین آئی)

گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا-کسانوں کے مظاہرہ کو ملک مخالف، دہشت گرد، خالصتانی اور ماؤنوازوں کی حمایت

گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل نے کہا ہے کہ اگر 50000ملک مخالف لوگ ایک ساتھ آکر آرٹیکل 370 کورد کرنے والے قانون کو رد کرنے کی مانگ کرتے ہیں تو کیا ہمیں پارلیامنٹ سے پاس اس ایکٹ کورد کرنا ہوگا؟ اگر 50000 لوگ مانگ کرتے ہیں تو کیا ہم کشمیر کو پاکستان کو دے دیں گے؟

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ نے کہا-کسانوں کو پرامن مظاہرہ کا حق ،مرکز کو قانون نافذ نہ کر نے کی صلاح

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کسانوں کے حالات کو لےکرفکرمند ہیں۔ ہم بھی ہندوستانی ہیں، لیکن جس طرح سے چیزیں شکل لے رہی ہیں، اس کو لےکر ہم فکرمند ہیں، وہ بھیڑ نہیں ہیں۔ دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے کسانوں کو فوراً ہٹانے کے لیے کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔

سکھ بیر سنگھ بادل۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بی جے پی ہے اصلی ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘، مسلمانوں کے بعد سکھوں کے خلاف ہندوؤں کو بھڑکا رہی: سکھ بیر سنگھ بادل

بی جے پی کی سابق اتحادی پارٹی اکالی دل کے صدرسکھ بیر سنگھ بادل نے کہا کہ بی جے پی بے شرمی سے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہی ہےاوراب افسوس ناک طریقے سے امن پسند پنجابی ہندوؤں کو ان کے سکھ بھائیوں بالخصوص کسانوں کے خلاف کر رہی ہے۔ وہ محب وطن پنجاب کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیل رہے ہیں۔

AKI 14 December 2020.00_33_40_07.Still004

کسانوں کا مظاہرہ: سرکار کا ’ٹکڑے ٹکڑے‘ راگ اور سی اے اے تحریک کا ایک سال

ویڈیو: مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ نئےزرعی قانون کے خلاف کسانوں کی تحریک کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ‘ٹکڑے ٹکڑے گینگ’کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ تحریک زیادہ تر بایاں بازو اور ماؤنوازوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ اس مدعے پر ڈی یو کے پروفیسر اپوروانند سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

کسانوں کے مظاہرہ میں جیو کا بینر جلاتے مظاہرین۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

زرعی قوانین سے ریلائنس کو منافع ہو نے کی افواہ اڑا رہے ہیں ایئرٹیل اور ووڈا فون آئیڈیا: جیو

ریلائنس جیو نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیاکو خط لکھ کر کہا ہے کہ بھارتی ایئرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا لمٹیڈ اس کے خلاف ‘متعصب اور منفی’مہم چلاتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ جیو نمبر کو ان کے نیٹ ورک پر پورٹ کرنا کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنا ہوگا۔

فوٹو بہ شکریہ : اے این آئی

کسانوں کامظاہرہ: حکومت کو ’بیدار‘ کر نے کے لیے کسان رہنما دن بھر کی بھوک ہڑتال پر

گزشتہ19دنوں سے دہلی کی مختلف سرحدوں پر مرکزکی جانب سے لائے گئے نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کے ساتھ احتجاج کر رہے ‘سنیوکت کسان مورچہ’ کے 40 کسان رہنما سوموار صبح 8 بجے سے شام 5 بجے کے بیچ تمام سرحدوں پر بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ ان میں سے پچیس سنگھو، 10 ٹکری بارڈراور پانچ یوپی بارڈر پر بیٹھیں گے۔

(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر @PrakashJavdekar)

کسانوں کے مظاہرہ  کے بیچ آئی آرسی ٹی سی نے نریندر مودی کے سکھوں سے رشتوں کو لےکر بھیجے دو کروڑ ای میل

مرکز کی جانب سے لائے گئے زرعی قوانین کے خلاف چل رہے کسانوں کے مظاہرہ کے بیچ آئی آرسی ٹی سی نے آٹھ سے 12 دسمبر کے بیچ یہ ای میل بھیجے ہیں۔ حکام کے مطابق انہیں سرکار کے ‘عوامی مفاد’رابطہ کے تحت زرعی قوانین کو لےکر لوگوں کوبیدار کرنے اور پروپیگنڈہ کو دور کرنے کے مقصد سے بھیجا گیا تھا۔

AKI 10 December 2020.00_22_39_15.Still008

کسان تحریک: سرکار اور کسانوں کے بیچ بات چیت ناکام، اب کیا کریں گے کسان؟

ویڈیو: مظاہرہ کررہی کسان تنظیموں کومتنازعہ قوانین پر بھیجے گئے مسودہ میں سرکار نے انہیں واپس لینے کے کسانوں کےبنیادی مطالبات کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔اس موضوع پر بھارتیہ کسان یونین (اگرہن) کے سکھ دیو سنگھ اور لوک سنگھرش مورچہ کی پرتبھا شندے سے د ی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

WhatsApp Image 2020-12-08 at 22.19.39 (1)

کسانوں سے مودی کیوں نہیں کرتے بات؟ ’مون پردھان منتری‘ کون؟

ویڈیو: جب سے کسانون کا مظاہرہ شروع ہوا تب سے آج تک وزیر اعظم نریندر مودی کسانوں پر کچھ نہیں بولے، جبکہ انہوں نے کئی طرح کی بیٹھکوں اورتقریبات میں حصہ لیا ہے۔اس موضوع پر سوراج انڈیا کے قومی صدر یوگیندر یادو سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں سیاسی کارکنوں نے بند کے دوران ریلی نکالی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بھارت بند: پرامن مظاہرہ کر تے ہوئے کسانوں نے متنازعہ قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا

مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئےقوانین کے خلاف 26 نومبر سے دہلی کی سرحدوں پرمظاہرہ کر رہے کسانوں کے بھارت بند کا ملک میں ملا جلا اثر رہا۔ کچھ ریاستوں میں عام زندگی متاثر ہوئی، وہیں کچھ ریاستوں میں صورتحال نارمل بنی رہی۔

بھارتیہ کسان یونین(بی کےیو)کی قیادت میں کسانوں کے ذریعےغازی پور بارڈرپر دفعہ144نافذ کرنے کے بعد مظاہرہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کسانوں کی تحریک کو بدنام کر نے کی کوشش بی جے پی کا آزمودہ نسخہ ہے

کسان مخالف قوانین کے خلاف سڑکوں پر اترے کسانوں کو‘خالصتانی’قراردینا بی جے پی کے اسی پروپیگنڈہ کی اگلی کڑی ہے، جہاں اس کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ‘دیش ورودھی ’، ‘ٹکڑے ٹکڑے گینگ’ یا ‘اربن نکسل’بتا دیا جاتا ہے۔

WhatsApp Image 2020-12-03 at 22.41.10

کسانوں کا مظاہرہ: ’کسانوں کو کسی نے نہیں بہکایا، مودی کو امبانی-اڈانی نے بہکایا ہے‘

ویڈیو: زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے کسانوں پر سرکار اور کئی میڈیااداروں کی جانب سےالزام لگایا گیا کہ کسانوں کو قوانین کی خاطرخواہ سمجھ نہیں ہے اور انہیں گمراہ کیا گیا ہے۔ اس مدعے پر کسانوں سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

بی سی پاٹل (فوٹوبہ شکریہ؛ فیس بک)

کرناٹک: وزیر زراعت نے کہا، خود کشی کر نے والے کسان بزدل ہو تے ہیں

کانگریس اور جے ڈی ایس کے رہنماؤں نے وزیر زراعت بی سی پاٹل کے اس بیان پر اعتراض کیا ہے۔ کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا کہ کسان وقار اور عزت کے ساتھ جنم لیتے ہیں۔ جب انہیں پریشانیوں کی طرف ڈھکیل دیا جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی ختم کرنے کے لیےمجبور ہو جاتے ہیں۔

Don`t copy text!