bulldozers

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

گجرات: ہنومان جینتی شوبھا یاترا کے دوران درگاہ پر بھگوا جھنڈا لگانے کے معاملے میں 30 لوگ گرفتار

گجرات کے ضلع گر سومناتھ کے ویراول قصبے کا معاملہ۔ پولیس نے بتایا کہ ہنومان جینتی پر بنا اجازت شوبھا یاترا نکالی گئی تھی۔ اس سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر کے امراوتی ضلع کے اچل پور شہر میں مذہبی جھنڈوں کو ہٹانے کو لے کر دو کمیونٹی کے درمیان تصادم ہوا جس کے بعد یہاں کرفیو لگا دیا گیا۔

1304 Sumedha Hyd Story.00_12_15_21.Still006

رام نومی تشدد کے بعد ایم پی کے مسلمانوں کے گھروں پر چلا بلڈوزر، سپریم کورٹ خاموش کیوں ہے؟

ویڈیو: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی ہدایت پر کھرگون ضلع انتظامیہ اور پولیس نے رام نومی کے جلوس پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے گھر توڑ دیے ہیں۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

کھرگون تشدد میں پہلی موت کی تصدیق، متاثرہ خاندان نے پولیس پر موت کو چھپانے کا الزام لگایا

پولیس نے بتایا کہ شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے اگلے دن 11 اپریل کو ایک نامعلوم لاش ملی تھی۔ کھرگون میں فریزر کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد اندور کے اسپتال میں رکھا گیا۔ وہیں متوفی ابریش خان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ 12 اپریل کو کچھ لوگوں نے اسے پولیس کی حراست میں دیکھا تھا۔

کرناٹک کے ہبلی میں فرقہ وارانہ تصادم کے بعد دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ہنومان جینتی پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات، کرناٹک کے ہبلی میں دفعہ 144 نافذ

دہلی، آندھرا پردیش اور اتراکھنڈ سے ہنومان جینتی کے جلوسوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات سامنےآئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کرناٹک کے ہبلی شہر میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر پولیس اہلکاروں، ایک ہسپتال اور ایک مندر پر حملہ کیا گیا۔ اس میں 12 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ معاملے میں تقریباً 40 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

فوٹو: کاشف کاکوی

کھرگون تشدد: پی ایم آواس یوجنا کے تحت بنائے گئے مکان کو منہدم کرنے کے بعد حکومت متاثرہ خاندان کی باز آباد کاری کرے گی

مدھیہ پردیش کے کھرگون شہر میں رام نومی کے موقع پر ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ضلع انتظامیہ نے کئی مکانات اور دکانوں کو منہدم کر دیا تھا۔ اس میں حسینہ فخرو کے گھر کو بھی بلڈوزر سے توڑ دیا گیا تھا، جبکہ ان کے پاس موجود دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکان پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت منظور کیا گیا تھا۔

mcms

کھرگون فسادات کے متاثرین نے کہا، جب ان کے تہوار آتے ہیں تو ہمیں اپنی جان بچاکر بھاگنا پڑتا ہے

ویڈیو: 10 اپریل کو رام نومی کے موقع پر ہندوتوا گروپوں کی طرف سے نکالے گئے جلوسوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں موصول ہوئیں۔ ان میں مدھیہ پردیش کا کھرگون شہر بھی شامل ہے۔ تشدد کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے متعدد مکانوں اور دکانوں کو گرانے کی کارروائی کی گئی تھی۔

مدھیہ پردیش میں رام نومی تشدد کے ملزمین کے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کی تصویر۔

مدھیہ پردیش: رام نومی تشدد میں ملزم بنائے گئے تین لوگ تشدد کے دوران جیل میں بند تھے

مدھیہ پردیش کے بڑوانی ضلع کے سیندھوا میں رام نومی کے موقع پر ہوئے فرقہ وارانہ تصادم میں بائیک جلانے کے الزام میں تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واقعے کے اگلے ہی روز ان میں سے ایک کے گھر کو انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات قرار دے کر توڑ دیا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں ملزمین قتل کی کوشش کے ایک مقدمے میں مارچ سے جیل میں بند ہیں۔

کھمبھات قصبے کے شکر پورہ علاقےسے ناجائز قبضہ ہٹانے کے لیے انتظامیہ نے جمعہ کو بلڈوزر چلوایا۔ (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

رام نومی تشدد: مدھیہ پردیش کے بعد گجرات کے کھمبھات میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلا

آنند ضلع کلکٹر نے کہا کہ غیر قانونی قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے کنارے کھڑی جھاڑیوں پر بھی بلڈوزر چلائے جارہے ہیں کیونکہ رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کے بعد شرپسندانہی جھاڑیوں میں چھپ رہے تھے۔ کانگریس نے اس مہم کو غیر آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

کھرگون میں ملزمان کی تعمیرات گرانے کی کارروائی۔ (تصویر: ٹوئٹر/اسکرین شاٹ)

کھرگون تشدد: انتظامیہ نے توڑا پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بنایا گیا مکان

رام نومی پر فرقہ وارانہ تشدد کے بعد کھرگون میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے کئی مکانات اور دکانوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کی گئی تھی۔ اب ایک خاندان کے پاس دستیاب دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ جس گھر کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا گیا وہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بنایا گیا تھا۔