Central Government

5 ستمبر 2021 کو مظفر نگرمیں کسان مہاپنچایت کو خطاب  کرتے راکیش ٹکیت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مظفر نگر مہاپنچایت نے فرقہ واریت پر وہ چوٹ کی ہے، جس کی ملک کو ضرورت تھی

کسانوں کی تحریک کےغیرسیاسی ہونے کواس کی اضافی قوت کی صورت میں دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مسلم بھائی چارے کی یہ مہم سیاسی نفع نقصان سے وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ قابل اعتماد ہے اور زیادہ امیدیں جگاتی ہے۔

سافٹ ویئر کمپنی انفوسس کو لےکرپانچجنیہ میگزین میں شائع  رپورٹ کا سرورق۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

آر ایس ایس نے انفوسس کی تنقید کرنے والے ’پانچجنیہ‘ کے مضمون سے خود کو الگ کیا

آر ایس ایس کی ترجمان میگزین‘پانچجنیہ’ کے 5 ستمبر کےایڈیشن کےمضمون میں ہندوستانی سافٹ ویئر کمپنی انفوسس کی شدید نکتہ چینی کی گئی تھی اور اسے‘اونچی دکان، پھیکا پکوان’قرار دیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ انفوسس کا ‘ملک مخالف’ طاقتوں سےتعلق ہے اور اس کے نتیجےمیں سرکار کے جی ایس ٹی اورانکم ٹیکس پورٹل میں گڑبڑی کی گئی ہے۔

mukul

مظفر نگر مہا پنچایت کا اثر صرف اتر پردیش نہیں پورے ہندوستان  پر پڑے گا

ویڈیو: سنیکت کسان مورچہ نےمظفر نگر کی کسان مہاپنچایت سے ایک بار پھر اپنی تحریک کورفتار دینے کی کوشش کی۔اس مہاپنچایت میں کسانوں کا بڑا ہجوم دیکھ دیکھا گیا۔مغرب اور شمال کے کسان بڑی تعداد میں یہاں پہنچے۔ دی وائر نے مہا پنچایت میں شامل کسانوں سے بات کی۔

سی بی آئی ہیڈ کوارٹر (فوٹو : پی ٹی آئی)

مدراس ہائی کورٹ نے کئی ہدایات جاری کیے، کہا-سرکار پنجڑے میں قید طوطے سی بی آئی کو رہا کرے

مدراس ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ صرف پارلیامنٹ کو رپورٹ کرنے والے کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی طرح سی بی آئی کو بھی ایک خودمختار ادارہ ہونا چاہیے۔ سی بی آئی کی خودمختاری یقینی بنانے کے لیے اسے قانونی درجہ دیا جانا چاہیے۔

0908 MUKUL GR.00_14_16_06.Still001

مہیلا کسان سنسد میں سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منظوری

ویڈیو: دہلی کےجنتر منتر پرگزشتہ نو اگست کو خواتین کسانوں نے کسان سنسد کا اانعقاد کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے مرکزی حکومت کےخلاف عدم اعتماد کی تحریک کو پاس کیا۔ مہیلا کسان سنسد میں شریک ہونے کے لیے دہلی اور آس پاس کے علاقوں کی خواتین جنتر منتر پہنچیں اور اپنی بات رکھی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

پچھلے تین سالوں میں پولیس حراست میں 348 لوگوں کی موت ہوئی: مرکزی حکومت

وزیرمملکت برائے داخلہ نتیانند رائےنے لوک سبھا میں بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں پولیس حراست میں 1189 لوگوں کو اذیت جھیلنی پڑی۔ پولیس حراست میں اموات اور ہراسانی کے لیےپولیس کے خلاف ہوئی کارروائی کی تفصیلات مانگنے پر وزارت داخلہ نے کہا کہ پولیس اور عوامی نظم ونسق ریاست کے موضوع ہیں اس لیے ریاستی سرکاروں کو ایسے جرائم سے نمٹنے کا حق ہے۔

(السٹریشن: سینڈی ملر/انسپلیش)

مسلمانوں کی آبادی کنٹرول کرنے کا نیا شوشہ

حیرت کی بات ہے کہ ان کی پارٹی کے ایک اہم لیڈر جب اس مجوزہ قانون کا اعلان کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اس سے مسلمانوں کی آبادی کو کنٹرول کیا جائےگا اس لیڈر کے اپنے آٹھ بچے ہیں ۔ خود اترپردیش اسمبلی میں اس وقت بی جے پی کے 152اراکین کے تین سے زیادہ بچے ہیں۔

اتر پردیش بی جے پی  کے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کیا گیا کارٹون۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@BJP4UP)

یوپی بی جے پی کے ٹوئٹر پیج سے کارٹون پوسٹ کرکے مظاہرہ کر رہے کسانوں کو وارننگ دی گئی

اتر پردیش بی جے پی کے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل نے 29 جولائی کو ایک کارٹون پوسٹ کیا تھا۔ اس کارٹون میں ایک طاقتور شخص کے ذریعے احتجاج کرنے والے ایک کسان کو مظاہرہ کے لیےلکھنؤ جانے کے خلاف صلاح دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے کیونکہ وہاں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے۔ کارٹون میں طاقتورشخص(باہوبلی) کی بات سن کر کسان کو یہ تصور کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے کہ اسے بال پکڑکر کھینچا جائےگا۔ بال کھینچنے والے کا ہاتھ دکھایا گیا ہے، جس نے بھگوا کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔

WhatsApp Image 2021-07-23 at 20.16.39

کسانوں کی تحریک نے پکڑا زور، پارلیامنٹ کے سامنے ’کسان سنسد‘

ویڈیو: پارلیامنٹ میں جاری مانسون سیشن بھلے ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو رہا ہو، لیکن جنتر منتر پر منعقد کسان سنسد دوسرے دن بھی چلی۔ اس موضوع پر یوگیندر یادو اور اکشے نروال سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

WhatsApp Image 2021-07-23 at 21.12.20

کسان ایک بار پھر سے دہلی کی سڑکوں پر آ گئے ہیں

ویڈیو: دہلی کےسنگھو، ٹکری اور غازی پور بارڈر پر پچھلے آٹھ مہینوں سے مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئے تین زرعی قانون کی مخالفت کر رہے کسان اب دہلی کے جنتر منتر پر نظر آنے لگے ہیں۔جنتر منتر میں چل رہی کسانوں کی سنسد سے یاقوت علی کی رپورٹ۔

اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

اتر پردیش: وزیر اعلیٰ یوگی بڑھتی آبادی کے لیے نہیں انتخابات کے لیے فکرمند ہیں

اسمبلی انتخاب سےمحض چندہ ماہ قبل وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مجوزہ آبادی قانون کو ضروری بتاتے ہوئے کہا کہ بڑھتی آبادی صوبے کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ لیکن کیایہ رکاوٹ اچانک رونما ہوئی ہے ؟ اگر نہیں، تو اس کو لےکراس وقت مناسب ا قدامات کیوں نہیں کیے گئے، جب ان کی حکومت کے پاس اس کو آگے بڑھانے کا وقت تھا؟

‘اتر پردیش نئی آبادی پالیسی 2021-2030’ جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: بی جے پی کے 50 فیصد ایم ایل اے کے تین اور اس  سے زیادہ  بچے، ہوگی مجوزہ آبادی قانون کی خلاف ورزی

یوگی حکومت کی جانب سے مجوزہ آبادی کنٹرول قانون کے تحت دو سے زیادہ بچے ہونے پرسرکاری نوکریوں میں درخواست دینے سے لےکر مقامی بلدیاتی انتخابات لڑنے پر بھی روک ہوگی۔ اگراس بنیاد پرصوبے کے بی جے پی ایم ایل اے کاجائزہ لیا جائےگا تو ان کے پچاس فیصدی رہنمااس کسوٹی پر کھرے نہیں اتریں گے۔

1504 Cov Bull.01_04_43_23.Still025

ہماری لڑائی کارپوریٹ گھرانوں سے ہے، یہ رک نہیں سکتی: کسان رہنما درشن پال

ویڈیو: کسان رہنما ڈاکٹر درشن پال کہتے ہیں کہ وہ اس وبا سے بخوبی واقف ہیں اور اس کے خطرات کو سمجھتے ہیں، لیکن اگر کسان اس تحریک اور مطالبہ سے پیچھے ہٹتے ہیں تو اور بھی زیادہ ہندوستانی اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہوجائیں گے۔ کسان اس تحریک کے منطقی انجام تک پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

میں نے مودی اور شاہ کو بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ  غلط راستے پر ہیں: ستیہ پال ملک

تین زرعی قوانین کے معاملے پر چل رہے کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں ہریانہ کی بی جی پی کی قیادت والی سرکار سے اپنی حمایت واپس لینے والے آزاد ایم ایل اے سوم بیر سانگوان نے ان قوانین کے خلاف میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک کو خط لکھا تھا۔ اسی خط کا جواب دیتے ہوئے ملک نے ان کو لکھے ایک خط میں یہ باتیں کہی ہیں۔

Long shot

سنگھو بارڈر: کسانوں  کے ساتھ طلبا، خواتین، بزرگ اور فوج کے سابق جوانوں کا احتجاج  جاری

ویڈیو:سنگھو بارڈر پر نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کو چار مہینے پورے ہو گئے۔ سنگھو بارڈر پر طلبا، بزرگ اورخواتین لگاتار احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک زرعی قانون واپس نہیں ہوں گے، تب تک احتجاج جاری رہےگا۔ مونیکا گیاملانی اور چنمیہ گیاملانی کی رپورٹ۔

دہلی کے سنگھو بارڈر پر احتجاج  کر رہے کسان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مرکزی حکومت کو زرعی قانون بنانے سے پہلے کسانوں سے رائے مشورہ کرنا چاہیے تھا: بی جے پی رہنما

اتر پردیش بی جے پی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور سابق ایم ایل اے رام اقبال سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت کوایم ایس پی گارنٹی قانون بنا دینا چاہیے اور اس قیمت پر خریداری نہ ہونے کوقابل اعتنا جرم قرار دینا چاہیے۔

(فوٹو: رائٹرس)

ملک  کے 42 ہزار سرکاری اسکولوں میں پینے کے لیے پانی نہیں، 15 ہزار میں ٹوائلٹ نہیں: مرکز

وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نے یو ڈی آئی ایس ای کےاعدادوشمار کے حوالے سے ایوان میں بتایا کہ جن 42074 اسکولوں میں پانی پینے کی سہولت نہیں ہےان میں سب سے زیادہ 8522 آسام میں ہیں۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے الگ ٹوائلٹ نہ ہونے کے معاملے میں بھی آسام پہلے نمبر پر ہے۔

Modi-Adani-1

اڈانی گروپ کے گودام میں گیہوں نہ رکھنے سے ہو ئے نقصان کی کیگ رپورٹ کو ہٹانے کی کوشش میں ہے مودی حکومت

خصوصی رپورٹ :سال 2018 میں سی اے جی (کیگ) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2013-14 سے 2015-16 کے بیچ ایف سی آئی نے ہریانہ کے کیتھل میں اڈانی گروپ کے گودام میں اس کی صلاحیت کے مطابق گیہوں نہیں رکھا اور خالی جگہ کا کرایہ بھرتے رہے۔ مودی حکومت اب اس رپورٹ سے یہ بات ہٹوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کسان مہاپنچایت کو خطاب کرتے نریش ٹکیت۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/بھارتیہ کسان یونین)

بی جے پی کا ساتھ دینا بڑی بھول تھی، سرکار کسانوں کو برباد کر نے پر تلی ہے: نریش ٹکیت

دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف چل رہے کسانو ں کے احتجاج کی گونج پوروانچل میں بھی سنائی دی، جہاں بستی ضلع میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدرنریش ٹکیت نے کسان پنچایت کا اہتمام کیا اور جم کر بی جے پی اورمرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Ajoy Mono 20 Feb.00_00_02_03.Still001

کسان مہا پنچایت: کسانوں  نے معیشت کا مسئلہ اٹھایا

ویڈیو: ہریانہ اور اتر پردیش میں تیزی سے کسان مہاپنچایت پھیل رہے ہیں، جہاں کھل کر حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں چرچہ کی جا رہی ہے اور کسانوں کو زرعی قانون اور اس سے متعلق پہلوؤں کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں بتا رہے ہیں سیاسی امور کے لیےدی وائر کے ایڈیٹر اجئے آشیرواد۔

کسانوں کےاحتجاج کےمعاملے پر بی جے پی  کی ہریانہ اکائی نے گڑگاؤں میں بیٹھک کی۔(فوٹو:ٹوئٹر/ @OPDhankar)

ہریانہ: پارٹی کی میٹنگ  میں بی جے پی کارکن نے سینئر رہنماؤں سے مانگا کسانوں کو بہکانے کا نسخہ

کسانوں کے احتجاج سے ہوئے سیاسی نقصان کو بے اثر کرنے کےمقصد سے بی جے پی کی جانب سےمختلف ریاستوں میں بیٹھکیں کی جا رہی ہیں۔گڑگاؤں میں ہوئی ایسی ہی ایک بیٹھک کا ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جہاں پارٹی کے سینئررہنماؤں سے ایک کارکن کسانوں کو ‘بہکانے کا منتر’دینے کی بات کہتا نظر آ رہا ہے۔

دشا روی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: ٹول کٹ معاملے میں نوجوان کارکن دشا روی کو ضمانت ملی

کسانوں کے احتجاج سےمتعلق ٹول کٹ شیئر کرنے کے معاملے میں گرفتار دشا روی کو ضمانت دیتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ معاملے کی ادھوری اور غیرواضح جانچ کو دیکھتے ہوئے کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے کہ بنا کسی مجرمانہ ریکارڈ کے کسی 22 سالہ لڑکی کے لیے ضمانت کے اصول کو توڑا جائے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پرپر نئےزرعی قوانین کے خلاف کسان ٹریکٹر پریڈ کے دوران لال قلعے پر پہنچے تھے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوم جمہوریہ تشدد معاملہ: دہلی پولیس نے جموں سے ایک کسان رہنما سمیت تین لوگوں کو گرفتار کیا

پولیس نے بتایا کہ جموں اینڈ کشمیریونائٹیڈ کسان فرنٹ کے صدر موہندر سنگھ اور جموں کے گول گجرال کےمندیپ سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ان دونوں نے لال قلعے پر ہوئے تشدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور اس کے اصل سازش کار تھے۔ لال قلعے کےگنبد پر چڑھنے کے الزام میں ایک دوسرےشخص کو بھی پکڑا گیا ہے۔

دشا روی اور گریتا تُنبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/رائٹرس)

ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر نے ٹول کٹ معاملے میں گرفتار دشا روی کی حمایت کی

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی کارکن دشا روی نے کسانوں کےاحتجاج سے متعلق اس دستاویز کو شیئر کیا ہے، جس کو ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیرنے ٹوئٹ کیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹریکٹر پریڈ کے دوران دہلی میں ہوئےتشدد سمیت کسانوں کی تحریک کےواقعات ٹوئٹر پرشیئرکیے گئے ٹول کٹ میں بتائے گئے مبینہ منصوبے سے ملتا جلتا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کسانوں کی تحریک: پنجاب اور ہریانہ میں ریلائنس جیو کے صارفین میں آئی گراوٹ

ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیاکی جانب سےجاری اعدادوشمارکے مطابق دسمبر 2020 میں پنجاب اور ہریانہ میں ریلائنس جیو کے صارفین میں کافی کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے میں جیو واحدایسی بڑی کمپنی رہی جس کے صارف کم ہوئے ہیں۔

نکیتا جیکب۔ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

ٹول کٹ معاملے میں نکیتا جیکب کو تین ہفتے کے لیے پیشگی ضمانت ملی

بامبے ہائی کورٹ نےممبئی کی وکیل نکیتا جیکب کو راحت دیتے ہوئے دہلی کی متعلقہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔ یہ معاملہ کسانوں کے احتجاج کے سلسلے میں ماحولیاتی کارکن گریتا تنبیرکی جانب سے شیئر کیے گئے ٹول کٹ سے متعلق ہے۔

26 جنوری کو ٹریکٹر ریلی کے دوران کسانوں اور پولیس کا آمنا سامنا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مخالفین کو چپ کرانے کے لیے سیڈیشن قانون نہیں لگا سکتے: دہلی کورٹ

دہلی کی ایک عدالت نے فیس بک پر کسانوں کی تحریک سےمتعلق مبینہ فرضی ویڈیو ڈالنے کے ایک معاملے کی شنوائی میں کہا کہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے سرکار کے پاس سیڈیشن قانون ایک طاقتور اوزار ہے لیکن اس کو شرپسندوں کو قابو کرنے کے بہانے مخالفین کو چپ کرانے کے لیے لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

(فوٹو: رائٹرس)

نجکاری کے لیے بینک آف انڈیا جیسے چار بینکوں کا انتخاب: رپورٹ

سرکار نے نجکاری کے لیے جن چار بینکوں کا انتخاب کیا ہے وہ بینک آف مہاراشٹر، بینک آف انڈیا، انڈین اوورسیز اور سینٹرل بینک آف انڈیا ہیں۔ سرکار کا یہ قدم اس کے اس بڑےمنصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ سرکاری املاک کو بیچ کر ریونیو بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔

1502 AKI.00_33_35_07.Still002

اکیس سالہ دشا روی کی گرفتاری کیا مودی سرکار کی بوکھلاہٹ دکھاتی ہے؟

ویڈیو:کسانوں کی تحریک سےمتعلق ٹول کٹ معاملہ اب بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں ماحولیاتی کارکن دشا روی کو بنگلورو سے گرفتار کیا ہے۔ اس پورے مسئلے پر پولیس اور سرکار نے کس طرح سے کام کیا، بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

حراست میں دشا روی۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

دشا روی کی گرفتاری ہم سب کے منھ پر اس اقتدار کا بوٹ ہے…

دوسرے ممالک ہوں گے جہاں گریتااسٹار ہیں ، ہم اپنی گریتا دشا روی کو جیل میں رکھتے ہیں۔ وہ کوئی اور زمانہ ہوگا اور کوئی اور ملک جہاں مفاد سے اوپر اٹھ کر فطرت اور ماحولیات کی فکرکرنے والوں کا استقبال ہوتا ہے۔ یہاں ان کو جیل ملتا ہے۔

سدھارتھ وردراجن اور عصمت آرا۔ (فوٹو: دی  وائر )

اتر پردیش: عدالت نے دی وائر کے بانی مدیر اور رپورٹر کی گرفتاری پر روک لگائی

گزشتہ 26 جنوری کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران جان گنوانے والےنوجوان کے اہل خانہ کے دعووں کو لےکر دی وائر کی عصمت آرا نے ایک رپورٹ لکھی تھی،جس کو ٹوئٹر پرشیئر کرنے کے بعد دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے خلاف رام پور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

(فوٹو:  رائٹرس)

صحافیوں، کارکنوں، رہنماؤں کے خلاف کارروائی اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی: ٹوئٹر

ٹوئٹر انڈیا نے کہا کہ حکومت ہندکی ہدایت کےمطابق کچھ کارروائی کی ہے لیکن وہ میڈیا اداروں ، صحافیوں،کارکنوں اور رہنماؤں سے متعلق اکاؤنٹ کو بلاک نہیں کرےگا۔ مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے اور متاثر ہوئے اکاؤنٹ دونوں کے لیے ہندوستانی قانون کے تحت متبادل تلاش کر رہا ہے۔

دیپ سدھو۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ واقعے کے ملزم دیپ سدھو گرفتار

مرکز کے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کی کسان تنظیموں کی مانگ کی حمایت میں 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران بہت سے مظاہرین لال قلعہ تک پہنچ گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ایکٹر سے کارکن بنے دیپ سدھو نے وہاں ایک ستون پر مذہبی جھنڈا لگایا تھا۔

Don`t copy text!