Central Government

(علامتی  تصویر: رائٹرس)

کووڈ ویکسین کے منفی اثرات سے ہوئی اموات کے لیے حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا: مرکز

کووڈ ٹیکہ کاری کے مبینہ منفی اثرات سے دو لڑکیوں کی موت کے معاملے میں ان کے والدین نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے عدالت میں پیش کیے گئے ایک حلف نامہ میں کہا ہے کہ ویکسین کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی موت کے معاملات میں حکومت کو معاوضے کے لیے جوابدہ ٹھہرانا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک وزیر اعظم نریندر مودی کےہمراہ۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: پی ایم او انڈیا/ٹوئٹر)

وزیر اعظم نریندر مودی کو سمجھنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہے: ستیہ پال ملک

راجستھان یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں میگھالیہ کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کہا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے۔ اندرا گاندھی کا اقتدار بھی چلا گیا جبکہ لوگ کہتے تھے کہ انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ایک دن آپ بھی چلے جائیں گے، اس لیے حالات کو اتنا بھی خراب نہ کریں کہ اس کو بہتر نہ کیاجاسکے۔

ثنا ارشاد مٹو۔ پس منظر میں پولٹزر پرائز کی تقریب کی ایک تصویر اور مٹو کی طرف سے ٹوئٹ کردہ ان کے پاسپورٹ کی تصویر۔ (تصاویر: Twitter/@mattoosanna، @PulitzerPrizes اور @hrw)

پولٹزر نے کشمیری صحافی مٹو کو روکے جانے کی مذمت کی، کہا — یہ امتیازی سلوک کی انتہا ہے

کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو کو 18 اکتوبر کو دہلی کے ہوائی اڈے پر ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود روک دیا گیا تھا۔ وہ پولٹزر پرائز کی تقریب میں شرکت کے لیے نیویارک جا رہی تھیں۔

ثنا ارشاد مٹو۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کشمیری صحافی مٹو کو بیرون ملک سفر کرنے سے روکے جانے  کے واقعے کی سی پی جے نے مذمت کی

کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو نے بتایا تھا کہ انہیں قانونی طور پرصحیح ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود دہلی ہوائی اڈے پر نیویارک جانے سے روک دیا گیا۔مٹو خبررساں ایجنسی ‘رائٹرس’کی اس ٹیم کا حصہ تھیں جسے ہندوستان میں کووڈ–19کی کوریج کے لیے ‘فیچر فوٹوگرافی’ کے زمرے میں پولٹزر پرائز سے نوازا گیا تھا۔

ثنا ارشاد مٹو۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کشمیری صحافی نے کہا، پولٹزر پرائز لینے کے لیے امریکہ جانے سے روکا گیا

پولٹزر ایوارڈیافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو نے منگل کے روز کہا کہ انہیں ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود دہلی ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔ وہ پولٹزر پرائز کی تقریب میں شرکت کے لیے نیویارک جا رہی تھیں۔ اس سے قبل جولائی میں انہیں پیرس جانے سے روکا گیا تھا۔

(فوٹو:  رائٹرس)

حکومت نے کسانوں کی تحریک، کووڈ مینجمنٹ پر سوال اٹھانے والے اکاؤنٹ کوبلاک کرنے کو کہا: ٹوئٹر

ٹوئٹر نے کرناٹک ہائی کورٹ میں بتایا کہ حکومت نے اسےکسی ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر پورے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کو کہا تھا، حالانکہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 (اے) پورے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس کی دفعہ کے تحت صرف کسی خاص انفارمیشن یا ٹوئٹ کو بلاک کرنے کی اجازت ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

گورکھپور: حد بندی آرڈر کے مسودے میں بدلے گئے ’مسلم نام‘ والے وارڈوں کے نام

اتر پردیش کےگورکھپور شہر میں میاں بازار، مفتی پور، علی نگر، ترکمان پور، اسماعیل پور، رسول پور، ہمایوں پور نارتھ، داؤد پور، قاضی پور خرد جیسے مسلم ناموں والے وارڈوں کے نام کو بدل دیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر اب الہٰی باغ کو بندھو سنگھ نگر، اسماعیل پور کوصاحب گنج اور ظفربازار کو آتمارام نگر کے نام سے جانا جائے گا۔

آکار پٹیل۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

ای ڈی نے ایمنسٹی انڈیا پر 51.72 کروڑ روپے اور سابق سی ای او آکار پٹیل پر 10 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کے لیے ایمنسٹی انڈیا اور اس کے سابق سی ای او آکار پٹیل پر یہ جرمانہ عائد کیا ہے۔ پٹیل نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی حکومت ہے، عدلیہ نہیں۔ ہم عدالت میں اس کا مقابلہ کریں گے۔

ثنا ارشاد مٹو۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

پولٹزر ایوارڈ یافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا

سال 2022 کے لیے ‘فیچر فوٹوگرافی کے زمرے’ میں پولٹزر ایوارڈجیت چکیں کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو ہندوستان سے فرانس کے لیے اڑان بھرنے والی تھیں۔ ان کے پاس یہاں کا ویزا بھی تھا، اس کے باوجود امیگریشن حکام نے کوئی وجہ بتائے بغیران سے کہا کہ وہ بین الاقوامی سفر نہیں کر سکتی ہیں۔

The Wire

یوپی: عدالت نے کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق رپورٹ پر دی وائر اور مدیر کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کیا

چھبیس جنوری 2021 کو نئی دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کے دوران احتجاج کررہے ایک شخص کی موت سے متعلق رپورٹ کے سلسلے میں دی وائر، اس کے مدیر سدھارتھ وردراجن اور رپورٹر عصمت آرا کے خلاف یوپی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خبرمیں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔

فوٹو: رائٹرس

سی بی آئی کو کچھ نہیں ملا، لیکن چھاپے ماری کا وقت دلچسپ: پی چدمبرم

سی بی آئی نے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے بیٹے اور لوک سبھا ایم پی کارتی چدمبرم کے خلاف 250 چینی شہریوں کو ویزا دلانے کے لیے 50 لاکھ روپے کی رشوت لینے کے الزام میں ایک نیا مقدمہ درج کیا ہے۔ ایجنسی نے کارتی کے چنئی اور دہلی واقع ان کی رہائش گاہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ان کے دس ٹھکانوں پر چھاپے ماری کی۔ ایک ٹیم دہلی میں لودھی اسٹیٹ واقع کارتی کے والد پی چدمبرم کی سرکاری رہائش گاہ پر بھی پہنچی۔

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

عدم برداشت کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 میں آئی اے ایس کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شاہ فیصل سروس میں واپس لوٹے

بتایا جا رہا ہے کہ شاہ فیصل نے اپنے تمام سابقہ ​​ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیے ہیں، جو مرکزی حکومت کی تنقید میں لکھے گئے تھے۔ ساتھ ہی وہ سوشل میڈیا پر موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے زبردست حامی نظر آ رہے ہیں۔ ان دنوں وہ اکثر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی تقاریر، بیانات اور اعلانات کو شیئر کر رہے ہیں۔

Aakar-Patel1

آکار پٹیل کو پھر امریکہ جانے سے روکا گیا، عدالت نے اپنے فیصلے پر اسٹے لگایا

دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق چیئرمین اور رائٹر آکار پٹیل کو امریکہ جانے کی اجازت دیتے ہوئےسی بی آئی کو لک آؤٹ سرکلر واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ اب اس نے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ وہیں، جمعرات کی شام پٹیل کو پھر سے بنگلورو ایئرپورٹ پر روکا گیا۔

آکار پٹیل، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

آکار پٹیل کو امریکہ جانے کی اجازت، سی بی آئی کو لک آؤٹ سرکلر واپس لینے کی ہدایت

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق چیئرمین اور رائٹر آکار پٹیل کو سی بی آئی نے ان کے خلاف جاری لک آؤٹ سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئے 6 اپریل کو بنگلورو ہوائی اڈے سےبیرون ملک جانے سے روک دیاتھا۔ عدالت نے سی بی آئی کے ڈائریکٹرکی جانب سے اپنے ماتحت کی طرف سے غلطی کو قبول کرتے ہوئے کہا وہ پٹیل سے تحریری طور پرمعافی نامہ جاری کریں۔

آکار پٹیل۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

کرناٹک: عدالت کی ہدایت کے باوجود سی بی آئی نے ایمنسٹی انڈیا کے سابق سربراہ کو بیرون ملک جانے سے روکا

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ اوررائٹرآکار پٹیل کو سی بی آئی نے ایف سی آر اے سے متعلق ایک معاملے میں لک آؤٹ سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلورو ہوائی اڈے پر روک دیا۔ وہ برکلے اور نیویارک یونیورسٹی کے پروگراموں میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے تھے۔

ویرانگنا لکشمی بائی ریلوے اسٹیشن۔ (فوٹو: دیپک گوسوامی/دی وائر)

’بی جے پی لکشمی بائی سے وہی جھانسی چھین رہی ہے، جو وہ مرتے دم تک انگریزوں کو نہیں دینا چاہتی تھیں‘

گراؤنڈ رپورٹ: اسمبلی انتخاب کے اعلان سے ٹھیک پہلے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے جھانسی ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر ‘ویرانگنا لکشمی بائی’ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے جھانسی کے لوگ خوش نہیں ہیں۔حتیٰ کہ خود کو حکومت اور بی جے پی کا حامی بتانے والے بھی اس کو غلط کہہ رہے ہیں۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک میں 2018-2020 کےدوران فرقہ وارانہ فسادات کے 1807معاملے درج ہوئے: حکومت

وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ ملک میں سال 2018 میں فرقہ وارانہ فسادات کے 512معاملے، 2019 میں438 اور 2020 میں 857 معاملے کیےگئے۔ ان معاملوں میں کل 8565 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ فرقہ وارانہ فسادات کے سب سے زیادہ معاملے بہار میں درج کیےگئے۔ اس کے بعد مہاراشٹر اور ہریانہ کا نمبر رہا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل؛ سوریہ نمسکار اسلام کے مطابق نہیں، اس کے پروگرام سے دور رہیں مسلم بچے

وزارت تعلیم نے’آزادی کا امرت مہوتسو’کے زیر اہتمام30صوبوں میں سوریہ نمسکار کا ایک منصوبہ بنایا ہے،جس میں 30000 اسکولوں کو شامل کیا جائے گا۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ اسلام اور ملک کی دیگر اقلیتیں نہ تو سورج کو دیوتا مانتی ہیں اور نہ ہی اس کی عبادت کو درست خیال کرتی ہیں۔اس لیے حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسی ہدایات واپس لےکر ملک کی سیکولر اقدار کا احترام کرے۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک وزیر اعظم نریندر مودی کےہمراہ۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: پی ایم او انڈیا/ٹوئٹر)

میں نے پی ایم مودی سے کہا کہ 500 کسان مر گئے  تو وہ بولے کیا میرے لیے مرے-ستیہ پال ملک

ہریانہ کے دادری میں میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب وہ زرعی قوانین کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تب ‘وہ بہت گھمنڈ میں تھے’۔ملک نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی اگر حکومت کسانوں کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے اور اپنا عہدہ چھوڑنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

rohtak.00_14_14_14.Still004

کسانوں کی تحریک: ’زندہ کسانوں کی بات نہ سننے والی حکومت مہلوک کسانوں کی بات کیا سنے گی‘

ویڈیو: ایک سال سے جاری کسانوں کی تحریک میں کسانوں نے بہت کچھ کھویا ہے۔اس دوران تقریباً700سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی، کسی نے خودکشی کی تو کسی کی بیماری کی وجہ سے جان گئی ۔ تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے پسماندگان سے بات چیت۔

2411 GONDI.00_14_41_06.Still005

ان داتا کو دہشت گرد بتانے والے میڈیا کو کسانوں نے کیا کہا

ویڈیو: دی وائر نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد مین اسٹریم میڈیا کے یو ٹرن پر دہلی کی ٹکری بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں سے بات کی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جس میڈیا نے انہیں دہشت گرد، خالصتانی، غدار کہا، انہیں ان کا سامنا کرنا پڑےگا۔

Capture

راکیش ٹکیت کا چیلنج: ایم ایس پی پر قانون نہیں تو جاری رہے گی کسانوں کی تحریک

ویڈیو: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں گزشتہ دنوں ہوئے سنیکت کسان مورچہ کی مہاپنچایت میں بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے تحریک کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی کئی مدعے ہیں، جن کے حل کے بعد ہی تحریک کا خاتمہ ہوگا۔

Synced Sequence.00_54_05_24.Still003

ایم ایس پی کو قانونی طور پر نافذ کرنا چاہیے: کسان لیڈر جوگندر سنگھ اگراہاں

ویڈیو: کسان لیڈر جوگندر سنگھ اگراہاں کا کہنا ہے کہ جب تک ایم ایس پی قانون پوری طرح سے نافذ نہیں ہو جاتا تب تک کسانوں کے مطالبات پورا نہیں ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم ایس پی کی گارنٹی ملنے تک تحریک جاری رہےگی۔

IMG-20211122-WA0029

لکھنؤ کسان مہاپنچایت: ’ہم پر ظلم کرنے والے اب ہاتھ جوڑ رہے ہیں‘

ویڈیو: گزشتہ 22 نومبر کو اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ایکو گارڈین میں کسان مہاپنچایت ہوئی، جس میں ملک کے کونے کونے سے کسانوں نے حصہ لیا۔اس دوران سنیکت کسان مورچہ نے صاف کر دیا کہ کسانوں کی تحریک جاری رہےگی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

زرعی قانون: کسان کئی محاذ پر جیتے اور میڈیا ہر مورچے پر ہارا …

زرعی قوانین کو اس لیے واپس نہیں لیا گیاکہ وزیر اعظم‘کچھ کسانوں کو یقین دلانے میں ناکام’رہے، بلکہ اس لیے واپس لیا گیا کہ کئی کسان مضبوطی سے کھڑے رہے، جبکہ بزدل میڈیا ان کے خلاف ماحول بناکر ان کی جدوجہد اور طاقت کو کمتربتاتا رہا۔

Nested Sequence 01.00_10_17_21.Still001

زرعی قانون: ’ہم نے اس تحریک میں کچھ نہیں پایا، صرف کھویا ہے‘

ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی کےتین زرعی قانون واپس لینے کےاعلان کے بعد دہلی کے ٹکری بارڈر پر موجودکسان خوش تو نظر آئے لیکن یہ جیت اور ہار کا ملا جلااحساس تھا۔ کسانوں نے کہا کہ انہوں نے اس تحریک کے دوران بہت کچھ کھویا ہے۔ ان کسانوں سے بات چیت۔

ٹکری بارڈر پر جشن مناتے کسان۔ (فوٹو: یاقوت علی/دی وائر)

آخر کیوں کسانوں کی تحریک نے مودی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا؟

مرکزی حکومت کسانوں کی مانگوں کے سامنے جھکنےکو تیار نہیں تھی، خود وزیر اعظم نے پارلیامنٹ میں مظاہرین کو توہین آمیز طریقے سے‘آندولن جیوی’ کہا تھا۔ بی جے پی کی مشینری نے ہر قدم پر تحریک کو بدنام کرنے اور کچلنے کی کوشش کی،لیکن کسان تحریک کو جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہے۔

لکھیم پورتشدد میں مارے گئے کسانوں کو خراج تحسین پیش کرتے کسان۔ (فوٹو: عصمت آرا/دی وائر)

لکھیم پور کھیری تشدد کے متاثرین نے زرعی قانون کی منسوخی پر کہا-آدھی لڑائی جیتے، انصاف باقی

لکھیم پورکھیری میں ہوئےتشددکےدوران جان گنوانے والے کسانوں اور صحافی رمن کشیپ کے پسماندگان نے زرعی قانون رد ہو جانے کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ اجئےمشرا کو برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔

modi-minister-farmer-protest

نریندر مودی نے زرعی قانون واپس لے لیے، لیکن بی جے پی کسان مخالف بیان کب واپس لے گی؟

جب سے کسانوں نے زرعی قوانین کےخلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی مظاہرہ شروع کیا تھا، تب ہی سے بی جے پی لیڈروں سے لےکرمرکزی وزیروں تک نے کسانوں کو دھمکانے اور انہیں دہشت گرد، خالصتانی، نکسلی، آندولن جیوی،شرپسندجیسےنام دےکر انہیں بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔

غازی پور بارڈر پرزرعی قانون واپس لیے جانے کے فیصلے پر جشن مناتے کسان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سنگھو، ٹکری اور غازی پور بارڈر ہندوستانی جمہوریت کے سفر کے سنگ میل ہیں

کسانوں کی تحریک اس کاجیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اگرمقصد واضح ہو تو اختلاف رائےکے باوجودمشترکہ جد وجہد کی جا سکتی ہے۔ سنیکت کسان مورچہ نے ایک لمبے عرصے بعد مشترکہ جدجہدکی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سےزرعی قوانین کو رد کرنے کےاعلان کےبعد غازی پور بارڈر میں کسان ایک دوسرے کو مٹھائی کھلاتے ہوئے۔ (فوٹو: رائٹرس)

زرعی قانون واپس لیے جانے کو اپوزیشن نے سرکار کا گھمنڈ ٹوٹنا بتایا، کہا-کسانوں کی جیت

تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لیے جانےکےقدم کا مختلف کسان تنظیموں اور اپوزیشن کے لیڈروں نے خیرمقدم کیا ہے۔ بی کے یو کے لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ پارلیامنٹ میں قانون کے رد ہونے کے بعد ہی وہ تحریک کو واپس لیں گے۔ وہیں کانگریس نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے پوچھا کہ قوانین کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کی جان جانے کی ذمہ داری کون لےگا۔

نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب)

وزیر اعظم نریندر مودی نے تین متنازعہ زرعی قانون کو رد کیا، کہا-کھیتوں کو لوٹیں کسان

گرونانک کے یوم پیدائش پر ملک کے نام خطاب میں وزیر اعظم نریندرمودی نے ایک سال سے زیادہ سے تنازعہ میں گھرےتین زرعی قوانین کو واپس لیے جانے کااعلان کرتے ہوئے کہا،‘میں ملک سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ لگتا ہے کہ ہماری کوششوں میں کچھ کمی رہ گئی ہے،جس کی وجہ سے ہم کچھ کسانوں کو سچائی سمجھا نہیں سکے۔’

دشا روی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ٹول کٹ کیس: دشا روی کے خلاف جانچ میں کچھ ملا نہیں، پولیس فائل کر سکتی ہے کلوزر رپورٹ

دہلی پولیس نے ماحولیاتی کارکن دشا روی کو کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنے والے ٹول کٹ کو شیئر کرنے میں مبینہ رول کی وجہ سے 14 فروری کو بنگلورو سے گرفتارکیا تھا۔ ان پر 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئےتشدد کے سلسلے میں سیڈیشن اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔

وزیر اعظم  نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

مودی جی، زرعی قوانین کی مخالفت اگر سیاسی دھوکہ دہی ہے تو ان پر اڑے رہنا کیا ہے

مودی سرکار نے کسانوں سے بات چیت کے کئی دور چلائے،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ‘پارلیامنٹ سے منظور شدہ’زرعی قوانین کو قطعی واپس نہیں لیا جائےگا۔ کیونکہ اس سے پارلیامنٹ کی بالادستی مجروح ہوگی۔گویا اب تک عوامی غم وغصے کی وجہ سےیاناقابل استعمال ہو جانےپرجن قوانین کو واپس لیایا منسوخ کیا جاتا رہا ہے، وہ پارلیامنٹ کے بجائے وزیر اعظم کے دفتر میں پاس کیے گئے تھے!

kisan

 پارلیامنٹ کا تعمیری کام دیکھنے جا سکتے ہیں تو کسانوں سے ملنے کیوں نہیں آ سکتے پی ایم مودی

ویڈیو: سنیکت کسان مورچہ نے مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ 27 ستمبر کو ‘بھارت بند’ کا اہتمام کیا تھا۔دی وائر کے یاقوت علی اور سراج علی نے اسی دن ہریانہ کے بہادر گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک پر بیٹھے کسانوں سے بات کی۔

yju

بھارت بند: کیا شاہجہاں پور کسانوں کی تحریک کی سب سے کمزور کڑی ہے؟

ویڈیو: زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ 27 ستمبر کو بھارت بند کے دوران راجستھان ہریانہ بارڈر پرواقع شاہجہاں پور میں موجود کسانوں سے دی وائر کے اندر شیکھر سنگھ نےتحریک کے چیلنجز اور رکاوٹوں پر بات چیت کی۔

AKI Blank

کسانوں کا بھارت بند: درباری میڈیا کا سرکس، مودی کی خاموشی

ویڈیو: مرکزی حکومت کے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف جاری تحریک کے تحت کسانوں کی تنظیموں نے گزشتہ 27 ستمبر کوملک گیر بھارت بندکا اہتمام کیا تھا۔اس سلسلے میں زرعی پالیسی کے آزاد تجزیہ کار اندر شیکھر سنگھ سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

Don`t copy text!