Citizenship Protest

Muzaffarnagar SHK 2412.00_23_15_04.Still004

مظفر نگر تشدد: ڈر کے ماحول میں جینے کو مجبور مسلمان

ویڈیو: 20 دسمبر کو اترپردیش کے مظفر نگر میں شہریت ترمیم قانون کو لے کر ہو رہا مظاہرہ پر تشدد ہو گیا۔ اس علاقے سے پولیس کے گھر وں میں گھسنے ،توڑ پھوڑ کرنے اور مقامی لوگوں پر پولیس کے تشدد کی خبریں آ رہی ہیں۔اترپردیش میں اب تک 18 لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ ٹیم مظفر نگر کے سروٹ علاقے میں دی وائر کی ٹیم میں پولیس کے تشدد کی شکار ایک فیملی سے بات چیت کی۔

فوٹو: دی وائر

شہریت قانون: پولیس کی گولی، زندگی اور موت کے بیچ جھولتا محمد شفیق

ویڈیو: یوپی کے فیروزآباد میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران زخمی محمد شفیق دہلی کے ایک ہاسپٹل میں زندگی اور موت کے بیچ جھول رہے ہیں۔ گھر والوں کا الزام ہے کہ 20 دسمبر کو گھر لوٹتے وقت پولیس نے ان کے سر میں گولی مار دی تھی۔وشال جیسوال کی ان کے گھر والوں سے بات چیت۔

collage-9

آئی آئی ٹی مدراس کے جرمن اسٹوڈنٹ نے کہا، مظاہرہ میں شامل ہونے کی وجہ سے ہندوستان چھوڑنے کو کہا گیا

آئی آئی ٹی مدراس سے فزکس میں پوسٹ گریجویشن کر رہے جرمن اسٹوڈنٹ جیکب لنڈینتھل نے کہا ہے کہ وہ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف کیمپس میں ہوئے ایک مظاہرہ میں شامل ہوئے تھے، جس کے بعد ان کو چنئی میں ایف آر آر اوسے ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت ملی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

شہریت قانون: اتر پردیش پولیس نے مانا، اس کی گولی سے ہوئی مظاہرے میں شامل ایک شخص کی موت

بجنور کے ایس پی سنجیو تیاگی کا کہنا ہے کہ سلیمان کے بدن سے ایک کارتوس ملا ہے۔ بیلسٹک رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ گولی کانسٹبل موہت کمار کی پستول سے چلائی گئی تھی۔

Kanpur: A vehicle torched allegedly by protestors during a demonstration against the Citizenship Amendment Act (CAA), in Kanpur, Saturday, Dec.21, 2019. (PTI Photo)

شہریت قانون: یہ ہیں احتجاج اور مظاہرہ کے دوران ملک بھر میں مارے گئے 25 لوگ

متنازعہ شہریت قانون کے خلاف چل رہے مظاہرے میں اب تک ملک بھر میں 25 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ 18 لوگوں کی موت اکیلے اتر پردیش میں ہوئی ہے، جس میں ایک آٹھ سال کا بچہ بھی شامل ہے۔ وہیں،آسام میں پانچ لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ منگلور میں دو لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں ڈی ایم کے کی طرف سے سوموار کو منعقد ریلی میں پارٹی چیف ایم کے اسٹالن کے ساتھ کانگریس رہنما پی چدمبرم، ایم ڈی ایم کے چیف وائیکو اور دیگر رہنما شامل ہوئے(فوٹو : پی ٹی آئی)

مرکز کی جانب سے شہریت ترمیم قانون کو رد کرنے تک ہمیں رکنا نہیں چاہیے: ایم کے اسٹالن

تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں شہریت قانون کی مخالفت میں سخت سکیورٹی کے درمیان ڈی ایم کے نے ریلی کا انعقاد کیا۔ پارٹی چیف نے سوال اٹھایا کہ شہریت ترمیم قانون کے تحت مسلمانوں کو پناہ گزین اور سری لنکا کو پڑوسی ملک کا درجہ کیوں نہیں دیا گیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

میڈیابریک ڈاؤن: میڈیا ان کے ہاتھ میں ہے، جس کا کام صحافت نہیں رہا

جس وقت رپورٹنگ کی ضرورت ہے، جاکر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ فیلڈ میں پولیس کس طرح کا تشدد کر رہی ہے، پولیس کی باتوں میں کتنی سچائی ہے، اس وقت میڈیا اپنے اسٹوڈیو میں بند ہے۔ وہ صرف پولیس کی باتوں کو چلا رہا ہے، اس کوسچ مان لے رہا ہے۔

مدراس ہائی کورٹ/فوٹو: پی ٹی آئی

مدراس ہائی کورٹ نے کہا-پرامن مظاہرہ جمہوریت کی بنیاد، اس کو نہیں روکا جا سکتا

شہریت ترمیم قانون کےخلاف تمل ناڈو کی اہم حزب مخالف پارٹی اور اس کے اتحاد میں شامل پارٹیوں کی آج چنئی میں ہو رہی مہاریلی پر روک لگانے کے لئے مدراس ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کی گئی تھی۔ حالانکہ، ہائی کورٹ نے ریلی پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ ہائی کورٹ نے پولیس کو ریلی کا ویڈیو بنانے کا حکم دیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

شہریت قانون اور این آر سی پر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اربن نکسل اور کانگریس: پی ایم مودی

شہریت قانون کو لےکر ملک بھر میں ہو رہے احتجاج اور مظاہروں کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں کہا کہ میرے مخالف اگر مجھ سے نفرت کرتے ہیں تو مجھےنشانہ بنا لیں لیکن پبلک پراپرٹی کو آگ نہ لگائیں۔

سماجی کارکن صدف ظفر، فوٹو بہ شکریہ : فیس بک

شہریت قانون: لکھنؤ میں احتجاج کے دوران گرفتار خاتون سماجی کارکن صدف جعفر کی بے رحمی سے پٹائی کا الزام

شہریت قانون کے خلاف لکھنؤ میں 19دسمبرکو ہوئے تشدد کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں صدف جعفر کا نام بھی ہے۔ صدف کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کی لاٹھیوں سے پٹائی کی۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور پیٹ پر لات بھی ماری گئی جس سے انہیں انٹرنل بلیڈنگ ہونے لگی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

شہریت ترمیم قانون: اترپردیش میں تشدد کے دوران 15 لوگوں کی موت، 700 سے زیادہ گرفتار

شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں گزشتہ جمعہ کو اترپردیش کے گورکھپور، بہرائچ، فیروز آباد، کانپور، بھدوہی، بلند شہر، میرٹھ، فرخ آباد، سنبھل وغیرہ شہروں میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

شہریت قانون: رام پور میں ایک کی موت، کاس گنج میں انٹرنیٹ بند، کانپور میں چوکی پھونکی

جمعہ کوشہریت ترمیم قانون کے خلاف میں ہوئے مظاہروں میں اتر پردیش کے مختلف شہروں میں کم سے کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ میرٹھ میں پانچ لوگوں کی موت ہوئی، کانپور، بجنور اور فیروزآباد میں دودو لوگوں کی موت اورمظفرنگر، سنبھل اور وارانسی میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی تھی۔

دی ہندو کے صحافی ، عمر راشد، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

دی ہندو کے صحافی عمر راشد کا الزام، یوپی پولیس نے حراست میں کی بدسلوکی اور داڑھی نوچنے کی بات کہی

‘دی ہندو’کے صحافی عمر راشد کو لکھنؤ میں گزشتہ جمعہ کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ صحافی کے مطابق، پولیس نے ان پر شہریت قانون کے خلاف لکھنؤ میں ہوئے تشدد کی سازش کرنے کا الزام لگایا اور ان پر فرقہ وارانہ تبصرے بھی کیے۔

نئی دہلی کے دریاگنج علاقے میں جمعہ کو ہوئے تشدد سے متعلق  گرفتار کئے گئے لوگوں کے رشتہ دار دریاگنج تھانے کے باہر ڈٹے رہے (فوٹو : پی ٹی آئی)

عدالت کی دہلی پولیس کو ہدایت، دریاگنج میں حراست میں لئے گئے لوگوں سے وکیلوں کو ملنے دیں

عدالت کے حکم کے بعد حراست میں لئے گئے 8 نابالغوں کو سنیچر کی صبح کو رہا کیا گیا۔ دریاگنج میں جمعہ کو شہریت ترمیم قانون کے خلاف ہوئے پرتشدد مظاہرہ کے تعلق سے بھیم فوج چیف چندرشیکھر سمیت اب تک 16 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر ہوا مظاہرہ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: پولیس کی بربریت پر میڈیا خاموش کیوں ہے؟

ہر بار یہ کہنا کہ باہری لوگوں نے تشدد کیا پولیس کے جواب پر شک پیدا کرتا ہے۔ کیا پولیس کے اس تشدد کو نہیں دکھایا جانا چاہیے؟ ایسے کئی ویڈیو وائرل ہو رہے ہیں ۔ ہر جگہ سے پولیس کے تشدد سے جڑے سوالوں اور ویڈیو کوصاف کر دیا گیا ہے۔ چینلوں پر صرف لوگوں کے تشدد کے ویڈیو ہیں یا خبروں کی پٹی میں لکھا ہے کہ بھیڑ نے تشدد کیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

شہریت ترمیم قانون مظاہرہ کے دوران راجیو چوک سمیت 20 میٹرو اسٹیشن کو کیا گیا تھا بند

راجدھانی دہلی میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرہ ہو رہا ہے۔ ان مظاہروں کو روکنے کے لیے دہلی کے کئی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کرنے کے ساتھ انٹر نیٹ خدمات پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

پرشانت بھوشن، فوٹو: پی ٹی آئی

شہریت ترمیم قانون مظاہرہ: پرشانت بھوشن، ہرش مندر سمیت کئی دوسروں کو حراست میں لیا گیا

دہلی پولیس کے ذریعے حراست میں لیے جانے والوں میں یوگیندر یادو،دھرم ویر گاندھی،اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد،کانگریس رہنما سندیپ دیکشت، سوراج انڈیا کے دہلی صدر کرنل جئےویر، آئیسا صدر سچیتا ڈے، یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ کے رہنما ندیم خان سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔