CJI Dipak Misra

فوٹو: اے این آئی

دیپک مشرا کی قیادت میں سپریم کورٹ صحیح سمت میں نہیں جا رہا تھا: جسٹس کرین جوزف

گزشتہ 30 نومبر کو ریٹائر ہوئے جسٹس جوزف نے 12 جنوری کو کیے پریس کانفرنس کے سیاق میں کہا کہ انھوں نے کورٹ کے مسائل کے بارے میں سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کو بتایا تھا۔ لیکن جب کوئی حل نہیں نکلا تو میڈیا کے سامنے آنا پڑا۔

section-377-1152x600

ہم جنسی کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند کیوں ہے؟

اس فیصلے سے ایک بات اور صاف ہوتی ہے وہ یہ کہ ایک شہری کیا کھاتا اور کیا پیتا ہے یا کیا کھا، پی، پہن اور پڑھ – لکھ سکتا یا نہیں یہ اس پر منحصر نہیں کرتا کہ ‘عوام’ یا ‘اکثریت’ اسے پسند کرتی ہے یا نہیں۔ کئ معنوں میں کورٹ کا یہ فیصلہ رائٹ ٹو پرائیویسی والے فیصلے کو آگے بڑھانے والے فیصلے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Ep 31 HBB

ہم بھی بھارت : چیف جسٹس کو بر طرف کیے جانے کی تجویز

ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیے چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کو بر طرف کیے جانے کی اپوزیشن کی تجویز اور اس کو خارج کیے جانے پر سینئر صحافی ونود شرما اور سابق سالیسٹر جنرل وکا س سنگھ سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت

Photo : Reuters

جج پریس کانفرنس معاملہ:پتاجی نے اندراگاندھی کی حمایت کیوں کی تھی؟

وجہ؟وہ تلافی کر رہے تھے کہ جب ججوں کو ہٹایا گیا تھا تو ان کو مخالفت کرنی چاہیے تھی اور اندرا گاندھی کو مبارکباد دینے کے لئے دلّی نہیں جانا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی، ایمرجنسی کی مخالفت کرکے جیل جانا چاہیے تھا ان سے دو دو غلطیاں ہوئی ہیں۔

Supreme-Court-Letter-CJI

پڑھیے: چار سپریم کورٹ ججوں کا خط چیف جسٹس دیپک مشرا کے نام

سپریم کورٹ کے چار ججوں جسٹسچیلمیشور ،جسٹس مدن لوکر،جسٹس کورین جوزف،جسٹس رنجن گگوئی نے آج صبح میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے کام پر سوال اٹھائے ہیں،ساتھ ہی انہوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کو ایک خط بھیجا ہے ۔