Congress

گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

 کرناٹک: گئو کشی قانون کی وجہ سے گوا میں گوشت کی کمی، بی جے پی کی قیادت والی سرکار نے کہا-راستہ  تلاش کریں گے

چار سال پہلے مہاراشٹر کے ذریعےگئو کشی مخالف قانون بنانے کے بعد گوا پوری طرح سے کرناٹک پر منحصر ہو گیا تھا۔ اب کرناٹک میں بھی ایسا ہی قانون نافذ ہو گیا ہے۔ گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے ریاست میں بیف کی فراہمی کو بحال کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ بھی گئوماتا کو پوجتے ہیں، لیکن وہاں کی 30 فیصدی اقلیتی عوام کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی ان کی ہے۔

احمد پٹیل، فوٹو : پی ٹی آئی

احمد پٹیل: یو پی اے حکومت میں وزیروں کی قسمت کے فیصلے کر نے والا شخص

گجرات 2002کے مسلم کش فسادات کے بعد سیکولر اور لبرل طاقتوں نے کانگریس کو اقتدار میں پہنچایا تھا، اس لیے کئی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اس قتل عام میں ملوث سیاسی لیڈران بالخصوص نریندر مودی پر قانون کا شکنجہ کسنا چاہیے۔کئی مقتدر کانگریسی لیڈران بھی اس پر مصر تھے، مگر احمد پٹیل نے دلیل دی کہ مودی کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنا چاہیے۔اس طرح ایک گجراتی نے دوسرے گجراتی کو قانونی شکنجہ سے بچاکر کئی سال بعد اس کے لیے وزارت اعظمیٰ کی کرسی تک پہنچنا آسان بنایا۔

بی جے پی رہنما سشیل کمار مودی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: پاسوان کی راجیہ سبھا سیٹ سے بی جے پی نے سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی کو امیدوار بنایا

لوک جن شکتی پارٹی کے بانی اورمرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کےانتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہو گئی ہے۔ایل جے پی کے بہار این ڈی اے سے باہر آکر اپنے بل بوتے اسمبلی انتخاب لڑنے کے فیصلے کے ساتھ ہی بی جے پی نے اس سیٹ پر پھر سے اپنا دعویٰ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو اس نے اپنے کوٹے سے پاسوان کو دی تھی۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ساتھ احمد پٹیل۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کانگریس میں احمد پٹیل کے بعد کون؟

احمد پٹیل کے انتقال کےبعد کانگریس کے پاس ایک بھی ایسارہنما نہیں ہے، جو اتحادی پارٹیوں سے یاعلاقائی طاقتوں سے بات کر سکے۔ احمد پٹیل کی اسی قابلیت کا فائدہ کانگریس اور سونیا گاندھی کو دو دہائیوں تک ملتا رہا۔

لالو یادو(فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: لالو کے ذریعے ایم ایل اے خریدنے کے الزامات کے بیچ بی جے پی کے وجئے سنہا اسمبلی اسپیکر بنے

بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اوربی جےپی رہنما سشیل مودی نے الزام لگایا ہے کہ چارہ گھوٹالے میں سزا کاٹ رہے لالو یادو نے اسمبلی اسپیکر کےانتخاب سے پہلے ان کے ایک ایم ایل اے کو اسمبلی میں غیرحاضر رہنے کے عوض میں وزیر کاعہدہ دینے کا لالچ دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک آڈیو کلپ بھی جاری کیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے حکم دے دیے گئے ہیں۔

25111 aJOY.00_22_29_09.Still001

احمد پٹیل کا جانا کانگریس کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے

ویڈیو: کانگریس کےسینئر رہنما اور راجیہ سبھاایم پی احمد پٹیل کا بدھ کو علی الصبح انتقال ہو گیا۔ تقریباً ایک مہینہ پہلے پٹیل کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ پٹیل کانگریس صدر سونیا گاندھی کے بھروسے مند معاونین میں سے ایک تھے۔

احمد پٹیل۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سینئر کانگریسی رہنما احمد پٹیل کا انتقال

تقریباً ایک مہینے پہلے کانگریس رہنما اور راجیہ سبھا ایم پی احمد پٹیل کورونا وائرس کی زد میں آئے تھے۔ علاج کے دوران ان کے کئی اعضاء نے کام کرنا بند کر دیا۔ کانگریس صدرسونیا گاندھی کے قابل اعتمادساتھیوں میں سے ایک پٹیل ان کے سیاسی صلاح کار بھی تھے۔

باندرہ واقع کراچی سوئٹس(فوٹو: اےاین آئی)

شیوسینا کارکن نے ’کراچی سوئٹس‘ کے مالک کو دکان کا نام بدلنے کو کہا

ممبئی کے باندرہ ویسٹ واقع دکان کا معاملہ۔ شیوسینا کے سینئررہنما اور راجیہ سبھا ایم پی سنجے راؤت نے کہا کہ کراچی بیکری اور کراچی سوئٹس ممبئی میں 60 سالوں سے ہیں۔ ان کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ پارٹی کا رخ نہیں ہے۔

میوہ لال چودھری۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

بہار: بدعنوانی کے الزامات پر تنازعہ کے بعد وزیر تعلیم بنائے گئے میوہ لال چودھری کا استعفیٰ

سیاست میں آنے سے پہلے میوہ لال چودھری بھاگلپور کے بہار اگریکلچر یونیورسٹی کے وی سی تھے۔ اسسٹنٹ پروفیسر کی بحالی میں بے ضابطگی کے الزامات اور ایف آئی آر درج کیے جانے کے مد نظر انہیں2017 میں نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

نریندر مودی اور راہل گاندھی (فوٹو : رائٹرس)

کیا ہندوستانی مسلم رائے دہندگان کو متبادل حکمت عملی کی ضرورت ہے؟

مودی کے رتھ کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ دارکانگریس ہے، جس کی من مانی اور زیادہ سے زیادہ سیٹیں لڑنے کی ضد نے سیکولر اتحاد کی کامیابی میں روڑے اٹکائے۔اب یہ اہم سوال مسلمانوں کے سامنے ہے کہ کیا وہ سیکولر پارٹیوں کا دامن تھامے رکھیں، جنہیں ان کی تعلیم و ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں اور جو ان کو صرف ووٹ بینک کی نظر سے دیکھتے ہیں یا جنوبی صوبہ کیرالا کا ماڈل اپنا لیں؟

 بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیتے ہوئےنتیش کمار۔ (فوٹو: ٹوئٹر/@Jduonline)

بہار: نتیش کمار ساتویں بار بنے وزیر اعلیٰ، دو نائب وزیر اعلیٰ بنائے گئے

بہاراسمبلی انتخاب میں125 سیٹیں حاصل کرکےاکثریت پانے والی این ڈی اے گٹھ بندھن نے 15سالوں تک نائب وزیر اعلیٰ رہےسشیل مودی کی جگہ بی جے پی کے دورہنماؤں تارکشور پرساد اور رینو دیوی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔ نتیش کمار کے ساتھ کل 14وزیروں نے حلف لیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کانگریس تبدیلیوں کو لے کر سنجیدہ نہیں، شاید پارٹی نے ہر ہار کو مقدر مان لیا ہے: کپل سبل

سینئر کانگریسی رہنما کپل سبل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب لوگ کانگریس کو ایک مؤثر متبادل نہیں مان رہے ہیں۔ سبل کانگریس کے ان 23رہنماؤں میں سے ایک ہیں ،جنہوں نے صدرسونیا گاندھی کوخط لکھ کر پارٹی میں تبدیلی لانے، جوابدہی طے کرنے اور ہار کا صحیح تجزیہ کرنے کامطالبہ کیا تھا۔

بہار کے نوادہ میں آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو کے ساتھ راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: مہاگٹھ بندھن کی ہار پر آر جے ڈی رہنما نے راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا، کانگریس کا جوابی حملہ

بہاراسمبلی انتخاب میں کانگریس کے خراب مظاہرہ پر آر جے ڈی کے سینئررہنما شیوانند تیواری نے کہا کہ گٹھ بندھن کےلیے کانگریس رکاوٹ کی طرح رہی، اس نے انتخاب70 سیٹوں پر لڑا، لیکن70 ریلیاں بھی نہیں کیں۔انتخاب کے وقت راہل گاندھی پکنک منا رہے تھے۔

فوٹو بہ سکریہ، فیس بک

بہار: کیا اویسی واقعی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں؟

کیا اویسی کی پارٹی نے بہار انتخاب میں ووٹ کاٹنے کا کام کیا جس سے مہاگٹھ بندھن کو شدید نقصان ہوا؟ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ مجلس نے جن پانچ سیٹوں پر جیت درج کی ہے وہاں اگریہ امیدوار ہی نہیں ہوتے تو مہا گٹھ بندھن کو کامیابی ملتی ؟

ایک عوامی اجلاس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/جے ڈی یو)

بہار کی سیاست میں نتیش کمار کا کوئی متبادل نہیں ہے

جے ڈی یو کو بی جے پی سے کم سیٹیں ملنے کے بعد نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ بننے کو لےکر سوال اٹھ رہے تھے، لیکن ایسی رائے ہے کہ عوام، بالخصوص خواتین کے این ڈی اےکو چننے کا سہرا نتیش کمار کو ہی جاتا ہے، ایسے میں ان کی قیادت میں نئی سرکار کا بننا ناگزیر ہے۔

مسجد پر ہوئے حملے میں زخمی افراد(فوٹو اسپیشل ارینجمنٹ)

بہار اسمبلی انتخاب کے بعد بی جے پی حامیوں  نے جلوس کے دوران مسجد میں توڑ پھوڑ کی

مشرقی چمپارن کے جموآ گاؤں کا معاملہ۔الزام ہے کہ بی جے پی حامیوں نے اس دوران کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے مسجد کا مائیک اور اس کے گیٹ توڑ دیے۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

hqdefault

میڈیا بول: بہار انتخابی نتائج کے مضمرات

ویڈیو: بہار اسمبلی انتخاب میں تمام ایگزٹ پول اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔ میڈیا بول کےاس ایپی سوڈمیں ارملیش بہار کے غیر متوقع انتخابی نتائج اور ریاست کے سیاسی مستقبل کو لےکر سینئر صحافی اروند موہن اور دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے چرچہ کر رہے ہیں۔

پٹنہ میں منگل کو وکٹری سائن دکھاتے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی، بی جے پی کے بہار انچارج بھوپیندر یادو، بہار بی جے پی صدرسنجے جیسوال،مرکزی وزیر نتیانند رائے اور دیگر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار اسمبلی انتخاب: این ڈی اے کو 125 سیٹوں کے ساتھ اکثریت، آر جے ڈی بنی سب سے بڑی پارٹی

بہاراسمبلی کی243 سیٹوں میں سےآر جے ڈی کی قیادت والی مہاگٹھ بندھن کو کل 110 سیٹوں پر جیت ملی ہے۔آر جے ڈی نے 75،بی جے پی نے 74،جے ڈی یو نے 43، کانگریس نے 19، سی پی آئی ایم ایل نے 12 اور اےآئی ایم آئی ایم نے 5 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ایل جے پی کو صرف ایک سیٹ ہی مل سکی۔

(فوٹوبہ شکریہ: انڈین ریلوے ویب سائٹ)

مدھیہ پردیش: قرض ادانہ کر نے پر مبینہ طور پربندھوا مزدوری کر نے والے آدی واسی نوجوان کو زندہ جلایا گیا

مدھیہ پردیش کےگنا ضلع کے آدی واسی نوجوان نے اسپتال میں توڑا دم۔ الزام ہے کہ پانچ ہزار روپے کا قرض ادانہ کر پانے کی وجہ سے آدی واسی نوجوان سے بندھوا مزدوری کرائی جا رہی تھی۔

نتیش کمار(فوٹو: پی ٹی آئی)

نتیش کے بہار اسمبلی انتخاب کو اپنا ’آخری انتخاب‘ بتانے کے کیا معنی ہیں

نتیش کمار نے تیسرےمرحلہ کے انتخابی مہم کےآخری دن کہا کہ یہ ان کا آخری انتخاب ہے۔ کیایہ ووٹنگ سے پہلے سیمانچل کے اقلیتوں سمیت ان کے روایتی ووٹرس کی ہمدردی حاصل کرنے کا کوئی انتخابی ہتھکنڈہ ہے یا اس کا کوئی گہرا سیاسی مفہوم ہے؟

فوٹو: پی ٹی آئی

بہار اسمبلی انتخاب پر سب کی نظریں کیوں ٹکی ہیں؟

بہارکے انتخابی نتائج کا ہندوستان کے مجموعی سیاسی نقشہ پراثر اندازہونا یقینی ہے۔کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران مہاجربہاری مزدوروں کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے جب بی جے پی نے دیکھا کہ اس کا’وکاس’کا نعرہ کام نہیں کر رہا ہے، تو وہ اپنی سابقہ روش پر اتر آئی ہے۔

(فوٹو: دی وائر)

خصوصی ریاست کا درجہ ملنے پر ہی بہاریوں کو بے روزگاری اور غریبی سے نجات ملےگی: کے سی تیاگی

انٹرویو:بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے بنتے بگڑتے سیاسی گٹھ جوڑ کے بیچ جے ڈی یو کے قومی ترجمان کے سی تیاگی کا دعویٰ ہے کہ این ڈی اے دوبارہ اقتدارمیں آ رہی ہے اور نتیش کمار ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔ ان سے وشال جیسوال کی بات چیت۔

خوشبو سندر نے سوموار کو نئی دہلی میں بی جے پی صدرجے پی نڈا کی موجودگی میں پارٹی کی رکنیت اخیتار کی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کانگریس سے استعفیٰ دینے کے کچھ گھنٹے بعد ہی خوشبو سندر بی جے پی میں شامل

کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد کانگریس نے خوشبو سندر کو پارٹی کےقومی ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تمل اداکارہ سندر 2014 میں کانگریس میں شامل ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ڈی ایم کے میں تھیں۔

unnamed

مودی کے انکار کے باوجود کیوں ڈٹینشن سینٹر بنا رہی ہے یوپی سرکار؟

ویڈیو: وزیراعظم نریندر مودی نے دسمبر 2019 میں کہا تھا کہ کوئی ڈٹینشن سینٹر نہیں ہے۔ اس کے باوجود غازی آباد کے نندگرام میں مبینہ طور پر ڈٹینشن سینٹر بنایا جا رہا تھا۔بی ایس پی چیف مایاوتی کے وزیراعلیٰ رہتےہوئے بنے ایک ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر بنائے جانے پر انہوں نے ٹوئٹ کر کےاس کو دوبارہ ہاسٹل بنانے کی مانگ کی۔ دی وائر کے شیکھر تیواری کی یہاں کےطلبا سے بات چیت۔

Bihar DGP Gupteshwar Pandey. Photo: Twitter/@IPSGupteshwar

کیا بہار انتخاب سے عین پہلے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے کا دوسری بار رضا کارانہ ریٹائرمنٹ لینا محض اتفاق ہے

بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے سال 2009 میں پہلی بار وی آرایس لیا تھا اور تب چرچہ تھی کہ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ اب اسمبلی انتخاب سے کچھ ہی مہینے پہلے ان کے دوبارہ وی آرایس لینے کے فیصلے کو ان کے سیاسی عزائم سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

AKI 11 Sep.00_30_38_12.Still004

بی جے پی کیوں چاہتی ہے سشانت کے مدعے پر ہو بہار انتخاب؟

ویڈیو: اسمبلی انتخاب نزدیک آتے ہی بہار کی سیاست گرمانے لگی ہے۔ آرجےڈی کےقدآوررہنما رگھوونش پرساد سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سشانت سنگھ کی موت کو بھی مدعا بنایا جا رہا ہے۔ اس پر دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور سیاسی مبصر سجن کمار سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

بی جے پی کلچرل ونگ کی طرف سے ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’کےہیش ٹیگ والاا سٹیکر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

بہار: 15 سال اقتدار میں رہ چکی بی جے پی کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کی موت انتخابی مدعا کیوں ہے؟

سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی جانچ سی بی آئی، ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کر رہے ہیں اور تینوں ہی مرکزی حکومت کےماتحت ہیں۔ مرکز اور بہار میں این ڈی اے کی ہی سرکار ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’ہیش ٹیگ چلاکر بہار میں بی جے پی جسٹس کس سے مانگ رہی ہے؟

(فوٹو: پی ٹی آئی)

سی اے جی کے دفاعی آڈٹ میں رافیل ڈیل کی جانچ شامل نہیں: میڈیا رپورٹ

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2019 میں کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل(سی اے جی) کے ذریعے سونپی گئی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ میں سی اے جی نے صرف بارہ دفاعی آفسیٹ سودوں کا تجزیہ کیا ہے۔وزارت دفاع نے آڈیٹر کورافیل آفسیٹ سودے سے متعلق کوئی جانکاری ہونے سے انکار کیا ہے۔

طاہر حسین۔ (فوٹو: دی وائر/ویڈیوگریب)

دہلی پولیس کے پاس طاہر حسین کو فسادات سے جوڑ نے کا کوئی ثبوت نہیں: وکیل

گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ عآپ کےسابق کونسلر طاہرحسین نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں شامل ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔حسین کے وکیل جاوید علی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کبھی اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا۔ پولیس کے پاس اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

بی ایس ایڈی یورپا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک: اپوزیشن کی مخالفت کے بعد نصاب سے ٹیپو سلطان اور اسلام سے متعلق ابواب ہٹانے پر روک

ریاستی حکومت نے کووڈ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے پہلی سے 10ویں جماعت کےنصاب کو محدود کرنے کے لیے اسلام، عیسائی مذہب اورٹیپو سلطان سے متعلق ابواب ہٹانےکی تجویز رکھی تھی۔ اس پر اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ سرکار اپنے رائٹ ونگ ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: ایل جی کے آرڈر پر پیروی کے لیے سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ سمیت چھ وکیلوں کی تقرری

دہلی سرکار نے اس سے پہلے دہلی پولیس کی جانب سے بتائے گئے وکیلوں کے ناموں کوقبول کرنے سے منع کر دیا تھا۔ایل جی انل بیجل نے سرکار کے آرڈر کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے وکیلوں کے نام کو قبول کرنے کو کہا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: جب راجدھانی تشدد کی آگ میں جل رہی تھی، تب وزیر داخلہ اور وزارت کیا کر رہے تھے؟

خصوصی مضمون: فروری کےآخری ہفتے میں شمال مشرقی دہلی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی اہم وجہوں میں سے ایک سینٹرل فورسز کو تعینات کرنے میں ہوئی تاخیرہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ تشدد25 فروری کو رات 11 بجے تک ختم ہو گیا تھا،سچ کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات : وکیلوں کی تقرری کے سلسلے میں دہلی سرکار نے پولیس کی تجویز کو خارج کیا

دہلی کابینہ کی میٹنگ میں وکیلوں کی تقرری کے سلسلےمیں دہلی پولیس کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنگا معاملے میں پولیس کی جانچ کو عدالت نے غیرجانبدارنہیں پایا ہے، اس لیے پولیس کے پینل کو منظوری دی گئی، تو معاملوں کی غیرجانبدارشنوائی نہیں ہو پائےگی۔

Don`t copy text!