Corona Lockdown

مارچ کے آخری ہفتے میں لاک ڈاؤن کے بعد دہلی سے اپنے گاؤں لوٹ رہے مزدوروں کے لیے یوپی سرکار نے بسوں کا  انتظام  کیا تھا، لیکن کئی لوگوں  کو ا ن میں جگہ نہیں مل سکی۔ آنند وہار بس اڈے پر ایسی  ہی ایک فیملی۔ (فوٹو: رائٹرس)

لاک ڈاؤن: اگر سچ میں کچھ جاننا یا پڑھنا ہے تو یہ کتاب بند کر دینے کا وقت ہے

اس لاک ڈاؤن کو اتنے بھر کے لیے درج نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں نے کچن میں کیا نیا بنانا سیکھا، کون سی نئی فلم ویب سیریز دیکھی یا کتنی کتابیں پڑھ گئے۔ یہ دور ہندوستانی سماج کے کئی چھلکے اتار کر دکھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی نظر کہاں ہے؟

علامتی تصویر بہ شکریہ: Hush Naidoo on Unsplash

اتر پردیش: ہاسپٹل نے مسلمان مریضوں پر لگائی پابندی، کہا-کورونا جانچ نگیٹو آئی ہو تبھی آئیں

مغربی اتر پردیش کے کینسر ہاسپٹل کے ذریعے اٹھایا گیا یہ قدم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے ہدایات کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت کسی بھی مریض کو اس کے مذہب یا بیماری کی بنیادی پر علاج سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں کے گوجر برادری کا الزام، تبلیغی جماعت کو لے کر چلی نفرت انگیز مہم کے بعد ہوا بائیکاٹ

جموں میں دودھ کا کاروبار کرنے والے گوجر برادری کا الزام ہے کہ دہلی میں ہوئے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل کئی لوگوں کے کو رونا سے متاثر پائے جانے کے بعد سے ان کو اس سے جوڑکر ‘نفرت انگیز مہم’ چلاتے ہوئے کہا گیا کہ وہ انفیکشن لا رہے ہیں اس لیے ان سے دودھ نہ خریدا جائے۔

فوٹو: رائٹرس

شہروں میں پھنسے 96 فیصدی مہاجر مزدوروں کو نہیں ملا سرکاری راشن: رپورٹ

ملک گیرلاک ڈاؤن کو تین مئی تک بڑھائے جانے کے بعد ایک رضاکار گروپ اسٹرینڈیڈ ورکرس ایکشن نیٹ ورک(ایس ڈبلیو اے این) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔یہ رپورٹ اس دوران شہروں میں پھنسے مہاجر مزدوروں کے بھوک کی صورت حال اور معاشی بدحالی کو دکھاتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا وائرس: جان جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہو رہی متاثرین کی جدوجہد

ملک میں کو رونا وائرس متاثرین کے آخری رسومات کی ادائیگی کو لےکر سرکار نے صاف صاف ایڈوائزری جاری کی ہے، اس کے باوجود کئی ایسے معاملے سامنے آ رہے ہیں جہاں انفیکشن کے ڈر سے لاش کو دفن کرنے یا جلانے کی مخالفت کی گئی یا پھر مرنے والوں کے اہل خانہ کے انکار کے بعد انتظامیہ نے یہ ذمہ داری اٹھائی۔

فوٹو: د ی وائر

ماہر قانون اور قلمکاروں سمیت 3500 لوگوں نے ’دی وائر‘ اور اس کے مدیر  کے خلاف درج کیس کی مذمت کی

اتر پردیش کی فیض آباد پولیس کے ذریعے درج ایک ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘دی وائر’ کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن نے اتر پردیش کےوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں ‘قابل اعتراض ’ تبصرہ کیا تھا۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@friendsofrss)

وائرل فوٹو پر تلنگانہ پولیس نے کہا-آر ایس ایس کو چیک پوسٹ پر چیکنگ کی اجازت نہیں تھی

سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں آر ایس ایس کے کارکن چیک پوسٹ پر چیکنگ کرتے ہوئے دکھ رہے تھے۔ اس تصویر کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ آر ایس ایس کارکن روزانہ 12 گھنٹے چیکنگ میں پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی(فوٹو: پی ٹی آئی)

کو رونا: ملک کی معیشت کو لاک ڈاؤن کے ’چکرویوہ‘ سے کیسے نکالیں گے مودی اور وزرائے اعلیٰ

اگر وزیراعظم نریندر مودی کو لگتا ہے کہ ہندوستان باقی ممالک کی طرح لگاتار چل رہے ایک مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بڑا اقتصادی پیکج نہیں دے سکتا تو انہیں لازمی طور پر لاک ڈاؤن میں چھوٹ دینے کے بارے میں سوچ سمجھ کر اگلا قدم اٹھانا چاہیے۔

ایودھیا کے کلکٹر (دائیں)، پجاریوں اور دیگر لوگوں کےساتھ وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ(فوٹو : پی ٹی آئی)

ملک گیر لاک ڈاؤن کے بیچ یوپی پولیس نے ’دی وائر‘ کے بانی مدیر کو ایودھیا طلب کیا

سی آر پی سی کی دفعہ41 (اے)کے تحت بھیجے گئے نوٹس میں فیض آباد پولیس کے ذریعے درج ایک ایف آئی آر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘دی وائر’ کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں ‘قابل اعتراض ’ تبصرہ کیا تھا۔

image

لاک ڈاؤن میں 42 فیصدی مہاجر مزدوروں کے پاس ایک دن کا بھی راشن نہیں: سروے

سروے میں شامل 3196 مہاجر مزدوروں میں سے 31 فیصدی لوگوں نے بتایا کہ ان کےاوپر قرض ہے اور اب روزگار ختم ہونے کی وجہ سے وہ اس کی بھرپائی نہیں کر پائیں‌گے۔مزدوروں کو ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر حملہ ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر قرض ساہوکاروں سے لئے گئے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کوئی بھی جمہوریت میڈیا کا منھ بند کر کے عالمی وبا سے نہیں لڑ رہی ہے: ایڈیٹرس گلڈ

اس ہفتے کی شروعات میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ میڈیا کو رونا وائرس سے متعلق کوئی بھی جانکاری چھاپنے یا دکھانے سے پہلے سرکار سے اس کی تصدیق کرائے۔ اس کے بعد عدالت نے میڈیا کو ہدایت دی کہ وہ خبریں چلانے سے پہلے اس معاملے پر سرکاری بیان لے۔

لاک ڈاؤن کے دوران کولکاتہ میں دوا خریدنے کے لیے لائن میں لگے لوگ/فوٹو: رائٹرس

60 سے زیادہ عمر کے سینٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم کے مستفید کے گھر پر دوائیں پہنچانے کا حکم

کو رونا وائرس کے مدنظر ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ضروری دواؤں کی بھی گھر پر بھی فراہمی کی اجازت دی گئی ہے۔ سرکاری حکم کےمطابق، ایسی دوائیں جنہیں لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جائے گا، انہیں کسی اہل ڈاکٹر کے پرچے کے بنا نہیں خریدا جا سکےگا۔